New Age Islam
Tue May 18 2021, 04:58 AM

Urdu Section ( 17 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Literal Meaning of a Word: Special Affirmation with the Pillars of Islam, Limits it to a Religion of only Five Pillars لفظی افہام وتفہیم : ایمان کےستونوں کےساتھ کوئی خاص انتساب اسلام کوصرف پانچ ستونوں کے ایک مذہب میں محدود کر دیتا ہے

 


 

 

 

 مصنف محمد یونس، نیو ایج  اسلام

باشتراک اشفاق اللہ سید ، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے  2009

28 جون، 2012

انگریزی  سے ترجمہ‑ مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام

فرقہ اور  مکتب فکر  سے قطع نظر تمام مسلمانوں کے لئے مضمون کا یہ عنوان چونکانے والا  ہو سکتا ہے، کیونکہ اسلام جیسے  عالمگیر مذہب کا  مطلب پوری دنیا کے  مسلمانوں کے نزدیک صرف اس کے پانچ ستون ہیں۔  لیکن اگر خدا انہیں ہدایت دے تو اس مضمون کو آگے پڑھتے ہی  ان کو احساس ہوگا کہ کس طرح لفظی اور ان پر حاوی اسلام کے پانچ ستونوں  کے رجحان نے  ان کوقرآنی ہدایت کے سر چشمہ سے  لاتعلق کر دیاہے اور در حقیقت انہیں ایک مسلک میں محدود  کر دیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اسلام میں داخل ہونے والوں سے  بیعت لیا کرتے تھے۔ حلف، خدا اور اس کے رسول  نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے کا  لیا جاتا تھا،  جس میں ان سےمسلم طبقے کی فوری ترجیحات پر مبنی کچھ وعدے لئے جاتے تھے۔ان وعدوں کو اسلامی عقیدے کےایک ستون کی طرح اہمیت دی جاتی تھی ۔اور انہیں  ایمان کا ایک بنیادی  جز تصور کیا جاتا تھا ۔ اوروہ نو مسلم طبقےکے ذریعہ تشکیل پا رہےمعاشرے  کےاہم فرائض کا مظہر  تھے۔ بہر حال وہ   اس وحی الٰہی کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے  جسے کاتب  لکھ رہے تھے اور حفاظ حفظ کر رہے تھے۔ کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح مسلم طبقے کی ترجیحات بدل رہیں تھیں  اسی طرح ابتدائی دور کے وعدے یابنیادیں بھی بدل رہیں تھیں۔

اس طرح مدینےکے ابتدائی (622-632) دور میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام  قبول کرنے والوں سے  یہ حلف لیا کہ ۔  (1) وہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرینگے  اور چوری، بدکاری، اپنے بچوں کو ہلاک کرنے ، کسی معصوم شخص پر الزام لگانے  اور کسی بھی بھلائی کے حکم کی خلاف ورزی سے باز رہیں گے۔  [1]

جیسے جیسےعرب بت پرست  ان ممانعتوں سے و اقف ہوتے گئے اسلام قبول کرتے وقت  انہیں کسی پندونصیحت  کی ضرورت نہیں رہی ،  اور مسلم طبقے کی ترجیحات تبدیل ہوتی گئیں ،اور پابندیاں نماز، زکوٰۃاور روزہ کی ادائگی اور  جنگ کے بعد حاصل مال غنیمت کے تقسیم  کرنے ےک میں  محدود ہو گئیں۔ [2] فتح  مکہ مکرّمہ (آٹھ سال مدنی  مدت) کے بعد، جنگ سے حاصل ہونے  والے  مال غنیمت کو ان وعدوں سے نکال دیا گیا اورحج، وضو اور اللہ کے تمام احکامات سمیت نماز، زکوٰۃ اور روزہ کو  اعمال کا  واحد معیار مانا جانے لگا۔  [3] بہر حال یہ پانچ ستون جنہیں ہم آج جانتے ہیں شاید خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کے زمانے میں اس کااعلان کیا گیا ، گر چہ واضح طور  پر عہد کا بیان  نہیں ہے  ، لیکن اتنا تو ہے کہ خدا کی ہدایت یا احکام  کے بغیر ان کا اسلام ہو نا  تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

