New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:48 PM

Urdu Section ( 4 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 1 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:پہلی قسط


مولوی ممتاز علی کی مائیہ ناز تصنیف ‘‘حقوق نسواں’’

مرد اور عورت ایک نوع انسان کے افراد ہیں۔ ان میں باہم من حیث الا نسان ایک کو دوسرے پر کسی قسم کی ترجیح نہیں ہوسکتی ۔ البتہ وہ چند خصوصیات جو مرد کو عورت سے متمیز کرتی ہیں مقتضی اس امر کی ہیں کہ ان کے فرائض او رطریقے تمدن میں بھی صرف بقدر ان خصوصیات کے تفاوت ہو۔ اس قسم کے تفاوت کے سوا جو عورت او رمرد کے خلقی فرق مبنی ہیں جس قدر اور اختلاف پائے جائیں گے یا ایک کو دوسرے پر   ترجیح دینے کےلئے کوئی امور ثابت کئے جائیں گے ان سب کی بنا محض اختلات تشخصلات و اختلاف صنفیت پر  ہوگی اور ظاہر ہے کہ اس قسم کے فرق محض اتفاق اور عارضی اورغیر معتبر ہوتے ہیں اور اختلاف مسکن و اختلاف آب وہوا اور اختلاف تمدن وغیرہ اسباب سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم ثابت کریں گے کہ موجودہ طریق تمدن کے بموجب جس قدر تفریق مرد اور عورت کی حالت اور ان حقوق میں کی گئی ہے وہ اس قدر تفریق سے جو باقتضائے خلقت وفطرت ہونی چاہئے تھی بدر جہا ں  زیادہ ہے اور محض فرضی خیالات اور مردوں کے تعصبات اور جہالت پر مبنی ہے۔ اور انسان کے تمدن کو خراب کرنے والی اور دنیا کو سخت نقصان پہنچانے والی اور زمانہ قدیم کے وحشیانہ پن کا بدترین نمونہ ہے۔

ہمارے تمدن کے مختلف اوضاع و اطوار محض اس جھوٹے دعوے پر مبنی ہے کہ مرد حاکم ہیں اور عورتیں محکوم ہیں اور عورتیں مردوں کے آرام کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ اور ان لئے وہ ان پر تقریباً اسی قسم کے اختیارات رکھتے ہیں جس طرح وہ ہر قسم کی جائیداد پر رکھتے ہیں اور ان کےحقوق مردو ں کے حقوق کے برابر نہیں ہوسکتے ۔ اگر اس غلط اور ناپاک اصول کو مرد صرف اپنے متعصب اور خود پسندی کا نتیجہ سمجھتے اور اس کی تائید میں کسی دلیل کے لانے کا دعویٰ نہ کرتے تو بھی ہم کو صبر آتا۔ لیکن ظلم تو یہ ہے کہ اس جھوٹے دعوے کو انصاف پر مبنی اور عقلی دلائل سے موید اور مرضی الہٰی کے مطابق جانتے ہیں۔ انہیں خیالات کی غلطی کو کھول دینا اور ان کی بے ہودگی کو ظاہر کردینا ہماری اس تحریر کا موضوع ہے۔

آسانی کی غرض سے ہم اس بحث کو پانچ حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔پہلے حصہ میں ہم ان وجوہات عقلی ونقلی پر نظرکریں گے جو مردوں کی فضیلت کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہیں۔ دوم حصہ میں عورتوں کی تعلیم ، اورسوم حصہ میں پردہ اور چہارم حصہ میں طریق ازدواج اور پنجم حصہ میں معاشرت زوجین سے بحث کریں گے۔

مردو ں کی فضیلت کےثبوت میں جو وجوہات پیش کئے جاتے ہیں جہاں تک ہم کو معلوم ہیں حسب ذیل ہیں۔

(1)        مردوں کو خدا ئے تعالیٰ نے طاقت جسمانی عورتوں سے زیادہ عطا فرمائی ہے اس لئے وہ ان تمام اختیارات پر جن کو قومی الا عضاد سخت جان و جفائش ہونا لازم ہے بالا ولیت استحقاق رکھتے ہیں ۔ اسی واسطے سلطنت بھی جو صریحا زور بازو کا نتیجہ ہے مردوں ہی کا حق ہے۔

(2)       مردوں کےقومی عقلی بھی اپنے قومی جسمانی کے متناسب عورتوں کے قویٰ عقلی سےبہت اعلیٰ و اقویٰ ہیں۔ اسی واسطے عورتیں ہر زمانہ میں اور ہر قوم میں ناقص العقل سمجھی گئی ہیں۔ عورتوں کی زوداعتقادی ۔ نامعاملہ فہمی ۔ کو تاہ اندیشی ۔بے وفائی وغیرہ صفات کی بنیاد اسی نقص عقل پر ہے۔

