New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 09:38 AM

Urdu Section ( 25 Dec 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

False Authority of Men over Women: Part 47 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط 47


حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم  کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا  جائے گا۔ایڈیٹر

 

مگر ان خرابیوں کے سوا جن کی روک کے لئے ہمارے اوپر کی نرم تدابیر کا اختیار کرنا کافی ہوگا ۔بعض نالائق مردوں کی ایسی کمینہ حرکات اور ایسے بے دردی کے سلوک ہیں کہ ان کے انسداد کے لئے ہم گورنمنٹ کی مداخلت مناسب سمجھتے ہیں ۔ ہم نے بہت سے سفید پوشوں کو جو سرشتہ داری اورتحصیلدار ی کا معزز رتبہ رکھتے ہیں جن کی معقول آمدنیاں ہیں او ر متعدد خادم ہیں اپنی بیبیوں اور بیٹیوں سے چرخہ کٹواتے او ردھان کٹواتے اورچکی پسواتے دیکھا ہے۔ اس سے کم معزز سفید پوشوں کو جو اپنی شرافت و بجابت کے ثبوت میں گز گز بھر لمبے شجرے رکھتے ہیں دیکھا ہے کہ ذرا ذرا سی بات اور ادنیٰ ادنیٰ رنجش پر اپنی بیبیوں کو چوٹی پکڑ کر گھسیٹتے اور آئے دن جوتیوں سے پیٹتے ہیں۔

ہانڈی میں نمک تیز ہوگیا ہے اور بی بی کو مغلط گالیاں دی جارہی ہیں۔کپڑے سینے میں ذرا جھول رہ گیا ہے اور بیچاری اس شریف نما بدمعاش کی لاتیں کھارہی ہے۔ سیکڑوں عفیفہ بیبیاں اور اشراف زادیاں جن کو دوسری ادنیٰ درجہ کی عورتوں کے روبرو جوتیوں کی مار پڑتی  اور چوٹی پکڑ کر گھسیٹا جاتا ہے، جن کو خفیف جرم پر فاقہ کی سنگین سزا دی جاتی ہے وہ برادری میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتیں ۔کوئی ہمدرد وغمخوار ان کی دلجوئی نہیں کرتا ۔ کسی کو مجال نہیں کہ اس خود مختار حکومت میں جو ملک کے رواج نے چار دیواری کے اندر ہر شخص کو دے رکھی ہے دخل دے۔غرض بہتری اشراف زادیاں رنج وغم میں گھل گھل کر مدقوق ومسلول ہوکر طعمۂ اجل ہوتی ہیں۔ بہتری نازک مزاج جو عمر بھر کا جلاپا سہنے کی طاقت نہیں رکھتیں افیون کھا کر یا سنکھیا کھا کر اس پر آفات زندگی کا خاتمہ کرتی ہیں۔ کوئی اس بے باقی اور اجرت سے جو بے حد سختی وظلم سے بزدل سے بزدل انسان میں پیدا ہوجاتی ہے ، کنوؤں میں کود پڑتی ہیں۔

ایک ہمارے نہایت لائق دوست ہیں جو علم کے لحاظ سے فاضل مولوی ،تہذیب کے لحاظ سے نیچری ،عزت کے لحاظ سے وکیل اور ہمارے جانی دوست مگر وہ خدا کا بندہ بیوی کے حق میں ایسا ظالم ایسا نالائق ایسا بے در جس کا بیان نہیں ہوسکتا ۔خدا کا شکر ہے کہ شرارت اور ستم گاروں کے ستم کی رسائی نہیں ۔ ہمارےدوست کا گھر ان مسکین سے آباد نہ ہوتو اس نے قبر کے کونے کو جاآباد کیا۔

