New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 07:15 PM

Urdu Section ( 23 May 2010, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Shared Tradition of Civilization and Reality Part-II مشترکہ تہذیب روایت اور حقیقت حصہ ۔دوئم

Professor Ali Ahmad Fatmi sings hosanna to the great composite culture of the wonderful land called India. In this artcle titled "Mushtarka tehzeeb: rewayat aur haqeeqat" (Composite culture: tradition and reality) he renders a critical appreciation of India's composite culture with special reference to Urdu language and literature. He believes that Urdu and composite culture are the two sides of a coin and one is incomplete without the other. The verses of the classical poets like Sauda, Insha, Nazeer Akbarabadi, Hatim etc. reflect the Indian culture and civilisation in its full glory. He quotes from the beautiful poetry of Firaq Gorakhpuri, Iqbal, Nazeer, Mohsin Kakorvi and Jaafar Zatalli to drive home his point. Mr Fatmi quotes a stanza from a poem by Nazeer Akbarabadi in which Kans, Vasudeo, Devki and Yashoda's character and their sweet quarrels become alive. It shows not only Nazeer's knowledge of the Hindu religion and culture but also his deep reverence for it. The concluding part of the article is presented in Urdu below Editor

URL : https://newageislam.com/urdu-section/shared-tradition-of-civilization-and-reality-part-ii--مشترکہ-تہذیب-روایت-اور-حقیقت-حصہ-۔دوئم/d/2884

 

 

پروفیسرعلی احمد فاطمی

کالے کوسوں نظر آتی ہیں گھٹائیں کالی

ہند کیا ساری خدائی میں بتوں کا ہے عمل

 ڈوبتے جاتے ہیں گنگا میں بنارس والے

نوجوانوں کا سنیچر ہے یہ بڑھوا منگل

ان قصیدوں او رمثنویوں کو ملاحظہ کیجئے! ان میں جس طرح سے ہندو تہذیب ،عوامی رنگ اور ہند کی مشترکہ تہذیب رچ بس گئی ہے وہ محسوس کرنے کے لائق ہے۔ یہ اردو شاعری کا ایک ایسا اضافہ اور خزانہ ہے جس پر جس قدر فخر کیا جائے کم ہے۔

اسی طرح سے حالی کی نظمیں ،آزاد وشبلی کی نظمیں ، چکبست کی قومی نظمیں ، سرور جہاں آبادی ، اقبال ، جوش اور فراق کی نظمیں غزلیں۔ ان سب نے اس تہذیب میں ایسی رونق اور جگمگا ہٹیں بخشی کہ اردو شاعری اور مشترکہ تہذیب ایک ہی تصویر کے دورخ ہوگئے۔ اقبال جو اسلامی فکر کے شاعر کہے جاتے ہیں ‘‘امام ہند’’ کے عنوان سے بھگوان رام پر ان کی غیر معمولی نظم ملتی ہے ۔ جوش نے ‘‘تلسی داس’’ پر عمدہ نظم کہی ۔فراق نے اپنی رباعیوں میں پریم رس اور شرنگار رس کے ایسے ایسے جلوے بکھیرے ہیں کہ ہندوستان کی گھریلوں مشترکہ تہذیب ،عوامی تہذیب قوس قزح کاروپ اختیار کرگئی ہے۔ عمدہ اور پختہ روایت کے زیر اثر ترقی پسند شعرا نے ان رویوں کو اس قدر دل سے قبول کیا ہے کہ ہندوستانی تہذیب نجانے پرتوں اور جستوں میں نکھر کر چاند اور سورج کی طرح چمکنے اور جگمگانے لگی۔ اب میں غزل کے چند اشعار بھی پیش کرتا ہوں:

 جودھا جگت کے کیوں نہ ڈریں تجھ سوں اے صنم

ترکش میں تجھ نین کے ہیں ارجن کے بان آج

ولی دکنی

میر کے دین ومذہب کو کیا پوچھتے ہو، ان نےتو

قشقہ کھینچا ،دیر میں بیٹھا ،کب کا ترک اسلام کیا

میر

آتش عشق میں راون کو جلا کر مارا

 گرچہ لنکا میں تھا اس دیو کا گھر پانی میں

میر

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا

کریدتے ہو کیوں راکھ، جستجو کیا ہے؟

غالب

ہندو ہیں بت پرست ،مسلماں خدا پرست

پوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست

سودا

قشقہ ہندو مذہب کی علامت اور جسم کے جلائے جانے کی رسم بھی ہندو اور ہندوستانی ہے لیکن کس قدر سلیقے سے اردو شاعری جذب ہوئی ہے، اسی طرح بت اور برہمن کا ذکر ۔ دیر وحرم چرچے تو اردو غزل میں بھرے پڑے ہیں لیکن ان کی صناعی ، کاریگری اور امیجیز کی شکل دے دینا غیر معمولی فنکار ی اور عقیدت مندی کا ہنر ہے۔ فراق کے یہ چند شعر دیکھئے :

ہر لیا ہے کسی نے سیتا کو

زندگی جیسے رام کا بن باس

جیسے تاروں کی چمک بہتی ہوئی گنگا میں

اہل غم یوں ہی یادآؤ کہ کچھ رات کٹے

دلوں کو تیرے تبسم کی یاد یوں آئی

جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ

شیو کا وش پان تو سنا ہوگا

 میں بھی اے دوست پی گیا آنسو

فراق تو خیر ہندو تھے لیکن انہوں نے اپنا ایک مکمل دبستان قائم کیا جس کے اثرات بعد کے شعر ا میں دکھائی دیتے ہیں لیکن مومن تو صرف نام کے ہی مومن نہ تھے لیکن انسان دوسری کے حوالے سے کہتے ہیں:

کیسا مومن ،کیسا کافر، کون ہے صوفی، کیسا رند

بشر ہیں سارے بندے حق کے، سارے جھگڑے بشر کے ہیں

چند شعر ا او رملاحظہ کیجئے :

حرم ودیر کی گلیوں میں پڑے پھر تے ہیں

بزم رنداں میں جو شامل نہیں ہونے پاتے

فانی

بتوں کو دیکھ کر سب نے خدا کو پہچانا

خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

یگانہ

پہنچی یہاں بھی شیخ وبرہمن کی کشمکش

اب میکدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا

اقبال سہیل

مدھ کی کٹوریوں میں وہ امرت گھلا ہوا

 جس کا ہے کام دیو بھی پیاسا ،غضب غضب

اثر لکھنوی

اجڑی ہوئی ہر آس لگے

 زندگی رام کا بن باس لگے

جاں نثار اختر

 اب دوشعر میں آج کے عہد کی ایک مقبول شاعرہ ‘‘پروین شاکر’’ کے بھی پیش کرتا ہوں :

اب تو ہجر کے دکھ میں ساری عمر جلنا ہے

 پہلے کیا پناہیں تھیں مہرباں چتاؤں میں

نہ سر کو پھوڑ کے تو روسکا تو کیا شکوہ

وفا شعار کہاں میں بھی ہیر ایسی تھی

نئی غزل اور نظم میں اس طرح کی ہندوستانی اصطلاحیں بھری پڑی ہیں اور اردو شاعری ہندو وہندوستانی تہذیب میں اس قدررچ بس اور گھل مل گئی ہے جیسے دودھ میں شکر ۔ فکشن کے میدان میں یہ ملاوٹ اور گھلاوٹ کچھ اس انداز کی ہے کہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کون سی تہذیب کہاں سے شروع ہے۔ ہندی کے معروف فکشن نگار بھیشم شاہنی نے ایک جگہ لکھا ہے:

‘‘ گذشہ چھ سات سو برسوں میں عوامی سطح پر ہماری ایک ملی جلی تہذیب ابھری ہے۔ اس کی بنیاد ہمارے بھگتوں اور صوفیوں نے ڈالی ہے۔ انہوں نے ایک مشترکہ سوچ دی، ایک تہذیب دی ۔ جو لوگ گاؤں دیہات میں صدیوں سے رہ رہے ہیں ان کی ساجھی زبان جاتی ہے۔ ہماری آج کے جوزبانیں ہیں وہ سب اسی کا حصہ ہیں۔ یہ ملک، یہ تہذیب، ہم سب اسی کا حصہ ہیں۔ ہم ہر وقت مندر مسجد میں تو بیٹھے نہیں رہ سکتے ، ہم سماج میں ملتے جلتے ہیں، سارے کام مل جل کر کرتے ہیں۔ ایسا ساری دنیا میں ہوتا آیا ہے۔ آج تو ساری حدیں ٹوٹ رہی ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں ٹوٹ جاؤ ،بٹ جاؤ ۔ یہ قطعی نہیں ہوسکتا ۔’’

ہندوستانی تہذیب کی وہ روایت جو تیر ہویں صدی میں امیر خسرو کے ساتھ نمو پذیر ہوئی ۔ بھیشم جی کی طرح تمام وطن پرست اور انسان دوست ادیبوں کے قلم اور ذہن میں رہی اور آج بھی ہے لیکن کچھ سمجھ اور نادان اسے توڑ نا چاہتے ہیں۔صدیوں کی اس روایت اور اس عظیم وراثت کو بکھیر نا چاہتے ہیں۔ افسوس کہ کچھ ادیب بھی  جو بقول کملیشور ۔ ‘‘ان کی اوپری جیب میں قلم اور اندر کی جیب میں ترشول ہوتا ہے۔’’

جہاں فرقہ واردیت فسطائیت کا روپ لے چکی ہو، بازار واد کی تہذیب نے چکا چوند مچا رکھی ہو۔ برُے بھلے اور غلط صحیح کی تمیز ختم ہوچکی ہو، خیالات اور وچاروں کی گنجائش کم ہوگئی ہو، منطق اور لاجک ختم ہوچکی ہو، جہاں مشترکہ جمال وحسن کے شاہکار تاج محل، اور اجنتا ،ایلورا بھی کاروبار کا حصہ بن چکے ہوں تو ایسے میں مشترکہ کلچر کو یاد کرنا اور بھی ضروری ہوجاتا ہے ۔صدیوں کی گنگا جمنی تہذیب او رہندو ومسلم وغیرہ کی ملی جلی وراثت کو دہرایا جانا اور بھی لازمی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ اتفاق نہ کریں گے لیکن میرا ماننا ہے کہ اگر کبیر ونظیر ،نانک اور بلے شاہ کی پر مپرا کو ۔ فراق ونرالا، ٹیگور واقبال کی ملی جلی دھارا کو پھر سے بہادیا جائے ، ایکتا اور انیکتا کے نغمے گائے جائیں تو یہ ہندوستان بھی بدلے گا اور ہندوستان میں رہنے والا ہر انسان بھی بدلے گا۔ہندی میں بدل جائے گی اور اردو بھی بدل جائے گی، ہند و مسلمان بھی بدل جائے گا۔ اس مشترکہ تہذیب کے ذریعہ ہم ہر مشکل سے لڑسکتے ہیں، مندر او رمسجد کے سوال سے بھی، ہندو مسلم فساد سے بھی، علاقائیت سے بھی اور فرقہ واریت سے بھی اور تاریخ کی گھسی پٹی عصبیت سے بھی کہ ہمیں حال میں زندہ تو رہنا ہے لیکن تاریخ کی عظیم روایت اور تہذیب کی انمول وراثت سے محروم رہ کر ہم محض بازار کے شوپیس ہوکر رہ جائیں گے جسے کوئی بھی خرید سکتا ہے اور کوئی بھی فروخت کرسکتا ہے۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/shared-tradition-of-civilization-and-reality-part-ii--مشترکہ-تہذیب-روایت-اور-حقیقت-حصہ-۔دوئم/d/2884

 

Loading..

Loading..