New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 10:03 PM

Urdu Section ( 3 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Defending The Hadith And Its Compilers حدیث اور ان کے موئلفین کا دفاع عظیم امامین جنہیں کبھی غلط سمجھا گیا اور یہاں تک کہ ان کی ملامت کی گئی


محمد یونس، نیو ایج  اسلام

شریک مصنف (اشفاق اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے  2009

23جولائی،2012

(انگریزی  سے ترجمہ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

ایک مشترکہ سمجھ یہ ہے کہ کچھ احادیث کمزور اور من گھڑت ہیں۔ جراٗت مند اور فاضل  ناقد ڈاکٹر شبیر احمد انکا  "عجیب، اشتعال انگیز اور خوفناک بیانات" کے طور پر حوالہ دیتے ہیں[2]‑  اگر یہ  موجودہ زمانے میں بنائی گئی ہوتیں تو  انہیں  ایسے ہی الفاظ میں بیان کیا جاتا۔  اس دور کی سادہ وضاحت،    ایک بیماری کی وجہ سے، لے کر  انتہائی  احمقانہ  خیالات  تک ہوسکتے ہیں جو کہ  تمام اسلام مخالف ویب سائٹس پر بڑی تعداد میں موجود ہے اور بڑی احتیاط کے ساتھ ڈاکٹر شبیر احمد کی اشاعت 'اسلام کے مجرم'، میں درج ہیں، اور جو اس  ویب سائٹ پر شامل ہے۔ تاہم،  سب سے زیادہ غلط  حصہ اس طرح کی احادیث کے موضوعات میں نہیں ہے - چاہے وہ سب سے زیادہ اخلاقی طور پر مخالف، سب سے زیادہ جارحانہ یا خواتین کے لئے ہتک آمیز،  جو سائنسی اعتبار سے ناقابل مدافعت ہو، ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ توہین کرنے والی، ہمارے عقیدے کو برے طور پر پیش کرنے والی ہوں اور جو قرآنی پیغامات کے متضاد ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ  قدامت پسند  لوگوں نے اسلامی کیلنڈر کے پانچویں صدی  کے آس پاس  اس  کے خدا کی طرف سے آنے والی وحی کے طور پر   فتویٰ دینے کے بعد سے  ان کا جائزہ ایک ہزار سال تک نہیں لیا۔  اسلامی قانون کے ثانوی ذریعہ کے طور پر حدیث کے احترام  کی  وجوہات تھیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے موٗلف نے  واضح طور پر آنے والی نسلوں کو غیر مستند اور قابل اعتراض احادیث کی موجودگی کے بارے میں متنبہ  کیا تھا۔

اس طرح حدیث کے پہلے موئلف، امام محمد ابن اسماعیل بخاری (194-256 ہجری / 810-870 عیسوی) نے اعلان کیا:

"لوگ کیوں ان شرائط کو مسلط کرتے ہیں جن کا ذکر اللہ کی کتاب (کتاب اللہ) میں نہیں ہے؟ جو بھی ایسی شرائط عائد کرتا ہے جیسا کہ اللہ کے قوانین میں نہیں ہیں،  پھر يہ شرط باطل ہے چاہے وہ ایسی سو شرائط عائد کرے اللہ کی شرط (جیسا کہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے) حقیقت اور زیادہ درست ہیں "[3

حدیث کے دوسرے عظیم موئلف، امام مسلم ابن الحجاج، (817-875/202- 261 AH  عیسوی)،  جوامام بخاری رحمتہ اللہ کی طرح ایران سے آئے تھے ، انہوں نے بھی بہت سی احادیث کے مستند ہونے پر  شبہ کیا گیا تھا جسے  انہوں نے اپنی تالیف میں درج کیا تھا۔ انہوں نے  اپنے شبہ کو الگ انداز میں  درج  کرتے ہوئے ایک  عالم کی مثال دی ہے جس نے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے  کے بعد کی سات سے آٹھ  نسلوں کے بعد  احادیث کے راوی اور ترسیل کرنے والے کے درمیان ذاتی ملاقات کے ثبوت کے مطالبہ کا حوالہ دیا ہے۔  وہ کہتے ہیں:

