New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 12:25 AM

Urdu Section ( 2 Oct 2009, NewAgeIslam.Com)

The Development Of Madrasa Islamia—an historical overview مدارس اسلامیہ کی نشوونما کا تاریخی جائزہ


محمود عالم صدیقی

اسلام کے اتبدائی دور میں تعلیمی معاہدہ کےطور پر مسجد ، مکتب، لائبریری ، مجالس العلما اور رحلۃ العلم والمناظرہ کا ذکر ملتا ہے ۔ان میں مسجد کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ حضورؐ نے ہجرت کے بعدعلیم کی نشر واشاعت کے لیے سب سے پہلے جو کام انجام دیا وہ مسجد نبوی کی تعمیر تھی جس میں عبادات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ آپ اپنے اصحاب کو درس میں دیا کرتے تھے ۔آپ کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے صحابہ کرام نے ہر اس شہر اور ملک مسجد یں تعمیر کیں جن میں داخل ہوئے ۔چنانچہ بصرہ کی مسجد 14ہجری میں کوفہ کی مسجد 18ہجری میں اور فسطاط کی مسجد 21ہجری میں تعمیر کی گئیں ۔اس طرح عالم اسلام میں مساجد کی بہتات ہوگئی جنہیں مسلمان عبادات کے علاوہ تعلیمی مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا کرتے تھے۔

مساجد میں مختلف علوم کی تعلیم دی جاتی تھی جن میں علوم عقلیہ کے ساتھ علوم نقلیہ بھی شامل تھے۔ مساجد میں بلا جھجک اشعار پڑھے اور پڑھائے جاتے تھے اور ان پر تنقید وتبصرہ بھی کیا جاتا تھا۔ ایک ایک مسجد میں مختلف علوم کے ماہر اساتذہ وعلماکےدرس کے حلقات ومجالس لگاکرتی تھیں جہاں طلبا حسب میلان مخصوص موضوع کا انتخاب کرتے اور ان موضوع کے ماہر اساتذہ کا تعین کیا کرتے اور جب اس علم میں مہارت حاصل کرلیتے تب دوسرے علم کی طرف راغب ہوتے یا پھر حاصل شدہ علم کی درس وتدریس پر مامور ہوجاتے تھے۔ مکاتب ابتدائی علوم کے لیے مخصوص تھے جہاں قرآن اور دیگر علوم کی بنیادی کتابوں کی تعلیم دی جاتی تھی تاکہ طلبا بڑے ہوکر اپنے ذوق کے مطابق تخصص کا موضوع متعین کرسکیں ۔مجالس العلما اور رحلۃ العلم و المناظر ہ کو وہی اہمیت حاصل تھی جو آج سمینار وسمپوزیم کو حاصل ہے۔ ا ن میں خاص موضوع پر مباحثے کیے جاتے تھے۔

قیام مدارس کے اسباب وعوامل:

یہ سلسلہ عہد نبوی ؐ سے چوتھی صدی کے نصف تک جاری رہا تاکہ سیاسی ودینی اسباب کی وجہ سے مدارس اسلامیہ کے قیام کی تحریک شروع ہوئی ۔کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے مدارس کی تعمیر کا سلسلہ شیعوں نے اپنے مذہب کی تعلیمات کو پھیلانے کی غرض سے محمود غزنوی کے دور میں نیسا پور میں شروع کیا۔ جیسا کہ ڈاکٹر سعاد ماھر محمد اپنی مشہور کتاب‘‘ مساجد مصرواولیا ھا الصالحون’’ میں لکھتے ہیں:

بلا شبہ شیعوں نے سب سے پہلے ثقافتی عمارتیں جو ادارالعلم کے نام سے جانی جاتی تھیں ،تعمیر کیں۔ اسی طرح انہوں نے ہی سب سے پہلے اسے مدرسے کا نام دیا جس کی تعمیر کا بنیادی مقصد شیعہ مذہب کی نشر واشاعت اور درس وتدریس کرنا تھا۔ یہ چوتھی صدی ہجری میں محمود غزنوی کے دور میں ہوا۔اس کے بعد سنیوں نے شیعہ مذہب کو پھیلنے سے روکنے اور معتز لہ کا اثر ورسوخ ختم کرنے کے لئے قیام مدارس کی تحریک چلائی جیسا کہ ڈاکٹر سعادما ھر محمد دوسری جگہ لکھتے ہیں:

یعنی وہ عمارت جو مدرسے کے نام سے جانی جاتی تھی اس کا بنیادی سبب مدرسین اور طلبا کے لئے رہائش گاہ بنانا نہیں تھا بلکہ اس کی تعمیرکے پیچھے مسلکی ،دینی اور سیاسی سبب پوشیدہ تھا۔ ان مدارس کی نشوونما کا مقصد مدارس کی آڑ میں حکومتی مسلک کے مخالف مسلک کو پھیلانا تھا۔ چنانچہ وہ مدارس جو محمود غزنوی کے زمانے میں چوتھی صدی ہجری میں نیسا پور میں تعمیر کیے گئے تھے ان کے قیام کا مقصد شیعہ مذہب کی نشرواشاعت کرنا تھا جو حکومت عباسیہ کے سنی مذہب کے مخالف تھا۔ جب حکومت ایوبیہ فاطمیوں کے بعد قائم ہوئی تو اس نے ان عمارتوں کو جو مدرسہ کے نام سے جانی جاتی تھیں، سنی مذہب کو پھیلانے کا آلہ بنالیا۔ اس طرح انہیں شیعہ مذہب کر ختم کرنے کا ایک آلہ مل گیا۔ چنانچہ حکومت ابوبیہ نے کثرت سے مدارس کی تعمیر کرائی ۔یہاں تک کہ عہد ایوبی میں جو مدارس قائم کئے گئے صرف قاہرہ میں ان کی تعداد چوبیس تک پہنچ چکی تھی۔۲

مدارس کے قیام میں سیاسی عوامل بھی کار فرمارہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب حلافت عباسیہ کمزور ہوئی اور خلیفہ وحکمراں آئے دن تبدیلی ہونے لگے تو حکمراں اپنے نام کی بقا کے لیے مدارس تعمیر کرنےلگے ۔مدرسہ مستنصر یہ اس کی واضح مثال ہے۔ اسی طرح معتزلہ کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کو بھی مدارس کے قیام کی تحریک میں اہم مقام حاصل ہے۔ جیسا کہ پروفیسر ضیا الحسن فاروقی تحریر کرتے ہیں:‘‘دراصل سنی مدرسوں کے قیام کا سلسلہ دسویں صدی عیسویں کے نصف آخر سے شروع ہوگیاتھا، آغاز کار میں تو یہ اس چیلنج کے جواب کے طور پر تھا جسے معتزلی طرز فکر نے پیش کیا تھا ۔لیکن بعد میں مقصد یہ بن گیا کہ ان اداروں کے اثر کو کم کیا جائے جنہیں فاطمیوں نے شیعہ مبلغین کی تعلیم وتربیت کے لیے قائم کیاگیا تھا مثلاً فاطمی سپہ سالار جوہر اور خلیفہ المعز کی تعمیر کرائی ہوئی مسجد ازہر 1005۔395ھ ،خلیفہ الحکیم کا قائم کیا ہوا دارالحکمت اور مختلف دار الدعوۃ یعنی اجتماع وتبلیغ کے مرکز’’۔۳

مدارس اسلامیہ کا آغاز وارتقا:

عام خیال ہے کہ سلجوقی سلطنت کے وزیر نظام الملک طوسی نے پانچویں صدی کے نصف آخر میں سب سے پہلے مدارس قائم کیے ۔لیکن تاریخی شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس سے قبل بھی بہت سارے مدارس عالم اسلام میں پائے جاتے تھے۔ ان مدارس میں مدارس نیسا پور کو اوّلیت حاصل ہے۔ مشہور مؤرخ حاکم نیشا پور ی کا بیان ہے کہ سب سے پہلا مدرسہ وہ ہے جو میرے ہم عصر ابواسحٰق اسفرائینی متوفی 418ہجری کے لیے ، دوسرا ابن فورک کے لیے نیسا پور میں بنایا گیا تھا۔ اول الذکر مدرسہ میں ابو اسحٰق اسفرائینی بذات خود اصول فقہ کی تعلیم دیتے تھے ۔ان کے جانشین ان کے شاگرد مشہور شافعی  عالم بیہقی متوفی 1066م ۔485ہوئے ۔انہوں نے اس مدرسہ میں حدیث وفقہ کادرس شروع کیا۔ جلدہی اس مدرسہ کا نام بیہقیہ پڑگیا ۔آخر الذ کرمدرسہ میں امام ابوبکر ابن فورک متوفی 1014م۔405خود مختلف علوم کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اسی شہر می ابوبکر السبتی متوفی 429نے اہل علم کے لیے اپنے گھر کے سامنے ایک مدرسہ کی تعمیر کی تھی جس کے لیے انہوں نے اپنابہت سارا مال وقف کیا تھا ۔امام ابوبکر البستی کاشمار کبار المدرسین اور بہترین مباظین میں کیا جاتا تھا۔

ان مدارس کے علاوہ سلطان محمود غزنوی نے اپنے دربار یوں کے لیے ایک شاندار مسجد تعمیر کرائی تھی ۔ اس مسجد سے متصل ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا جسے مدرسہ فیحا کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسی طرح سلطان محمود کے بھائی امیر نصر بن سبکتین نے اپنی نیسا پور کی گورنر کے زمانے میں مدرسہ سعدیہ کی تعمیر کی۔ اس کے علاوہ نیساپور میں اور مدارس بھی تھے۔ اس وقت یہ شہر مشرق میں اپنے علمی وتہذیبی ماحول کی وجہ سے اسلامی دنیا میں شہر بغداد کے بعد دوسرا اہم شہر بن گیا تھا(47مسلمانوں کا تعلیمی نظام) یہ مدارس پچاس سال تک اسلام کی خدمات انجام دیتے رہے ۔ تاکہ وزیر طغرل بک کے قتل کے بعد اس مدارس کا وجود ختم ہوگیا۔ اس کے بعد نظام الملک طورسی کے ہاتھ سے قیام مدارس کی تحریک دوبارہ شروع ہوئی ۔۹ ۔انہوں نے بکثرت مدارس کی تعمیر شروع کیں اور اسلام کے ہر مشہور شہر جیسے بغداد ،نیسا پور اور اصفہان وغیرہ میں مدارس قائم کیے ۔جو مدارس نظام الملک نے قائم کیے تھے انہیں مدارس نظامیہ کے نام سےجانا جاتا ہے ۔گرچہ مدارس نظامیہ کو اسلام کے اولین مدارس ہونے کا شرف حاصل نہیں البتہ انہیں حکومت کی کفالت سے چلنے والے تعلیمی اداروں میں اولیت کادرجہ ضرور حاصل ہے۔۴۔                        

اس کے بعد مدارس نظامیہ کے نقش پرہر اسلامی شہر وملک میں مدارس قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں اسلامی مدارس کا ایک جال سا پھیل گیا ۔ ان میں کچھ مدارس شیعہ فرقہ کے قلعے سمجھے جانے لگے تو کچھ سنی فرقہ کے ۔اسی طرح ان میں کوئی حنبلی، مالکی، شافعی اور حنفی مسلک کے محافظ تھے تو کچھ نے امام اشعری اور ماتریدی کے علم الکلام کی نشرواشاعت کر اپنا شیوہ بنالیا تھا جیسا کے گولڈز تشھیر کا بیان ہے:‘‘ ایک عرصہ تک اشعر یوں کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کھلے عام دینیات کی تعلیم دے سکیں ۔آرٹھوڈ کس نظام دینیات میں اشعری عقائد کا باقاعدہ شمار اور سرکاری سطح پر اس کی گیارہویں صدی کے وسط میں اس وقت شروعات ہوئی جب سلجوقی وزیر نظام الملک نے نیشاپور اور بغداد میں اپنے قیام کیے ہوئے مدارس میں اس نئی تھیوری کی درس وتدریس کے لیے مسند یں قائم کیں۔ اس طرز فکر کی ممتا ز شخصیتوں کو مدارس نظامیہ میں نہایت اہم عہدے دیے جاتےتھے رفتہ رفتہ معتزلہ اور حنابلہ کے مقابلے میں اشاعرہ کا اثر بہت بڑھ گیا۔۵۔

