New Age Islam
Fri Apr 23 2021, 02:19 AM

Urdu Section ( 24 Apr 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Reality, Mysticism and India حقیقتِ تصوف اور ہندوستان

 


ناشر نقوی 

22 April 2015

خدا کی عبادت کرنے والے وہ مقرب جو قیامت کے روز صوف پہنے ہوئے اپنے دل کی صفائی کے ساتھ پہلی صف میں کھڑے کیے جائیں گے وہ ہی اصل میں صوفی ہونگے ۔ قرآن مجید میں خالق کائنات کاارشاد ہے کہ میرے حقیقی بندے وہ ہیں جو زمین پر حلیمی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب انہیں کم عقل اپنی طرف مخاطب کرتے ہیں تو وہ ان کے حق میں سلامتی کی دعاکرتے ہیں (الفرقان : ۳۶)اس ارشاد کی روشنی میں جب ہم تصوف کی معنویت کو ڈھونڈتے ہیں تو صرف یہی نتیجہ برآمد ہوتاہے کہ تصوف صرف اور صرف ’دعائے سلامتی ‘ ہے ۔ سید اطہر عباس رضوی اپنی کتاب اے ہسٹری آف صوفیزم ان انڈیا میں لکھتے لیں’’ان روحانیت پرستوں کو ہی صوفی اور ولی اللہ ، درویش یا فقیر کہاجاتاہے جو عبادت اور نفی ذات کے ذریعے روحانیت ، ربوبیت پر یقین کی طاقت کانام ہے جو ارادوں کی قوت اور اعتماد کی ریاضت سے حاصل ہوتی ہے اس طاقت کا تعلق اجتماعیت سے نہیں انفرادیت سے ہوتاہے ۔ انفرادیت میں بنیادی درس یہ ہے کہ جو بات تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے اسے دوسروں کے لئے بھی پسند نہ کیا کرو۔ دوسرے لفظوں میں تصوف دنیاوی اور نفسانی لذتوں کو ترک کردینے اور اخلاق حسنہ کا نام ہے جسے جنید بغدادی نے ’خیال کی دوستی ‘ کا نام دیاہے ۔ خود پر قابو پانے سے جو باطنی قوت پیدا ہوتی ہے وہ اسی تصوف کی پہچان ہے ۔ تصوف کے کچھ مخالفین نے ترک دینا یعنی ترک لذت سے یہ بھی مفہوم نکال لیا کہ صوفی دنیا والوں سے اپنا رشتہ منقطع کرلیتے ہیں اور اس طرح تارک دنیا ہوجاتے ہیں۔جبکہ تصوف اخلاق کریمہ ہے جو بہہرت زمانے میں بہتر شخص سے بہتر قوم کے ساتھ ظاہر ہوتاہے ۔ اس کا تعلق ولایت سے ہوتاہے ۔ تاریخ اسلام اور صوفیوں کی روایت کے مطابق اسلام میں ختم نبوت کے بعد ولایت کا سلسلہ حضرت علی سے شروع ہوا جو قیامت تک جاری رہے گا۔ پروفیسر شمسی تہرانی لکھتے ہیں : ’’
علماء اور مفسرین کے لئے حدیث غدیر من کنت و مولا سبھی کو تسلیم ہے اور اس سے صوفیائے اسلام نے حضرت علی کو شاہ ولایت قرار دیاہے ۔ مولا علی کی ولایت کے سلسلے میں حضرت مجدد الف ثانی سرہندی نے ایک جگہ اپنے مکتوبات میں لکھا ہے ۔

