New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:16 AM

Urdu Section ( 14 Sept 2009, NewAgeIslam.Com)

David Public School – shame and proud داؤد پبلک اسکول-شرم اور فخر


کاشف حفیظ صدیقی

اقبال! یہاں نام نہ لے علم خودی کا

موزوں نہیں مکتب کیلئے ایسے مقالات

بہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر سے

پوشیدہ رہیں باز کے احوال ومقامات

آزاد کا اک دن ہے محکوم کا اک سال

کس درجہ گراں سیر ہیں، محکو م کے اوقات

آزاد کا ہر لحظہ پیام ابدیت

محکوم کا ہر لحظہ نئی مرگ مفاجات

آزاد کا اندیشہ، حقیقت سے منور

محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات 

محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا

ہے بندہ آزاد خود اک زندہ کرامات

محکوم کےحق میں ہے یہی تربیت اچھی

موسیقی و صورت گرمی و علم نباتات

وہ مکتب ومدرسے جو مغربی تعلیم کے علمبردار اور خوگر ہیں شاید علامہ اقبال کی اس سوچ سے نا آشنا ہیں اور آشنا ہو بھی کیسے سکتے ہیں جب وہ آشنا ہونا ہی نہ چاہیں ۔ وہ تو اندھی تقلید کےقائل ہیں جو کچھ مغرب میں پڑھا یا جارہا ہے ، سمجھا یا جاتا ہے کہ وہ اس مملکت خداداد پاکستان کیلئے اکسیر ہے۔ نتیجتاً کالے انگریزوں کی ایک کھیپ تیار کی جارہی ہے جو معاشرے کا کسی قسم کا سود مند حصہ بننے کے بجائے تقسیم درتقسیم کا باعث ہی بن رہے ہیں اور اندھی تقلید میں وہ حماقتیں کررہے ہیں جس سے ان کا  پنا بود اپن واضح ہوکر سامنے آجاتا ہے۔

اس تازہ ترین مثال داؤد اسکول کے اسکینڈل کا سامنے آنا ہے، جہاں کے نصاب میں جنسی تعلیم کے مضامین میں شامل کئے گئے جو طالبات کو پڑھائے جارہےتھے۔ ا س موقع پر والدین کے بھرپور احتجاج کی بدولت حکومت سندھ کو سخت اقدامات اٹھانے پڑے اور اسکول کو سیل کردیا گیا۔

داؤد پبلک اسکول میں اسلامیا ت کے نام پر جان تھامس کی کتاب پڑھائی جارہی تھی جو دراصل عالمی مذاہب کے تناظر میں لکھی گئی تھی۔اس کتاب میں سیکس وحمل گرانے کے حوالے سے بھی بحث کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ حمل کو کس وقت گرایا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں قدرتی اور طبی طریقے موجود ہیں۔ اسلامیات کی کتاب کے صفحہ 43میں بتایا گیا  کہ اسلام میں برتھ کنٹرول کے احکامات موجود ہیں جبکہ کتاب میں یہ بھی بتایا گیا کہ پیدائش کو کنٹرول کرنے کیلئے مانع حمل گولیوں کے بجائے کنڈوم استعمال کرنا بہتر ہے۔ جان تھامس کے مطابق مسلمان خواتین  کو مانع حمل گولیا کھانے کی اجازت اسلامی اقدار دیتی ہیں کیونکہ یومیہ کی بنیاد پر ان کا استعمال رحم مادر میں پیدائش کے مؤجب نطفے کو جانے سے روکتا ہے ، جس سے رحم میں جاندار کی پیدائش اور اس کے قتل کا احتمال نہیں رہتا۔ داؤد پبلک اسکول کی انتظامیہ نے نئے تعلیمی سال کے آغاز میں نہ صرف جنسی تعلیم عام کرنے والی متنازعہ درسی کتاب متعارف کرانے کی کوشش کی ہے بلکہ نئے اسکول کے یونیفارم میں تبدیلی کرتے ہوئے نرسری کلاسز اور کلاس II تک اسکرٹ اور بلاؤز جبکہ تیسری کلاس سے شلوار کے بجائے ٹراؤزر اور شرٹ کو یونیفارم کا  حصہ بنادیا ۔ نیز بڑے دوپٹے اور اسکارف پر بھی پابندی لگادی ہے۔ اس کےعلاوہ زبردستی گٹار بجانے کی تربیت دی جارہی ہے اور خرید نے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

