New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 10:48 AM

Urdu Section ( 15 Dec 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 37 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 37


حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی  علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔حقو ق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر  نام نہاد برتری اور فضلیت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی روبہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا ۔کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا او رکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی  روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی  اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔ایڈیٹر

اور مہر زیادہ ہونے میں شوہر کے ازدواج ثانی سےزوجہ کو یہ حق حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ صرف طلاق سے یا بعد موت شوہر یہ حق حاصل ہوتا ہے ۔ ثانیا شوہر کو بھی یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اگر اس کاسلوک اپنی بیوی کے ہمراہ درست ہے تو کوئی خطرہ منجانب والدین زوجہ نہیں رہتا ۔مہر زیادہ ہونے کی صورت میں بعض اوقات بعض بے غیرت اشخاص دامادوں پر ترکہ دختری کی نالش کرتے ہیں۔ اور اسی اندیشہ سے میاں بیوی میں مہر کے معاف کرنے نہ کرنے کی تکرار رہتی ہے جس سے طبیعتوں میں فرق آجاتا ہے۔ ہاں غور طلب امر یہ ہے کہ ایسے معاہدوں کی بابت شریعت کا کیا حکم ہے۔ سو مرد وعورت میں جو شرائط نکاح قرار پائیں شرعاً ان کا ایفا واجب ہے۔ اور درصورت عدم ایفا فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ یہ حکم آیا ت قرآنی اور احادیث نبوی سے بخوبی ثابت ہے ۔ سورہ قصص کے ابتدا میں شعیب کا قصہ درج ہے جنہو ں نے اپنی دختر کا نکاح موسی سے اس شرط پر کیا تھا  کہ وہ آٹھ برس تک ان کی بکریاں چرائیں ۔موسی نے اس شرط کو تسلیم کیا اور ایفا کیا ۔ اگر چہ یہ حکایت انبیا سابقین کی ہے الا اصول فقہ میں یہ بات بجائے خود تسلیم ہوچکی ہے کہ جب افعال انبیا سابقین کا ذکر بلا رو وانکار ہوتو وہ مسلمانوں کے لئے حجت شرعی بن سکتا ہے۔

ابو داؤد میں ہے المسلمون علیٰ شروطہم یعنی اہل اسلام اپنی شرطوں پر قائم رہتے ہیں ۔ترمذی نے بھی اور طریق سے اس روایت کو لیاہے اس میں اس قدر فقرہ زیادہ ہے الاشرطا حرم حلالا او احل حراما۔ یعنی مسلمان کو اپنی شرط پوری کرنے چاہئے لیکن اگر کسی حلال چیز کو حرام یا حرام کو حلال کرنے کی شرط کی ہوتو پھر اس کا پورا کرنا لازم نہیں ۔ مگر سب سے صریح وہ حدیث ہے جو صحیح بخاری میں آئی ہے اور جس کے الفاظ یہ ہیں کہ سب سے ضروری امریہ ہے کہ جن شرطوں کے ساتھ شرمگاہ حلال کی جائے ان شرطوں کو پورا کیا جائے ۔فتح الباری میں ہے عبد الرحمان بن غنم روایت کرتے ہیں کہ میں عمر کے پاس گھنٹے سے گھنٹا ملائے بیٹھا تھا کہ کوئی شخص آیا اور بولا کہ اے امیر المومنین میں ایک عورت سے نکاح کیا تھا اور یہ شرط کرلی تھی کہ تجھ کو تیرے گھر سے کہیں نہ لے جاؤں گا اور اب میں اس کو فلانی جگہ لے جانا چاہتا ہوں ۔عمر نے جواب دیا کہ تجھ کو اپنی شرط پوری کرنی پڑے گی۔ اس پردہ شخص یوں بولا کہ بس مرد تو گئے گذرے ۔جو عورت چاہے گی اپنے خصم کو طلاق دے دیا کرے گی۔ عمر نے کہا کہ مسلمانوں کی شرائط ضرور پوری ہونی چاہئیں بڑے بڑے جلیل القدر صحابی اور تابعی اور ائمہ یہ ہی مذہب رکھتے تھے ۔ چنانچہ ان کے نام نامی یہ ہیں۔

