New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 04:10 AM

Urdu Section ( 14 Sept 2009, NewAgeIslam.Com)

The Month of Ramadan- A Considerable Aspect رمضان کامہینہ ۔ ایک قابل غور پہلو

مولانا ندیم الواجدی

رمضان کامہینہ کس قدر بابرکت ہے اس کا اندازہ کرنا ہوتو سرکاردوعالم ﷺ کا یہ خطبہ ملا حظہ کیجئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی آخری تاریخ کو ارشاد فرمایا:حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ شعبان کے آخری دن سرکار دوعالم ﷺ منبر پر تشریف لاے اور ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تمہارے اوپر ایک عظیم اوربابرکت مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے،اس مہینے کی ا یک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں قیام کو نفلی عبادت قرار دیا ہے، جو شخص اس مہینے میں نفلی عبادت کے ذریعے تقریب الہٰی کا طلب گار ہوگا تو اس کا رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں کے فرض کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص اس مہینے میں فرض عبادت ادا کرے گا تو اس کا دوسرے دنوں کی ستر فرض عبادتوں کا ثواب ملے گا، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے، یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے ،یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھاد یا جاتا ہے، جو شخص اس مہینے میں کسی کوروزہ رافطار کرائے گا تو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کی مغفرت کا سبب اور دوزخ کی آگ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے ثواب میں کمی کئے بغیر روزے دار کے برابر ثواب دیا جائے گا تو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کے مغفرت کا سبب اور دوزخ کی آگ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے ثواب میں کمی کئے بغیر روزے دار کے برابر ثو اب دیا جائے گا، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص یا تھوڑی سی لسّی سے افطار کرا دے یہ ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدا ئی حصہ رحمت ،درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ دوزخ سے نجات ہے، جوشخص اس مہینے میں اپنے غلام(  ملازم ،خادم) کے کام میں کمی کرے گا  اللہ اس کی مغفرت کرے گا اور اسے دوزخ سے آزادی عطا کرے گا(البیہقی فی شعب الاایمان 3/305، رقم الحدیث :3608،صحیح ابن خزیمہ، 3/191،رقم الحدیث :1887)حدیث لمبی ہے ، ہم نے یہاں مختصر اً نقل کی ہے، یہ ایک جامع خطبہ ہے اور اس میں گویا رمضان کی تمام خصوصیات بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس مہینے میں کئے جانے والے تمام اعمال کا خلاصہ آگیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ جہاں رمضان کے روزوں کی فضیلت کا معاملہ ہے ہر مسلمان اس سے اچھی طرح واقف ہے ،لیکن اس حدیث میں رمضان کی کچھ اور خصوصیتوں پر بھی روشیا ڈالی گئی ہے،سب سے پہلے تو اس مہینے کو رمضان کا مہینہ کہہ کر اس کی عبادتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کس طرح کی عبادتوں پر کس طرح کا اجر ہے ،پھر اسے ماہ صبر قرار دیا گیا ہے، صبر صرف یہی نہیں ہے کہ انسان بھوک پیاس کے باوجود کھانے پینے سے رکا رہے بلکہ صبر یہ بھی ہے کہ دوسروں کی اذیتوں کو خندہ پیشنانی سے برداشت کرے، طبیعت  کے تقاضے کے باوجود کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے کسی کو تکلیف ہو، کان ، آنکھ ، زبان تمام اعضا کو ایسے کاموں سے روکے جن میں اگرچہ بڑا مزہ ہے، بڑی لذت ہے مگر وہ اللہ کو پسند نہیں ہیں،یہی صبر ہے اور اسی پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس مہینے کو ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے اس میں مومن کے رزق میں برکت بھی دے دی جاتی ہے، حدیث شریف میں مواسلات کا لفظ استعمال کیا گیا ہےجس کے معنی ہیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم دردی سے پیش آنا اور ایک دوسرے کی غم خواری کرنا، ہم مواسلات کس طرح کریں ،مذکورہ بالا حدیث میں اس کی دومثالیں اور دوکیفیتیں بھی بیان کردی گئی ہیں، ایک تو یہ کہ ہم خودہی روزہ افطار نہ کریں بلکہ ہوسکے تو دوسروں کو بھی افطار کرائیں، اگر گنجائش ہوتو اپنی وسعت اور ہمت کے مطابق جو کچھ ممکن ہوروزہ دار کی ضیافت کے لیے پیش کردیں اور گنجائش نہ ہوتو کھجورسے ہی افطار کرادیں، اس کی ہمت نہ تو لسّی کے چند گھونٹ ہی پلادیں ،یہ بھی ممکن نہ تو پانی سے افطار کرادیں،حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خود تو طرح طرح کی نعمتوں سے رزہ افطار کریں اور جو لوگ ضرورت مند ہیں ان کو ایک کھجور کھلا کر اور ایک گلاس پانی پلا کر یہ سوچیں کہ ہم نے روزہ افطار کرا کے بڑا ثواب کما لیا ہے، دورسرا سبق یہ دیا گیا ہے کہ اپنے ماتحتوں سے ملازموں اور نوکروں سے عام دنوں کے مقابلے میں کام کم لیں۔ آخروہ بھی روزے ہیں ، روزے سے ہیں، روزے کی حالت میں ہمتیں جواب دے جاتی ہیں، بھوک پیاس کے احساس کے ساتھ کام سے طبیعت اچاٹ ہوجاتی ہے، اگر ان کے ساتھ ہمدردی کی جائے اور ان کی مفوضہ ذمہ دار یوں میں تخفیف کردی جائے تو یہ بڑے اجرو ثواب کا کام ہے۔ مومن کے رزق میں اضافے کی مصلحت بھی یہی ہوسکتی ہے کہ وہ خود بھی کھائے اپنے اہل وعیال کے لیے بھی دستر خوان کو وسعت دے اورضرورت مندرشتہ داروں ،دوستوں اور پڑوسیوں کا بھی خیال رکھے، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آچکا ہے تو اس کے لئے نیت پہلے ہی سے درست کرلو اور اس مہینے میں ( اپنے اور اپنے اہل وعیال کے) نان نفقے میں فراخی کرو( کنز العمال :8/466، رقم الحدیث :23689)ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رمضان کے مہینے میں نان نفقے کے متعلق وسعت سے کام لو کیوں کہ اس مہینے میں (اپنےاور اہل وعیال پر) خرچ کرنا ایسا ہے جیسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔( الجامع الصغیر)۔

