New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 01:09 AM

Urdu Section ( 30 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 26 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 26


حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند  احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

 

پس جب ان غریبوں ادنیٰ گھروں کی عورتیں باوجود بے علمی او ربے استطاعتی کے اپنی عصمت کو اس طرح بچاسکتی ہیں تو کیا یہ شریف زادیوں ہی کےلئے خاص بات ہے کہ وہ باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے اور نیز اس امر کے کہ ان کےلئے ترغیبات اس قدر موثر نہیں ہوسکتیں جس قدر غربا کی مستورات کے لئے اور نیز باوجود اس امر کے کہ شرفا کی عورتوں کو جن کو نوکر چاکر رکھنے کا مقدور ہےبازاروں میں پھرنے کی ضرورت نہ ہوئی تاہم وہ نسق میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہیں گی۔ ہم اپنی قوم کے معزز گھرانوں کی بیگمات کے اطوار واوضاع کی نسبت نہایت اعلیٰ رائے رکھتے ہیں جو ہم کو ایسے ناپاک خطروں سےمانع ہے۔

علاوہ ازیں یہ خطرہ فسق بعض حالات میں تو محض بیہودہ وخیالی ہوتا ہے ۔ مثلاً سفر ریل میں ہم نے اثنا سفر میں بعض بدظن وہیموں کو دیکھا ہے کہ ان مقاموں پر جو ریل کے جنکشن کہلاتے ہیں یعنی جہاں ریل کی ایک گاڑی میں اسے اتر کر دوسری میں سوار ہونا پڑتا ہے چند مستورات کو ایک قطار میں کھڑا کرکے اور ان کے دونوں طرف متوازی چادریں پکڑ کر ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک اسی حراست میں لےجاتے ہیں اور تمام یورپین زن و مردان کی حماقت پر ہنستے اور ٹھٹھہ کرتے ہیں۔

بعض وہمی نہ صرف اسٹیشن پر ان اوبام پر عمل کرتے ہیں بلکہ چلتی ریل میں کھڑکیاں کھولنا اور متورات کوباہر جنگل کی طرف دیکھنے دینا بھی معیوب اور مکروہ سمجھتے ہیں ۔ اب  ہمیں حامیان پردہ خلاف شرع بتلائیں کہ جنگل کے کسی کھیت میں کھڑے ہوئے مرد کو آنا فاناً دیکھ لینا کس فسق کی طرف منجر ہوسکتا ہے ۔ علی ہذا القیاس ریل کے اسٹیشن پر جہاں ملکوں ملکوں کے مسافر دور دراز مقامات کے ٹکٹ لئے ہوئے اپنی گھبراہٹ میں ہوتے ہیں کیا یہ خطرہ کیا جاسکتا ہے کہ ان میں کا کوئی مسافر کسی عورت کو دیکھ کر اس کی بود وباش کا حال پوچھنے کے درپے ہوگا اور اسی وقت ان امورکو آسانی سے معلوم کر کے اپنا  سفر ملتوی کر تمہارے ساتھ ہو لے گا اور  جہاں تم جاؤگے وہاں وہ بھی آکر رہے گا ان باتوں کو کوئی شخص جس کو ذرا سی بھی عقل ہوگی تسلیم نہ کرے گا۔