فقہ:

یعنی مدارس کے نصاب اور طریقہ تعلیم میں دینی فرقہ کا اور مسلکی اختلافات کا بہت بڑا اثر تھا ۔مزید معتزلہ کے ختم ہونے کے بعد علم کا دائرہ محدود ہونے کی وجہ سے مدارس میں جو تعلیم دی جاتی تھی اسی محدود دائرہ میں رہ کر جو تعلیم دی جاتی تھی اسی محدود دائرہ میں رہ کر دی جاتی تھی جس سے باہر نکلنا گناہ عظیم تھا۔ فقہ میں استفباط کاسلسلہ رک چکا تھا اور علما ومجتھدین نے اپنی راہِ نجات کے لیے اپنے ائمہ کی تقلید کرنا ضروری سمجھ لیا تھا۔ اس سلسلے میں اسی کتابیں تالیف کی جاتیں جو ان مدارس کے نصاب کا حصہ بھی ہوا کرتی تھیں ۔ان میں اپنے ائمہ کے مسلک کا اثبات کرنے کے سوا اور کوئی نئی چیز نہیں ہوتی تھی ۔جیسا کہ احمد امین لکھتے ہیں:

ہم نے فجر الاسلام اور ضحیٰ الاسلام میں زیانہ متقدمہ کے فقہ کی تاریخ کا ذکر کیا یہاں تک کہ ہمارا یہ زمانہ آیا جس میں فقہ میں نئی تبدیلی آگئی اور اس تبدیلی کا سب سے بڑا مظاہرہ اجتہاد کا دوروازہ بند ہوتا تھا ۔چنانچہ فقہ قرون سابقہ میں بلندی کی چوٹی تک پہنچ چکا تھا۔ اور جب یہ صدی آی علما نے اجتہا کا دروازہ بند کردیا اور یہ طبعی طور پر زمانے کی ضرورت تھی۔ سعید بن حد اد جو قروان کے مشہور فقیہ تھے، کہتے ہیں کہ ‘‘جس چیز نے بہت سارے لوگوں کی عقیل کی کمی اور ہمت کی پستی تھی ۔جس کے نتیجے میں مندرجہ ذیل چیزیں وجود میں آئیں :(۱) متقدمین کی نقل پر الفی کرنا اور ان کی کتابوں کی شرح لکھنے کااہتمام کرنا(۲) کم الفاظ میں مختلف فروعات کو جمع کرنا جس نے فقہ اور تمام علوم پر زیادتی کی۔(۳) تحثیہ وقشوریت پر اکتفیٰ کرنا(۴) مسائل میں مفروضات قائم کرنا ۔

آگے چند سطر بعد تحریر کرتے ہیں: کہ اس سے قبل فقہا کی دلچسپی اور دائرہ عمل غیر محدود تھا جب ان لوگوں نے اجتہا د کادروازہ بند کردیا تو ان کی دلچسپی کا مرکز وہ مسائل ہوگئے جن کا ہم نے اوپر مختصر ا ذکر کیا۔ ان لوگوں نے سابق ائمہ کے اقوال پر اکتفی کرلیا اور مفروضات قائم کرلیے بالخصوص عتق کے باب میں ۔۶