ہمارے اس دوست کا بیان ہے کہ جب کھانا بدمزہ پکا کرتا تھا تو اس کے لئے دوسزائیں مقرر تھیں۔ شدید سزایہ تھی کہ جلتی لکڑی چولہے سے نکال کر اس سے اس مظلوم کو زدوکوب کرتےتھے۔ دوسری خفیف سزا یہ تھی کہ دوپٹہ سر سے اتار کر اور چوٹی پکڑ کر تمام دکچی کا شوروا اس کے سر پر بہادیا جاتا تھا اور اس مظلوم نے ان تمام شدائد پر مرتے دم تک اف نہیں کی۔ کبھی شوہر کو سخت کیا نرم جواب بھی نہیں دیا۔

ظالم شوہر کو حقہ کا بہت شوق تھا اور وہ عاجز بڑے شوق سے اس بے درد کو حقے بھر بھر کر پلایا کرتی تھی ۔ رنجوں او رمصیبتو ں نے اس کا پھیپھڑا چھلنی کردیا اور وہ شہید دق وسل ہوئی۔ موت سے پہلے سب طاقتوں نے جواب دے دیا اور اس کا شوہر جو ہمیشہ اس کو ستانے اور دل دکھانے پر کمر بستہ رہتا تھا ،آخر انسان کا بچہ تھا۔ دل نرما گیا اور ارادہ کیا کہ اس چلتے مہمان کی کچھ خاطر کرلوں۔ رات کو پٹی کے نیچے بیٹھا تیمار داری کیا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کے جب وہ حقہ بھرتا تھا تو بیمار غم بے چین ہوجاتی تھی اور اصرار کرتی تھی کہ مجھے نیچے اتار دو ،بضد مشکل نیچے اتاری جاتی ۔اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے حقہ بھرتی تھی او رکہتی تھی کہ جب تک دم میں دم ہے اپنی آنکھوں کے روبرو آپ کو تکلیف نہ کرنے دوں گی، آخر جب تیل ختم ہوچکا اس مظلوم کا چراغ حیات بجھ گیا۔ ایک ہمارے عزیز ہیں جن کے ناپاک استقلال کا ذکر کیا جائے۔ ان کی بیوی نے ان کی والدہ کا کوئی کہنا نہ مانا تھا۔ اس پر انہوں نے عہد کرلیا کہ کبھی تم سے نہ بولوں گا۔ اس کی پرآشوب زندگی کو بھی سل نے ختم کیا ۔ وہ چونکہ ہمارے عزیز تھے اور خر د تھے اور ان کی اس نالائقی پر ہمیں بہت رنج ہوا ہم نے انہیں ایک خط لکھا تھا جس کی نقل یہ ہے:۔

ہمارا خط ایک عزیز کو :

ظالم و بیدر د بھائی ۔تمہیں بے انتہا قلق ہورہا ہوگا کہ آخر قضا وقدر نے تمہارے مشق ستم کا خاتمہ کردیا۔ اب تمہارے جفا گر ہاتھ کس کے دل وجگر میں ہر روز کوچے دیا کریں گے۔ اور اب کس بے گناہ کو ستا کراپنا دل خوش کیا کروگے اورکس بے گناہ کو ستا کر اپنا دل خوش کروگے اور کس بے تفصیر کا خون پیا کروگے ۔ میں نے سنا ہے کہ تم اس مسافر چند ساعت کو بستر مرگ پر چھوڑ کر چلے گئے۔ ہائے بے درد ،حیف ہے تمہاری انسانیت پر میں نے سنا ہے کہ پرانے زمانے میں جادو گر اور ڈائن ہوتی تھیں جو انسان کا کلیجہ کھاجایا کرتی تھیں مگرپھیپھڑے کا کھاجانے والا انسان تو ہماری بدنصیب آنکھوں نے خود دیکھ لیا ہے۔ موت وزندگی کا اختیار اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک لحظے کے لئے مجھے یہ اختیار دے اور قلب ماہیت کی قدرت بخش دے تو سب سے اول میرا یہ کام ہوکہ میں تمہاری بی بی کو زندہ کروں اور اس کو مرد بنا کر شوہر بناؤں اور تم کو اس کی بیوی اور یہ حکم دوں کہ وہ پچاس جوتے صبح اور پچاس جو تے شام تا زندگی تمہارے سرپر لگا یا کرے۔۔۔(جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-47--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-47/d/2280



 

Loading..

Loading..