New Age Islam
Fri May 07 2021, 10:13 PM

Urdu Section ( 30 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslims Need To Reflect Why So Many Millions of Us Are Leaving Islam for Christianity مسلمانوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے کیوں ہم میں سے لاکھوں افراد اسلام چھوڑ کر عیسائیت اپنا رہے ہیں یا خود کو سابق مسلمان بتا رہے ہیں

 

مندرجہ ذیل مضمون میں ، مصنف شکیل رشید بڑے پیمانے پر    کشمیر میں   مسلمانوں کے عیسائی مذہب قبول کرنے  پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔   20ہزار مسلمانوں نے پہلے ہی اپنا عقیدہ تبدیل کر لیا ہے، اگرچہ بہت سے اپنے مسلمان ناموں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔  وہ اس کے لئے عیسائی مبلغین  کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، جیسا کہ دنیا بھر کے مسلمان  ان پر غیر اخلاقی  تراکیب کا استعمال کرنے،  پریشان حال مسلمانوں کے حالات کا  فائدہ اٹھا کر  انہیں  عیسائی بنانے کا الزام لگاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ شاید اس  حقیقت سے نا واقف ہیں کہ بڑی تعداد میں اسلام  مذہب کو ترک کرنے والے مسلمان ضروری نہیں کہ عیسائیت کو ہی قبول کر رہے ہوں، لیکن وہ سابق مسلمان  بن رہے ہیں اور یہ ایک عالمی رجحان ہے۔

افریقہ میں اس رجحان کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے لیبیا کے ایک ممتاز اسلامی اسکالر  شیخ احمد القتّانی نے  الجزیرہ کو  حال ہی میں بتایا کہ: " جیسا کہ آپ نے پہلے ذکر کیا تھا کہ اسلام افریقہ کے اہم مذہب  کی طرح نمائندگی کرتا تھا،  اورافریقہ میں 30 ایسی زبانیں ہیں جو عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ افریقہ میں مسلمانوں کی تعداد 316 ملین سے کم ہے، جن میں سے نصف  شمالی افریقہ کے عرب ہیں۔ تو افریقہ کے جس غیر عرب  خطہ  کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں، وہاں مسلمانوں کی تعدادی 150 ملین سے زیادہ نہیں ہے۔"

لیبیا  کے شیخ مزید بتاتے ہیں: "جب ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ افریقہ کی پوری آبادی ایک ارب ہے، تو ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد گزشتہ صدی کے آغاز کے وقت جتنی تھی اس کے  مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد آج بہت کم ہے۔ دوسری طرف کیتھولک عیسائیوں کی تعداد  1902 ء میں دس لاکھ سے آج   29,882,000 3  ہو گئی ہے۔ اگر اسے محدب بنا دیں تو  سال 2000 میں یہ تعداد  330 ملین پہنچ جاتی ہے. ... اب 1.5 ملین گرجا گھر ہیں جن کے  اجتماعات میں 46 ملین افراد جمع ہوتے ہیں۔  ہر گھنٹے میں، 667 مسلمان،  عیسائیت قبول کرتے ہیں۔  ہر دن 16ہزارمسلمان عیسائیت قبول کر رہے ہیں۔  ہر سال 6 ملین  مسلمان عیسائیت کو قبول کر رہے ہیں۔"

کشمیر کے باندی پورہ علاقے کے ایک بڑے مدرسے کے ناظم  "مولانا محمد رحمت اللہ میر قاسمی  نے کشمیر گھاٹی میں  عیسائیت کے پھیلائو کی  جو کہانیاں  جناب راشد کو سنائی اس نے مصنف کو  حیران کر دیا۔ ان کی رپورٹ کے مطابق  "مولانا"،  کشمیر کے عیسائی مبلغین کے خلاف اکیلےجنگ لڑ رہے ہیں۔