فقہا وعلما کے اس طرز فکر کی وجہ سے مسلکی تعصبات بھی پھیل گیا تھا ۔جب کہ ان سے قبل جوائمہ ومجتھد ین تھے تسامح اور آزادانہ رائے جیسی صفات سے متصف تھے۔ جیسا کے امام شافعی امام ابوحنیفہ کے بارے میں فرمانا جو قول نقد بنا کی تعبیر بھی ہے: الناس فی الفقہ عیال علی ابی حنیفہ ’’ دوسری جگہ فرماتے ہیں :‘‘مذھبنا یحتمل الخطا مذہب غیر ناخطا یحتمل الصواب’’۔لیکن ان کے بعد ان کے جانشینیوں نے اپنے امام کے مسلک کو حق اور دوسرے کے مسلک کو نہ صرف باطل قرار دیا بلکہ اپنے امام کے مسلک کی تائید اور دوسرے کی تنقید میں بہت ساری کتابیں بھی لکھیں ۔ اس کی واضح مثال ابوالحسن الکرخی جوعراق میں حنفی مسلک کے ریئس تھے، ہیں۔ انہوں نے ‘‘المختصر’’امام محمد کی الجامع الصغیر و الجامع الکبیر کی شرع تصنیف کی ان میں ایسے مسائل نہیں تھے جن میں ان کا اپنا اجتھاد ہو۔ ان کے علاوہ ابوالحسن قدوری بھی ہیں جنہوں نے ‘‘المختصر القدوری’’ اور الکرخی کی شرح تحریر فرمائی ۔نیز ایک کتاب امام ابوحنیفہ اور اما شافعی کے مابین مختلف فیہ مسائل پر بھی لکھی۔ ان کتابوں کا مدارس اسلامیہ کے نصاب کاجز ہونے کی وجہ سے فقہ کے میدان میں تقلید اور حضوع کا مل کی شکل میں ظاہر ہوا جو علمی اور فقہی کا سبب بنی ۔

علم التفسیر:

علم التفسیرکا بھی یہی حال ہوگیا تھا ک علما ومفسرین قرآن کی تفسیر کرتے وقت اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ قرآن کی نصوص ان کے دینی میلان اور مسلکی رجحانات کے موافق ہو جائیں ۔بالفاظ دیگر یہ کہ اصحاب رسول اور تابعین کے زمانے میں لوگ قرآن کی حکمرانی قبول کرتے تھےاور اپنے عقائد قرآن وسنت کے مطابق ڈھال لیتے تھے مگر اس زمانے میں اکثر علما ومفسرین کا یہ حال ہوگیا تھا کہ قرآن کو اپنے دینی میلانات ومسلکی رجحابات کے موافق بنانے لگے تھے اور اپنے دینی فرقے اور فقہی مسالک کے موافق قرآن وحدیث کی تفسیر وتشریح کرنے لگے تھے جیسا کہ احمد امین مختلف مسالک اور جماعتو ں کے تفسیری اسلوب پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اسی طرح مختلف نظریات اور مسالک ہو گئے اور یہ لوگ قرآن کو اپنے مسلک کےموافق بنانے لگے جب کہ ان سے پہلے کے لوگوں نے اپنے آپ کو قرآن کے تابع بنالیا تھا ۔اسی طرح علما حدیث حدیثوں کے متن سے زیادہ ان کی اسناد پر دھیان دینے لگے جس کا نتیجہ علمی جمود اور جدت وابتکار کا سلسلہ رکنے کی شکل میں ظاہر ہوا۔

عصری علوم:

اسلام کے عہد وسطی کےمدارس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان کا نصاب تعلیم اس وقت کے عصری علوم جیسے عربی زبان وادب،علم ریاضی ،تاریخ، فلسفہ اور علم طب جیسے اہم مضامین پر مشتمل تھا۔ گرچہ ان علوم کی تعلیم بھی محدود دارئرہ میں رہ کر دی جاتی تھی۔

فلسفہ:

اسلام سے قبل عرب فلسفہ سے واقف نہیں تھے، اسلام آنے کے بعد مسلم حکمرانوں نے علوم فلسفیہ کو یونانی اور ہندوستانی کتابوں سےمنتقل کیا۔ اسلام میں علوم فلسفیہ کی منتقلی کے تین ادوار ہیں۔ ان میں سے پہلا دور اقتباس اور انتخابی ترجمہ کا ہے۔ جیسا کہ خالد بن یزید نے کیا۔دوسرا دور منظم طریقے سے فلسفہ کی کتابوں کے ترجموں کا ہے جو خلیفہ مامون اور ان کے جانشینوں کے بعد شروع ہوا۔تیسرادور اس وقت شروع ہوا جب ان علوم کے ترجمہ کی تحریک مکمل ہوگئی تھی اور اسلامی فلاسفروں نےفلسفہ نظریات کو اسلام کی تعلیمات پر تطبیق کرنا شروع کردیا تھا جیسا کہ محمد بن ابوبکر الرازی فارابی اور ابن سینا کی تالیفات سے ظاہر ہوتا ہے۔۸

عصر عباسی میں علوم ،فلسفہ ،منطق طبیعات ، کیمیا ،ہئیت ،ریاضی، علم النفس والا جتماعی ،والطب پر مشتمل تھا۔ پھر رفتہ رفتہ بہت سارے علوم جیسے منطق ،علم النفس اور علم الاجتماع وغیرہ فلسفہ سے الگ ہونے لگے۔ (۱۲۹،ظہر الاسلام ) ان علوم میں سوائے وہ علو م جن کا مابعد الطبیعات سے تعلق تھا وہ مدارس اسلامیہ نے نصاب سے خارج تھے ورنہ معقولات کی دوسری شاخیں جیسے منطق ،طب ،فلکیات ،جغرافیہ اور ریاضی وغیرہ مدارس میں ممنوع نہ تھے۔۱۶

مدارس میں ریاضی کی تعلیم کا مکمل انتظام تھا۔ کہا جاتا ہے کہ عبداللہ احمد بن الخشاب المتوفی ۱۱۷۲م نے ادب موہوب الجوالیقی سے اور ریاضی وفرائض کی تعلیم علی الترتیب اب عبدالباقی الانصاری اور المرازوقی سے حاصل کیا۔ یہ سب کے سب مدرسہ نظامیہ بغداد کے اساتذہ میں سے ہیں۔

‘‘علم کیمیا طب اور طبعیات وغیرہ کی تعلیم کا تو مسجدوں اور مدرسوں میں بھی انتظام تھا۔ ویسے عام طور سے مدرسوں میں کیمیا کی تعلیم کی ہمت افزائی نہیں کی جاتی تھی ۔ یہ کسی تعصب کی بنا پر نہیں بلکہ شاید ا سکی وجہ یہ عام خیال تھا کہ کیمیا کاعلم مختلف دھاتوں کو مصنو عی طور پر سونا اور چاندی میں تبدیل کرنے سے متعلق ہے۔ ایسے لوگ ضرور تھے جو سونا اور چاندی بنانے کے عمل میں استعمال ہونے والے مرکبات کی تلاش میں رہتے تھے لیکن یہ سب دراصل غلط فہمی پر مبنی تھا۔ جابر ابن حیان (815م)نےکیمیا سےمتعلق سب سے زیادہ باضابطہ طور پرلکھا ،اسے اس علم سےخاص لگاؤ تھا۔ اس نے کیمیا پرکئی رسالے لکھے لیکن وہ سب کے سب چیستاں تھے۔

