New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 11:26 AM

Urdu Section ( 14 Dec 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 36 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 36


حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی  علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔حقو ق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر  نام نہاد برتری اور فضلیت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی روبہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا ۔کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا او رکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی  روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی  اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔ایڈیٹر

 

(۶) دیگر مستورات خاندان کے ہمراہ اس کا سلوک کیسا ہے۔

ان امور پرذرا سی توجہ کرنے سے سب حال آئینہ ہوسکتا ہے چنانچہ ان امور کی تھوڑی سی تشریح ضروری ہے۔

(۱) بعض خاندانوں میں موروثی رسم ازدواج ثانی کی چلی آتی ہے اور سب مرد دودو بیویاں رکھتے ہیں ایسی صورت میں ہر فرد کی نسبت یہ ہی قیاس ہوگا بجز اس کے کہ قرآئن قومی اس کے خلاف ہوں ۔ اس واسطے باپ ودیگر رشتہ داران کا چال چلن ملا حظہ کرنا ضروری ہے۔

(۲) چونکہ ہر شخص اپنے ہم خیال کی صحبت پسند کرتا ہے پس دوستوں کے چال اور خیالات سے قریباً صحیح پتہ لڑکے کے چال چلن کا لگ جائے گا۔

(۳) اسی طرح کتابوں سے چال چلن کا پتہ بخوبی لگ جائے گا ۔آیا اخلاق اور تصوف اور دیندار ی کی کتابیں پڑھتا رہتا ہے یا ناپاک ناول پسند خاطر ہیں۔

(۴) دن رات کے مشاغل سے بہت کچھ حال لڑکے کا کھل جانا ہے۔بعض لڑکے اپنے اوقات کبوتر بازی میں صرف کرتے ہیں ۔بعض دن بھر کنکوے بناتے اور مانجھا تیار کرتے رہتے ہیں ۔ بعض شطرنج کی بازی جمائے رہتے ہیں۔

(۵) چونکہ اچھے کواچھا اور برے کو برا سب کہا کرتے ہیں اس واسطے عام شہرت سے بھی بہت حال کھل سکتا ہے ۔

(۶) عام مستورات کے ساتھ سلوک دیکھنا بہت ضروری امر ہے۔ بعض لڑکے باوجود نیک چلن اور خوش وضع اور تعلیم یافتہ ہونے کے مستورات کی طرف سے قدرتی بے توجہی رکھتےہیں ۔ اگر ماں بیمار ہوجائے تو ان کی بلا سے اور بہن پر مصیبت ہوتو ان کی جوتی سے ایسے تو جوتوں کو اکثر دیکھا ہے کہ متاہل ہوکر بیوی کے ساتھ کوئی گہری الفت نہیں رکھتے ۔ اور ان کی بیویاں ہمیشہ ان کے روکھے پن اور بے رخی کی شاکی پائی جاتی ہیں۔