لیکن کشمیر یا کہیں اور کے مسلمانوں کے درمیان خود احتسابی  کا  معمولی  اشارہ بھی نہیں ہے کہ آخر  کیوں مسلمان بڑی تعداد میں   اسلام چھوڑ کر جا رہے ہیں۔  زیادہ تر مسلمان مغرب کے  اسلام حراسی پھیلانے والے میڈیا کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹ پر خوش ہیں کہ ،   "اسلام دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔" کچھ ملکوں میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہوگا اور یہ  امیگریشن اور ہماری غربت اور ناخواندگی کو مستقل کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر افزائش نسل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔  تاہم، مغربی ممالک کے اسلام ہراسی پھیلانے والوں (Islamophobes)  کا اپنا ایجنڈا ، اسلام کے خوف کو پھیلانا ہے۔ لیکن مسلمانوں اور خاص طور پر ہمارا میڈیا اس جھوٹ کو گلے لگائے ہوئے ہے اور اسے  ہزاروں بار دہرا رہی ہے اور اس طرح اسلام کے خوف پھیلانے والے جھوٹ کو مزید پھیلا رہے ہیں۔

 یہ  وقت ہے کہ  ہم اس پر سنجیدگی سے غور کریں کہ واقعی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔  کیوں مسلمانوں ہر جگہ، نہ صرف کشمیر یا افریقہ میں، بڑی تعداد میں اسلام چھوڑ کر جا رہے ہیں اگر اسلام کو اس  دنیا میں  برقرار رہنا ہے تو یہ  وہ اہم سوال ہے جس پر  ہمارے ذہنوں کو متوجہہ ہونا چاہئے۔ ایک اور سوال جسے ہماری توجہہ  کی ضرورت ہے:  کیا  دنیا یا اللہ پر اس سے کوئی فرق پڑتا ہے  اگر اس دنیا میں  مسلمانوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔   بطور انسانیت کیا ہمیں پریشان ہونے کی کوئی وجہ ہے؟   تمام تفصیلات  سے  مسلمان دیگر مذہبی  طبقات  کے جیسے ہی  برے  یا اچھے ہیں۔  اگرانسانی رویے کے کئی سماجی امور یا اتنا ہی  تقوی کے اجزاء  جسے خدا نے ہمارے لئے مقرر کیا ہے، اس کے مطابق انصاف کریں تو  ہم اس سے بد تر بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔  خدا نے وعدہ کیا ہے کہ اگر مسلمان اپنے میثاق کو برقرار رکھنے میں  ناکام ہوتے ہیں تو  وہ مسلمانوں کو تباہ کر  زمین پر ایک بہتر  طبقے کو پیدا فرمائیں گے، اس لئے  بطور انسان ہمیں کیوں فکر کرنی چاہئے؟--- سلطان شاہین ،  ایڈیٹر،  نیو  ایج   اسلام      

 

-----------------------

کشمیری مسلمان بن رہے ہیں عیسائی

شکیل رشید

11  جولائی ، 2012   

سرور خان جموں وکشمیر کے پونچھ علاقہ کا رہنے والا ہے۔ اس کے عیسائی بننے کی وجہ صرف اتنی ہے کہ اُسے یہ احساس بڑی شدت سے ہونے لگا تھا کہ مسلمان دوسرے مسلمان کی مدد نہیں کرتے۔  وہ جب دیکھتا کہ کشمیر کے غریب مسلمانوں کا    نہ کوئی مسلم لیڈر پرسان حال ہے او رنہ ہی کوئی امیر مسلم پڑوسی تو اس کا غصہ شدید ہوجاتا ۔ ایک دن ا س کی ملاقات ایک عیسائی مبلغ سے ہوگئی جس نے اس سے ہمدردی کے چند کلمات کہے’ اس کی کچھ مدد کی اور پھر دونوں میں روزانہ ہی ملاقاتیں ہونے لگیں اور ایک دن سرورخان نے عیسائی مذہب اختیار کرلیا۔