علم الادویہ یا طبی کمیسٹری ،البتہ عام تھی، لیکن یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ اس کی حثییت ایک الگ مضمون کی تھی یا اسے طب کےنصاب ہی کا ایک حصہ سمجھا جاتاتھا ۔ایسے بہت سارے عالم تھے جیسے کہ ابوبکر الرازی (865۔933) جو طب اور علم کیمیا میں مہارت رکھتے تھے اور رلے اور بغداد کے اسپتالوں میں تعلیم دیتے تھے ۔گمان غالب یہ ہے کہ وہ علم کیمیا کا بھی درس دیتے تھے ۔بعض مدرسے طبعیات کے درس دیتے تھے ۔بعض مدرسے سے طبیعات کے درس کے لیے مشہور تھے ۔ اس میدان میں ابن الہیشم (1038۔965) کی شخصیت ممتاز اور منفرد تھی۔ وہ ازھر میں لیکچر دیتے تھے اور ستر سے زائد رسالوں وکتابوں کےمصنف تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ قرون وسطی کے نیوٹن تھے ’’۔۹

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فلسفہ کی ان شاخو ں کا جن کا تعلق ماورا الطبیعات کے مسائل اور الحیات سے ہیں، کی تعلیم مدارس اسلامیہ میں نہیں دی جاتی تھی کیونکہ یہ شاخیں بظاہر اسلامی عقیدے کے خلاف تھیں اور ان کاعلم اللہ ، اس کے وجود، فرشتوں اور حیات بعد الموت وغیرہ جیسے اسلامی عقاعد پر شک وشبہات پیدا کرتا ہے۔ مگر میری  تحقیق اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ان شاخوں کی تعلیم ابتدا ئے ایام میں مدارس اسلامیہ میں دی جاتی تھی۔ البتہ امام غزالی جنہوں نے اسلامی فلاسفروں کی ان غلطیوں کی طرف اپنی معرکۃ الآرا کتاب ‘‘تھافۃ الفلاسفۃ’’ میں اشارہ کیا جو اسلامی عقیدے کے منافی تھیں ۔انہوں نے گمراہ نظریات کی تردید ی بھی کی۔ اس کے بعد ان علوم سے خاص طور پر  عوام متنفر ہوگئے ۔ اور فلسفہ کی اس شاخ کا علم مدارس میں ممنوع ہوگیا۔ ورنہ مدرسہ نظامیہ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان علوم کی تعلیم ابتدا میں رائج تھی کیونکہ مدارس کے قیام کی تحریک معتزلہ اور شیعوں کے اثر ونفوذ کو ختم کرنے کے لیے ہوئی تھی جو ان علوم کے حصول کے بغیر ممکن نہ تھی۔

امام جوینی:

دوسری اہم بات یہ کہ مدرسہ نظامیہ کے درس اور تدریس کے لئے نظام الملک نےان علما کا تعین کیا جو ان علوم کے ماہر سمجھے جاتے تھے ۔ ان میں امام جوینی کا نام قابل ذکر ہے۔ امام جوینی کا پورا نام ابوالمعالی عبدالمالک الجوینی اور لقت امام الحرمین تھا۔ وہ علم الکلام ، فقہ اور فلسفہ کے بہت بڑے عالم تھے ۔انہوں نے امام اشعری کے نظریات وافکار کی نہ صرف تائید کی بلکہ ان کی نشر واشاعت میں اہم رول ادا کیا۔ علم الکلام میں ان کی کتاب‘‘الارشاد’’ کو یکتا ئے روزگار شمار کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کی قدروقیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں اشعری عقائد ،افکاراور نظریات کو منظم طریقے سے پیش کیا ہے۔ وہ علم الکلام کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ میں بھی ید علیار کھتے تھے۔ ان کی فقہی صلاحیت کا اندازہ کتاب ‘‘البرھان’’ سے لگایا جاسکتا ہے ۔لیکن آپ کی شہرت علم الکلام اور فلسفہ کی وجہ سے ہوئی ۔آپ ‘‘فتنہ آزمائش ’’ کے دوران حجاز روانہ ہوئے اور وہیں چار سال تک درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اور جب ‘‘امتحان وآزمائش ’’ کا دور ختم ہوا تو آپ نیساپور روانہ ہوئے جہاں الملک نے آپ کے لیے بغداد کے مدرسہ نظامیہ کےمثل ایک نظامیہ مدرسہ بنایا اور آپ کو اس کا استاذ اور صدر بنایا، آپ اس مدرسہ میں فقہ ،علم الکلام سمیت فلسفہ کی تعلیم دیتے رہے تانکہ آپ کی وفات ۱۰۵۰م میں ہوئی۔10؎