 "اگر ہم ان تمام حوالوں پر  بات کریں گے جو عالم  لوگوں کے نزدیک مستند (صحیح) تھیں اور تنقید کرنے والے عالم  ان پر شک کرتے ہیں تو  ہم تھک جائیں گے (کیونکہ ان کی تعداد بہت بڑی ہے)" ... 'یہ دلیل اپنے طریقہ کار میں انوکھی ہے، اور یہ غلط ہے کہ ابتدائی علماء کرام کا اس میں یقین نہیں تھا۔ جو لوگ بعد میں آئے ان کا اس سے انکار  نہ تو، اس کے رد کے لئے کوئی بنیاد ہے ... اور پڑھے لکھے لوگوں کے  دین میں کیا  غلط ہے اس کے لئے خدا ہے جو  اس سے انکار کرنے کے لئے ہے اور میرا اس پر یقین ہے "[4]۔

حدیث کیا ہے اور کس طرح موجودہ تالیف تیار ہوئی؟

اسلام سے پہلے، عربوں کے پاس کوئی کتاب نہیں تھی۔ وہ قبائل میں تقسیم تھے اور ہر قبیلے کے رسوم و رواج اور اقدار ان کے آبائی حکمت یا ان کے ابا و اجداد کے  'راستہ' پر مبنی تھا، جسے سنت کہا جاتا تھا۔ یہ اصطلاح ایک اخلاقی معیار کو ظاہر کرتا ہے جس  نےقبائلی   لوگوں کے حکایات کو بنانے والے جز کے طور پر کام کیا ، اس لئے  اس کی تجریدی نوعیت کے ناطے، اس کو ایک  کہانی، ایک کہاوت یا عام لوگوں کو سمجھ میں  آئے ایسی روایت کی ضرورت تھی۔  اس طرح کی کہانی، وضاحت کو  حدیث کے طور پر جانا جاتا تھا۔ قرآن اس اصطلاح کو قدیم کہانی  (12:6، 23:44، 79:15 85:17)، ایک حوالہ (4:42، 45:6)، ایک سچا حوالہ یا تقریر (784: ، 4:87)، بات چیت یا بحث کاایک موضوع  (4:140، 6:68،)، سماجی گفتگو (33:53) اور اس کا اپنا تذکرہ (45:6، 52:34،53:59،  44:68)۔

حدیث کی پہلی تالیف (امام بخاری رحمتہ اللہ کے ذریعہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ کر جانے کےبعد  کم از کم دو صدیوں یا سات سے آٹھ نسلوں کے بعد  شروع کیا گیا۔ اس مدت کے دوران حدیث کی تعریف بہت تبدیل ہو گئی۔  اسلام کی دوسری صدی کے وسط کے آس پاس تک حدیث میں  معیاری طریقوں اور  پانچ چھ نسلوں کے تمام  ممتاز لوگوں کی مثالیں شامل تھیں۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ممتاز لوگوں - علماء کرام، ماہرین قانون، انتظامیہ  سے جڑے ماہرین، جرنیلوں، گورنروں وغیرہ کی تعداد میں نسل در نسل  تیزی سے  اضافہ ہوا، احادیث کی تعداد میں بھی اسی طرح تیزی سے اضافہ ہوا۔  اس نے کافی الجھن پیدا کر دی، یہ نہ صرف ان کی تعداد کے حوالے سے تھی بلکہ  ان کے مختلف  ادوار اور مقامات  کے حوالے سے بھی تھی  جس کے نتیجے میں کئی  آپس میں متضاد ہو گئیں، جیسے  کسی تاریخی زمانے میں  کوئی معیار تھا کسی دوسرے خطے یا اسی زمانے میں   گزرے زمانے کے ساتھ    یہ معیار پرانا اور باطل ہو گیا۔ اسلام کے سب سے بڑے ماہر قانون الشافعی نے  اس کا حل یہ نکالا کہ وہ تمام احادیث جو  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے  جن کی ابتدا ہوئی ان کو نظر انداز کر دیا۔  لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا  نئے حالات اور ابھرتے ہوئے حقائق  سے نمٹنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر احادیث متعارف کرائے گئے۔ اس طرح الشافعی کے تقریباً  پچاس سال بعد  ابتدائی اماموں کے ذریعہ تالیف کے وقت مبینہ طور پر  کئی لاکھ احادیث  زبانی گردش میں تھیں اور سب کو  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال سے منسوب کیا جاتا تھا۔

