New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 01:46 AM

Urdu Section ( 17 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

Homeland Contracting: How Long The Act of Enslaving Will Continue? مادر وطن کی ٹھیکیداری ،بندہ پرور کب تلک؟

پروفیسر طاہر محمود

آج آزادی کے 62برس بعد بھی ملک کے کچھ شہری یہ نہیں جانتے یا شاید جاننا چاہتے نہیں کہ اس سرزمین حکومت کس کی ہے، کسی خاص مذہب کی ،مذہبی اکثریت کی یا قانون کی؟ اور اگر بفرض محال انہیں یہ معلوم ہوکہ ہماری دستوری جمہوریت میں قانون کی حکمرانی کا اصول مسلمہ ہے تو انہیں یہ قطعاً منظور نہیں ہے۔ صورتحال جو بھی ہو، یہ حضرات دن دہاڑے ملکی نظام کے اس بنیاد ی اصول کی دھجیاں اڑاتے پھر تے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ ان لوگوں کے نزدیک اس ملک میں حکمرانی غنڈہ گردی کی ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہی یہاں کا قانون ہے۔ دوسری طرف شہریوں کے ایک اور طبقہ نے اپنے ذمہ یہ غیر دانشمند انہ کام لے رکھا ہے کہ غنڈہ راج کے حامیوں کو ان کے حسب منشا مواقع بہم پہنچا تے رہیں ۔ چنانچہ ایندھن ملتا رہتا ہے  اور فرقہ واریت کی آگ سلگانے کا قومی فرض کفایہ پورا ہوتا رہتا ہے۔

‘‘بھارت میں یدی رہنا ہوگا تو  وندے ماترم کہنا ہوگا’’ یہ وہ نادر شاہی فرمان ہے، جو ہندوستانیوں کے ایک بہت بڑے طبقہ کو شہریوں کے ایک دوسرے طبقہ کے کچھ افراد کی طرف سے وقتاً فوقتاً سنایا جاتا ہے۔ یہ فرمان حکومت وقت کا نہیں ہوتا اور نہ ہی شہریوں کی اکثریت اس کی حامی ہوتی ہے۔ اسے جاری کرنے اور منوانے کے لئے آپے سے باہر ہوجانے والے معدودے چند لوگ ہوتے ہیں، جو خود کو مادر وطن کا ٹھیکیدار مانتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ گنے چنے انصاف پسندا فراد کو چھوڑ کر شہریوں کی بھاری اکثریت دادا گیری کی خاموش تماشائی رہ کر اس سچائی سے بے نیاز رہتی ہے کہ ‘‘ارے اوجفاؤں پر چپ رہنے والوں ، خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے’’۔ اس فرمان کے پیچھے خالصتاً سیاسی مفاد کوشی ہوتی ہے نہ کہ مذہب یا حبّ وطن، لیکن فرمان کے مخاطبین کی جماعت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اس شرارتی چال میں پھنس کر مذہبی بنیادوں پر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوجاتے ہیں اور پھر آگ مزید بھڑکنے لگتی ہے۔ سنسکرت اور بنگالی زبان کے ملے جلے اس قومی گیت کی نوعیت اور معافی سے بے خبر عوام دونوں ہی طرف اس کھیل کے شکار ہوجاتے ہیں۔مسلمان سمجھتے ہیں کہ انہیں غیر اللہ کا کوئی ایسا کلمہ پڑھنے پر مجبور کیا جارہا ہے ، جس کے زبان سے نکلتے ہی وہ کفر وشرک کے مرتکب ہوکر اسلام سے یکسر خارج ہوجائیں گے اور ادھر ہندؤں میں مسلمانوں کے محب وطن نہ ہونے کا بے بنیاد تاثر پیدا ہونے لگتا ہے۔

