New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 08:52 PM

Urdu Section ( 28 Apr 2015, NewAgeIslam.Com)

On the Reconstruction of Religious Thought (Part 1) مذہبی افکار و نظریات کی تعمیر جدید (حصہ 1)

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

14 اپریل، 2015

 

اس موضوع پر راشد صاحب کا مضمون ایک گہرا مشاہدہ اور تجربہ پیش کرتا ہے:

Reconstruction of Religious Thoughts in Islam Has Been a Perennial Message of Muslim Scholars

http://www۔newageislam۔com/debating-islam/reconstruction-of-religious-thoughts-in-islam-has-been-a-perennial-message-of-muslim-scholars/d/102418

جیسا کہ جب کسی ڈھانچے کی تعمیر نو کا کام شروع کیا جاتا ہے تو  ماہر فن تعمیر  اس میں اس حد تک تبدیلی کرتا ہے کہ اس  نئے ڈیزائن کی ساخت میں ایک بڑی تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ تزئین کاری نئے ڈھانچے کی ساخت میں کی جاتی ہے جو کہ اس کا مقصد ہے۔ تزئین اور تجدید کاری کے بعد اکثر پرانی عمارت اور اس کی گزشتہ ساخت کے کوئی پرانے اثرات باقی نہیں رہتے۔

اسی طرح اقبال کی اسلامی دانشورانہ فن تعمیر میں اسلام کے اندر ایک ایسی انقلابی تبدیلی کی صلاحیت کی عکاسی ہوتی ہے جسے 'مذہبی افکار و نظریات' کی 'تعمیر نو' کے وقت  انجام دیا جانا چاہیے۔"

ونسٹن چرچل نے بھی ایسا ہی کچھ کہا ہے کہ "شروع میں ہم اپنے ڈھانچے کی تشکیل کرتے ہیں اور اس کے بعد وہ ہماری ساخت کی تشکیل کرتے  ہیں"۔

میں نے حال ہی میں اسلام میں پائے جانے والے بعض بنیادی مسائل پر کام شروع کیا ہے اور اس کا آغاز اس کے ساتھ ہوا کہ پیک تھال نے قران کریم میں لفظ ‘‘کافر’’ سے کیا سمجھا ہے۔ انہوں نے قرآن کریم میں لفظ کافر کے دو معانی تلاش کیے ہیں جو کہ اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب ہم خدا کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کافر کا پہلا معنیٰ یہ ہے کہ جو کسی بھی مذہب کا پیروکار نہیں ہے۔ وہ پوری انسانیت کے لیے اللہ کی خیر اندیش  مرضی اور مقصد کا مخالف ہے، لہٰذا، وہ تمام مذاہب کی حقیقت کا انکار کرنے والا، وحی الہی کے طور پر تمام صحائف کا انکار کرنے والا اور ان تمام انبیاء (علیہم السلام) کا ان کی سر گرم مخالفت کی حد تک انکار کرنے والا ہے جن کو ایک اللہ کے رسول کی حیثت سے کسی بھی امتیاز کے بغیر تمام مسلمانوں کو ماننے کا حکم دیا گیا ہے"۔

اس سے مجھے بڑی حیرت ہوئی اور میں نے ہر اس آیت کی تحقیق اور اس میں غور و فکر کر کے اپنی تحقیق کا آغاز کیا  جس میں اس لفظ یا اس کے لغوی مترادفات کا استعمال کیا گیا ہے۔ ایسی تمام آیتوں  کی دقت نظر کے ساتھ تحقیق اور تجزیہ کرنے پر میں ایک یکسر مختلف نتیجہ پر پہنچا ۔ میں نے دریافت کیا کہ جن آیتوں کا تعلق روحانیت یا خدا، رسولوں، آسمانی کتابوں اور آخرت پر ایمان لانے سے ہے ،ان میں  لفظ کافر کا ایک متعین معنیٰ مراد ہے اور وہ  "رسولوں کے پیغامات کی حقانیت کو مسترد کرنے والا" ہے۔ یہاں تک کہ روحانی اعتبار سے بھی کفر آسمانی کتابوں میں شریعت یا  پیغامات سے متعلق ہے جس کے احکام مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہیں۔ دنیاوی اعتبار سے  "کافر" اور "کفر" ایک فطری عقیدہ ہے۔ دنیاوی معاملات سے متعلق آیات میں واضح طور پر "کفر" کا ذکر ہے۔ اور اصطلاح (کفرو) کا مادہ "کفر" ہے۔ مثال کے طور پر:

8:36 بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باع حسرت ہو جائیں گے....................

8:38 آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے! کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے................................................

 8:36 میں ‘‘کفرو’’ سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگ جو اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے اپنا مال و کوششیں صرف کرتے ہیں۔

کفر مذہبی ظلم و ستم یا اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنا ہے۔

ان آیات کا تعلق دنیاوی معاملات سے ہے لہٰذا، انہیں ایمان یا کفر کے ساتھ جوڑنا بے موضوع ہے۔

انہیں جس چیز سے بچنا چاہیے وہ کفر ہے اور ان کے ماضی کی جن باتوں کے  معاف  کیے جانے کا وعدہ کیا جا رہا  ہے وہ بھی ان کا کفر ہے  اور ان کا کفر کیا ہے اس کا تعین  مذکورہ سطروں میں کیا جا چکا ہے۔

آیت  8:38 میں کفرو کا ترجمہ اس طرح کرنا:

8:38 وہ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے! کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے................................................