احادیث کے  بڑھنے پر  تاریخی عوامل کے اثرات

نسل در نسل  احادیث کی تعداد میں اضافہ  ناگزیر طور پر   اس وقت کے مقبول تاریخی عوامل سے متاثر تھا ، جس میں مندرجہ ذیل شامل تھے:

·        خاندانی حکمرانوں ساتھ ہی ساتھ  ذاتی مفادات والے لوگوں کی طرف سے جعلی حدیث کا تعارف کرایا جانا تاکہ  ان کے مقصد حل ہو سکیں اور   اپنے عمل کو جائز ثابت کر سکیں۔

·        قانون کے بہت سے ماہرین نے  اپنے علاقے کے عمل پر مبنی  اپنی رائے پیش کی۔ اس طرح  احادیث جو ان کی سنتوں کی نمائندگی کرتی ہیں  ان میں  موامی اور ذاتی  عوامل کو شامل کیا گیا تھا۔  

·        علم کی حالت اور اس وقت  کے  سماجی اور سیاسی حالات  جب  کسی زمانے میں سامنے آئی۔

·        ہر ایک نسل میں  نئی  احادیث کو متعارف  کرانے والے کی خواہش اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے جوڑنا تھا اور اس کے لئے وہ   ہر نسل میں ترسیل کرنے والوں (جسے اثناد کیا گیا)   سے جوڑا جو نبی کریم صلی  اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اکرام سے جا ملتا تھا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا یا  کہتے سنا تھا۔  یہ ان کے تذکرہ میں  صداقت پیدا کرتا تھا۔

·        یہ انسانی طور پر کسی بھی موئلف کے لئے ناممکن تھا کہ وہ   اس طویل مدت کے دوران تمام تاریخی عوامل  جو کار فرما تھے ان کو خطاب کر سکے۔  موئلف    ترسیل  کرنے والوں  کی نسل در نسل  پیچھے جاتا جو نبی کریم صلی اللہ  علیہ وسلم  سے جا ملتی  اور موئلف  راویوں کی سالمیت پر ہی انحصار کر سکتے تھے۔ یہی سب سے اچھا تھا جو وہ کر سکتے تھے کیونکہ اس زمانے  کے علم کی حالت تصدیق کرنے کے لئے موزوں نہیں تھی، خواہ: سب سے اچھا وہ کر سکتا ہے، کے طور پر زمانے کے علم کی حالت کی توثیق کرنے کے لئے موزوں نہیں ہے، چاہے تھا:

·        ہر  نسل میں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (احادیث) کی روایات کے راوی اور ترسیل کرنے والے شاید ہی ان کی اپنی زندگی میں ملاقات ہوئی ہو۔

·        ایک دی گئی روایت (حدیث) کے مواد کو  اس کے بعد نازل ہوئی آیت  سے منسوخ کیا گیا‑  جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند ماہ قبل تک جاری تھا۔

ان حدود کے نتیجے کے طور پر جعلی، مصنوعی اور من گھڑت روایات کی بڑی تعداد جائزہ کے عمل سے چھوٹ گئیں  اور صحیح حدیث میں  شامل ہونے کا  ان کو راستہ مل گیا۔  اس زمانے کے کئی اہل علم اس سے آگاہ تھے، لیکن مذہبی جذبہ اس قدر شدید تھا کہ  اگراس نے  قابل اعتماد ترسیل کرنے والوں کا ایک سلسلہ پیش کیا ہو تو  سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور  متقی لوگ بھی  بظاہر 'اعتراض' تذکرہ  کی  حقیقت پر سوال کرنے سے ڈرتے تھے۔

