New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 12:50 AM

Urdu Section ( 14 Feb 2011, NewAgeIslam.Com)

New Age Islam Battles Conservatives In The Cyber World نیو ایج اسلام سائبر ورلڈ میں قدامت پسندوں کے خلاف برسر پیکار

Sultan Shahin sees New Age Islam as part of a global effort by believers to reclaim Islam from the religious right, and address the questions and conflicts which confront believers in the twenty-first century. “Islam,” he argues, “is a spiritual experience; a system of beliefs through which believers seek to live a meaningful life. For the Islamists, though, religion is primarily a tool through which they seek power. In practice, they worship power, not Allah.”

In a recent essay, Shahin argued that the Islam of the neo-fundamentalists was in fact a “a completely new religion” theologically founded “on a wilful misinterpretation of the Islamic concept of jihad.”

Electronic journals like New Age Islam reach out to a small, but influential, section of India’s Muslims: an emerging class of Muslim professionals and entrepreneurs who are finding that the traditionalist practices of the parents offer few solutions to the struggles of life. Islamists have been adroit at capitalising on their anxieties. Many of India’s jihadists — among them, the leadership of the Indian Mujahideen — came from urban middle class backgrounds and had received a privileged elite education.

West and East

Shahin says he hopes New Age Islam will give this new class a progressive voice. “When the media or the government wants to understand what Muslims think about something,” he says “they’ll always turn to some cleric or the other, not Wipro’s Azim Premji or Himalaya Heath Care’s Meraj Manal or the eminent physicist Israr Ahmed. We need a wider Muslim engagement with public life.”

Shahin’s own understanding of Islam was forged in both India and the West—much like the young audience New Age Islam addresses. -- Praveen Swami, The Hindu, New Delhi

To read the full text of the article please click on the link below:

 

URL: http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/new-age-islam-battles-fundamentalists-in-cyberspace/d/2444

 

نیو ایج اسلام سائبر ورلڈ میں قدامت پسندوں کے خلاف برسر پیکار

پروین سوامی

آگے ایک لمبی لڑائی ہے ۔ سلطان شاہین نے ایک ویب سائٹ شروع کیا ہے جو مذہبی قدامت پسندوں سے برسر پیکار ہے۔سن 1999کےموسم گرما میں فنس بری پارک کےمسجد کے باہر ایک پرجوش مسلم نوجوان نے سلطان شاہین کو لعن طعن کرتے ہوئے کہا ‘‘تم ہندوستانی مسلمان کائر ہو ۔ لیکن وہ وقت بہت قریب ہے جب تم لوگوں کے پاس دو ہی راستے بچے گیں ۔ یا تو ہماری طرح سچے مسلمان بن جاؤ یا پھر غارت ہوجاؤ۔’’

سلطان شاہین کے لیے یہ لمحہ تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں جس اسلام میں یقین رکھتا ہوں وہ خطرے میں ہے اور مجھے اس کے لیے کچھ کرنا ہی ہوگا اگر اسے اسلام کے نام پر بدنام کرنے والوں سے بچانا ہے۔’’ گزشتہ سال سلطان شاہین نے ایک ویب سائٹ کا اجرا کیا جس نے مذہبی قدامت پسندوں کو چیلنج کرنا شروع کردیا۔ حالانکہ یہ ویب سائٹ معمولی بجٹ میں اور غیر مستقل اسٹاف کی مدد سے چل رہا ہے ، نیو ایج اسلام کو ہر روزسینکڑوں (اب ہزارو) لوگ پڑھتے ہیں۔ اس کے الیکٹرونک نیو ز لیٹر کے 29ہزار (اب ایک لاکھ ستر ہزار ) ممبر ہیں۔

نیو ایج اسلام اپنے سامعین کو ایسے اور یجنل مذہبی اور سیاسی مو اد فراہم کراتا ہے جو میں اسٹریم میڈیا شائع نہیں کرتا۔ حالیہ وقتوں میں اس سائٹ پر بیسویں صدی کی ادبی شخصیت نیاز فتح پوری کے وحی سے متعلق غیر روایتی خیالات اور ٹی وی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک پر بحث و تمحیص ہورہی ہے۔

مزید بر آں ،نیو ایج اسلام جرمنی کے ویب سائٹ قنطرہ جیسے ویب سائٹ پر عالمی سطح پرچل رہے  اسلامی مباحث سےبھی واقف کراتا ہے۔ اس کا آر کائیو بھی بنیاد ی ذرائع کا ایک ذخیرہ ہے مثلاً اسلامی عالم اسرار احمد اور جاوید احمدغمیدی کے درمیان مباحثہ تبلیغی جماعت پر مولانا ارشد القادری کی وستاویزی تحریر اور اسلامی مذہبی فکر پر ارسطو کے اثرات پر مسرت حسین زبیری کی تحقیقی تحریر وغیرہ ۔

سلطان شاہین نیو ایج اسلام کو قدامت پسندوں کے قبضے سےاسلام کی بازیافت ،اکیسویں صدی میں اسلام کے ماننے والوں کو درپیش مسائل اور سوالات کو حل کرنے کی کوششوں کے حصے کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک روحانی تجربہ ہے ۔عقائد کا ایک نظام ہے جس کے وسیلے سے مسلمان ایک بامقصد زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ کٹر اسلام نوازو ں کونزدیک اسلام ایک ہتھیار ہے جس کی مدد سے وہ اقتدار پر قبضے کی کوشش کرتے ہیں۔ عملی طور پر وہ اللہ کی نہیں بلکہ اقتدار کی پر ستش کرتے ہیں۔’’