زیب النساء (تبدیلی شدہ نام ) ایک غریب بیوہ ہے۔ انتہا پسندوں کے ہاتھوں شوہر کی ہلاکت کے بعد اس کا سہارا ایک بیٹا تھا لیکن ایک دن وہ بھی مارا گیا۔ کشمیر کی یہ بیوہ اپنے واحد سہارے سے بھی محروم ہوگئی۔  اس کی کسی جانب سے  کوئی مدد نہیں کی گئی۔  نہ اس کے مسلمان پڑوسیوں نے اس کی خیر خیریت لی اور نہ ہی  کشمیر کے اُن مسلم لیڈروں نےجن کی نظروں میں ‘دین اسلام ’ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں  ہے۔ وہ غریب بیوہ ایک عیسائی مبلغ کے ہاتھ چڑھ گئی ، جس نے اس کی مالی مدد بھی کی اور طبی مدد بھی  اور پھر اس نے بھی عیسائی مذہب قبول کرلیا ۔  سرورخان اور زیب النساء یہ صرف دو انسان ہی نہیں ہیں جنہوں نے مذہب اسلام ترک کر کے عیسائی مذہب اپنایا ہےایک معمولی اندازہ کے مطابق 1990میں وادی کشمیر میں انتہا پسندی کے آغاز کے بعد سے اب تک کوئی 20ہزار کشمیریوں نے عیسائی مذہب اختیار کیا ہے۔ عیسائیوں کے تبلیغی رسالے ‘کرسچنیٹی ٹوڈے’ نے 2006میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اب تک کشمیر میں 15ہزار لوگ قبول عیسائیت کرچکے ہیں، بعد کے چھ برسوں میں اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

 کل ہندمسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبئی  اجلاس کے دوران اتفاق سےمیری ملاقات مولانا محمد رحمت اللہ میر قاسمی سے ہوگئی۔ مولانا موصوف کشمیر کے بانڈی پورہ علاقہ میں واقع ایک بڑے مدرسہ دارالعلوم رحیمیہ کے ناظم ہیں۔ مولانا محمد رحمت اللہ میر قاسمی وادی کشمیر میں سرگرم عیسائی مبلغین کے خلاف علم بلند کئے ہوئے ہیں ۔  انہوں نے کشمیر میں عیسائیت کے پھیلاؤ کی جو کہانیاں سنائیں وہ بے حد تشویش ناک ہیں اورالمناک بھی.... گذشتہ سال سری نگر میں ایک ایسی سی ڈی جاری کی گئی تھی جِسے دیکھ کر وادی کے مسلمان غم وغصے میں بھر گئے تھے۔  سی ڈی سری نگر کے ایک حساس او رانتہائی محفوظ علاقہ میں واقع ایک چرچ کے اندر کی تھی۔  سی ڈی کی عکس بندی رمضان المبارک کے دنوں میں کی گئی تھی، عیسائی بنانے کی رسم ‘بپتسمہ’ کا منظر تھا ، ایک ایک کر کے مسلم نوجوان آتے ہیں او رپانی کے ایک چھوٹے سے حوض میں ڈبکی لگاتے ہیں اور عیسائی راہب کے سامنے عہد  لیتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے راستے ( جو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد منسوخ ہوچکا ہے) پر چلیں گے۔ سی ڈی میں مرد بھی دکھائے گئے ہیں اور عورتیں بھی، ان کے ہاتھوں میں جھنڈے ہیں جن میں سبز جھنڈا بھی ہے ،بپتسمہ کی رسم کی تکمیل کے بعد عیسائی مبلغ دعا کرتا ہے کہ ‘‘وادی کشمیر میں روز بروز مضبوطی کے ساتھ خداوند کے حفاظت میں تیری (خداوند کی) بادشاہت یعنی عیسائیت بڑھتی چلی جائے’’۔