داؤد پبلک اسکول کی انتظامیہ نے پانچویں جماعت کی طالبات کیلئے جنسی تعلیم پر مبنی سائنس A5 نامی کتاب اور ساتویں جماعت کیلئے میٹروز والیوم بھی متعارف کروائی جس میں برتھ کنٹرول، اسقاط حمل، مانع حمل گولیوں اور مانع حمل اشیا کے علاوہ محفوظ جنسی تعلق ،انسانی تولیدی عمل اور اسی طرح کے دیگر موضوعات شامل ہیں جو کہ باتصویر مضامین ہیں۔

جب اسکول کی انتظامیہ سے چار بچوں کے والدین نے احتجاج کیا تو اسکول کی C.O.O سربینہ داؤد نے ان کو گارڈز کی مدد سے اسکول سے نکلوادیا اور طلبا کو معطل کردیا۔ ان واقعات کی جب میڈیا نے کوریج کی تو اسکول کی پرنسپل نے ایک اہم بات کی طرف توجہ دلائی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘‘اسکول میں جنسی تعلیم کے مواد پر مشتمل نصاب نہیں پڑھایا جارہا بلکہ ہم نے کتاب کے متنازعہ حصوں کو اسٹیپلر سے سیل کردیا تاکہ اس مواد کو بچے نہ دیکھ سکیں( شاید وہ بھول گئیں کہ بچوں میں ہی سب سے زیادہ تجسس ہوتا ہے اور ہر چیز جوان سے چھپائی جائے وہ ضرور تلاش کرنے اور دیکھنے کی کوشش کرتےہیں)۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایسی کتب کراچی کے دیگر مشنری اسکولوں میں بھی پڑھائی جارہی ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ کتاب کیلئے حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔’’

یہ بھی انکشاف ہوا کہ طالبات کے بیت الخلا کو اسکول کا مرد اسٹاف بھی استعمال کرتا ہے جس کی وجہ سے طالبات پریشان رہتی ہیں ۔ اچھی بات یہ ہے کہ حکومت سندھ کے شعبہ تعلیم اور اس کے افسران مثلاً نوید زبیری نے فوری اقدامات کر کے داؤد اسکول کی انتظامیہ کے منہ زور گھوڑے کو لگام دی ہے۔

قارئین! میرے نزدیک داؤد پبلک اسکول کا یہ مسئلہ دراصل انگریزی زبان میں Tip of lceburg ہے۔مسئلہ تو بہت گہرا ہے اس کو سمجھنا ہوگا دیکھنا ہوگا ۔مسئلے کو سمجھنے کیلئے ہم کو ذرا پیچھے مشرف دور میں جانا ہوگا جب ڈاکٹر اے ایچ نیر اور احمد سلیم کی رپورٹ بعنوان ‘‘The Subtle Subversion  ’’ یعنی ‘‘پراسرار بغاوت’’سامنے آئی جس کو Sustainable Development of Policy Institute (SDPI)کا تعاون حاصل تھا۔ اس رپورٹ کی ابتد ا میں تحریر ‘‘جنرل ضیا الحق کی حکومت کو اپنے جواز کے استحقاق اسلامائزیشن کے نعرے کو فروغ دینے کی ضرورت پڑی۔ تعلیمی ماحول میں تاریخ کومسخ  کیا گیا ، حقائق تبدیل کئے گئے ،نفرت انگیز مواد شامل کیا گیا، غیر ضروری طور پر اسلامی ومذہبی مواد کو شامل کیا اور جنگوں کو دلفریب بنا کر پیش کیا گیا۔ اس رپورٹ کے آٹھ چیپٹر ز ہیں اورتمام کے تمام زہر قاتل ۔ ہم نے ان تمام مضامین کا احاطہ تفصیل کے ساتھ اپنے مضامین جو نومبر 2007میں شائع ہوئے تھے اور جو ‘‘سول سوسائٹی کا نصاب تعلیم پروار اور نصاب تعلیم میں تبدیلیاں’’کے عنوان سے تھے ۔ یہ مضامین ہماری ویب سائٹ www.kashifafeez.comپر دستیاب ہیں۔ مطالعہ کیلئے مفید رہیں گے۔

اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد نصاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں مگر بھر پور عوامی احتجاج کے بعد بہت زیادہ نہیں کرسکے مگر ہمار ا یہ مشاہدہ ہے کہ اس کے بعد پرائیویٹ نصاب تعلیم سے اردو اور اسلامیات میں بالخصوص مخصوص طرز فکر کا نصاب متعارف کروایا جارہا ہے جس میں ‘‘فہمیدہ ریاض ’’ کا نام نمایا ں ہے۔ چلیں یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہےکہ سائنس کے مضامین میں سرکاری نصاب فرسودہ ہے مگر ایسا اسلامیات اور اردو میں نہیں مگر یہاں اسکولوں میں ایک ایسی خاتون کے مضامین اور کتب اب پرائیویٹ اسکولوں میں لائے گئے ہیں جن کے خیالات لامذہب ،سیکولر ، لادین اور ترقی پسند ہیں۔ان کی مرتب کردہ کتابوں میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کاذکر ہوگا بھی تو واجبی سا، بصورت دیگر صحابہ کرامؓ ،محمد بن قاسمؒ ،طارق بن زیادؒ ،صلاح الدین ایوبیؒ یاراجا عزیز بھٹی ،سرور شہید یا راشد منہاس کا ذکر تو اس لئے نہیں مطلوب کیونکہ ان کے ذکر سے جہادی ازم پھیلتا ہے۔والدین جو یہ مضمون پڑھ رہے ہیں ان کو اس حوالے سے خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ ان کو چاہئے کہ اپنے اسکولوں کے نصاب پر کڑی نظر رکھیں ۔

داؤد پبلک اسکول غالباً مشہور صنعت کار حسین داؤد کی ملکیت ہے جس کو ان کی صاحبزادی سربینہ داؤد چلارہی ہیں۔ سربینہ یونیورسٹی کالج لندن کی فارغ التحصیل ہیں اور لندن اسکول آف اکنامکس سے قانون پڑھا ہے۔ ان کی Specializationعلم البشریا Anthropologyہے۔انہوں نے گزشتہ دنوں سوات میں خاتون کو کوڑے مارنے کے حوالے سےاپنے اسکول کی طالبا کے ساتھ ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کروایا جو غالباً کسی بھی اسکول کی سطح کا انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام کرو۔

اصل مسئلہ یہی سامنے آیا ہے کہ جب تعلیم جیسی سنجیدہ چیز جس کا لازمی طور پر نظریاتی بنیاد وں پر استوا رہوناچاہئے مغرب زدہ غلامانہ ذہن کےسپرد کردیں گے تو ایسے واقعات کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔ حقیقت تو یہی ہے کہ جب ملک میں پانچ یا چھ درجات کے نظام تعلیم ایک ساتھ چل رہے ہوں گے تو معاشرتی اور ذہنی تفاوت میں تو اضافہ ہوگا ہی اور طبقات کشمکش میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہم کو اس لحاظ سے بھی دیکھنا ہوگا کہ شاید یہ ایک اسکول کا سلسلہ تھا جو منظر عام پر آگیا نامعلوم پرائیویٹ اور ‘‘او’’یا ‘‘اے’’ لیول مثلاً سٹی ، بیگن ،گرامر اور دیگر عیسائی مشنری اسکولوں میں کیا کچھ نہیں پڑھایا جارہا ہوگا۔اس حوالے سے کوئی چیک اوربیلنس نہیں ۔ بعض کلفٹن ڈیفنس کے اسکولوں میں کس قسم کا ماحول اور تربیت دی جارہی ہے اس کا عملی اظہار کوئی بھی 12سے 2بجے کے درمیان کلفٹن اور ڈیفنس کے شاپنگ مالز اور ریسٹو رنٹس میں جاکر دیکھ لےسب کچھ سمجھ میں آجائے گا۔حتیٰ کہ پرائیویٹ بزنس کالجوں میں طلبا سرگرمی کے نام پر بسنت اور میوزیکل نائٹ کےسوا ۔ کچھ بھی نہیں ہوتا۔  یہ سب کچھ ہم کو کس ڈگر ہر لے جائے گا، اظہر من الشمّش ہے۔ یہاں ضروری ہے کہ ہم ذرا آنکھیں کھول اور کانوں کو فعال رکھ کر اپنےبچوں کے تعلیمی نصاب پر توجہ رکھیں۔

