New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:09 PM

Urdu Section ( 24 Dec 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 46 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط 46


حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم  کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا  جائے گا۔ایڈیٹر

 

کیا عجب ہے کہ بعض ذکی الطبع اپنے وحشیانہ سلوک کی تائید میں یونانی حکمت عملی پیش کریں جس کے رو سے عورت کا مزاج طبعاً بارواقع ہوا ہے اور شاید یہ برودت سخت سے سخت گرمی کے مقابلہ کے لئے کافی سمجھی جائے۔ تو یہ رکیک جواب لطیفہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا مگر پھر اس امر کا کیا جواب ہوگا کہ جب وہ جاڑے میں خود بانات اور کشمیر اور مالیدہ اور پٹو پہنتے ہیں۔ ان بارومزاج مخلوق کو جو جاڑے میں اور بھی اشد البروت ہوجاتی ہوں گی اپنے سے گرم کپڑا نہیں پہناتے۔بہت شاذ ونادر خاندان ہوں گے جن میں بھائی او ربہنوں ،باپ او ربیٹیوں اور شوہر اور بیبیوں کا  ایک قسم کے گرم کپڑے کا لباس ہوتا ہو۔ دیہات وقصبات میں ماہ پوہ کے جاڑےمیں بھی عورتوں کے لباس میں صرف اس قدر ترمیم ہوتی ہے کہ چھینٹ کے کرتوں کے نیچے ململ کا استر لگا کر ان کو دوہرا کردیتے ہیں۔

پاجامہ معمولی چھینٹ کا اکہرا رہتا ہے اور صبح شام دولائی یارضائی اوڑھ کر چارپایوں پر اسباب کے پوٹ بن کر بیٹھ جاتی ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس قسم کے سلوک وحشیانہ اور خلاف انسانیت و مروت نہیں ہیں اور کیا اس سے بڑھ نالائقی تصور میں آسکتی ہے۔ ہمارا یہ ہر گز مقصد نہیں کہ جن بیچارے آفت زدوں کو مقدور نہیں ہے وہ عورتوں کی جڑا دل کےلئے مقروض بنیں۔ بلکہ ہم صرف انتا جتلا نا چاہتے ہیں کہ ہر ایک ذی مقدور صاحب استطاعت باپ جو بیٹا او ربیٹی رکھتا ہے وہ خود سوچے کہ ہر جاڑے کے لباس میں وہ بیٹے اور بیٹی دونوں پر یکساں خرچ کرتا ہے۔ کیا اس وجہ سے کچھ لڑکیاں گھر میں چھپی رہنے والی ہیں اورشریعت کے پردہ کو توڑ کران کالباس بھی داخل پردہ کیا گیا ہے۔ یہ بد سلوکیاں او ربے رحمیاں مدعیان ہمدردی کے کانوں تک نہ پہنچائی جائیں گی۔ کیا اس وجہ سے کہ ان کی زبان کو داخل پردہ کر کے انہیں بے زبان کردیا گیا ہے ان کی فریاد کی شنوائی نہ ہوسکے گی؟