حدیث کے ارتقاء کے دوران  اس  کا جلال اور کی شاخیں

حدیث سائنس عملی طور پر تمام طبقے  اور مذہبی علم کی شاخوں کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتا ہے۔   ہدایت کی کتاب کے طور پر قرآن  صرف وسیع تر ذاتی،  ازدواجی، طبقاتی / قومی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی تعلقات کے وسیع اصولوں کو  بتاتا ہے،   اور انسانوں کو  کاروباری اخلاقیات ، عالم گیر  علم کےحصول میں ، اور ان میں  کام کرنے کی و  تحقیق  کا جذبہ   پیدا کرنے کے لئے  متعدد مثالیں پیش کرتا ہے۔   یہ کچھ   موجودہ  طریقوں کے سطحی حوالوں کو چھوڑ کر  زندگی کے کسی بھی جسمانی پیرامیٹر پر کوئی تفصیلات فراہم نہیں کرتا۔   توسیع پا رہے مسلم  طبقے کو  روزانہ کی زندگی کے لین دین کے  معاملات کے لئے جامع ہدایات کی ضرورت  تھی۔  حدیث نے اسے مہیا کرایا۔   اس طرح، امام بخاری  رحمتہ اللہ کی تالیف [3] 9 جلدوںاور مجموعی طور پر 93 حصوں (یا کتابوں) اور 3981 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اس دور کے لیے، حدیث میں موجود علم نے بڑھتے ہوئے مسلم طبقے کو پر امن، ہم آہنگی اور ترقی پسند زندگی  جینے کے قابل بنایا اور اسلام کی سول سوسائٹی کو مضبوط  بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔  اس کے علاوہ، اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ  یہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے صحابہ کرام  کے ورثے کو محفوظ کرتا ہے۔  لہذا، تاریخ اسلام میں حدیث کی شراکت سب سے اعلی  رہتی ہے، اور  جس کسی کو  بھی قرون وسطی کے  زمانے کے حریف تہذیبوں  کے اخلاقی  برائی کا  تھوڑا بھی علم ہے وہ احادیث کے موٗلف کی اعلی درجے کی تعریف کرتا ہے۔

ما حصل: اس سے انکار نہیں  کیا جا سکتا ہے کہ  مستند (صحیح) حدیث کی تالیف میں بعض تذکرے ایسے ہو سکتے  ہیں جو  سب سے زیادہ عجیب اور جنسیت کے  لئے اکسانے والے،  دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والے، بین المذہب  کشیدگی کو بڑھانےوالے، عورتوں سے سخت نفرت کرنے والے، سائنسی اعتبار سے ناقابل دفاع اور جو قرآن سے مطابقت نہ رکھنے والے ہو سکتے ہیں [2]‑  لیکن اسے   حدیث کی تالیف کرنے والے اماموں کی کسی بھی دانشورانہ شرارت سے منسوب نہیں کرنا چاہئے۔  ابتدائی دور کے موٗلفوں نے  زبانی گردش میں  لاکھوں تذکروں کا سامنا کیا اور اثناد پر مبنی  مقبول (ترسیل کرنے  والوں کی کڑی میں   راویوں کی سالمیت) جائزہ کے  طریقہ کار کو اپنے کام کے لئے اپنایا۔  انسانی شعور  اپنی  ابتدائی شکل میں  تھا اور جو آج  سب سے عجیب اور مضحکہ خیز ظاہر ہوتا ہے وہ  اسلام کی ابتدائی صدیوں کے عام لوگوں کے ذہنوں میں اس  طور پر درج نہیں ہوا، جیسا کہ وہ لوگ قصوں اور  پریوں کی کہانیوں میں یقین کرنے کے عادی تھے۔ عظیم امام حضرات  جو اپنے دور میں سب سے زیادہ علم رکھنے والوں میں   شامل تھے اور وہ اپنی تالیف میں  جعلی اور من گھڑت احادیث  سے  آگاہ تھے، لیکن وہ اس وقت مشتبہ احادیث  کو خارج کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے جب تک کہ وہ ان کی اسکریننگ کے معیار تک نہیں پہنچ گئے۔   اسی کے مطابق  انہوں نے طبقے اور   آنے والی نسلوں کو   خبردار کیا ہے۔  یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دوصدیوں سے تھوڑا زیادہ کے بعد ہوا۔    دواور صدیوں بعد  یہ ہوا کہ  حدیث کو  بالواسطہ وحی اور تما م دنیاوی علوم کا   ذخیرہ کے طور پر بتایا جانے لگا۔

 اس طرح یہ مسئلہ دقیانوسی لوگوں کی  ناکامی ہے جو گزشتہ  ایک ہزار سال میں  ان احادیث کی مزید چھان بین نہیں کر سکے۔   مسئلہ  کچھ  علماء،  سیکولر ذہن رکھنے والے  اسلام مخالف مسلمان اور غیر مسلموں کے ساتھ ہے  کے جنہوں نے  انتہائی احمقانہ اور قرآن مخالف احادیث کو منتخب  کر فتوی  جاری کرنا شروع کیا اور  اسلام کو برا بھلا کہنے اور  ابتدائی موٗلف کو ذلیل اور  بے عزت کرنے کے لئے بلند آواز میں بیان دینے لگے۔

