New Age Islam
Fri Apr 16 2021, 10:29 PM

Urdu Section ( 18 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

False Authority of Men over Women: Part 14 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 14


حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند  احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

 

مگر یہ کتابیں نہ کسی کمیٹی نے لڑکیوں کے واسطے منتحب کی تھیں ۔ نہ ان کتابوں کو ان کے مصنفوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے واسطے تصنیف کیا تھا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں اردو زبان کا علم ادب انہیں کتابوں پر مشتمل تھا ۔مگر ایسا بھی نہ تھا کہ اردو میں بالکل او رکچھ نہ تھا۔ اور جب اس اردو علم کا دروازہ لڑکیوں پر کھل جاتا تھا تو اسی راستہ سے گل بگاؤ لی اور بدر منیر اور چہار درویش بھی گھس آتی تھیں خود چہار درویش جس نے حضرت نظام الدین اولیا اور خسرو کے بابرکت ناموں سے بزرگی حاصل کرلی ہے۔ چہار درویش سادہ بے تکلف اردو کا عمدہ ترین نمونہ ہے۔ اس کی زبان کی سلاست اور سادگی اور فارسی عربی کی امیز ش سے خالی ہونا حقیقت میں بے حد  تعریف کے قابل ہے مگر اس کے بعض قصے اس قدر فحش ہیں کہ لڑکیاں تو کیا لڑکوں کے پڑھنے کے بھی قابل نہیں ۔ اس زمانہ کا لٹریچر بہت وسیع ہوگیا ہے مگر جس طرح اچھی کتابوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اسی طرح بری کتابوں کی سب سے زیادہ انبار اردو میں ناولوں کا ہے۔

جو عموماً نہایت ناپاک اور خلاف تہذیب فحش اور نجش خیالات اور عبارات سے پر اور لبریز ہیں۔ ناپاک ناول لکھنا یا ناپاک ناولوں کاترجمہ کرنا ایک قسم کی کتابی قرمساقی ہے ان مصنفوں کو جو ایسا کام کررہے ہیں خدا نے چا رپیسہ کے لالچ سے اندھا کردیا ہے اور نہایت افسو س ہے کہ ان کولچو ں کی شہواتی قو توں کی خدمت کے سوا اور کوئی کام اپنے معاش کے حاصل کرنے کا پسند نہیں آیا ۔ناولوں میں جو چند ناول عمدہ بھی ہیں تو ان میں بھی ایک نقص ہے وہ یہ کہ ان کے موضوع متمول خاندان ہیں۔ کیو نکہ ایسے خاندان میں ہی اسباب عیش وعشرت اور سامان راحت اس قدر ہوتے ہیں جو قابل قصہ ہونے کے ہوں ۔پس غریب خاندان کی لڑکیاں جب آسودگی اور سلیقہ  کا نمونہ اس تمول اور آسودہ حالی کو پاتی ہیں تو اپنی حالت سے سخت بیزار ہوجاتی ہیں اور  ان کی زندگی بے لطف ہوجاتی ہے۔ قناعت کی خو شی دل سے جاتی رہتی ہے۔ بلکہ یہ عیب ہمارے مولانا مولوی نذیر احمد صاحب کی کتابوں میں بھی ہے کہ انہوں نے آسودہ حال متمول گھر کا قصہ لکھا ہے جس سے لڑکیوں میں اس قدر بلند نظری پیدا ہوجاتی جو ان کی حالت خاندان کے مناسب حال نہیں ہوتی۔ ہر لڑکی یہ ہی جانتی ہے کہ میرا گھر اصغری کے گھر کی طرح اجلا ہو جو ناممکن ہے۔ ہر لڑکی چاہتی کہ میرا شوہر تحصیلدار ہو یا ڈپٹی ہو اس سے کم درجہ کا شوہر اس کی نظروں میں وقعت نہیں رکھتا۔