ایک گمراہ کن ترجمہ ہے اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ غلطی سے باز رہنے سے مراد کفر سے باز رہنا اور لوٹ آنے سے مراد کفر کی طرف لوٹ آنا لیا جا سکتا۔ یہاں تک کہ اگر اس ترجمہ سے کچھ گمراہ کن الفاظ کو ہٹا دیا جائے اور یہ کہا جائے:

8:38 وہ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے! کہ اگر یہ لوگ (اپنے ظلم و ستم ) سے باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے.......................

تو بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چند ظالموں کے ظلم و ستم کا ذمہ دار تمام کافروں کو کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے اور چند ظالموں کے ظلم و ستم کو عمومی شکل کیوں دی جا رہی ہے؟ یقینا ہم اس کلام الٰہی ایک بھی کافر پر جھوٹا الزام لگائے جانے یا ان سے لغو کلام کیے جانے کی توقع نہیں رکھتے۔

لہٰذا، صحیح ترجمہ یہ ہے:

8:38، وہ آپ ان مذہبی ظلم و ستم کرنے والوں سے کہہ دیجئے! کہ اگر یہ لوگ (اپنے ظلم و ستم ) سے باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے.................................

یہ نہ صرف اس آیت کا صحیح معنی ہے بلکہ فطری مذہب کی اصطلاحات استعمال کرنے سے قرآن کا یہ پیغام آفاقی حیثیت کا حامل ہو جاتا ہے اور اس کا نفاذ یکساں طور پر ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو خود کو مومن کہتے ہیں لیکن مذہبی ظلم و ستم میں بھی ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ قوسین میں یہ ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ انہیں کن باتوں سے باز چاہئے یا ان کے ماضی کی کون سی باتیں معاف کی جائیں گی۔

اگر ترجمہ کا یہ طریقہ کار اپنایا جائے تو مختلف آیتیں ایک ساتھ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوں گی اور اس سے بہت سارے گمراہ کن پہلو اور اعتراضات بھی مرتفع ہو جائیں گے۔ اور اس کے بعد اکثر آیتوں کو  سیاق و سباق سے بھی آراستہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔

اس دریافت کے ساتھ یہ بات سمجھ میں آئی کہ قرآن کی آیتوں کو اس نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا تعلق روحانی پہلو سے ہے یا دنیاوی پہلو سے ہے۔ قرانی آیتوں کا اس طریقے سے مطالعہ کرنے کے بعد اس سلسلے میں کچھ قابل ذکر بصیرتیں حاصل ہوئی ہیں۔ میں نے یہ پایا کہ جن آیتوں کا تعلق دنیاوی معاملات یا لڑائی اور قتال سے ہے  وہ مکمل طور پر سیکولر ہیں!

روحانی معاملات میں بھی قرآن مجید نے کسی بھی طرح کے کفر کے لئے کوئی سزا متعین نہیں کیا ہے، خواہ وہ مذہب کا انکار ہو ، ارتداد ہو یا توہین رسالت ہو۔ قرآن مذہب کے معاملے میں کسی تشدد آمیز مداخلت کی بھی اجازت نہیں دیتا ہے۔ 2:256 "دین میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور 109:6 "اور اے (امن پسند کافروں) تمہارا دین تمہارے لیے اور ہمارا دین ہمارے لیے ہے" جیسے اسلامی اصول ابدی حیثیت کے حامل ہیں۔ مذہب تبدیل کروانے کا واحد راستہ لوگوں کو اس مذہب کا قائل کرنا ہے۔

جنگ یا لڑائی کا  اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے خواہ وہ "کافر" کے خلاف "مومن" کی لڑائی ہی  کیوں نہ ہو۔ اس تناظر میں، مومن سے مراد صرف انصاف اور سچائی کی حمایت کرنے والا انسان ہے اور کافر سے مراد ظالم و جابر انسان ہے۔ جنگ صرف خدا کی راہ میں ماذون ہے اور جنگ کی اجازت صرف ظلم کے خلاف لڑنے کے لیے ہے خواہ  وہ ظلم مذہبی ہو یا غیر مذہبی ہو۔

مثال کے طور پر، ہندوستان کی فوج نے پاکستان فوج کو شکست دے کر بنگلہ دیش کو آزاد کرایا تھا  جس نے بنگلہ دیش کے لوگوں پر بہت ظلم و ستم کیا تھا۔ اس جنگ میں ہندوستانی فوج نے مومن کا کردار ادا کیا تھا اور پاکستان کی فوج نے کافر کا ​​کردار ادا کیا تھا اس لیے کہ یہ جنگ بنگلہ دیش کی مظلوم عوام کے لیے تھی۔

(4:141) ................اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راه نہ دے گا۔

