New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 02:01 PM

Urdu Section ( 31 Dec 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 50 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 50


حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم  کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا  جائے گا۔ایڈیٹر

 

اور اگر علیحدہ رہے تو دور رہنا ا س کے ناک ،کان آنکھ سب کا ادب کرنا۔ اس طرح کہ تجھ سے بجز خوشبو کے او ر کچھ نہ سونگھے ۔ اس کے کان جب سنیں تب اچھی بات سنیں ۔ اس کی آنکھیں جب دیکھیں تو اچھی بات دیکھیں۔’’

اس خالص اور بے غرضانہ محبت کا اس زمانہ کی عورتوں میں وجود نہیں۔ ان کی محبت اور الفت کا تھرما میٹر زیور اور لباس ہے۔ جتنی یہ چیزیں بڑھتی ہیں اتنا ہی محبت کا درجہ بڑھتا ہے ۔ جتنی ان میں کمی ہو محبت والفت بھی سکڑتی جاتی ہے۔ کہنے کو تو عورتیں کہہ دیں گے کہ نہیں نہیں ہمیں شوہر سے نہایت سچی الفت ہے اور شوہر کے ہوتے کسی چیزکا ہمیں مطلق خیال نہیں لیکن وہ دل میں سوچیں کہ جب ان کی کوئی ادنیٰ سی فرمائش پوری نہیں کی جاتی تو ان کی طبعیت کی کیا حالت ہوتی ہے۔

محبت ایسا وسیع وصف ہے جس میں متعدد اوصاف بیوی کے شامل ہوجاتےہیں ۔ یعنی وہ جملہ اوصاف جو محبت پر مبنی ہیں مثلاً:۔

1۔ عورت کا فرض ہے کہ جب سے وہ شوہر کے گھر آئے وہ اس کے خصائل وعادات سے واقفیت اور مزاج شناسی حاصل کرے وہ خوب دھیان سے دیکھے کہ وہ کن کن امور کو پسند کرتاہے۔ کن کن سے ناخوش ہوتا ہے ۔پھر دیکھے کہ میری عادت اپنے شوہر سے کن کن بات سے ملتی ہے اور کن کن باتوں میں نہیں ملتی ۔غرض شوہر کی خوشی کی باتیں معلوم کرکے ان کو اپنادستور العمل ٹھہرائے ۔بعض شوہر اپنی بیوی کا لحاظ کرکے ان کی عادات پر نکتہ چینی نہیں کرتے، لیکن اور گھروں کی عورتوں کے حالات بیان کرنے میں کسی بات کو اچھا بتاتے ہیں اور کسی بات کوبرا ۔ شوہر کے ایسے اشارات کو ہدایات سمجھنا چاہئے ۔ شوہر جس عورت کی تعریف کرےتو معلوم کرنا چاہئے کہ کس  وصف کی وجہ سے اس کی تعریف کی جاتی ہے اس وصف کو اپنے آپ میں پیدا کرناچاہئے۔

2۔ محبت کا مقتضا راز داری بھی ہے۔ بیوی کو چاہئے کہ اپنے شوہر کے رازوں کو بغیر اس کی اجازت کے کبھی افشانہ کرے۔ شوہر کے راز کو افشا کرنا نہایت بری عادت ہے اوربعض اوقات اس سے شوہر کے دل میں ایسی برائی بیٹھ جاتی ہے کہ عمر بھر نہیں جاتی ۔بعض بیویاں یوں تو افشائے راز نہیں کرتیں لیکن اگر کسی بات پرنا چاقی ہوجائے تو وہ سب کے روبرو کہہ دیتی ہیں کہ فلاں بات یوں نہ تھی؟ اور شوہر کو اس طرح کا  کہہ دیناسخت ناگوار گذرتا ہے ۔ ایسی حالت میں سخت ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس طرح کے افشا سے بعض دفعہ نہایت خطرناک اور لاعلاج خرابیاں پیدا ہوجایا کرتی ہیں اور پھر تمام عمران کا تدارک نہیں ہوسکتا۔