مذکورہ سی ڈی ..... جِسے راقم دیکھ چکا ہے... میں پادری بپتسمہ دیتے وقت اُن نوجوانوں کو جو عیسائی مذہب قبول کررہے ہیں ان کے اسلامی ناموں محمد یوسف، ایوب، ریاض احمد، ادریس اور بشیر وغیرہ سے پکارتا ہے اور عقیدہ ٔ          تثلیث کے مطابق ‘‘خداباپ’’ خدا بیٹا’ خدا روح القدس’’ کے نام پر بپتسمہ دینے کے الفاظ ادا کرکے انہیں پانی میں ڈبکی لگواتا ہے .... مذکورہ سی ڈی کے حوالے سے مولانا محمد رحمت اللہ میر قاسمی بتاتے ہیں کہ ‘‘جب تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ جن لڑکوں نے بپتسمہ لیا ہے ان لڑکوں کی ایک تنظیم ہے جس کا نام ‘خدمت خلق اللہ سوسائٹی ’ ہےظاہر سی بات ہے کہ کون شک کرسکتا ہے کہ اس عربی اسلامی نام سے عیسائیوں کی کوئی مشنری بھی سرگرم ہوسکتی ہے’’!۔ لیکن کشمیر میں ایسی بے شمار مشنریاں اور چرچ سرگرم ہیں جن کے نام بظاہر عربی اسلامی ہیں مگر بباطن یہ مسلمانوں کو عیسائی بنانے کا’ کام کرتے ہیں۔ مثلاً نورِ حیات چرچ’’ البشر فیلو شپ ’ ‘المجلس جماعت فیلو شپ ’ وغیرہ ۔

کشمیر میں تبدیلی مذہب کی یہ مہم منصوبہ بند انداز میں کی جارہی ہے۔ امریکہ، جرمنی’ نیدر لینڈ، سوئزر لینڈ اور کوریا کے مشنری  ساری وادی میں دند ناتے پھر رہے ہیں ۔  ان کے کام کا انداز بے حد منظّم ہے۔ یہ مختلف گروپوں میں تقسیم مختلف میدانوں میں سرگرم ہیں۔ مثلا ً کیمپس کروشیڈ ٹو کرائسٹ ، نامی مشنریوں یعنی عیسائی مبلغوں کا ایک گروپ جنوبی کشمیر میں سرگرم ہے اور یہ صرف طلباء میں کام کرتا ہے ۔ ‘فرنٹئر س ، نامی ایک گروپ ہے جو کشمیری گجربرادری میں عیسائیت کی تبلیغ کرتا ہے۔‘جرمن  ٹاؤن باپٹسٹ ٹرسٹ ، نامی گروپ غریب دیہاتیوں کو ورغلا تا ہے۔ ‘آپریشن گیپ’ نامی ایک گروپ ہے جو ان انتہا پسندوں میں کام کرتاہے جنہوں نے یا تو خود سپردگی کردی ہے یاجیلوں سے آزاد ہوگئے ہیں۔  دیہاتیوں میں سرگرم ایک گروپ ہے جس کا نام ہے ‘اسمبلیز آف گاڈ’۔ اسی طرح ‘البشرمشن’ اور ‘گاسپل آف ایشیاء نامی دو گروپ سرحدی علاقوں میں کام کرتے ہیں ۔ یہ چند گروپ ہیں لیکن ایسے ہی  دوسرے سینکڑوں مشنری گروپ اِن دنوں وادی کشمیر کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ ان کی آمد 1990میں انتہا پسند ی کے آغاز سے شروع ہوئی ہے۔  یہ سرینگر ، پلوامہ ، بڈ گام’ بارہ مولہ’ کپواڑہ، گندر بال’ کنگن اور دور دراز کے علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ کشمیر ی مسلمان عیسائی مشنریوں کی ‘تبد یلی مذہب ’ کوششوں سے ناواقف ہیں۔ اور اس پر غم و غصے کا اظہار وقفہ وقفہ سے ہوتا بھی رہتا ہے۔  15 ستمبر 2006کو پلوامہ میں مشتعل افراد نے ایک عیسائی اسکول پرحملہ بھی کیا تھا۔ یہی  نہیں 2005میں کشمیر میں آئے زلزلہ کے بعد امدادی او رفلاحی ادارے زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے کشمیر پہنچے تھے تب اس شکایت کے بعد کہ روپئے پیسے  کا لالچ دے کر لوگوں کا مذہب تبدیلی کیا جارہا ہے انتظامیہ نے عیسائی مشنریوں پر پابندی بھی لگادی تھی، اس کے باوجود عیسائی مشنریاں سرگرم ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاستی حکومت او ر خود مسلم لیڈروں کی طرف سے، آج تک یہ آواز نہیں اٹھی  ہے کہ عیسائی مشنریوں کو کشمیر بدر کیا جائے۔ حالانکہ تبدیلی مذہب کی ان کوششوں کے خلاف آواز اٹھتی  رہتی ہے۔