ایک حالیہ مضمون میں شاہین کہتے ہیں کہ نو قدامت پسندوں ( Neo-fundamentalists)کا اسلام بالکل ایک نیا مذہب ہے۔ جس کی مذہبی بنیاد جہاد کے اسلامی تصو ر کی خود ساختہ تشریح پر رکھی گئی ہے۔

نیو ایج اسلام جیسے الکٹرانک جریدے ہندوستانی مسلمانوں کے ایک چھوٹے مگر بااثر حلقے تک پہنچتے ہیں ۔ یہ حلقہ پیشہ ور اور صنعت کار مسلمانوں پر مشتمل ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے والدین کے روایتی طور پر طریقے زندگی کے مسائل کا حل پیش نہیں کرتے۔

اسلام پسند حلقہ انہی کے اندیشوں و اضطراب کوبھنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ بہت سے جہادی ۔ ان میں سے انڈین مجاہدین کی قیادت شہری متوسط طبقے کے گھرانو ں سے ہی نکل کرآئی ہے جس نے رعایت یافتہ اونچی تعلیم پائی ہے۔

مشرق اور مغرب:

سلطان شاہین کہتے ہیں  کہ انہیں امید ہے کہ نیو ایج اسلام اسی نئے طبقے کو ایک ترقی پسند آواز دیتا ہے۔‘‘ جب بھی میڈیا یا حکومت کسی موضوع پر مسلمانوں کی رائے جاننا چاہتی ہے تو وہ کسی مذہبی عالم سے رجوع کرتی ہے، وپرو کے عظیم پریم جی ، ہمالیہ ہیلتھ کیئر کے معراج منال یا معروف طبیب اسرار احمد سے نہیں ۔ہمیں عوامی زندگی میں مسلمانوں کے وسیع تر ارتباط کی ضرورت ہے۔’’

خود شاہین کا اسلامی فہم ہندوستان اور مغرب میں بالیدہ ہوا۔ اور نیو ایج اسلام اسی طرح کے نوجوان قارئین سے مخاطب ہوتا ہے۔ سلطان شاہین جو بہار کے ایک قصبے کے مولوی کے بیٹے ہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی وہ کہتے ہیں ۔‘‘میرے والد سیاسی اور سماجی لحاظ سے قدامت پرست تھے لیکن ان کے یہاں ہمیشہ بحث ومباحثے کی گنجائش ہمیشہ رہتی تھی ۔ مثال کے طور پر وہ ادبی رسالے ‘‘نگار’’ کا گہرا مطالعہ کرتے تھے جس میں شریک مقالہ نگاروں کا زاویہ ان سے مختلف ہوتا تھا۔’’

سلطان شاہین کو کیر ئیر سن 1972میں شروع ہوا جب انہوں نے جماعت اسلامی کے جریرے ( Radiance)کے لئے کام کرنا شروع کیا۔ وہ معنی خیز انداز میں کہتے ہیں ۔‘‘ میں نے جو چیز سیکھی وہ یہ ہے کہ ہمارے معزز سیاست دانوں کی سیکولر زم محض سطحی ہے۔’’

سنہ1980میں شاہین برطانیہ چلے گئے ۔ ایک دہائی کے اندر جو انہوں نے دیکھا اس سے وہ وحشت زدہ ہوگئے ۔ وہ کہتے ہیں ‘‘لندن کے اسلامی واعظ عمر بکری کے جلسوں میں جتنی بھاری بھیڑ ہوتی تھی اتنی تو اس وقت صرف ہندوستانی فلم اسٹاروں کو دیکھنے کے لئے اُمڈ تی تھی۔ جہادی گروپوں کے ذریعہ نوجوان طالب علموں کو کھلے عام بھرتی کیا جارہا تھا۔ (Levis- Jeans)میک ڈانلڈ برگر اور دیگر فیشن کی طرح کٹّر اسلام پسندی بھی مشرق کی طرف سفر کررہی تھی۔’’

نیو ایج اسلام کی تیز رفتار ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دھارے کو چیلنج کرنے کی سمت میں سلطان شاہین کی کوشش محدود وسائل کے باوجود اپنے اثرات مرتسم کررہی ہیں۔ ویب سائٹ کی کامیابی سے بجا طور پر خائف ہیں۔ شاہین کو تو اتر سے آخرت میں ابدی عذاب اور دنیا میں جسمانی تشدد کی دھمکی دی جاتی ہے۔

شاہین کہتے ہیں کہ گزشتہ دوبرسوں کے اندر دانشوروں اور فنکارو ں سے لیکر دیوبند کے عالموں تک کی روز افزوں تعداد اسلام کے غلط استعمال کے خلاف آواز سے آواز ملارہی ہے۔ میں نیو ایج اسلام کو اسی کوشش کا ایک حصہ مانتا ہوں۔ آگے ایک لمبی لڑائی ہے۔’’

(بشکریہ دی ہندو ،نئی دہلی)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-battles-conservatives-in-the-cyber-world--نیو-ایج-اسلام-سائبر-ورلڈ-میں-قدامت-پسندوں-کے-خلاف-برسر-پیکار/d/4121

 

Loading..

Loading..