رمضان کو مواسات ،ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ قرار دینا اپنے آپ میں ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ روایات میں ہے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں قیدیوں کو چھوڑ دیا کرتے تھے اور ہر مانگنے والے کو دیا کرتے تھے (بیہقی شعب الایمان) حضرت عبداللہ  ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تھے تو آپ زیادہ سخی اور فیاض ہوجاتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی اور  خیر کے کاموں میں تیز ہوا سے بھی زیادہ فیاضی اور سخاوت فرماتے تھے۔(بخاری :1/6،مسلم :4/1803،رقم الحدیث :2308)

ہم میں سے بہت سے لوگ رمضان کے اس پہلو سے واقف ہی نہیں ہیں کہ یہ ہمدردی کا مہینہ ہے، ہم روزے بھی رکھتے ہیں ، نماز یں بھی پڑھتے ہیں ، تراویح کی نماز بھی مستعدی کے ساتھ ادا کرتے ہیں ، قرآن کریم کی تلاوت بھی کرتے ہیں ، لیکن اس مہینے کا جو پیغام ہے اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ، یقیناً یہ تمام کام اجر وثواب کے ہیں اور ایک ایک عمل پر ہمیں ستر ستر گنا ثواب ملنے والا ہے، لیکن یہ ثواب تو صرف ہمیں ملے گا، ہمارے ذریعہ دورسروں کو اس ماہ مبارک میں کتنا فائدہ پہنچا ہم نے رمضان کی مقدس ساعتوں میں کبھی اس سوال پر غور نہیں کیا؟ا س مہینے میں اللہ کی رحمتوں کی وجہ سے اور عبادتوں کے تسلسل کے باعث ہمارے دلوں میں نرمی پیدا ہوجاتی ہے ، طبیعت خیر کے کاموں کی طرف مائل ہونے لگتی ہے، ہمیں اپنے دلوں کی اس نرمی اور خیر کی طرف طبیعتوں کے اس میلان سے اس ماہ مقدس میں پورا فائدہ اٹھانا چاہئے ،اور فائدہ اٹھانے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں ،ہمارے عزیز واقارب میں اپنے حلقۂ تعارف میں اور پاس پڑوس کے مکانوں میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی کم آمدنی کے باعث اس مہینے کی ظاہر ی نعمتوں سے مستفید نہیں ہوسکتے ، کیا یہ اچھا لگتا ہے کہ ہمارے دستر خوان پر طرح طرح کی نعمتیں سجی ہوئی ہوں اور انواع اقسام کے کھانے رکھے ہوئے ہوں او رہمارے قریب کے کچھ لوگ نانِ جویں کو بھی محتاج ہوں یا روکھا سوکھا کھاکر پیٹ بھررہے ہوں، عید سر پر ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ عید کی مسرتوں میں ان لوگوں کو بھی شریک کرلیں جو اپنی تنگ دستی کے سبب اس دن میں روز کی طرح نظر آنے والے ہیں ، ماہ رمضان کو ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ بلاوجہ قرار نہیں دیا گیا، اس میں صاحب حیثیت مسلمانوں کے لئے ایک پیغام ہے کہ ضرورت مند انسانیت کے ساتھ ہمدردی اور غمخواری بھی اس ماہِ رمضان کی ایسی ہی عبادت ہے جس پر ستر گنا اجروثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ کیا ہم یہ ثواب کمانے کے لئے تیار ہیں؟

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/the-month-of-ramadan--a-considerable-aspect---رمضان-کامہینہ-۔-ایک-قابل-غور-پہلو/d/1715



Loading..

Loading..