کافروں کو  ایک شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آیت 4:141 سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیاوی معاملات میں  کافر اور مومن سے فطری عقیدے کی طرف اشارہ ہے اور کسی کے مومن یا کافر ہونے کا تعین اس کے عمل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جو انصاف کے لئے کھڑا ہوتا ہے وہ مومن ہے اور ظلم و ستم کے لئے کھڑا ہوتا ہے وہ کافر ہے۔

قرآن میں ایک آیت بھی ایسی موجود نہیں ہے جس میں مندجہ ذیل کسی بھی مقصد کے لیے لڑنے کا حکم دیا گیا ہو:

1۔ مذہب کو پھیلانے کے لیے

2۔ کفر کو ختم کرنے کے لیے

3۔ اسلام کی حقانیت  کو قائم کرنے کے لئے

تاہم، بہت سے مترجمین نے ترجمہ کرتے وقت یا اپنی تشریح میں ان آیتوں کے معانی میں تحریف کی ہے اور لفظ ‘‘جہدو’’ کا غلط معنیٰ کر کے قتال سے "مقدس جنگ" مراد لیا ہے، جبکہ ‘‘جہدو’’ کا معنیٰ صرف ‘کوشش کرنا’ ہے اور وہ بھی "دین کے لئے کوشش'' کرنا نہیں ہے۔ عربی متن کے ایک آسان حوالہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ صرف تشریحات یا خیالی تشریحات ہیں۔

اس انداز میں ایک نئے سرے سے قرآنی آیات کا مطالعہ کیا گیا اور  اس سے ان  کی ایک مختلف صورت سامنے آئی اور ترجمہ اور تشریحات میں غلطیاں اور خامیاں نمایاں اور واضح ہو گئیں۔ یہ "غلطیاں" تعصب کی وجہ سے ہیں جو کہ ایک عالمگیر خصلت ہے۔ ان غلطیوں کی تصدیق آسانی سے عربی عبارت کے ساتھ ان کے تقابل اور موازنہ کے ذریعہ کر دی گئی۔ اب تمام جہانوں کے رب کی معرفت، سخت تعصب و تنگ نظری کے بجائے ، جس کے مطابق مذہبی طور پر متعصب لوگوں نے خدا کے تصور کو صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کے ایک تنگ نظر  خدا میں محدود کر دیا ہے، کہ جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں،  اس کے حقیقی نور میں کی جا سکتی ہے۔

میرا یقین ہے کہ اگر قرآن کی آیتوں کو سمجھنے میں روحانی اور دنیاوی معاملات کے فریم ورک کا استعمال کیا جائے تو اس سے قرآنی پیغامات کو حاصل کرنے اور انہیں سمجھنے کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔ اس آلہ کار کا استعمال کرتے ہوئے ہم اس دنیا سے جسے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں ایک یکسر مختلف دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔ اب میں مطمئن ہو چکا ہوں کہ ہمارا خالق چاہتا ہے کہ ہم اس کے کلام کو اسی طرح سے سمجھیں۔ اس کے نتیجے میں دین کے تعلق سے ہمارے تصور میں بڑی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ تصور  میں تبدیلی سے ہمارے طریقے میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے فکر و عمل میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین:

Preface: The Reconstruction of Religious Thought in Islam By Dr. Muhammad Iqbal

http://www.newageislam.com/books-and-documents/preface-the-reconstruction-of-religious-thought-in-islam-by-dr-muhammad-iqbal/d/221

Lecture 1: Knowledge and Religious Experience

http://www.newageislam.com/books-and-documents/lecture-1--knowledge-and-religious-experience-by-dr-muhammad-iqbal/d/220

Lecture 2: The Philosophical Test of the Revelations of Religious Experience

http://www.newageislam.com/books-and-documents/lecture-2--the-philosophical-test-of-the-revelations-of-religious-experience-by-dr-muhammad-iqbal/d/219

Lecture 3: The Conception of God and the Meaning of Prayer

http://www.newageislam.com/books-and-documents/lecture-3--the-conception-of-god-and-the-meaning-of-prayer-by-dr-muhammad-iqbal/d/218

Lecture 4: The Human Ego – His Freedom and Immortality

http://www.newageislam.com/books-and-documents/lecture-4--the-human-ego-–-his-freedom-and-immortality-by-dr-muhammad-iqbal/d/217

Lecture 5: The Spirit of Muslim Culture

http://www.newageislam.com/books-and-documents/lecture-5--the-spirit-of-muslim-culture-by-dr-muhammad-iqbal/d/216

Lecture 6: The Principle of Movement in the Structure of Islam

http://www.newageislam.com/books-and-documents/lecture-6--the-principle-of-movement-in-the-structure-of-islam-by-dr-muhammad-iqbal/d/215

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/naseer-ahmed,-new-age-islam/on-the-reconstruction-of-religious-thought/d/102459

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/نصیر-احمد،-نیو-ایج-اسلام/on-the-reconstruction-of-religious-thought-(part-1)---مذہبی-افکار-و-نظریات-کی-تعمیر-جدید-(حصہ-1)/d/102732

 

Loading..

Loading..