آزادی کی جدوجہد کے دوران کانگریس کے جلسوں میں حب وطن کے جو گیت جوش وخروش سے گائے جاتے تھے، ان میں بنکم چندر چٹرجی کی تخلیق وندے ماترم اور علامہ اقبال کی نظم ‘‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا’’ ممتاز تھیں، جبکہ کانگریس مسلمانوں کی سیاسی دشمنی پرکمربستہ مسلم لیگ اول الذ کر گیت کو لے کر انہیں کفرشرک کے ارتکاب کا طعنہ دیتی رہتی تھی۔ بالآخر کانگریسی رہنماؤں نے اس طویل گیت کا علمی تجزیہ کروانے کے بعد اس کے صرف شروع کے دو بند اپنالئے جن کے بارے میں بتایاگیا تھا کہ وہ اسلام کے عقیدہ توحید سے متصادم نہیں تھے۔ اس احتیاطی تدبیر کے بعد بھی جب ملک کا دستور بنا تو دستور ساز اسمبلی نے اس متنازع گیت کی بجائے رابندر ناتھ ٹیگور کے بنگالی گیت ‘‘جن گن من’’ کو National Anthem(قومی ترانہ)قرار دے دیا جس کے بعد ‘‘وندے ماترم ’’ اور ‘‘سارے جہاں سے اچھا’’ کو National Song (قومی نغمہ)کہا جانے لگا، حالانکہ عام شہریوں کے لئے ان ملتی جلتی اصطلاعات کے فرق کو سمجھنا اور ملحوظ رکھنا مشکل تھا، جب 1976میں دستور میں ا یک ترمیم کے ذریعہ ‘‘شہریوں کے بنیادی فرائض’’ کی دفعہ بڑھائی گئی تو اس میں قومی ترانہ کا احترام تو لازمی قرار دیا گیا، مگر اور قومی نغمے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس سے پہلے 1971میں جب ‘‘ امتناع توہین قومی وقار ایکٹ’’ کے نام سے ایک قانون پاس ہو اتو اس میں بھی صرف قومی ترانہ کا ہی ذکر کیا گیا۔ 1986میں سپریم کورٹ کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا، جس میں ایک خاص عیسائی فرقہ کے کچھ طلبا کو مذہبی بنیاد پر قومی ترانہ گانے سے انکار کی پاداش میں اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ ‘‘ ملک کا کوئی قانون قومی ترانہ گانے کا لازم نہیں قرار دیتا بس اس کے احترام کے لئے کھڑا ہوجانا کافی ہے’’ ۔ اس سوال پر کہ قومی ترانہ کیا واقعی مذکورہ عیسائی فرقہ کے مذہبی عقاید سے متصادم ہے غور کرنے سےانکار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ‘‘فیصلہ کن بات یہ ہے کہ وہ فرقہ خود صدق دلی سے کیا سمجھتا ہے’’ اور اب یہی ملک کا قانون ہے جس کے تحت نہ تو قومی ترانہ یا کوئی اور قومی نغمہ گانے کے لئے کسی کو مجبور کیا جاسکتا ہے نہ اس سلسلہ میں کسی مذہبی فرقہ کی متفقہ علیہ رائے کو قانوناً چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

