New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 02:00 PM

Urdu Section ( 26 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 22 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 22


حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند  احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

 

اور راجہ نے حکم دیا کہ زیور کے مالک کو تلاش کیا جائے۔ چنانچہ جو مسافروہاں سے گذرتے تھے ان کو وہ زیور بغرض شناخت دکھایا جاتاتھا ۔ اتقاق ایسا ہوا کہ رام چند جی کا گذر بھی اس عملداری میں ہو ا اور ان کے روبرو بھی وہ زیور پیش ہوا۔ انہوں نے فوراً وہ زیور پہچان لیا۔ مگر بغرض اطمینان اسے چھوٹے بھائی سے پوچھا کہ دیکھو تمہاری بھابھی کا ہی زیور ہے نا ؟ لکشمن کا جواب سننے کے قابل ہے؟انہوں نے کہا کہ پاؤں کا زیور توبے شک ان کا ہی ہے ۔میں اسے بخوبی پہچانتاہوں کیو نکہ میں ہمیشہ ان کی قدم بوسی کرتا تھا۔مگر کان کے زیور کی نسبت میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیو نکہ میں ان کے چہرے پر اس دھیان سے کبھی نظر نہیں ڈالی کہ میں ان کا زیور شناخت کرسکوں ۔ اس فقرے سے لکشمن کا کیسا اعلیٰ درجہ کا اتقا پایا جاتا ہے اور اپنے پیارے بھائی کی آبرو اور ناموس کاکس قدر لحاظ ثابت ہوتا ہے ۔ بس یہ ہے پردہ ۔اور یہ ہے احسان ۔گار ے اینٹ کی دیواروں یا کپڑوں کے غلافوں کے پردے اصلی پردہ نہیں ہیں۔ہماری گزشتہ تقریروں پر چند شبہات پیدا ہونے ممکن ہیں۔ پس مناسب ہے کہ ان کو بھی بیان کردیا جاوے اور ان کا جواب دیا جاوے۔

شبہ اوّل:۔ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے پاس بغیر موجودگی کسی رشتہ اور محرم کے تنہا نہیں جانا چاہئے کسی نے پوچھا کہ کیوں حضرت شوہر کے بھائی کی نسبت آپ کا کیا خیال ہے آپ نے فرمایا کہ شوہر کا بھائی تو موت ہے پس اس حدیث سے جو متفق علیہ ہے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کا دیوار اور جیٹھ کے روبرو ہونا سخت گناہ کا کام ہے جس کو موت کے برابر قرار دیا ہے ۔

 جواب اولا:۔ اس حدیث سے صرف رستہ دار محرم کی عدم موجودگی میں غیر محرم شخص کا کسی عورت کے پاس تنہا ئی میں جانا منع ہوا ہے لیکن جب کوئی رشتہ دار محرم موجود ہوتو اس کی موجودگی میں عورت کے لئے کسی غیر محرم کے روبرو ہونے کی ممانعت نہیں پائی جاتی ہے۔

ثانیاً : کوئی قطعی دلیل اس بات کی موجودگی نہیں کہ برادر شوہر کو موت کہنے سے یہ ہی مراد ہے کہ یہ امر موت کی طرح مہلک ہے بلکہ ممکن ہے کہ جناب پیغمبر خدا کی مراد یہ ہوکہ برادر شوہر کے روبرو ہونے سے کب اجتناب ہوسکتا ہے اس کا تو ضرور آمنا سامنا ہوگا جس طرح موت سے آدمی نہیں بچ سکتا اسی طرح عورت شوہر کے بھائی کے روبرو ہونےسے نہیں بچ سکتی۔ یہ معنی کچھ ہمارے گڑھے ہوئے نہیں ہیں بلکہ بڑے بڑے جلیل القدر علما کا یہی مذہب ہے جیسا کہ صاحب فتح الباری نے تحریر کیا ہے اور خاص شیخ تقی الدین صاحب شرح العمدہ کا نام بھی لکھا ہے۔