 مزید برآں، جیسا کہ ادبی  انداز، ترتیب، مثالیں اور حدیث ادب قرون وسطی  کے اوائل زمانے سے تعلق رکھتے ہیں " ان کومسلسل روایتی مذہبی اسکولوں (مدارس)  میں  درس و تدریس اور تبلیغ طالب علموں کے ذہنی نشو نما پر  منفی اثرڈال سکتا ہے، ان  کی قوت استدلال  کو قید کرتی ہے اور  عملی طور پر ان کی عقل کو  قرون وسطی کے  اوائل زمانے  میں منجمد کر سکتی ہے "[1]۔  لہذا، جیسا کہ ایک متعلقہ مضمون میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ ، " طویل عرصے سے اس بات کی ضرورت ہے کہ احادیث کے مجموعہ کو   اس کے تاریخی ، علاقائی اور ثقافتی تناظر میں  ایک بند ڈومین کے جیسا بر تائو کیا جا نا چاہئے ۔ور   روایتی مذہبی اسکولوں (مدارس) کے نصاب کو  تشکیل نو کی ضرورت ہے جس میں  حدیث اور علم دین کی دوسری شاخوں کو قرآنی پیغام پر مرکوز مطالعہ  اور عالمی علم کی مختلف  شاخوں سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے "[5]۔ تاہم، حدیث دین اسلام کا ایک اہم حصہ کے طور  پر اتنا ہی ہے کہ  یہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام  کی وراثت کو محفوظ  کرتا ہے۔  اسے  روشن خیال ماہرین کے لئے محفوظ رکھنا چاہئے جنہوں نے   کمزور اور معتبر احادیث  کے درمیان فرق  کرنے اور انہیں  خدا کے الفاظ‑ قرآن  کے متوازی نہ ماننے کے لئے   مناسب پختگی ، علم اور تربیت حاصل کر لی ہے۔  یہ  عظیم امام حضرات کو  آنے والی نسلوں کے لئے  انتہائی قابل اعتراض مواد چھوڑنے کے احمقانہ الزام  سے بری کرے گا،   حدیث کے مخالف جدیدیت پسند مسلمانوں اور سیکولر لوگوں کامنھ بند کرے گا جو  زمانے کا حساب لگانے میں غلطی کے عنصر کو نظر انداز کر  حدیث  کا مزاق اڑاتے ہیں۔ اور بہت سے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے شکوک و شبہات اور مایوسی کو  دور کرے گا جون کے انٹر نیٹ اور موبائل فونس پر  احادیث  میں جو سب سی زیادہ  ظالمانہ ہیں  سے  حملے کئے جاتے ہیں۔

نوٹس

1 ۔ محمد یونس اور اشفاق اللہ سید، اسنشئل میسیج آف اسلام،   آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے 2009، صفحہ342

2۔  ڈاکٹر شبیر احمد کی'  کرمنلس آف اسلام'  ،  اس ویب سائٹ پر پوسٹ کیا ہے

3۔ صحیح بخاری،انگریزی ترجمہ  محسن خان، نئی دہلی 1984،  اکسیشن  364، 735، والیوم 3

4۔ صحیح مسلم،اردو ترجمہ وحید الزماں، اعتقاد پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی (سال  اشاعت کا  ذکر نہیں ہے) مقدمہ سے اقتباس۔

5۔ “The evolution of the Hadith sciences and the Prophet’s Sunna and the need for a Major Paradigm Shift regarding the role of the Hadith Corpus and the scope of Madrassa education.” Sec. 10

http://newageislam.com/islamic-sharia-laws/evolution-of-hadith-sciences-and-need-for-major-paradigm-shift-in-role-of-hadith-corpus-and-scope-of-madrasa-education/d/6581

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

URLfor English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/defending-the-hadith-and-its-compilers-–-the-great-imams-who-are-sometimes-misunderstood-and-even-reviled/d/8011

URL for this article: 

http://www.newageislam.com/urdu-section/defending-the-hadith-and-its-compilers-حدیث-اور-ان-کے-موئلفین-کا-دفاع--عظیم-امامین-جنہیں-کبھی--غلط-سمجھا-گیا-اور--یہاں-تک-کہ--ان-کی-ملامت-کی-گئی/d/8155

 

Loading..

Loading..