3۔ خانہ داری:۔ کیا بمقتضا ئے محبت اور کیا بلحاظ اصل فرض زوجہ خانہ داری وہ چیز ہے جس سے عورت کے جملہ اوصاف کا امتحان ہوتا ہے۔

خانہ داری میں زیادہ تر یہ اصول داخل ہیں:۔

1۔ کھانا پکانے کا اعلیٰ درجہ کا سلیقہ ہونا

2۔ کھانا سینا پرونا ہر قسم کا

3۔ ہر چیز کو اپنے موقعہ مناسب پر رکھنا

4۔ ہر چیز کو اجلا اور صاف رکھنا۔

5۔ ہر بات میں کفایت شعاری مدنظر رکھنا

کھانا پکانے کی نسبت صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ ہدایت صرف ان مستورات کے لئے ہی نہیں ہے جو بوجہ عدم استطاعت مانا نہیں رکھ سکتیں۔ بلکہ امیر سے امیر گھر کی بہو بیٹی بغیر اس ہنر کے سلیقہ مند شمار نہیں ہوتی۔ ان کو اس قسم کا کمال حاصل ہونا چاہئے کہ ماؤں کہ ہر غلطی کو پکڑ سکیں اور اصلاح مناسب کرسکیں اور یہ ہی بات سینے پر ونے کی نسبت سمجھنی چاہئے۔

ہر چیز کو موقعہ پررکھنا یہ ایسا وصف ہے کے تمام گھر کی زیبائش اور خود اپنی آرائش اسی سلیقہ پر منحصر ہے۔ اور اسی طرح ہر چیز کے اجلے اور صاف رکھنے کی نسبت سمجھنا چاہئے جن عورتوں کو اچھا کھانا پکانا نہیں آتا اور مہمانوں وغیرہ کے آنے پر ان کے شوہروں کو اور لوگوں کی طرف رجوع ہونا پڑتا ہے یا جو سینے پرونے کا سلیقہ نہیں رکھتیں ان کے صفائی پسند شوہر ہمیشہ ان سے ناراض رہتے ہیں۔کفایت شعاری کی نسبت کسی قدر تشریح ضرور ہے۔ خرچ کے باب میں اس قسم کا اعتدال چاہئے کہ نہ تو اسراف ہوجائے اور نہ بخل وکنجوسی کے درجہ کہ پہنچ جائے۔ میانہ روی عمدہ چیز ہے۔

عموماً عورتوں میں ریس کی بری عادت ہوتی ہے ۔ جب ان کے ہاں کوئی عورت ملنے آتی ہے تو جو نیا لباس یا زیور اس کے پاس دیکھتی ہیں اس کی فرمائش اپنے شوہر سے کرتی ہیں۔ یہ بھی خیال نہیں کرتیں کہ جن عورتوں کے پاس فلانی چیز دیکھی ہے ان کے پس بہت سی وہ چیزیں نہیں ہیں جو ہمارے پا س ہیں۔نہ اس چیز کے شوق میں شوہر کے اخراجات کا خیال کرتی ہیں۔

سب سے مقدم یہ امر ہے کہ عاقبت اندیشی اختیار کی جائے ۔ زندگی موت کا اعتبار نہیں ۔ بیمار ی صحت انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ ہر حال میں ایسا طریق اختیار کرنا چاہئے کہ جو آمدنی شوہر کی ہو اس کا ایک حصہ خاص پس انداز ہوتا رہے کہ وقت ضرورت کے کام آئے ۔بعض بیبیاں اصل سرمایہ اور آمدنی میں فرق نہ کرے یہ کہنے لگتی ہیں کہ اس قدر تو سرمایہ ہے، حالانکہ آمدنی واقعی بہت ہی کم ہوتی ہے ۔ پس خرچ کا اندازہ آمدنی سے کرنا چاہئے نہ کہ سرمایہ سے۔(جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-50--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-50/d/2308


 

Loading..

Loading..