ہم نے نہایت چھان بین سے پایا ہے کہ جن لڑکیوں نے ناولوں کا کثرت سے مطالعہ کیا ہے ان کی اخلاقی قوتوں میں بھی تصنع بہت ہوگیا ہے ۔اگر ان کا ادب ہے تو بناوٹی ۔اگر تابعداری ہے تو بناوٹی اگر حیا ہے تو بناٹی ۔جس کی بنیاد پر صرف زبان کی سب سے اوپر کی جھلّی پر ہے اور مزاج کی ذرا سی جنبش ان سب چیزوں میں تلاطم عظیم ڈال دیتی ہے ۔ وہ مضبوط استحکام جو اصلی تعلیم سے پیدا ہوتا ہے وہ سچی دیندار ی جو نیک صحبت سے پیدا ہوتی ہے جسے کوئی مصیبت ،عزیزوں کی کوئی بدسلوکی کی جنبش نہیں دے سکتی ۔ جو عورتوں کا عنصر لطیف تھا اس نئے پود میں نہیں ہے۔

تحریر ی ناول خواں لڑکیوں کی بے شک عمدہ ہوتی ہیں مگر محض بے مغز ۔سراسر پوست اور خالص مبالغہ بلا اصلیت ۔جب غم بیان کریں گی تو ہمارے دوست شرر کے کسی مصیبت زدہ ہیرو کے سب الفاظ اپنے اوپر صادق کرلیں گے۔ خون بے جگر ہے کہ لہو بن بن کر ان کی آنکھوں سے آنسو ؤں کی شکل میں بہہ رہا ہے۔ دل چاک اور سینہ داغ داغ ہے ۔غم کی خاک سے ان کا خمیر ہے۔ ان کا دل میدان رستخیر ہے جس میں ہزاروں حسرتیں مرتی ہیں اور ہزاروں جوش اٹھتے ہیں ۔ آوزاری میں ان کا دن اور اختر شماری میں ان کی راتیں کٹتی ہیں ۔غرض کوئی بات ان کی اصلیت کی نہیں۔ قسمیں ان کی جھوٹی ۔اقرار ان بودے بزرگوں کاادب ،شوہر کی عزت صرف تب ہی تک ہے جب تک ان کی راتیں اپنی رائے کے مطابق ہوں۔ ذرا اختلاف کرو پھر ناول خوانی کے جوہر دیکھ لو ۔ ناول خوانی نے لڑکیوں میں جو خباثتیں پیدا کی ہیں ان کے ذمہ دار اس قدر ناولوں کے مصنف نہیں ہیں ۔ جس قدر لڑکپن کے باپ اور بھائی ہیں ۔ملک میں گندگی اور سنڈاسیں ہوا کریں۔ لیکن جو ان کو اپنے دیوان خانوں میں لاتے اور منگواتے ہیں وہ ہیں موجد اور بانی اس تمام اخلاقی تعفن کے جو ناول پڑھنے سے پیدا ہوتا ہے ۔ہم نے ارادہ کیا ہے کہ یکم جون 1898سے انشا اللہ لڑکیوں کے لئے پاکیزہ مضامین شائع کریں جس  میں ان کی تعلیم اور کتب تعلیم اور طریق تعلیم اور سلیقہ خانہ داری وغیرہ مضامین پر بحث ہوا کرے۔ اس اخبار کی ایڈیٹر میرے اپنے خاندان کی کوئی لڑکی ہوگی اور اس اخبار میں کوئی مضمون کسی مرد کا لکھا ہوا درج نہ ہوا کرے گا۔ اس اخبار کے لئے میں اپنے خاندان کی لڑکیوں سے جسے برے بھلے مضمون وہ لکھ سکیں گی لکھواؤں گا۔ خلقت اس پر ہنسا کرے اور جو چاہے کہا کرے۔ میرا ساتھ دینے والے ساتھ دیں گے اور جو کوئی نہ دے گا تو اللہ تو ضرور ساتھ دینے والا ہے۔وعلی اللہ متوکل المتو کلون۔(جاری)

بشکریہ :۔ روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-14--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-14/d/211


 

Loading..

Loading..