 ایمان کا پہلا ستون

بلا شبہ ایمان کا پہلا ستون خدا کی وحدانیت اور  جناب محمد مصطفیٰ  صلی اللہ  علیہ وسلم  کے اللہ کے رسول  ہو نے میں یقین ۔ جسے اس طرح بھی بیان  کیا جا سکتا ہے:  

'میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔'

جو  بھی غیرمسلم اسلام میں  داخل ہونا چاہتا ہے اسے  پورےاخلو ص اور اعتقاد  کے ساتھ  (عربی میں) یہ اعلان کرنا ہوگا۔ ایک ابتدائی وحی (سورۃ   112) وحدانیت کی روح کو  مندرجہ ذیل طریقے سے پیش کرتی ہے::

" اے نبئ مکرّم!) آپ فرما دیجئے: وہ اﷲ ہے جو یکتا ہے، اﷲ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے، نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔" (سورۃ 112)

قرآن کا  یہ متن بار بار خدا کی وحدانیت کا  اعلان کرتا ہے اور خدا کےان  کلمات کے  گو نا گوں احکامات  کو  پہونچانے کے لئے  صفات و خصوصیات کی تسبیح  استعمال کرتا ہے۔  جن  میں اکثر  ایک دوسرے کو مکمل کرنے والے الفاظ کے  جوڑے میں ایک ساتھ آتے ہیں، جیسے  بخشنے والا اور رحم کرنے والا، رحم دل اور  رحم کرنے والا، سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے ...'

"وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، (حقیقی) بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سالم (اور سلامتی دینے والا) ہے، امن و امان دینے والا (اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تصدیق فرمانے والا) ہے، محافظ و نگہبان ہے، غلبہ و عزّت والا ہے، زبردست عظمت والا ہے، سلطنت و کبریائی والا ہے، اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیں (59:23)۔ وہی اللہ ہے جو پیدا فرمانے والا ہے، عدم سے وجود میں لانے والا (یعنی ایجاد فرمانے والا) ہے، صورت عطا فرمانے والا ہے۔ (الغرض) سب اچھے نام اسی کے ہیں، اس کے لئے وہ (سب) چیزیں تسبیح کرتی ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور وہ بڑی عزت والا ہے بڑی حکمت والا ہے"(59:24)۔

بہرحال قران کے نزول کا  مقصد صرف اللہ کی وحدانیت  کا اعلان اوراسکی حمد و ثناء بیان کرنا نہیں تھا، تاکہ انسانیت اس کی لا متناہی تسبیح و تعریف  بیان کرے۔  اگرخدا کی حکمت صرف یہی  ہوتی   تونزول وحی کا سلسلہ دو دہائیوں کے بجائےکچھ ہفتوں میں ہی مکمل ہو گیا ہوتا۔