لطیفہ : پردہ کے تشدد کے اصول پر ہم نے ایک روز غور کی تو ایک عجیب لطیفہ معلوم ہوا بیوی کی صورت ۔آواز ۔قد وقامت ۔لباس وغیرہ چیزیں تو پردہ میں چھپائی گئیں تھیں ۔تماشا تو یہ ہے کہ بیوی کے لفظ کابھی پردہ کیا جاتاہے اور پردہ بھی نہ صرف آ نکھ یا کان سے بلکہ مردوں کے ذہن سے بھی کوئی بھلا مانس یوں نہیں بولتا کہ میری بیوی یہ کہتی ہیں یا میری بیوی کا یہ حال ہے۔ بلکہ بیوی کی بجائے اور پردہ کے الفاظ استعمال کئے جاتےہیں۔ ہر شریف شخص ڈرتا ہے کہ میں بیوی کا لفظ یا اس کا کوئی ایسا ہم معنی لفظ نہ بولوں جسے سن کر مخاطب کا ذہن یا خیال سیدھا میری بیوی کی طرف جائے بلکہ وہ ایسا لفظ استعمال کرے گا جس سے مخاطب کا ذہن اس کی بیوی کی طرف متوجہ نہ ہو اس غرض کے لئے عموماً بیوی کی بجائے الفاظ گھر میں سے بولے جائیں گے مثلاً بجائے اس کے کہ میری بیوی بیمار ہیں یوں کہیں کہ میرے گھر میں سے بیار ہیں ۔اگر یہ پوچھنا ہوکہ آپ کی بیوی یہاں ہیں تو اس کی بجائے یوں کہیں گے کہ آپ کے گھر میں سے یہاں ہیں۔

ان الفاظ کے و ضع کرنے کی یہ  ہی وجہ ہے کہ گھر کا لفظ سن کر سامع کا ذہن تخصیص کے ساتھ کسی فرد خاص کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ۔ گویا بیوی کا پردہ صرف آنکھ یا کان سے ہی نہیں کرایا جاتا بلکہ خیالات اور ذہن سے بھی کرایا جاتا ہے ۔ہمیشہ یہ ہی ڈر رہتا ہے کہ کہیں مخاطب کے خیال کا بیوی کے ساتھ آمنا سامنا نہ ہوجائے ۔

ہمارے بعض ہندوستانی بھائی گھر میں کبھی کبھی ایک اور بیہودہ لفظ بولا کرتے ہیں بعض سواریاں جب کسی کی بیوی کہیں سے آتی ہے تو کہتے کہیں کہ سواریاں آئیں۔

بعض لوگ خصو صاً پنجابی  بیوی کی بجائے قبیلہ کا لفظ بولتے ہیں وہ بھی اسی قسم کا لفظ ہے جو مجموعہ مرد مان پردلالت کرتا ہے اور  ذہن کو تھوڑی دیر کےلئے مختلف کر ڈالتا ہے اور خیال کو سیدھا کسی کی بیوی کی طرف نہیں جانے دیتا ۔مگر ان پردہ پوشوں کو بڑی مشکل پیش آتی ہے وہ یہ کہ یہ لفظ جو پردہ داری کے لئے وضع کئے جاتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد کثرت استعمال کی وجہ سے ایسے بن جاتے ہیں کہ ان کی دلالت اپنےمدلوں حقیقی پر محض مجازی رہ جاتی ہے اور اس اصطلاحی معنی پر حقیقی بن جاتی ہے یعنی رفتہ رفتہ ان لفظوں سے بھی ذہن پروہ ہی اثر ہونے لگتا ہے جو لفظ بیوی سے ہوتا ہے ایسی صورت میں جب ان کی پردہ داری کی بجائے پھر پردہ دری ہونے لگتی ہے تو وہ اس لفظ کو جو پہلے ہی معنی جمعیت کے رکھتا ہے دوبارہ جمع بتاتے ہیں مثلاً قبیلہ کی بجائے قبائل کہنے لگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ڈبل جمع تو ضرور کچھ ذہن اور بیوی کا آمنا سامنا روکے گی۔ مگر کثرت استعمال سے آخر پھروہ ہی وقت پیدا ہوتی ہے جو یعنی رفتہ رفتہ قبائل بھی بالکل بیوی کا مرا دف یعنی ہم معنی بن جاتا ہے ۔

بیچارے پردہ پوش ا س لفظ پر جمع کی ایک اور تہ چڑھاتے ہیں اور قبائل کی بجائے قبائلا ن بولتے  ہیں ۔مگر تا کے زبان خلق چندر روز میں ہی اس کو بھی بیوی کا ہم معنی بنادیتی ہے اور بیچاری بیوی پھر بے پردہ ہونے لگتی ہیں۔(جاری)

بشکریہ  روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-26--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-26/d/2173


 

Loading..

Loading..