New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 07:31 AM

Urdu Section ( 5 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 2 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:دوسری قسط


مولوی ممتاز علی کی مائیہ ناز تصنیف ‘‘حقوق نسواں’’

دلیل اوّل جو قوت جسمانی کی فضیلت پرمبنی ہے محض ایک بے سند قول ہے جس کوکسی طرح دلیل نہیں کہہ سکتے۔ ہم نے تسلیم کیا کہ مردوں کوعورتوں کی نسبت قوت جسمانی زیادہ حاصل ہے۔ لیکن اس سے یہ کس طرح ثابت ہوسکتا ہے کہ قوت جسمانی اسی شئے ہے جس کی وجہ سے مردمن حیث الانسان عورتوں پر شرف وفوقیت رکھتے ہیں۔

قوی الاعضا کے لئے قوت کا کام اور ضعیف الاعضا کے لئے آسانی کے کام مخصوص ہونے بھی بالبد اہت ظاہر ہیں۔ کون کہتا ہے کہ محنت ومشقت وجفا کشی کے کام مردوں کو نہیں ملنے چاہئیں ۔مرد شوق سے محنتیں اٹھائیں ۔پہاڑ کاٹیں ۔درخت کاٹیں۔ انسانوں کے گلے کاٹیں یا او رکام جن کو ان کی سختی اور سخت دلی مقتضی ہو وہ کریں ۔مگر سوال تو یہ ہے کہ آیا اس قسم کے افعال کی طاقت ہونے سے انہیں کسی سچی فضیلت یا شرافت حاصل ہونے کا دعویٰ پہنچتا ہے۔ جس کا جواب دلیل مذکورہ میں مطلق موجود نہیں ۔ ہمارے اس سوال کا جواب اور استدلال مذکورہ بالا بھذاپن اور بے محل ہونا پورے طور پر اس طرح ظاہر ہوسکتا ہے کہ بجائے عورتوں او ر مردوں میں مقابلہ کرنے کے یہ ہی دلیل اگر مردوں اور چوپایوں میں مقابلہ کرنے کےلئے یوں قائم کی جائے کہ چونکہ چوپایوں کو خدانے مردوں سے زیادہ طاقت جسمانی بخشی ہے، اس لئے ان کو مردوں پر فوقیت وفضیلت حاصل ہے تو اس استدلال کو بھی لا محلہ تسلیم کرنا پڑے گا۔ دونوں منطقی دلیلیں بالکل ٹھیک ہیں اور صحیح نتیحہ نکلنے کا جتنی شرائط ہیں ہو سب موجود ہیں اور نتیجے بھی صحیح ہیں۔ پس استدلال مذکورہ بالا کی بنا پر مردوں کو اگر عورتوں پر کوئی فضیلت ہے(بشرطیکہ اس کو لفظ فضیلت سے تعبیر کرنا جائز ہو) تو و ہ ایسی ہی ہے جیسے بہا یم کو مردوں پر ہے۔ لیکن اگر اس سے کہ گدھے میں ایسا بھاری بورا اٹھا نے کی طاقت ہے جو مرد نہیں اٹھا سکتا ۔گدھے کی فضیلت ثابت نہیں کرتا تو مرد بھی اس امر سے اپنی فضیلت ثابت نہیں کرسکتے کہ وہ عورتوں کی نسبت اعمال شاقہ برداشت کرنے کی زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔

آسانی کی غرض اور ذہن نشین کرنے کےلئے اس دلیل کا بے محل ہونا ہم اور طرح پر ظاہر کرتےہیں۔ سوچنا چاہئے کہ مرد اور عورت میں مقابلہ کرنے کے کیا معنی ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ مرد اور عورت حیوانیت میں تو شریک ہیں ہی۔ اور ان کو مرد انسان اور عورت انسان یا مختصر اً مرد او رعورت حیوانت کے لحاظ سے نہیں کہتے ۔ بلکہ انسان سے جو مرد اور عورت دونوں کو شامل ہے۔ مراد ہے حیوان +قویٰ نفس ناطقہ یا یوں کہو کہ حیوان مع شئی زائد ۔پس یہ ہی شے زائد ہے ۔ جس نے حیوان کو اونچا کر کے انسانیت کی سطح مرتفع تک پہنچایا ہے اور ان میں مقابلہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ آیا انسان کے دونوں افراد حیوانت سے ترقی کر کے یکساں سطح پر پہنچے ہیں۔ یا مرد زیادہ بلندی پر پہنچا ہے۔ مگر پہلی دلیل اس امر کی نسبت بالکل ساکت ہے۔ اس سے صرف اس قدر ظاہر ہوتاہے کہ مرد کا ڈیل ڈول زیادہ مضبوط ہے۔ ہڈیاں سخت ہیں ۔ ٹانگیں قوی ہیں ۔ حالانکہ یہ امور اس ‘‘شئے زائد’’ میں داخل نہیں۔ بلکہ حیوانیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس میں مرد اور عورت کا مقابلہ مطلوب نہیں ہے۔

