New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 08:51 AM

Urdu Section ( 25 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

False Authority of Men over Women: Part 21 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 21


حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند  احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

 

بڑے پائچوں کے پاجامے بھی گوبظاہر نہایت پردہ کی چیز ہیں مگر ایک طرح مخل ستر ہوتے ہیں یعنی بہت بڑے ہونے کی وجہ سے بغیر اس کے کہ ان کو اٹھا کر چلیں چلنا پھرنا مشکل ہے اور ان کو اٹھا کر چلنے سے کسی قدر حصہ پنڈلیوں کا برہنہ ہوجاتا ہے ۔ دیہات میں عموماً دہلی کی سی بانکی کرتیاں تو نہیں پہنی جاتیں بلکہ ان کی بجائے کرتے پہنے جاتے ہیں مگر ان کے گریباں کھلے رہتے ہیں جس میں سے کسی قدر چھاتی کا بالائی حصہ نظر آتا رہتا ہے غرض ہندوستانی لباس عورت میں اس حکم خداوندی کی جس کے رو سے چہرہ اور ہاتھ کےسوا کل جسم او رپوشیدہ خوبصورتی کے چھپانے کی سخت تاکید فرمائی گئی ہے ذرا بھی تعمیل نہیں ہوتی او ر کچھ شک نہیں کہ اس قسم کا لباس پہننا بالکل حرام ہے۔ یہ بے حیائی کا لباس پہنا کر ان کو چار دیواری میں قید کرنا اور ان کو ہوائے تازہ میں جو صحت کے لئے طبعات ان کو اسی قدر ضرور ہے جس قدر مردوں کوبرقع اوڑھ کر بھی نہ نکلنے دینا پر ے درجے کی حماقت ہے۔ او ر عورتوں پر صریح ظلم ہماری دانست میں شرعی لباس پہن کر اور دوپٹہ ایسی طرح اوڑھ کر سرکاکوئی حصہ برہنہ نہ رہے، کھلے چہرے او رہاتھوں سے ایسے اجنبی اشخاص کے روبرو جن پر ان کے شوہروں اور والدین کو نیک چلنی کا اعتبار ہو۔ اپنے محرم عزیزوں کی موجودگی میں بشرط ضرورت روبرو ہونا لوگوں کے خیال میں کیسا ہی معیوب ہو،مگر خدا اور رسول کے احکام کے مطابق اور اس بے حیائی سے جو گھروں میں رہ کر لباس حرام کے ذریعہ سے عمل میں آتی ہے۔ بدر جہاں بے عیب اور بے گناہ ہے۔ اس عملدر آمد پر اگر کوئی شرعاً اعتراض ہوسکتا ہے تو شاید صرف یہ ہوکہ لوگ اجنبی عورت کو اس طرح باہر نکلتا دیکھ کر نظر بدسے تاکا کریں گے۔