یہاں سلام کرنا چاہتا ہوں ان والدین کو جنہوں نے صدائے احتجاج بلند کی۔ جنہو  ں نے مسئلہ کی گہرائی کوسمجھا ،جنا اور اس قدر بڑا رسک لیا۔ یہ سب کچھ اتنا آسان تو نہیں کہ بچوں کامستقبل ہی داؤ پر لگادیں مگر کسی بڑے مقصد کیلئے کسی کوتو قربانی دینی ہی پڑےگی ،مگر انہوں نے دی اور پھر اس طرح ہوا کہ سوسائٹی اور معاشرہ ان کی پیٹھ پر آکھڑا ہوا ، میڈیا بھی ساتھ آگیا اور قافلہ بنتا چلاگیا۔ یہ بڑی کامیابی ہے جس کی ابتدا میں امید بھی کم ہوگی مگر اللہ کی نصرت نے وہ کام کردکھایا کہ سچ کا بول بالا ہوگیا اور شیطان تلملا کر رہ گیا۔ ذرا سی کوشش اچھی نیت کے ساتھ کی جائے تو کامیابی یقیناً دور نہیں ۔مسئلہ خودی میں ڈوبنے کا ہے،یہی اصل کامیابی کی کلید ہے۔ ہم ان والدین کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے دراصل دوسروں کی خاطر اس قدر بڑا خطرہ مول لیا۔ اللہ ان سب کو عظیم سے نوازے ۔(آمین)

نبی کریمؐ کی حدیث ہےکہ ایک باپ بہترین چیز جو اپنی اولاد کو دیتا ہے وہ بہتر ین تربیت وتعلیم ہے۔ ایک صاحب سے گفتگو ہورہی تھی ان کا کہنا تھا کہ ان کی آمدنی کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جو خوراک پر خرچ ہوتا ہے اور دوسرا بچوں کی تعلیم پر ۔ قارئین ! جب ہم اس قدر خرچہ تعلیم پرکرہی رہے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی دیکھ لیں کہ اسکول میں نصاب کیا ہے۔ ان کے اساتذہ کا مزاج کیا ہے۔ لباس ہی بہت کچھ بتادیتا ہے ۔ دیکھ لیا جائے کہ ان کے لباس کی تراش خراش کیا ہے۔کپرے پہننے والی اور بغیر استینوں کے تکلیف کے کپڑے پہننے والے فیشن شوز کے دلدادہ ، نام نہاد خواتین کے حقوق کی انجمن کے سرکردہ ،الٹرا موڈرن ،مغربی تہذیب کے دلدادہ قوم کے معماروں کے بارے میں کیا تصورات رکھیں گے، جن کو بے حیائی کا مفہوم ہی نہیں معلوم وہ قوم کےمستقبل کی امیدوں کےدریچوں کو کیا سکھائیں گے۔تعلیم وترتیب میں کسی بڑھیا اسکول کی تعلیم ہی لازمی نہیں بلکہ نصاب کی اہمیت مسلم ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کی اولاد اچھی انگریزی لکھنا اور بولنا سیکھ جائے لیکن اگر دین کے شعور سے خالی اور بے بہرہ ہوتو بتائیے کہ آپ روز قیامت کیا جواب دیں گے۔

مجھے اس وقت شرم آتی ہے ان لوگوں سے جو نصاب میں بے ہودگی شامل کرتےہیں اور فخر سے ان والدین پر جنہوں نے رب کعبہ کے خوف اور احکامات کو دنیاوی مفادات پرمقدم رکھا ۔ اللہ آپ پر رحمتیں برسائے (آمین) سچی بات تو یہ ہے کہ ہم اقبال کے تصور خودی کونصاب کےذریعے عام کرنے کی ضرورت ہے:

مجھ کو معلوم ہیں پیراں حرم کے انداز

ہو نہ اخلاص تو دعویٰ نظر لاف و گزاف

اور یہ اہل کلیساں کا نظام تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف

اس کی تقدیر میں محکومی ومظلومی ہے

قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کومعاف

(بشکریہ روزنامہ امت ،کراچی)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/david-public-school-–-shame-and-proud--داؤد-پبلک-اسکول-شرم-اور-فخر/d/1741


 

Loading..

Loading..