New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:51 PM

Urdu Section ( 7 Nov 2012, NewAgeIslam.Com)

A Light on the Life of Hazrat Ali نہج البلاغہ : حضرت علی کی حیات کا آئینہ

 

بغض مورخین نے تقریباً دو سو کتابوں کے نام لکھے ہیں جو نہج البلاغۃ سے پہلے لکھی گئیں اور ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمودات ہیں اور بہت مستند مانی جاتی ہیں

پروفیسر اختر الواسع

8 نومبر، 2012

نہج البلاغہ سید نا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے خطبات ، مقولات، ارشادات ، وصایا ، مواعظ او رمکاتیب کا مجموعہ ہے۔ اس کے جامع علامہ شریف رضی تھے جو اپنے وقت کے ایک جید عالم اور بلند پایہ محدث تھے ۔359ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے اور 406ھ میں انتقال ہوا ، عمر نے زیادہ مہلت نہ دی لیکن اس کے باوجود نہج البلاغہ کی صورت میں ایک پائیدار نوعیت کا کام کرگئے۔ جو آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اس کے مؤلف کے عہد میں تھا۔ یہ مجموعہ گو چوتھی صدی میں مرتب ہوا لیکن اس کے بیشتر مشمولات حدیث، تفسیر اور سیر و رجال کی قدیم کتابوں میں موجود ہیں۔ بعض مورخین نے تقریباً دو سو کتابوں کے نام لکھے ہیں جو نہج البلاغۃ سے پہلے لکھی گئیں اور ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمودات موجود ہیں اور بہت مستند مانی جاتی ہیں ۔ اس لیے اس کتاب کا درجہ استناد کمزور نہیں ہے۔

نہج البلاغہ کے متعدد نسخے، شروحات اور تراجم موجود ہیں ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی صاحب نظر جو صاحب دل بھی ہو وہ اس کتاب کی میں مذکورہ حضرت رضی اللہ عنہ کے مواعظ و حکم کو ان کے اصل مصادر سے ملائے اور اگر کہیں اختلاف نسخ ہے تو اس کو حاشیہ میں واضح کرے، اس طرح ایک تو اس کتاب کے مشمولات کو تاریخی تسلسل مل جائے گا اور دوسرا یہ کہ اس سے علامہ شریف رضی کی بے انتہا محنت و جد جہد کا بھی صحیح اندازہ لگایا جاسکے گا کہ انہوں نے کتنی عرق ریزی سے یہ کتاب مدون کی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ عرب کے سب سے معزز خاندان میں پیدا ہوئے اور آپ کی فصاحت و بلاغت اور زبان و آداب زبان پر قدرت کا اعتراف سب نے کیا ہے۔

فصاحت و بلاغت کے بارے میں ان کے مخالفین بھی یہ کہتے تھے کہ خدا کی قسم فصاحت کا راستہ قریش کو سوائے ان کے (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کسی نے نہیں دیکھا یا ۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبات کے بارے میں فرمایا ہے : ‘‘ میں اس ہستی کے بارے میں کیا کہوں جس میں تین صفتیں ایسی تین صفتوں کے ساتھ جمع تھیں جو کسی بشر میں جمع نہیں ہوسکتیں : یعنی فقر کے ساتھ سخاوت، شجاعت کے ساتھ تد برورائے اور علم کے ساتھ عمل۔

نہج البلاغہ کی عصری معنویت کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ استاد محمد عبدہ نوجوانوں کے لیے نہج البلاغہ کے مطالعہ کا مشورہ دیتے تھے اور اس عہد کے بہت سے مفکرین نے نوجوانوں کے مطالعہ کے لیے او ر عربی و زبان پر دستگاہ حاصل کرنے کے لیے نہج البلاغہ کے مطالعہ کی خصوصی اہمیت کا تذکرہ کیا ہے۔

نہج البلاغہ میں فصاحت و بلاغت کے وہ تمام اسالیب جمع ہوگئے ہیں جو تمام کے تمام ادباء اور کاتبوں نے اپنی تحریروں میں استعمال کئے ہیں جیسے اس میں ایک خطبہ ایسا بھی ہے جس میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس میں الف آیا ہو، عربی زبان میں ایسا خطبہ لکھنا جس میں الف نہ ہو کسی معجزہ سے کم نہیں چونکہ کلام عرب میں سب سے زیادہ استعمال لفظ الف کا ہے۔ اسی طرح سے ایک خطبہ ایسا بھی ہے جس میں کوئی حرف نقطہ والا نہیں ہے تمام الفاظ غیر منقوط ہیں۔ اسی طرح اور بھی خطبات ہیں جو ادب، فصاحت اور علم و فہم کے اعتبار سےبے مثال ہیں۔

جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تعلیمات کا سوال ہے تو مختصر جملوں میں اور چھوٹے چھوٹے کلمات میں معافی کے سمندر بھرے ہوئے ہیں۔ ان کلمات کی مسلسل شرح و تفسیر ہورہی ہے لیکن ان کے کمالات روز بروز زیادہ سے زیادہ نمایاں ہورہے ہیں ۔

زبان و بیان کی خوبیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تحریریں ضرب المثل بن جائیں لوگ ان تحریروں اور تراکیب کو اپنی زبان میں استعمال کرنے لگیں اور مختلف مواقع پر بطور مثال ان کو پیش کریں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تحریریں انتہائی معیاری ہیں ان کے بہت سے مقولات اور ملفوظات ضرب المثل بن گئے ہیں اور عربی زبان میں ان کا بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً

عقل مند کی زبان اس کے دل کا تاج ہوتی ہے اور احمق کا دل اس کی زبان کا پیرو ہوتا ہے۔

عقل جیسی دولت نہیں اور جہالت جیسی ناداری نہیں ۔

قناعت نہ ختم ہونے والی دولت ہے۔

بوڑھے کی رائے مجھے جوان کی مضبوطی سے زیادہ محبوب ہے۔

جس نے کفایت شعار ی کی وہ کبھی محتاج نہ ہوا۔

دنیا گزر گاہ ہے قیام گاہ نہیں ۔

اس علم میں کوئی خیر نہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔

بغیر عمل کے دوسروں کو عمل کی دعوت دینا ایسا ہے جیسا خالی کمان سے تیر چلانا ۔

علم دو طرح کاہوتا ہے ایک وہ علم جو صرف کانوں تک محدود ہے اور دوسرا وہ علم جو عمل کا بھی حصہ بن جائے علم جب مکمل ہوجاتا ہے تو زبان کم ہوجاتی ہے۔

انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔

جس درخت کا تنانرم ہوتا ہے اس کی شاخیں گھنی ہوتی ہیں۔

اصلاح ذات البین عام روز ہ اور نماز سے بہتر ہے۔

سب سے اچھا اخلاق حق کے راستہ میں صبر کرنا ہے ۔

اپنا ہر کام اللہ کے سپرد کردو۔

اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرو ان میں سے ہوجاؤ گے۔

سب سے برا کھانا وہ ہے جو حرام ذریعہ سے ہو اور سب سے برا ظلم وہ ہے جو کمزور پر ہو۔

دوست کے دشمن کو دوست مت بناؤ۔

لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے

ہر آدمی کی قیمت وہ ہنر ہے جو اس کے اندر ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایسے بے شمار الفاظ اور مقولات ہیں جو ضرب المثل بھی ہیں اور ان کی فصاحت و بلاغت اور برجستگی کی وجہ سے علماء ادباء ان کو اپنی تحریروں میں استعمال کرتے رہے ہیں اور مندرجہ ذیل بالا جملوں سے اندازہ ہوا ہوگا، زبان کے علاوہ خود ان افکار کی بھی اہمیت ہے یہ ایسے کلمات ہیں جو چاہے جس زبان میں ہوں ملوک الکلام کا درجہ رکھیں گے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمودات اور تعلیمات کی معنویت اور گیرائی بھی بہت زیادہ ہے۔ خاص طور پر علم کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ و نکات کے معنویت بڑی پائیدار ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

علم کا آغاز جبار کی معرفت ہے علم کا دروازہ سوال ہے۔ سوال جہالت نہیں ہے، علم ہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ‘‘ جو ناواقف سوال کرے اور سیکھنا چاہے وہ تو عالم ہے، جاہل وہ ہے جو عالم سے سوال کرنے کے بجائے اس سے الجھنے لگے ۔

علم کی فضیلت کے بارے میں فرمایا کہ عالم وہ ہے جو لوگوں کو رحمت خداوندی سے مایوس بھی نہ کرے اور عذاب سے بھی پوری طرح غافل بھی نہ کردے۔

علم  کی وسعت کے بارے میں فرمایا کہ ہر ظرف مظروف سے تنگ ہوجاتا ہے مگر علم کا ظرف علم سے اور کشادہ ہوتا ہے۔

علم وہی ہے جو عمل پر آمادہ کرے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بہت سے پڑھے لکھوں کو دین سے بے خبری تباہ کردیتی ہے اور انہیں علم سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا ۔ چونکہ علم عمل سے وابستہ ہے جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے ۔ علم عمل کو آواز دیتا ہے اگر وہ اس کی آواز سن لیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ علم بھی رخصت ہوجاتا ہے ۔

مخلوقات خدا کی دو قسمیں ہیں۔ بعض تمہارے دینی بھائی ہیں اور بعض خلقت میں تمہارے جیسے بشر ہیں جن سے لغزشیں بھی ہوجاتی ہیں اور خطاؤں کا بھی صدور ہوتا ہے تم ان سب کو ایسے معاف کردو جیسے تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کردے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبات مواعظ حسنہ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان میں علم، عمل ، دنیا ، آخرت اور زندگی کے ہر شعبہ کے بارے میں رہنمائی موجود ہے۔ ان پر عمل کر کے انسان ہر زمانے کے لئے رہنمائی حاصل کرسکتا ہے ۔

نہج البلاغہ کی ایک خاص اہمیت یہ ہے کہ یہ کتاب حضرت امیر علیہ السلام کے عہد مبارک کی تاریخ کا ایک زندہ باب ہے۔ سیاست و تدبر میں ان کا مقام ان کی فہم و فراست اور جنگ و امن میں ان کی دانشمندی اور فہم و بصیرت کو اچھی طرح دیکھا جاسکتا ہے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ کا ایک آئینہ ہے جس کی روشنی میں تمام چیزیں صاف نظر آتی ہیں۔

پروفیسر اختر الواسع، ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سربراہ ہیں

8 نومبر ، 2012  بشکریہ : انقلاب نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/a-light-on-the-life-of-hazrat-ali--نہج-البلاغہ---حضرت-علی-کی-حیات-کا-آئینہ/d/9235 

Loading..

Loading..