ثالثاً : کچھ شک نہیں کہ یہ ہی معنی صحیح ہوں کیا وجہ کہ حقیقت میں حمو عربی زبان میں صرف دیور یا جیٹھ کو نہیں کہتے بلکہ شوہر کے کل رشتہ داران از قسم ذکور کو کہتے ہیں ۔ جن میں شوہر کے باپ یا دادا بھی داخل ہیں۔ حالانکہ یہ رشتہ دار محارم میں سے ہیں جن کے روبرو عورت کا آنا جانا ہے۔ پس اگر الفاظ احادیث کے وہ ہی معنی لئے جاویں جو عوام میں مشہور ہیں تو عورت کا ان محارم کے روبرو ہونا بھی ناجائز ٹھہر ے گا جو صریحاً غلط ہے۔ خود جناب پیغمبر خدا کا طریق عمل ہمارے لئے اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ اس حدیث کے الفاظ خواہ کچھ ہوں مگر اس کے رو سے عورت کو اپنے شوہر کے بھائی کے روبرو ہونے کی ممانعت ہر گز ثابت نہیں ہوتی ۔ جناب رسول خدا کا کوئی حقیقی بھائی نہ تھا کہ ان کی کوئی بھاؤج ہوتی لیکن ان کے کنبہ کے حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رشتہ کے بھائی رکھتے تھے چنانچہ زبیر ابن عوام آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہوتےتھے اور آپ زبیر کے ماموں زاد بھائی ہونے کی وجہ سے زبیر کی بیوی کے جیٹھ ہوتے تھے ۔زبیر کی بیوی اسما بنت ابی بکر تھیں جو عائشہ کی بہن ہونے کے سبب بھاؤج کے علاوہ آپ کی سالی بھی ہوتی تھیں۔ پس اسما بنت ابی بکر کے دونوں رشتے یعنی بھاؤج اور سالی کے ایسے رشتے تھے جو ہمارے آج کل کے شرفا کے دستور اور رواجی شریعت کے بموجب مقتضی سخت پردہ کے ہیں۔ اب ہم کو ایسے حالات کی جستجو ہے جن سے یہ صاف ظاہر ہوجائے کہ اسما رسول خدا کے روبرو ہوتی تھیں یا نہیں۔بڑی محنت کے بعد ہم بخاری میں ایک حدیث پاتے ہیں جس کی روایت کرنے والی خوش قسمتی سے خود اسما ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ میرا نکاح زبیر سے ہوا ۔ اس کے پاس صرف ایک گھوڑا تھا اور ایک اونٹ ۔اس کے سوا اور کچھ مال متاع نہ تھا میں ہی اس کے گھوڑے کو چرالا یا کرتی تھی۔ اور زبیر کی زمین سے کھجور کی گھٹلیاں اپنےسر پر اٹھالاتی تھی۔ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ میں چلی آرہی تھی اور گٹھلیوں کا بوجھ میرے سر پر تھا کہ راہ میں رسول اللہ مل گئے ۔ ان کے ہمراہ چند احباب بھی تھے ۔ انہوں نے مجھے بلایا ۔ اور وہ اپنا اونٹ بٹھانے لگے کہ میں ان کے پیچھے سوار ہوجاؤں مگر مجھے لوگوں کے ہمراہ یوں جانے میں شرم آئی مجھے زبیر کا بھی خیال آیا کیو نکہ اس کی غیرت کی کوئی حد و انتہا نہ تھی۔ رسول اللہ نے پہچان لیا کہ مجھے یوں ہمراہ سوار ہونے میں شرم آتی ہے۔ اس لئے وہ تشریف لے گئے۔ میں زبیر کے پاس آئی اور اس کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔(جاری)

بشکریہ  روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-22--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-22/d/2149


 

Loading..

Loading..