حضرت علی اور ان کے بعد گیارہ ائمہ اہل بیت کو صوفیائے اسلام اپنا مرجع سمجھتے ہیں۔ یعنی قرب ولایت کا منبع فیض حضرت علی ہیں(بحوالہ تاریخ خواجگان ۔ صفحہ ۵۵)تاریخ تصوف کی تفصیل مختصر مقالے میں نہیں سمیٹی جاسکتی ۔ مقالے میں صحیح سمت و رفتار کی طرف صرف اشارے ہی کئے جاسکتے ہیں۔ بہرحال یہ کہاجائے تو مناسب ہوگا کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں مولا علی کی روحانی ولایت کے ورثہ دار امام حسن کی صلح نے تصوف کو عروج بخشاہے۔یہیں سے تصوف میں صلح کل کا فلسفہ پروان چڑھاہے۔مولانا عبدالرحمن جامی نے اپنی کتاب نفخات الانس میں مولاعلی کے شاگرد شیخ ابو ہاشم کوفی پہلا باضابطو صوفی قرار دیاہے۔مختصر یہ کہ صوفی سنت رسول کو اپنا ثعار بناکر اٹھے تھے جو کبھی بھی دنیا سے غافل نہیں رہے۔بلکہ ان کے روحانی آستانےّ آج بھی مرکز ہدایت کا درجہ رکھتے ہیں۔بغور مطالعہ کے بعد اندازہ ہوگا کہ صوفیائے اسلام کی گوشہ نشینی پیغمبر اسلام کی تاسی رہی ہے۔خود حضرت حضرت محمد ﷺنے گوشہ نشنینی اختیار کرکے روحانیت کی منزلیں سرکی تھیں۔رسول ﷺ کو جب بھی موقع ملتا آپ خلوت میں جاکر یاد الہی میں کھوجاتے ا ور تنہائی میں بیٹھ کر اپنے رب کو یاد کرتے تھے۔اس عمل کے لئے آپ غار حرا میں چلے جایا کرتے تھے۔ خدا سے اس طرح کی قربت نے ہی رسول کو مقرب بنایاتھا جس کا ذکر قرآن شریف میں موجو دہے ۔سہروری سلسلہ ء تصوف کے بانی حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ قرآن میں آئے مقرب ’لفظ ‘ کو صوفی سے منسوب کرتے ہیں۔محبوب الہٰی حضرت نظام الدین اولیاء نے واضح الفاظ میں فرمایاہے : ’ترک دنیا کے یہ معنی نہیں کہ کوئی اپے آپ کو ننگا کرے اور لنگوٹا باندھ کر بیٹھ جائے بلکہ ترک دنیا یہ ہے کہ لباس بھی پہنے کھانا بھی کھائے اور حلال کی جو چیز اسے پہنچے اسے روا رکھے لیکن اسے جمع کرنے کی طرف راغب نہ کرے اور دل کو اس سے نہ لگائے۔ترک دنیا یہ ہے (فوائد الفواد )۔

