New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 06:01 AM

Urdu Section ( 15 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 11 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 11


مولوی ممتاز علی کی مائیہ ناز تصنیف‘‘حقوق النسواں’’

دو باتوں میں سے ایک بات لازم ہے یا تو عورت کے قویٰ عقلی میں جس قدر معلومات علوم حاصل کرنے کی گنجائش پاؤ ان کو اتنی ہی تعلیم دیتے جاؤ ۔یا اگر کوئی حد خاص تحصیل علم کے لئے مقرر کرتے ہوتو یہ ثابت کرو کہ اس حد خالص سے زیادہ علوم حاصل کرنے کا ملکہ جو خدائے تعالیٰ نے عورت میں پیدا کیا ہے اس کا لغو ٹھہرانے اوربیکار رکھنے کی  صرف  اس قدر تعلیم کا فی ہے جس سے اپنے والدین اور دیگر اقربا کے حقوق پہچان لیں اور نماز روزہ کے مسائل سے واقف ہو جاویں اس سے زیادہ پڑھانا عورتوں کے لئے نہایت خطرناک ہے اور وہ لوگ زیادہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم سے عورتوں کے چال چلن بگڑ نے کا سخت اندیشہ رکھتے ہیں۔ لیکن درحقیقت جن اندیشوں اور خیالوں نے ان کے دل کو گھیر ا ہوا ہے وہ اندیشے محض تعلیم سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ تعلیم کے بے جا استعمال بھی ہوسکتا ہے ۔ اور اس سے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ قینچی ۔چاقو جیسی کار آمد چیزیں ہیں اور خیال کرو کہ یہ دنیا میں نہ ہوں تو کسی دقتیں واقع ہوں لیکن انہیں آلات کو ایک شریر شخص لوگوں کے کان ناک کاٹنے میں استعمال کرسکتا ہے۔اب اس اندیشہ سے کوئی بدمعاش چاقو سے لوگوں ناک نہ کاٹ ڈالے نہ مناسب ہے کہ دنیا میں چاقو کا بنانا موقوف کردیا جائے۔

ریل کس قدر آرام کی چیز ہے۔مگر انجن ڈرائیور کی ذرا سی غفلت او رمے نوشی سے کس قدر خرابیاں وقوع میں آسکتی اور آتی ہیں کیا ان خرابیوں کے اندیشہ سے ان تمام فوائد بے شمار سے جو شب وروز خلقت کو حاصل ہورہے ہیں نظر بند کرلی جاوے۔ کچھ شک نہیں کہ علم ایک اعلیٰ درجہ کی طاقت ہے اور اس کو جس مطلب اور جس غرض کے لئے استعمال کیا جاوے وہ تعلیم کی مدد سے نہایت یقینی کامیابی کے ساتھ حاصل ہوسکتی ہے۔ تعلیم یافتہ شخص کی  خوش اخلاقی معرفت حقوق بزرگوں کے تابعداری مظلوم کے ساتھ ہمدردی عزیزوں کے ساتھ شفقت بچوں کی پرورش خوش انتظامی اور خوش محبتی غیر تعلیم یافتہ شخص کی انہیں قسم کی صفات نسبت نہایت اعلیٰ و اشرف وقابل تعریف  ہو ں گے۔ علی بذا القیاس تعلیم یافتہ اشخاص کی بدچلنی اور بد وضعی جاہل بدچلنوں پر کئی درجہ سبقت لے جاوے گی ۔ پس یہ اعتراض لڑکیوں کی تعلیم پر وارد نہیں ہوتا بلکہ درحقیقت انسان کی تعلیم پر وارد ہوتا ہے کیو نکہ جو نقص تعلیم سے پیدا ہونے بیان کئے جاتے ہیں ان سے مرد اور عورت یعنی کل انسان بدرجہ مساوی متاثر ہوں گے۔ پس کیا وجہ ہے کے تعلیم سے اس قسم کی خرابیوں کا اندیشہ لڑکوں کے لئے تو نہ کیا جاوے اور لڑکیوں کے لئے یہ خطرات بیان کئے جاویں۔