حضرت عمر فاروق ۔عمر بن العاص ۔طاؤس ۔اوب الشعشا ۔ امام شافعی ۔ امام احمد ۔ اوزاعی۔ اسحاق وغیرہ ائمہ حدیث ۔امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ اگر شوہر زوجہ سے یہ شرط کرلے کہ میں تیرے ہوتے نکاح ثانی نہ کرونگا تو اس شرط کا ایفا ضروری ہے اگر یہ شرط پوری نہ ہوگی تو نکاح ٹوٹ جائے گا۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ  لایحل ان تنکح امراۃ بطلاق اخری ۔یعنی اس طرح کا نکاح جائز نہیں کہ ایک عورت یہ شرط کرے کہ اگر تو اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دیں تب میں نکاح کرتی ہوں۔ چونکہ اوپر کے اقوال سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ شرط ٹھہرانی جائز ہے کہ شوہر نکاح ثانی نہ کرے اس واسطے بعض علما نے یہ اعتراض پیش کیا ہے کہ ازدواج ثانی کے نہ کرنے کی شرط اور زوجہ ثانی کے طلاق دینے کی شرط میں کیا فرق ہے کہ وہ جائز ہے اور یہ ناجائز ہے اس کاجواب یہ دیا گیا ہے کہ طلاق کی شرط میں پہلی بیوی کی دل آزادی اور دل شکنی اور خانہ بربادی اور دشمنوں کی خوشی متصور ہے۔ اور ازدواج ثانی نہ کرنے کی شرط میں یہ خرابیاں نہیں ہیں کیو نکہ زوجہ ثانی کا وجود ہی نہیں ۔پس ان دونوں صورتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔پس جب ائمہ اہل اسلام ایسے شروط کو جائز رکھتے ہیں تو بجائے بڑے بڑے مہروں کے ایسی شرائط ونیز تاوان مقرر کرنے کی شرائط سے حقوق نسواں کی حفاظت اولیٰ وانسب ہے۔

مہر کے باب میں یہ ایک نہایت موثر اصلاح ہوسکتی ہے کہ تمام مہر معجل قرار پایا کرے اس سے کئی فائدہ حاصل ہوں گے اول تو بیوی کی قدر زیادہ ہوجائے گی ۔کیو نکہ اس کا حصول محض فرضی رقوم کی زبانی جھوٹے اقرار پر نہ رہے گا ۔جھوٹا اقرار اس کو ہم اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اقرار نہ کبھی پورا ہوتا ہے اور نہ پورا  ہوسکتا ہے۔دوم ماں باپ جوبے مقدر ہوتے ہیں اور قرض دام لے کر اولاد کا نکاح کردینا غلطی سے اپنا فرض سمجھتے ہیں اس ناعاقبت اندیشی سے باز رہیں گے۔ سوم بصورت بیکاری شوہر دولہن کو جو ساس سسر خرچ سے تکلیف دیتے ہیں اس قاعدہ کے مقرر کرنے سے وہ تکلیف ہلکی ہوجائے گی۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو مہر اس طرح پر ادا کیا جائے ماں باپ کسی بنک یا کسی اور ذریعہ آمدنی میں لگادیں ۔ اور وہ مہر اور اس کا انتفاع سب خاص عورت کی ملکیت کے طور پر جمع رہے اور اس کی حفاظت کی ایسی تدابیر کی جائیں کہ شوہر یا کوئی اور شخص سوائے اس عورت کے اس سے انتفاع حاصل نہ کرستے بجز اس صورت کے کہ زوجہ خود اپنے شوہر پر اعتماد کر کے کوئی دوسرا طریق اخیتار کرے۔ (جاری)

بشکریہ : روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-37--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-37/d/2228


Loading..

Loading..