مگر اس کا جو علاج ممکن تھا وہ شرعی نے خود بتلا دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں اگر گناہکار ہوں گے تو خود بدنظر لوگ ہوں گے نہ کہ وہ بے گناہ عورت جو اپنے حاجات ضروری کو نکلتی اور خداکی دی ہوئی آزادی کو برتتی ہے ۔ اس کا علاج یہ ہی ہوسکتا تھا او ریہی شرع نے بتایا کہ جولوگ شہرت سے ماموں نہہوں او رانہیں خوف ہوکہ ہم میں اس قدر تمیز اور انسانتک نہیں ہے کہ پرائی عورت کو دیکھیں اور اپنے قوائے شہوانی کو قابو میں رکھ سکیں تو ان کو چاہئے کہ اپنے تئیں عورتوں پر نظر ڈالنے سے بچائے رکھیں ۔ ان بدمعاشوں کی خاطر نصف دنیا قید نہیں کی جاسکتی ۔کل کو اگر بدنیت لوگ دوسروں کا مال دولت دیکھ کر چوری کی نیت یا طمع ظاہر کرنے لگیں تو کیا لوگوں کو منع کیا جاوے گا کہ وہ خلقت پر اپنے متاع کا اظہار نہ کریں۔ یا اگر چند بھوکے بدمعاش چاہیں کہ حلوائی کی دوکان پر سے آنکھ بچا کر مٹھائی پر جھپٹا مارلیں تو کی حلوائیوں کو اپنی دوکانیں بند کردینی چاہئے ،کیو نکہ ان حرامزادوں کو پولس میں گرفتار نہ کروایا جائے۔معہذایہ کیسی الٹی سمجھ ہے کہ یا تو اس قدر اتقا کہ عورتوں کو باہر نکلنے سے بایں نظر منع کیا جائے کہ دوسرے لوگ اپنی بدنظر کی وجہ سے گنہگار اور اقارب عورت گناہ کی مدد گار نہ ٹھہریں اور یا اس قدر بے باکی کی اہل ہنود اور انگریزوں کی بیویوں کوخوب گھور گھور کر دیکھنے سے خود مرد تکب گناہ ہوں کیا اعانت گناہ ارتکاب گنا سے بھی بدتر چیز ہے ۔شریعت نے عورتوں کو نکلنے کی ممانعت کے بجائے یوں حکم دیا ہے کہ مرد خود ان کے دیکھنے سے بچیں اگر ا نہیں خوف بدنظر ی ہو۔ پس یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ چونکہ اہل ہنود اور عیسائی اپنی بیویوں کو نکلنے دیتے اور ہمارے روبرو آنے دیتے ہیں اس لئے ہم پر گناہ نہیں ہے۔ شریعت کا حکم ایسی صورتوں میں خود مردوں کو بچنے کے لئے ہے نہ عورتوں کو تمہارے گناہگار ہونے کے خوف سے گھروں میں گھسے رہنے کا۔ اگر تم اپنے تئیں مامون عن الشہوت سمجھتے ہوتو کیا وجہ ہے کہ باقی جہاں بھر کی عورتوں کو پاک نظر سے دیکھتے ہو باقی اور سب جہاں بدنظر ہے اور اگر تم بھی باقی لوگوں کی طرح ہوتو کیوں اس گناہ سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے ہو۔ کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا لک الاولی وعلیک بالثانیہ ۔یعنی اجنبی عورت پر   پہلی نگاہ جائز ہے مگر جب نظر پاک نہ رہے تو قصداً دیکھنے سے بچے ۔ اہل اسلام نے بالکل خلاف شریعت عمل کیا کہ بجائے اس کے عورتوں کو پردہ شرعی کے ساتھ نکلنے دیں اور خود ان کی بدنظری کی نیت سے دیکھنے سے بچیں یہ کیا ہے کہ عورتوں کو تو گھر وں میں سے نکلنے سے منع کردیا۔ مگر خود عورتوں کا تا کنا  بند نہیں کیا ۔ اور گرجاؤں او رمیلوں میں جاجا کر غیر اقوام کی عورت کو جو ان کے لئے مثل اپنی ماں بہنوں کے ہیں بری نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا سنت نبوی پر چلنے کے یہ ہی معنی ہیں؟ مسلمان شیخی میں اور سچے دین کے گھمنڈ پر غیر مسلم قوموں کو جو چاہیں کہا ں کریں ۔ہمیں پردے کی حقیقت او ر ماہیت بتلانے اور ا س کااندازہ سمجھانے کے لئے رامائن کے ایک واقعہ سے بہتر مثال نہیں ملی۔ رام چندر جی کی بیوی  سیتا جی کو جب راون لے گیا تو رام چندر جی اس کی تلاش میں نکلے او راپنے بھائی لکشمن جی کو بھی ساتھ لیا ۔ اثنا سفر میں سیتا جی کے دو زیور جن میں سے شاید ایک کرن پھول تھا اوردوسرا کوئی  زیور پاؤں کا تھا راہ میں گرپڑے ۔ دیانت داری کا عہد تھا کوئی راہ گیر اٹھا کر راجہ کے پاس لے آیا ۔(جاری)

بشکریہ  روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-21--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-21/d/2146


 

Loading..

Loading..