(۷)قبل ازمنظوری رشتہ لڑکی والوں کو چاہئے کہ لڑکے کےذریعہ معاش کی بابت قطعی یقین حاصل کرلیں ۔ آج کل فی زمانہ ذرائع معاش بہت محدود ہوگئے ہیں اور ماں باپ صرف اپنا چاؤ پورا کرنے کےلئے قرض لے کر شادیاں کردیتے ہیں۔ چونکہ لڑکا کوئی مستقل صورت گذارہ نہیں رکھتا اس لئے کئی طرح کی خرابیاں ظہور میں آتی ہیں۔ اور بیاہ کی خوشیاں چند روز میں ختم ہوجاتی ہیں اور دولہن پرانی ہوجاتی ہے ۔ اور کنبہ میں ایک آدمی کا خرچ بڑھ جانے کی وجہ سے یہ بوجھ صاف محسوس ہونے لگتا ہے جو بالطیع ناگوار ہوتا ہے ۔لڑکے کا بیکار رہنا جو پہلے والدین کے دل پر چنداں بارنہ تھا اب  خاص طور پر موثر ہوکر بیٹے اور بہو سے نامعلوم  نفرت پیدا کرنے لگتا ہے ۔دوم یہ امر کہ کچھ عرصہ گذر جانے سے اور پرانی ہوجانے سے دولہن کی دیگر مرد مان خانہ کے ساتھ خوراک پوشاک میں مساوات ہوجاتی ہے۔ دولہا اور دولہن کے لئے رنجیدہ رہتا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی قسم کا امتیاز قائم رہے ۔سوم بعض اوقات والدین لڑکے پر شبہ کرتے ہیں کہ وہ ان کے گذارہ لے کر اپنی سسرال کو دے دیتا ہے ۔ یہ خرابیاں ایسے شدید درجہ کو پہنچ جاتی ہیں کہ بعض وقت ان کے بدنتائج تمام عمر بلکہ پشتہا پشت تک وراثتا چلے جاتے ہیں پس ان کے انسداد کے لئے ضرور ہے کہ لڑکی والے لڑکے کے استقلال معاش کی نسبت اطمینان کئے بغیر ہر گز رشہ قبول نہ کریں یہ اصلاح من وجہ والدین کو اس طرف بھی راغب کرے گی کہ وہ ان کے لئے طریق حصول معاش کا فیصلہ کردیں جو عموماً ہماری قوم میں نہیں کیا جاتا ۔

(۸)تعین مقدار مہر میں بھی اصلاح ہونی ضرور ہے۔ عام دستور ہوگیا ہے۔ کہ ادنیٰ سے ادنیٰ حیثیت کے لوگ بے حد مہر مقرر کرتے ہیں۔ بیس بیس چالیس چالیس ہزار روپیہ کا مہر ان لوگوں کا ہے جن کی آمدنی پندرہ روپیہ ماہوار کی بھی نہیں  ۔ اس قدر کثیر التعداد مہر ان غلط فہمی پر مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کے خوف سے طلاق کی روک ہو ۔مگر اس تدبیر سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ کیو نکہ اگر شوہر کچھ مالی حیثیت نہیں رکھتا تو اس کو ایسے کثیر التعداد مہر سے کچھ خوف نہیں ہوتا ۔ ایسے شخص پر عدالت سے ڈگری پالینا نہ پانے کے برابر ہے۔ ہاں بے شک جو شوہر اچھی مالی حیثیت رکھتا ہے اس کی نسبت یہ توقع ہوسکتی ہے کہ وہ خوف ادائے مہر سے زوجہ کو طلاق نہ دے ۔مگر ایسے بزرگ بلا طلاق ہی بیوی کو اس  قدروق کرتے اور ستاتے ہیں کہ ان مصائب سے طلاق سو درجہ اچھی ہے۔ معہذا مرنے سے پہلے جائیداد کے فرضی ناجائز انتقال کر جاتے ہیں اور بیچاری بیوی منہ دیکھتی رہ جاتی ہے ۔پس منع طلاق کےلئے مہر کا مقرر ہونا کچھ مفید نہیں ہوتا۔ پھر ان فرضی رقموں کے مقرر کرنے اور اس پر بحث وتکرار سے کیا فائدہ ۔ ہاں رفع اندیشہ طلاق بلکہ منع ازدواج ثانی کےلئے سب سے عمدہ ایک اور تدبیر ہے یعنی یہ کہ بروقت نکاح ایک معاہدہ تحریری منجانب شوہر عمل میں آنا چاہئے اور اس میں وہ شرائط درج ہونی چاہئیں جو زوجہ کو منظور ہیں ۔ مثلاً بصورت طلاق یا ازدواج ثانی ایک رقم کثیر بطور تاوان یا ہر جانہ مقرر کی جائے۔ اس طریق عمل کو ہم بہ نسبت زیادہ مہر مقرر کرنے کے سے اولا بمجر د ٹوٹنے شرائط مقررہ کے زوجہ کو حق نالش حاصل ہوسکتا ہے۔(جاری)

بشکریہ : روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-36--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-36/d/2224


 

Loading..

Loading..