دنیا میں ظہور اسلام کے زیر اثر تصوف نے باطنی علم سے استوار ہوکر ایک عالم گیر تحریک کی صورت اختیار کرکی۔ اہل تصوف کے یہاں رائج تصور ’چار پیر چودہ خانوادے ‘ مے مطابق پیغمبر اسلام کے بعد مولا علی سے جن چار برگزیدہ ہستیوں تک باطنی علم پہنچا وہ حضرت امام حسن ، ھضرت امام حسین ، خواجہ حسن بصری اند خواجہ کمیل ہیں۔یہ وہ چار پیر ہیں جن میں سے خواجہ حسن بصری سے مربوط چورہ خانوادے سامنے آئے جن سے صوفیوں کے تمام سلسلے منسلک ہوئے۔تصوف کے یہ سلسلے ہیں زیدیہ ، عہاضیہ، ادمیہ، ہبیریہ ، چشتیہ ، عجمیہ، طیوفوریہ ، سقطیہ ، جنیدیہ ، گازردیہ ، طوسیہ ، سہروردیہ ، نقشبندیہ اور فردوسیہ۔ در حقیقت صوفیوں نے رضاکارانہ طور پر دنیا کے عیش و آرام کو ٹھوکر مارکراپنے سادہ لباس اور اعلی کردار کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی۔عرب کے سماج کی بے راہ رویوں، قبائلہی زندگی کی لوٹ مار اور آپسی نفاق و تفریق سے پریشان ہوکر جن خدا ترس لوگوں کا ضمیر بیدار تھا وہ منتشر ماحول سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے گوشہ نشینی اختیارکرگئے ۔اسلامی دنیا میں ابھری ہوئی بدامنی نے حساس لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو خلوت پسند بنادیا۔اور یہ لوگ صوف پوش ہوکردنیا سے الگ تھلگ ہوکر پرامن راہوں میں طرف نکل پڑے۔اولاد علی کا ایک سلسلہ امامت کی ذمہ داریوں میں لگارہااور دوسرا سلسلہ توکل اور سلوک کا مبلغ ہوگیا۔عراق کے حسن بصری لباس صوف کو ترک دنیا کی علامت تصور کرتے تھے۔اور ظاہر و باطن میں توازن برتنے پر زور دیتے تھے۔اسی طرح حضرت رابعہ بصری ؒ کی کل اساس ایک ٹوٹا ہوا گھڑا،ایک پھٹی ہوئی چادر تھی ، تکئے کی جگہ ایک اینٹ استعمال کرتی تھیں۔انہیں غربت پسند ی کی تصویر کہاجاتاہے۔دوسری طرف کوفے میں حضرت ابوہاشم تھے جن کی تبلیغ تصوف یہ تھی کہ علم انسان کی ذااتی ملکیت ہوتاہے جبکہ محبت کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لٹایاجاسکتاہے۔ابتدائی صوفیوں کا تیسرا مرکز بلخ تھا جہاں بادشاہت کو چھوڑ کے حضرت ابراہیم بن ادہم نے قفیری کو اختیار کیاتھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی آدمی انکساری کی باتیں کرتاہے جبکہ سالک انکساری کو اپنا شیوہ بناتاہے۔