(3)       جس طرح جمہ نعمت بائے دنیاوی میں سے سلطنت افضل ہے اسی طرح جملہ انعام الہٰی میں سب سے بڑھ کر نبوت ہے۔وہ بھی خدائے تعالیٰ نے مردوں کےساتھ مخصوص کی ہے۔ او رکسی عورت کو دنیا کی ہدایت کے ئے نبی بنا کر نہیں بھیجا ۔

(4)       مذہبا مردوں کی فضیلت میں قرآن مجید کی وہ آیت نقل کی جاتی ہے جس میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے الرجال قوامون علی النسا اور ا سکے یہ معنی سمجھے جاتے ہیں کہ مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔

(5)       ایک اور نقلی ولیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اول حضرت آدم کو پیدا کیا ۔پھر اس کے آرام کے لئے عورت کو پیدا کیا۔ اس لئے عورت کو مرد کا محکوم و خدمت گزار ہوکر رہنا اور اس کے آرام وخوشی کا ذریعہ بننا اور اس کے آرام کواپنے آرام پر مقدم رکھنا اصلی منشا الہٰی معلوم ہوتا ہے۔

(6)       قرآن مجید میں دوعورتوں کی شہادت کو ایک مرد کی شہادت کے برابر قرار دینا او رتقسیم ترکہ میں عورت کا حصہ مرد کے حصہ سے نصف قرار دینا بھی مردوں کی فضیلت کی قطعی دلیل ہے۔

(7)       مردوں کو ایک وقت میں چار عورتوں سے نکاح کی اجازت ہونا اور اس کا عکس جائزنہ ہونا بھی صاف ظاہر کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کو مردوں کی زیادہ مراعات منظور ہے ۔

(8)       عالم آخرت میں بھی مردوں کو نیک اعمال کے بدلے خوبصورت بیبیوں کے ملنے کا و عدہ دیا گیا ہے مگر عورتوں کو نیک اعمال کے بدلے اس قسم کا وعدہ نہیں دیا گیا۔

ان دلائل عقلی وقرآنی کے علاوہ چند اور دلائل بہار دانش کی نجس حکایات سے اخذ کئے گئے ہیں جس کے ذکر سے اگر منشی عنایت اللہ صاحب مصنف کو شرم نہیں آئی ۔مگر ہم اس کے حوالے سےبھی شرم کرتے ہیں ۔ یہ ہیں تمام شواہد و براہین جن  کو چاہئے منطقی کہو چاہے فلسفی ۔چاہئے خیالی اوبام، انہیں دلائل کی بنا پر وہ حکم ناطق صادر کیا گیا ہے جس کے رو سےآدھی دنیا کو ذلیل غلامی میں ڈال کر مردوں کو حلقہ بگوش غلام بلکہ غلام سے بدتر بنایا ہے اور اشرف المخلوقات میں سے احسن التقویم مخلوق کو پاجی سے پاجی مرد کی صرف ناپاک شہوت رانی او رنالائق کجردی او ر بے ٹھکانہ خود پسندی کی اغراض پورا کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

اب ہم ان دلائل پر غور سے نظر کرتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا حقیقت میں یہ دلائل حجت منطقی کا رتبہ رکھتے ہیں یا محض ابلہ فریب اقوال ہیں جو جھوٹے دعویٰ کرنے والوں نے اپنے دل خوش کرنے کو گڑھ لیتے ہیں ۔ جو شخص اپنے تئیں تمدنی اثروں سے خالی الذہن کرکے اور بلا اس امر کے اندیشہ کے جو کچھ میں کہتا ہوں اس پر واقعی مجھ کو عمل کرنا پڑے گا۔ اور اس عمل کا نیتجہ موجود ہ حالت معاشرت کے روسے میرے یا میرے خاندان کے حق میں کیا ہوگا دلائل مذکورہ پر ذرا سابھی غور کرے گا اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ دلائل سراسر پوچ اور بے معنی اقوال ہیں جن کو نہ حجت شرعی کہہ سکتے ہیں نہ برہان منطقی ۔بلکہ عرف عام کے موافق قیاس غالب پیدا کرنے کے لئے بھی مفید نہیں ۔ چہ جائے کہ ان سے قطعیت کا فائدہ مترتب ہو۔(جاری)

بشکریہ روزنانہ صحافت ،ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-1--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-پہلی-قسط/d/2057


 

Loading..

Loading..