ان تمام خرابیوں کا علاج مردوں میں اعلیٰ درجہ کی تعلیم کا پھیلا نا اور ان میں نیک خیالات کا پیدا کرنا ہے۔ عورتوں کے حقوق قائم نہیں ہوسکتے اور ان کی حفاظت نہیں ہوسکتی اور ان کی حفاظت نہیں کی جاسکتی اور جو ظالمانہ بدسلوکیاں ان کے ساتھ کی جاتی ہیں وہ رک نہیں سکتیں اور ان میں ادنیٰ ترین درجہ کی تعلیم ذرا بھی ترقی نہیں پاسکتی تا وقت یہ کہ مردوں میں اعلیٰ درجہ کی تعلیم نہ پھیلائی جائے اور اس تعلیم کے ذریعہ سے ان امور کی ضرورت ان کو ذہن نشین نہ ہوجائے اور نہ صرف تعلیم ہی کافی ہوگئی بلکہ اس کے ساتھ اعلیٰ اخلاقی تربیت اور نیک صحبت کی ضرورت ہے جو ان کے دلوں کو سچائی اور نیک دلی کے سانچہ میں ڈھال دے۔ جس سے ان کے دل پاکیزہ خیالات اور نیک جذبات کے ساتھ ایسی مناسبت پیدا کرلیں کہ وہ اس کے آرام وخوشی کے ضروری شرط بن جائیں۔ جب تک اس قسم کی تعلیم سے ہماری قوم کے مردوں میں روشن دماغی اور نیک تربیت سے ان کے دلوں میں خدا ترقی پیدا نہ ہوگی کیا ممکن ہےکہ ہماری چند سطور ان کے صفحہ دل پر کوئی گہرا نقش اور ان کی طبیعتوں کی ماہیت کو بدل سکیں ہمارے ان اوراق کواگر کوئی پڑھنے والے ہوں گے تو وہ ہی جن کو اعلیٰ تعلیم اور نیک تربیت نے  اس انقلاب کے لئے جس کی ہم نے تجویز کی ہے مستعد کردیا ہے۔ ساتھ ہی اس کے ہم ضرور سمجھتے ہیں کہ جن لوگوں پر عورت کی تمدنی حالت میں انقلاب پیدا کرنے کی ضرورت روشن ہوگئی ہے وہ منتظر نہ رہیں کہ اور لوگ بھی  ان کے ہم آہنگ ہوں تب وہ اپنے یقین و ثوق پر کار بند ہوں، بلکہ چند نیک اور پاکیزہ خیال والوں کے عمل خود اپنا قدرتی اثر دیکھنے والوں کے دل پر کریں گےاور ان کوبھی اسی طریق عمل ہوگا گروید ہ بنائیں گے۔

مگر ہاں از بس ضرور ہے کہ جن لوگوں پر عورت کی تمدنی حالت کو شریعت کی راہ پر لانے کی ضرورت اور موجود ہ گمراہی کی بے حد مضرت واضح ہوچکی ہے ان لوگوں کو اپنے باہمی اتفاق رائے سے اپنی جمعیت کو قومی اور موثر بنانا چاہئے اور اپنے واضاع واطوار او رچلن کو شریعت محمدی کا  اعلیٰ نمونہ بنانا چاہئے جو  اور لوگوں کی تقلید کے لئے عمدہ مثال ہو۔ انسان کو کسی کام کرنے اور کسی کام کو ترک کرنے پر بیک مثال سے زیادہ کوئی شے ترغیب دینے والی نہیں ۔بجائے ا سکے کہ کسی نیک کام کے فائدے دلائل سے ثابت کرو اور طول طویل تقریریں کرو اور لوگوں کو اس کے اختیار کرنے پر مائل کرو تم خود اس پر عمل کرو اور دنیا کو دکھلاؤ کہ احکام شرعی کی ٹھیک متابعت سے کیا کیا دینی اور دنیاوی فائدے تم کو حاصل ہوئے اور لوگ خود تمہاری پیروی کریں  گے ۔ کسی شخص نے ریل پر سوار ہونے کے فائدوں کو دلائل سے ثابت کیا تھا کہ تمام خلقت ا س پر سوار ہوتی ہے؟کس شخص نے بجائے دیسی کپڑے کے انگریزی کپڑا پہنتے ہیں ؟ لوگوں نے ریل پر سوار ہونے والوں کو منزل مقصود پر جلد پہنچتے دیکھا اور وہ بھی سوار ہونے لگے۔ انگریزی کپڑا پہننے میں کفایت پائی اور وہ انگریزی کپڑا پہننے لگے ۔ اسی طرح جب وہ طریق شرعی کی مثابعت میں لوگوں کو خوش حال اور شادماں پائیں گے وہ خود پیروی کرنے پر راغب ہوں گے۔(جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-46--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-46/d/2274



 

Loading..

Loading..