New Age Islam
Mon Mar 04 2024, 12:56 AM

Urdu Section ( 25 Nov 2010, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Distinction Between Permissible (Halal) And Forbidden (Haram) In Europeیورپ میں حلال حرام کی تمیز

By Mosarrat Jabeen

(Translated from Urdu by New Age Islam Edit Desk)

It is said that money is the greatest teacher. In other words, economic concerns or the concern for bread and butter overshadows all other concerns.  There was a time when Muslims migrating to Europe had to restrict themselves to fish and chips due to their preoccupation with what is halal and what is haram. Even then there was always the apprehension about the oil, ghee or fat being used for frying. Later, as their population increased they made things easier for themselves and gradually became self-dependent. However, while dining in hotels and restaurants, the worry always haunted them as barring purely Asian areas, there were few places where the distinction between halal and haram was made.  God bless the people with business acumen who started making the distinction between halal and haram considering the growing market of the Muslims promising good business.

Recently a food chain in the suburbs of Paris has declared itself fully halal. Before that a famous burger chain had already announced the supply of halal burger. Not only that, they have also put up certificates on the walls of these chain stores stating ‘Beef of halal cows are used here’. Surprising is the fact that this is all happening in a country where the Parliament has passed a law against the hijab (The law was being debated during that time). Not only that, an American company famous for chicken has also claimed that they have been supplying only halal chicken for the last few years. But the issue being discussed was burger and beef. The arrangement was made because out of a population of 63millions in France, Muslim population is 5 million. And the number of people consuming halal food is increasing by 15% every year. It is obvious that the businessmen will give importance to the things in great demand or giving great business.

This makes one thing clearer. Our perception that the Jews, Christians and followers of other religions are our enemies and want to obliterate us does not hold much water. The question is only of one’s survival and interests. As a European Charlemagne has expressed his apprehension that the speed with which the Muslim population was increasing in Europe and America, they would be in majority in near future and the native population would become the minority. His thinking and apprehension might be true in the sense that other communities insist on birth control  in order to be ahead in the race for  progress but perhaps Muslims consider population growth their sole source of strength.  Even during the devastating floods recently, one must have observed that with every group of four or five adults there were at least fifteen children.  This must be the case in Europe, America and other countries as well. However, where economic and financial benefits are at stake, religion and country assume secondary status. Only developed nations can realize this point. That is why they do not allow these two factors to govern their interests. The ban on hijab did not harm their economic interests but everything is fine where money and business is concerned. Here the issue was only halal meat which is good for health in every respect.

Source: Jang, Karachi



مسرت جبیں

کہتے ہیں پیسہ سب سے بڑا استاد ہے ، یا یوں سمجھئے کہ معاشی سوجھ بوجھ ی روٹی روزی کی فکر ، دوسری ہر چیز پر حاوی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ یورپ اور امریکہ جانے والے مسلمان حلال اور حرام کی فکر میں خود کو صرف فش اینڈ چپس تک محدود رکھنے پر مجبور تھے۔ اس میں بھی ضمیر کو کچو کا لگاتا ہی رہتا تھا کہ پتہ نہیں تلنے کے لئے کیسا گھی،کون سا تیل یا چربی استعمال کی گئی ہو؟ ۔ پھر ہوتے ہوتے جوں جوں ان کی تعداد بڑھی انہوں نے اپنے لئے آسانیاں پیدا کرلیں۔ یعنی خود کفیل ہوتے گئے ۔ لیکن ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کھانہ کھاتے ہوئے یہ فکر پھر بھی دامن گیر رہتی تھی۔ کیو نکہ خالص ایشیائی علاقے چھوڑ کر بہت کم جگہیں ایسی تھیں جہاں حلال وحرام کی تخصیص کی جاتی تھی ۔لیکن خدا بھلا کرے بزنس کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کا جنہوں نے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ دیکھ کر اور اس سے وابستہ کا روباری ترقی کا سوچ کر حلال اور حرام کی تخصیص کو واضح کرنا شروع کردیا ہے۔

ابھی پچھلے دنوں ہی پیرس کے مضافات میں ایک فاسٹ فوڈ چین (Fast food chain) نے خودکو مکمل طور پر حلال ،ڈکلیر کردیا ہے۔ اس سے پہلے ایک بڑی مشہور برگرچین نے بھی حلال برگر سپلائی کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ سرٹیفیکٹ بھی ان چین اسٹورز کی دیواروں پر چسپا ہوتا ہے کہ ‘‘یہا ں حلال طریقے سے ذبح  کی گئی گائیوں کی بیف استعمال کیا جاتا ہے’’۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سب کچھ اس ملک میں ہورہا ہے جس کی پارلیمنٹ اسلامی حجاب کے خلاف قانون پاس کرچکی ہے(اس وقت یہ قانون ابھی زیر بحث تھا)یہی نہیں بلکہ چکن کی دنیا میں شہرت رکھنے والی ایک امریکی چین نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ پچھلے کئی سالوں سے صرف حلال چکن ہی سپلائی کررہے ہیں۔ لیکن یہاں بات برگر اور بیف کی ہورہی تھی۔ اور یہ اقدام صرف اس لئے کیا گیا ہے کہ فرانس کی چھ کروڑ تیس لاکھ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد پچاس لاکھ کے قریب ہے۔ اور حلال کھانے والوں کی تعداد ہر سال پندرہ فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ ظاہر ہے جس چیز کی مانگ ہوگی یا جس پر بزنس کا انحصار ہوگا کاروباری لوگ تو اس کا خیال کریں گے ہی۔

اس سے ایک اور بات بھی پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ہم لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ عیسائیوں ،یہودیوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مسلمانوں سے خصوصی بیر ہے اور وہ ان کی ہستی کو ختم کردیناچاہتے ہیں اس میں اتنی بھی سچائی نہیں یہاں مسئلہ صرف اپنی اپنی بقا اور فائدے کا ہے۔ جیسا کہ کچھ دن پہلے ایک یورپی پادری نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد یورپ اور  امریکہ میں روز بروز بڑھتی جارہی ہے کوئی دن جاتا ہے کہ وہ اکثریت میں ہونگے اور مقامی باشندے اقلیت کا درجہ اختیار کرلیں گے۔ ان کی یہ سوچ اور خدشہ اس لحاظ سے درست ہے کہ باقی ساری اقوام تو ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لئے آبادی کو کنٹرول میں رکھنے پر مصرو ف ہیں۔ لیکن خیر سے مسلما ن شاید اپنی تعداد کو ہی اپنی طاقت سمجھ کر بچے پیدا کئے جاتے ہیں۔ اس ہولناک سیلاب کی تباہ کاریوں میں بھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ جہاں چار بڑے لوگ ہوتے تھے وہاں کم از کم پندرہ بیس بچے ان کے ہمراہ ہوتے تھے۔یہی طریقہ یوروپ، امریکہ اور دوسرے ملکوں میں جاری رہتا ہوگا۔ لیکن جہاں معاشی اور تجارتی فائدے کی بات آئے ،وہاں مذہب اور ملک ثانوی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں ۔ یہ بات صرف ترقی یافتہ ملک ہی سمجھ سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے فائدے میں ان دونوں پہلوؤں کو گھسنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ حجاب پر پابندی میں ان کے کسی معاشی پہلو پر زد نہیں پڑتی تھی۔ لیکن جہاں تجارت اور پیسہ آجائے وہاں ہر چیز جائز اور قبول ہے۔ یہاں تو بات صرف حلال گوشت کی تھی جو یوں بھی صحت کے اعتبار سے بھی ہر لحاظ سے بہتر ہے۔

(بشکریہ جنگ ، کراچی)