مولانا محمد رحمت اللہ میر قاسمی بتاتےہیں کہ ‘‘کوئی شعبہ زندگی ایسا نہیں ہے ’ اِلا ماشاء اللہ جہاں عیسائیوں اور ان کی مشنریوں نے اپنے زہریلے اثرات ،سکون، مرہم’ امداد، سہارا، تعلیم، خدمت ،ترقی ، باز آبادکاری ، معاونت ،بھائی چارگی ، علاج، صنعت و حرفت کے حسین ناموں سے نہ پہنچائے ہوں’’۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ‘‘بعض پادریوں نے تو یتیم خانوں، اسکولوں یا ہوسٹلوں کے اندر یتیم او رمسکین بچوں کو کم عمری میں جبکہ وہ ساتویں یا دسویں جماعت کے طالب علم رہے، ان کے انجانے میں ہی بپتسمہ دے دیا، حالانکہ وہ بچے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ بپتسمہ ہوتا کیا ہے اور اس سے ایمان پر کیا اثر پڑے گا’ یہ بچے بالغ ہونے پر سمجھ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کیسا ظلم ہوا ہے۔’’

وادی میں  عیسائیت کو اپنانے کے کیا اسباب ہیں؟  اس تعلق سے مولانا محمد رحمت اللہ میر قاسمی نے اپنے ایک کتابچے ‘‘کشمیر میں ارتد اد کا حادثہ’’ میں جو تفصیلات تحریر کی ہیں وہ آنکھیں کھولنے والی ہیں۔ وہ ایک جگہ تحریر کرتے ہیں کہ ‘‘اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ساری صورتحال ہم مسلمانوں کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہے ’لوگوں کا تاثر یہ ہے کہ لوگ صرف پیسوں کی وجہ سے مذہب بدلتے ہیں جبکہ معاملہ صرف یہی نہیں ہے، سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اسلام سے وابستگی روز بروز کم ہوتی جارہی ہے، اللہ پاک کی محبت ،اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق’ آخرت کا تصور اور اسلامی شعائر کی عظمت میں کمی واقع ہوتی جارہی ہےجس کا نا جائز فائدہ غیر اسلامی سرگرمیوں میں مشغول عیسائی مبلغین ، پادری ، ان کے معاونین ، ان کی قائم کردہ این جی اوز اور دیگر جماعتیں اٹھارہی ہیں ، مسلمان داعی تھے لیکن افسوس کہ مدعو ہوگئے ہیں’’۔