مشکل یہ ہے کہ ہندوستانیوں کی بھاری اکثریت قانونی ناخواندگی یا قانون کی طرف سے تجااہل عارفانہ کی شکار ہے اور کسی بھی معاملہ میں اس کی قانونی حیثیت جانے یا جان لینے کی تکلیف فرمائے یا پھر جان بوجھ کر اس کی پرواہ کیے بغیر اس کی پر زور مخالفت یا مواقف شروع کردیتی ہے۔ وندے ماترم کی قانونی حیثیت معلوم کر کے اس پر توجہ فرمائی جاتی تو نہ اس کے مخالفین اس پر کسی فتوے کی ضرورت محسوس کرتے اور نہ اس کے موافقین اسے گائے جانے پر اصرار کرتے۔ اس معاملہ کا ایک پہلو اور بھی۔ ہندوستانی مسلمان اپنی غالب اکثریت کی ‘‘مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں ،شہیدوں سے جاجا کے مانگیں دعائیں’’ کی معروف روش کے باوجود خود کے من حیث القوم مؤحد ہونے کے دعویدار ہیں۔ ویسے مسلم معاشرہ میں قبر پرستی کے علاوہ عقیدہ تو حید کے خلاف اور نہ جانے کیا کیا ہوتا رہتا ہے ۔ آجکل ایک فلمی گیت، جس میں ایک عاشق اپنی معشوقہ سے کہتا ہے کہ ‘‘تجھ میں رب دکھتا ہے سجدے میں سرجھکتا ہے’’ ریڈیو سے دن میں نہ جانے کتنی بار براڈ کاسٹ ہوتا ہے، جس کی فرمائش کرنے والوں میں بلا مبالغہ 90فیصد مسلمان ہوتے ہیں ۔ اسی نوعیت کےکفر وشرک سے بھرپور نہ جانے کتنے اور گیت بھی دن بھر بجتے اور مسلمان گھروں میں دہرائے جاتے ہیں، لیکن ملّت کے کسی فنانی التوحیدر کن نے اس گیتوں کے خلاف فتویٰ حاصل کرنے کی زحمت نہیں فرمائی۔پھر پتہ نہیں وندے ماترم جیسے حساس معاملہ ہی میں (لفظ ‘‘وندے’’ کے معنی ‘‘بندہ’’یا ‘‘عبد’’مان کر ) فتویٰ طلب کرنے اور جاری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟اور پھر مطلوبہ فتویٰ تو جاری ہوہی گیا تھا، اس کے بعد بھی کچھ لوگوں نے ایک بہت بڑےنیم سیاسی جلسہ میں اسی مضمون کا ریزولیویشن پاس کرنا کیوں ضروری خیال کیا یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ بہر حال مسلمانوں کے خلاف فتنہ کھڑا کرنے کے سامان کے مستقل متلاشی رہنے والے عناصر کو تو اس سب میں ایک سنہرا موقع نظر آنا ہی تھا، وہ بھلا کیوں چوکتے۔چنانچہ اخباروں میں کالم کے کالم سیاہ ہوئے ، ریڈیو اور ٹی وی پر گرما گرم مباحثے ہوئے ، دھرنے دیے گئے ،دینی اداروں کے پتلے پھونکے گئے، نہ جانے اور کیا کیا ہوا اور دنیا ہم ہندوستانیوں کا تماشہ دیکھ دیکھ کر مذاق اڑاتی رہی۔ملک کا قانون بالکل واضح ہے۔ یہ ملک نہ کسی کی موروثی جائیداد ہے نہ یہاں کسی مذہب کی حکمرانی ہے۔ جن گن من یا وندے ماترم یا کوئی اور قومی نغمہ ،نہ کسی کو اسے لازماً گانے یا نہیں گانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے اور نہ اسے نہیں گانے پر کسی فرد یا طبقہ کو ملک سے عدم وفاداری کے لئے مطعون کیا جاسکتا ہے۔ وندے ماترم کے جن حصوں کو قومی نغمہ مانا جاتا ہے ان کے الفاظ وسباق تحقیق کی روشنی میں ان میں کفر وشرک ہونے کی بات ہمیں صحیح نہیں لگتی، پھر بھی اس گانے پر اصرار کرنے والوں سے ہم یہی کہیں گے کہ آزاد ہندوستان کے تمام مسلمان تمہاری برابر کے شہری اور سوفیصد محب وطن ہیں، ان پر حب وطن کے اپنے مخصوص پیمانے تھوپنے کا تمہیں کوئی دستوری ،قانونی یا اخلاقی حق حاصل نہیں ہے اور اپنے لوگوں سے ہم یہی عرض کریں گے کہ ہر چیز کو مذہب کے چشمہ سے دیکھنے کی بجائے متنازع معاملات میں ملکی قانون کا سہارا لیا جائے تو ایسے مسئلے کھڑے نہیں ہوں گے۔ ہم سب ہندوستانی ،مادروطن کے سپوت ، بھارت ماتا کہ وندنا کرنے یا اسے سارے جہاں سے اچھا بتانے والے مل کر ایسے قطعاً غیر اہم معاملات میں خود کو جگ ہنسائی سے بچا سکتے ہیں۔ اس کےلئے بس اتنا کرنا ہے کہ ملکی قانون کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے ہر معاملہ میں پہلے اس کا علم حاصل کیا جائے اور اس کی مکمل پابندی اپنے لئے لازمی سمجھی جائے۔ اتنا کرلیا جائے تو حب وطن کی ٹھیکیداری مذہبی سیاست اور سیاسی یا جماعتی رقابت کا یہ لامتناہی سلسلہ ختم ہوسکتا ہے۔

syedtahirmahmood@hotmail.com

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/homeland-contracting--how-long-the-act-of-enslaving-will-continue?--مادر-وطن-کی-ٹھیکیداری-،بندہ-پرور-کب-تلک؟/d/2105



 

Loading..

Loading..