علاوہ ازیں جب ہم لڑکیوں کی تعلیم کی سفارش کرتے ہیں تو ہماری کس تقریر سے یہ نتیجہ نکال لیا جاتا ہے کہ ہم ان کی عمدہ تربیت اورنگرانی کے حامی نہیں ہیں۔ ہم جس کوشش سے ان کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں اسی کوشش سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ اس تعلیم کا نیک ترین استعمال ان کو سکھا یا جاوے۔اصل میں مرد دوہری غلطی کرتے ہیں۔ اول تو وہ اپنے آپ کو عورتوں سے افضل اور اعلیٰ اور ہر طرح ہر حق میں غالب سمجھتے ہیں ۔ دوم غلطی یہ کرتے ہیں ک اس علو وغلبہ فرضی کے لوازم میں یہ بھی شامل سمجھتے ہیں کہ وہ کسی امر ناشائستہ کا ارتکاب کریں اوران سے باس پرس نہ ہو ۔ وہ افضلیت کو جابر انہ حکومت کے ساتھ جس میں حاکم خود مختار سے کوئی شخص امر زیبا و نازیبا کی نسبت باز پرس کرنے کا استحقاق نہیں رکھتا خلط کردیتے ہیں۔ ہم ثابت کرچکے ہیں کہ کوئی اس قسم کی فضیلت مردوں کو حاصل نہیں ہے۔ دوم اگر وہ درحقیقت ایسے اعلیٰ اور ایسے اشرف ہوں جیسے وہ اپنے زعم میں سمجھے بیٹھے ہیں تو ان کے چال چلن پر ذرا سا بھی دھبہ آنا عورتوں کے چال چلن کی نسبت زیادہ بد نما اور بد زیب ہوگا۔ غلام کا کسی حرکت ناشائستہ کا مرتکب ہونا اس قدر اس کے لئے باعث بے عزتی نہیں ہوسکتا جس قدر آقائے نامدار کے لئے اسی قسم کی نالائقی کا مرتکب ہونا۔ پس اگر تعلیم سے کچھ ضررمتصور ہے تو لڑکوں کی تعلیم بند کرنی مناسب ہے۔ نہ کہ لڑکیوں کی۔

سچ یہ ہے کہ خود مردوں کے اخلاق ایسے بگڑے ہوئے اور وہ ایسی ناپاک زندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں کے خواہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کی کیسی ہی نگرانی کریں ان کی عملی زندگی ان کی اولاد کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دیئے بغی رنہیں رہ سکتی ۔ اس صورت میں ایسے موجب ترغیب کے ساتھ  علم کی طاقت کے ساتھ کمک پانا ان کے سخت خراب نتیجہ پیدا کروا ئے گا۔ کیا روحانی صلاحیت باپ کی نصیحت بچوں میں پیدا کرے گی جب اس نے ایک مسکین تابعدار شریف بیوی کے ہوتے جو بدقسمتی سے خوبصورت نہ تھی گھر میں ایک کسی (طوائف ) ڈال رکھی ہے۔ کیا اثر ہوگا ایک بڈھے ریفارمر کی نصیحت کالوگوں اور اس کی اولاد پر جب کہ تعدد ازواج کے برخلاف پچاس لکچر دینے کے بعد اس نے عہد پری میں چہار دہ سالہ لڑکی سے بموجودگی اپنی بیوی کے جو شہر کی بیس سال کی عمر سے ساٹھ سال کی عمر تک رفیق غمگسار رہی نئی شادی رچائی ہو۔ ایسے لوگوں کی سزا واجبی یہ ہے کہ ان کی اولاد ان کے نقش پر چلے اور دنیا کو بتلادے کہ بدی کا اثر بدی کرنے والے کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ نسلوں تک پہنچتاہے ۔

لوگ کہتے ہیں کہ فلاں کتاب عورتوں کے رو برو نہیں آنی چاہئے ۔ اور فلاں کتاب زنا نخانہ میں داخل نہیں ہونی چاہئے۔ ہم کہتے ہیں کہ دیوان خانے میں ہی کوئی ایسی کتاب کیوں آنی چاہئے جس کا عورت کے روبرو آنا مضر متصور ہو۔ پس بجائے اس کے کہ کتابوں کی فہرست تیار کی جاوے جن کا پڑھنا عورتوں کو نامناسب ہے نیکی کے ذریعہ سے اپنا چال چلن ایسا پاک اور مضبوط و مستحکم بنانا چاہئے جو ان میں سچا مذاق خوش اخلاقی  کا پیدا کرے اور نیکی کی محبت اور گناہ سے سخت نفرت ان کے دل میں بٹھادے تاکہ پھر ان کی نسبت اس قسم کے اندیشوں کی گنجائش ہی نہ رہے ۔ ہمارے اوپر کی تقریر سے معلوم ہوگا کہ ہم عورتوں کی تعلیم کی کوئی حد مقرر کرنا پسند نہیں کرتے مگر کیا ہم پھر یہ چاہتے ہیں کہ ان کو جبر مقابلہ او رمٹی کاٹے کا حساب اور انگلینڈ کی تاریخ پڑھائی جائے نہیں ہر گز نہیں۔ (جاری)

بشکریہ :۔ روز نامہ صحافت ،ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-11--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-11/d/2101


 

Loading..

Loading..