کشمیر میں عیسائیت کی تبلیغ میں سب سے بڑا کردار مشنری اسکول ادا کررہے ہیں ۔ یہ اسکول دو طرح کے ہیں ، ایک تو عیسائی مشنریوں کی طرف سے قائم شدہ اسکول جِن میں بارہ مولہ کے سینٹ جو زف سیکنڈری  اسکول کے علاوہ سرینگر کا برن پال سیکنڈ ری اسکول، کا نوینٹ اسکول، بسِکو اسکول اور میلنسن اسکول شامل ہیں نیز وہ اسکول جو سیدھے مشنریوں کی نگرانی میں چل رہے ہیں جیسے کہ گڈ شیفڈ سونہ وار، گڈ شیفڈ اسکول پلوامہ ، کشمیر ویلی اسکول ائر پورٹ اور سینٹ پال اسکول سونہ وار وغیرہ ۔ دوسرے وہ اسکول ہیں جو باضابطہ مشنری اسکول نہیں ہیں مگر وہاں سرگرمیاں مشنری اسکولوں والی  ہی جارہی ہیں۔مثلاً عیسائی دعا جو بائبل کی عبارت ہوتی ہے، کر اس یا صلیب کا نشان، ۔ ظاہر ہے جب بچے بائبل کی دعا پڑھیں گے اور دن بھر اس کے نشان کو دیکھیں گےتو ان کے دل و دماغ متاثر ہونگے۔ ان اسکولوں میں چرچ بھی ہوتے ہیں جن میں مریم کے مجسمے لگے ہیں او ر صلیب جڑی ہوتی ہے۔ بچوں کو باقاعدہ اسکول کے چرچوں میں جانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔عیسائی مبلغ کہتے ہیں کہ امتحان کے دنوں میں وہاں جاکر کامیابی کی دعا مانگیں ! بچوں کے ناپختہ ذہنوں پر یہ چیزیں بری طرح سے اثر انداز ہوتی ہے اور اُن کا اپنے دین اور مذہب سے رشتہ کٹتا چلا جاتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تعلیم، صحت او رامداد کے نام پر دھوکہ بازی سے کام لیا جاتا ہے ۔ عیسائیت کی اس تبلیغ کو ‘‘ دھوکہ بازی کی تبلیغ’’ بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ دھوکہ بازی کی تبلیغ میڈیکل کیمپوں ،تعلیمی  اداروں اور سلائی سینٹروں میں زوروں پر جاری ہے۔

کشمیر کے جو حالات ہیں بے حد تشویش ناک ہیں ، ایک پوری نسل ارتداد کی زد میں ہے۔  سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہئے؟ مولانا محمد رحمت اللہ میر قاسمی کا کہنا ہے کہ اس کے بس یہ طریقہ ہیں کہ علمائے کرام او رمشائخ عظام اور مدارس اسلامیہ نیز دینی جماعتیں اسلامی ماحول بنائیں ، اسلامی اداروں کا جگہ جگہ قیام کریں اور اپنے فلاحی اداروں کو سرگرم کریں، والدین ایسے اسکولوں کا انتخاب کریں جہاں تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ بچوں کا ایمان بھی سلامت رہے  ، اسکولی بچوں کو دینیات اور قرآن پاک کی تعلیم ضروردی  جائے ، مالدار مسلمان اپنے عصری تعلیمی ادارے قائم کریں، مسلمان اپنے پڑوسیوں ، اجنبیوں اور رشتے داروں کا خیال رکھیں، لوگوں کی امداد کریں اور حق تلفی نہ کریں۔ اگر ذراسی  محنت کرلی جائے تو اللہ کی نصرت اور مدد ساتھ ہوگی ورنہ کشمیر آئندہ ‘مرتدوں کی سرزمین، کہلائے گی۔

11  جولائی ، 2012    بشکریہ : ہمارا سماج  ، نئی دہلی 

URL for English article:

http://www.newageislam.com/muslims-and-islamophobia/by-shakeel-rasheed,-tr.-new-age-islam/muslims-need-to-reflect-why-so-many-millions-of-us-are-leaving-islam-for-christianity-or-simply-calling-ourselves-ex-muslim/d/8089

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-need-to-reflect-why-so-many-millions-of-us-are-leaving-islam-for-christianity--مسلمانوں-کو-غور-کرنے-کی-ضرورت-ہے-کیوں-ہم-میں-سے-لاکھوں-افراد-اسلام-چھوڑ-کر-عیسائیت-اپنا-رہے-ہیں-یا-خود-کو-سابق-مسلمان-بتا-رہے-ہیں/d/8105

 

Loading..

Loading..