عراق میں صوفیوں کا ایک اور مرکز شہر مرو میں قائم ہوا ۔جہاں کے ابو علی طالقاءئی ، عبداللہ حنطالی اور ابونشر بصر خاص طو ر پر قابل ذکر ہیں۔آخرالذکر بزرگ نے فقیروں کے تین درجے متعین کئے تھے ۔پہلے درجے میں وہ فقیر آتے ہیں جو نہ تو کسی سے کچھ طلب کرتے ہیں اور نہ کسی سے کوئی تحفہ قبول کرتے ہیں۔ان کو جو ضرورت ہوتی ہے تو خدا خود انہیں پورا کرتاہے۔دوسرے وہ فقیر ہیں جو ہاتھ تو نہیں پھیلاتے مگر لیکن عطیات قبول کرلیتے ہیں۔تیسرے وہ ہیں جو درد ر کی بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ابو نصر بشر نے اول درجے کی ہی فقیری اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔نویں صدی عیسوی میں تصوف کے مراکز نقشب ، ترمذ، نیشاپور، بسطام اور شیراز میں قائم ہوئے ۔یہاں کے بزرگوں میں حضرت ذوالنون، ابو تراب عسکر، عبداللہ ترمذی ، ابوالحسن سیاری ، اور صالح حمدون قابل ذکر ہیں جنہوں نے توحید، ترک، روز ہ، فاقہ ، قلب کی پاکزگی کو اپنے پیغامات کی بنیاد بنایا۔اس طرح دسویں صدی عیسوی میں شیراز کے حضرت عبداللہ محمد نے غیبت پر زور دے کر صوفی مسلک کی تشکیل میں اہم کردار اداکیا۔اسی زمانے کے حضرت ابوبکر شبلی نے سالکوں کو اپنے دل کی تمام تر تمناؤں کو عشق الہی میں تبدیل کرنے کی تلقین کی۔حضرت شبلی حضر ت داتا شاہ علی ہجویری کے مرشد تھے۔ان کا ایک واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک بار ایک دنیاوی حکیم سے کہاتھا کہ مجھے گناہوں کا مرض ہے۔اس کی دوا آپ کے پاس ہو تو عنایت کردیں۔یہ بات ہورہی تھی کہ قریب ہی ایک تنکے چننے والا ملنگ فقیران کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ شبلی میرے پاس آؤ میں تمہیں اس کی دوا بتاتاہوں۔دوا سن کر جب حضرت شبلی نے نگاہ اٹھائی تو وہ ملن فقیر غائب ہوچکاتھا۔گناہوں کے مرض کا اس نے جو نسخہ بتایاتھا وہ یہ تھا۔حیا کے پھول، صبر و شکر کے پھل ، عجز و نیاز کی جڑ، غم کی کونپل ، سچائی کے درخت کے پتے ، ادب کی چھال ، حسن اخلاق کے بیج ، یہ سب لے کر ریاضت کے باون دستے میں کوٹنا شروع کردو اور اشک پشیمانی کا عرق ان میں روز ملاتے رہو۔ ان سب دواؤں کو دل کی دیغچی میں بھر کا شوق کے چولہے پر پکاؤ۔ جب پک کر تیارہوجائے توصفائے قلب کی صافی میں چھان لینا اور شیریں زبانی کی شکر ملاکرمحبت کی تیز آنچ دینا ۔ جس وقت تیا ر ہو کر اترے تو اس کا خوف خدا کی ہوا سے ٹھنڈا کرکے استعمال کرنا۔(بحوالہ روشنی کا سفر صفحہ ۲۷)
بہرحال گیارہوں صدی عیسوی میں مسلم سماج سے صوفیوں کے لئے نفرت کے جذبے کو حضرت ابوغزالی نے اپنی مدلل تفسیروں کے ساتھ پیش کرکے تصوف کو اسلام کاجزو قراردیا۔انہوں نے اپنے مسلک کو ایسے فلسفے کے طور پر پیش کیا جو کسی بھی قرآنی احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔گیارہوں بارہویں اور تیرہویں صد ی میں تصوف کو چار ایسے تاریخ ساز مفسر اور دانشور ملے۔ جنہوں نے علمی، فکری اور فلسفیانہ دلیلوں سے اپنے مسلک تصوف کو عروج بخشا۔ یہ بررگ تھے سید علی ہجویری ، سنائی ، عطار، اور رومی ۔جنہوں نے علم مشاہدہ پر زور دے کر تصوف کو فلسفہ فنا سے ہم رشتہ کرتے ہوئے حال اور وجد کو نئے انداز فکر میں پیش کیا۔ ساتویں صدی عیسوی سے؛ تیرہویں صدی عیسوی کے دوران سنیٹرل ایشیا کے الگ الگ علاقوں سے ہندوستان میں جو صوفیائے کرام آئے انہوں نے اپنی شناخت یا تو اپنے مرشدوں سے کرائی یا اپنے اپنے علاقوں سے۔ لیکن سب ہی سلسلوں کے بررگوں نے مولائے کائنات حضرت علی سے خود کی وابستگی کا اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کیا۔ دوسرے یہ کہ کشف و کرامات ، روحانی تصرف ، نظریہ وحدت ، درویشانی نکات ، مجاہدات و عبادات ، ترک لذات، مراقبات ، حکماتِ طیبات ، علمی معلومات اورسماجی و مذہبی خدمات تقریباً سب کی ایک سی رہیں۔ تصوف کے یہ وہ بنیادی اصول ہیں جنہوں نے ہندوستانی عوام الناس میں ذہنی انقلاب پیدا کردیا۔
صحافت دہلی ۲۲ اپریل ۱۵ء

URL:http://www.newageislam.com/urdu-section/ناشر-نقوی/reality,-mysticism-and-india--حقیقتِ-تصوف-اور-ہندوستان/d/102654

 

Loading..

Loading..