سب جانتے ہیں کہ مرد اور عورت حیوان کی انواع ہیں۔ خدائے تعالیٰ نے حیوان میں حیوانی صفات کی تیزی اور خونخواری اور وحشت اور غضبناکی کم کرکے اور اپنی حکمت بالغہ سے اس میں قویٰ ملکوتی رکھ کر حیوان کی ایک نئی نوع بنائی ہے جس کا نام انسان رکھا ہے۔ پس مرد اور عورت کے مقابلہ سے انہیں قویٰ ملکوتی میں مقابلہ مقصود ہے نہ خصایل حیوانی میں مرد کی فضیلت یا زیادتی ثابت کرنا خصایل انسانی کے لحاظ سے ان کی رذالت ثابت کرنا ہے۔

ثانیاً اگر یہ تسلیم کر ہی لیا جائے کہ مردوں کو قوت جسمانی کے لحاظ سے عورتوں پر فضیلت ہے تب بھی یہ قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ مردوں کو یہ قوت فطرتاً حاصل ہوئی ہے یا خاص طور پر تمدن نے ان کو قوی بنادیا ۔ جہاں تک ظاہری اسباب پر نظر جاتی ہے یہ معلوم ہوتاہے کہ قوت جسمی کی کمی بیشی مرد اور عورت میں فطری نہیں ہے۔ بلکہ خاص خاص قسم کے تمدن و معاشرت نے ہزار ہا صدیوں کے بعد اس قدر فرق پیدا کردیا ہے جیسا کہ مختلف اقوام میں اس قسم کے عارضی فرق امتداد زمانہ سےپیدا ہوگئے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ کابل کے آفریدی اس قدر قویٰ ہیکل اور شدید القوت ہیں اور کلکتہ کے بابو عموماً بودے اور پھسپھسے ہیں۔ کیا سبب ہے کہ پنجاب کے سکھ ہڑ بران پنجاب کہلاتے ہیں او رہندوستان کے بنئے اپنی نامردی او رڈرپوک ہونے میں ضرب المثل ہیں۔ جن اسباب نے عورتوں کو ضعیف کیا کچھ شک نہیں کہ ان کا عمل ان زمانوں سے بہت پہلے ہے جب سے بنگالیوں یا بنیوں کے ضعف کے اسباب شروع ہوئے۔ اس قول کی تصدیق کہ مرد اور عورت میں قوت کی کمی وہ بیشی فطری نہیں ہے۔ بلکہ عارضی اور اتفاقی اسباب کا نتیجہ ہے اس امر سےہوتی ہے کہ اگر چہ دنیا بھر کی عورتیں ایک حد تک خاص قسم کی زندگی بسر کرتی ہیں تاہم بہت سے تمدنی حالات میں اختلاف ہونے کی وجہ سے مختلف ممالک و اقوام کی  عورتوں کے قویٰ جسمانی میں فرق نہیں پایا جاتا ہے۔ غزنیں او رہرات کی عورتوں کے قویٰ جسمانی کا مقابلہ کرو شرفائے دہلی ولکھنؤ کی بیگمات سے تو ظاہر ہوجائے گا کہ یہ فرق اس قدر ذاتی و خلقی نہیں جس قدر تمدنی ہے۔ یعنی عورتوں کا یہ ضعف اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ عورتوں کو مردوں کی سطح سے ایک نیچی سطح پر رکھ کر ان کی قوتوں کو کمزور اور معطل اور رفتہ رفتہ معدوم کردیا۔

پہلی دلیل کا دوسرا حصہ یا یہ کہوں کہ اس دلیل کے پہلے حصے کا نتیجہ جو ان الفاظ میں نکلا گیا ہے کہ سلطنت قوت بازو کا نتیجہ ہے اور بھی زیادہ بے ہودہ اور غلط خیال ہے۔ انسانی تہذیب کے ابتدائی زمانہ میں جب کہ وحشت و جہالت کی گھٹا دنیا پر چھائی ہوئی تھی اور انسانوں کے تمدنی حقوق اور معاشرت کے طرَّق موضوع نہیں ہوئے تھے ہر ایک امر جو موجب منفعت تصور ہوتا تھا اسی قدیم وحشیانہ اصول سے کہ ‘‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس ’’ تصفیہ پاتا تھا۔۔(جاری)

بشکریہ روزنانہ صحافت ،ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-2--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-دوسری-قسط/d/2060


 

Loading..

Loading..