امام غزالی:

امام جوینی کی کی وفات کے بعد ان کے ہونہار شاگرد ابوحامد غزالی ان کے جانشیں ہوئے ۔ وہ مدرسہ نظامیہ بغداد میں تقریباً پانچ سال تک فقہ اور علم الکلام کی درس وتدریس کا کام انجام دیتے رہے مگر ایک اسماعیل کےہاتھوں نظام الملک کا قتل اور پھر ملک شاہ کی وفات نے انہیں درس وتدریس چھوڑ نے پر مجبور کردیا، اس کے بعد چند سال تک وہ بے اطمینانی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔مگر جیسے ہی بے اطمینانی کے بادل چھٹے آپ نے ‘‘المنقذمن الضلال’’ جیسی کتاب تالیف فرمائی جس میں آپ کی بے چینی قلب کی اور ان احوال کی جن سے آپ دوران شک وشبہ میں گزر ہے ،کاذکر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے صوفیانہ نظریات اور فلسفیانہ افکار کا خلاصہ ہے۔ نیز اس کتاب میں آپ نے پانچوں مصادر العلم کا بالتفصیل ذکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ کشف یا مکاشفہ کےذریعہ جو علم حاصل ہو وہی علم یقینی ہے باقی باطل ہے۔ اس کے بعد آپ نے مقاصد الفاسفۃ نامی کتاب تالیف فرمائی ۔جس میں آپ نے فلاسفروں کے اقوال کو بالتفصیل  ذکر کیا ہے۔ گویا یہ کتاب ‘‘تھافت الفلاسفۃ’’ کی تمہید تھی۔ اس میں آپ نے ریاضی اور منطق جیسے فلسفی علوم کی تعریف کی ہے اور ان علوم کو دین اسلام کے اصول سے غیر متصادم بتایا ہے تو وہیں دوسری طرف فلسفۃ الطیعیۃ والھیات کو دین اسلام کے عقاعد کے لیے مضر قرار دیا ۔نیز بیس ایسے فلسفہ الھیات کےمسائل کا ذکر کیا جن میں سترہ کے متعقدین کو بدعتی اورتین کے معتقدین کو خارج از ایمان قرار دیا۔

مختصر اے کہ امام غزالی کے بعد ان کی تصانیت سے متاثر ہوکر بالخصوص علما اورف بالعموم عوام فلسفہ الطبیعات والالھیات کی اس شاخ سے متنفرد ہوگئے۔ اس طرح فلسفہ الھیۃ کی درس وتدریس مدارس اسلامیہ میں ممنوع ہوگئی۔ اس سے قبل فقہ میں اجتھاد کا دروازہ بند ہوگیا تھا۔ قرآن وحدیث کی عقلی تفسیر وتشریح رک چکی تھی۔ دیگر علوم کی درس وتدریس محدود دائر ے میں رہ کر دی جاتی تھی، جس سے جدت و ابتکار کا سلسلہ وقافیہ بند شروعات کا رواج عام ہوچکا تھا۔ ان وجودہات کی وجہ سے عالم اسلام علمی جمود کا شکار ہوگیا۔ یہ علمی جمود اپنے ساتھ سیاسی واقتصادی بدحالی بھی لا یا۔ بالفاظ دیگر جمود علی التقلید کا زمانہ تقریباً پانچ صدی تک قائم رہا یہاں تک کہ مصر پر نابلیوں کے ۱۷۹۸کے حملے کے بعد سے علمی وادبی نہضہ شر وع ہوا۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/the-development-of-madrasa-islamia—an-historical-overview--مدارس-اسلامیہ-کی-نشوونما-کا-تاریخی-جائزہ/d/1838


 

Loading..

Loading..