قرآن نے انسانیت کو  تاریکی سے روشنی کی طرف لانے کے مقصد کا اظہار کیا  (2:257، 14:1 57:9)اور انہیں  ان  پر پہلے سے موجود بوجھ  سے نجات دلانا  (7:157) اور   سماجی، اخلاقی  کردار کے متعلق  خدائی  احکامات  کی ہدایت دینا ، دانشمندی ،سمجھ بوجھ  اور روشن خیالی کے لئے حوصلہ افزائی کرنا ،اور آفاقی اخلاقی ضروریات کےتعلق سے ان کو  بیدارکرنا ہے۔  لہٰذقرآن کے نقطہ نظر سے  خدا کی وحدانیت کا  مطلب خدا کی رہنمائی اور ہدایات پر عمل کرنا ہے ۔اوراس طرح قرآن کے مطابق  'عبادت'کا معنی صرف یہ بولنا نہیں ہے کہ  اللہ ایک ہے،  اللہ عظیم ہے،  اللہ تعریف کے لائق ہے (قرآن میں  اللہ تعالی  کی سو صفات کا بیان ہے)بلکہ' عبادات ' میں اللہ کی اطاعت اور اللہ کی ہدایت پر عمل  کا عہد و پیماں شامل ہے۔لہٰذا اللہ کی ہدایت پرعمل کرنا وحدانیت  کےاقرارکا  مرکز ی حصہ ہے ۔اوراللہ کی رہنمائی کا تعلق انسانوں کے مجموعی حالات سے ہے اور جسے در  حقیقت ایمان کے لازمی ستون  تک  ہی محدود نہیں کیا جا سکتا ۔    مشاہدے پر مبنی یہ روحانی اعتبار سے  اس قدر پس ماندہ لگتا ہے جس کی اصلاح نہ کی جا سکے ، لیکن  حقیقیت یہ ہے کہ عظیم اورعالمی پیمانے پر شہرت یافتہ اسلام کے علماء کرام نے اس محال امر  کی طرف اشارہ کیا ہےاور علماء کرام نے  ایمان کے ستونوں پر لفظ بہ لفظ عمل کرنے  اورقرآن کی تمام تر ہدایات کی  دو اجزا میں تقسیم  کی طرف اشارہ کیا  ہے۔.

محمدعبدوہ کے قول کاحوالہ (1849-1905):

-        " آج جو بھی اسلام کے نام پر ہو رہا ہےوہ بالکل  ہی اسلام نہیں ہے۔ ہو سکتا ہےکہ اس میں صرف نماز، روزے اور حج کو کچھ اقوال کےساتھ  اسلامی رسم و رواج  کے   باہری پرت کو محفوظ رکھا  گیاہو  ، جسے تشبیہات اور تمثیلات پر مبنی  تشریحات کے ذریعہ بر گشتہ   کر دیا گیاہے۔  یہ تمام مکروہ  اضافے  اور توہّم  پرستی  جو اسلام میں داخل ہوئی  اور اب جن کا  ظہور مذہب کے نام پر ہو  رہا ہے،انہوں  نے اسلام میں جمود پیدا کیا   ۔ "  [محمد حسین ہیکل، دی لائف آف محمد، 8ویں ایڈیشن کا ترجمہ اسماعیل راگی،  کراچی 1989، صفحہ  585]

محمد اقبال کا حوالہ (1877 -1938)

(بانگ درا‑  تصویر درد:

"زباں سے گر کیا توحید کا دعوی تو کیا حاصل

بنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا  تونے"۔)

اس دنیا کی بات کیا کی جاےٗ آسمان بھی تمھاری دیدہ دلیری پہ روتا ہے  ۔ یہ تمہاری بد نصیبی ہے کہ تم نے قرآ ن کے معنی بدل دےٗ

(بانگ درا‑  تصویر درد:

("زمین کیا آسمان بھی تیری کج بینی پے روتا ہے

غضب ہے سطرے قرآن کو چالیپا کر دیا تو نے"۔)

خلاصہ: قرآن  کے الہی ہدایات  میں دیگر فضائل کے علاوہ  انصاف،  عدل ، آزادی، اعمال صالحہ، پڑوسی سے اچھے  تعلقات اور بین المذاہب  تعلقات، رواداری، معافی، صنفی مساوات، اچھے کاروباری اخلاقیات، اشیاء اورخدمات  کے لئے منصفانہ ادائیگی اور عقل کا استعمال، منطقی سوچ (فقہہ) اور معاملات سے نمٹنے میں راست بازی اور برتائو کا  معیار، اور اخلاقی ضروریات بھی شامل  ہیں۔اکثر مسلمان قرآن  کے دیگر احکامات کو  خارج کر کے انہیں ضمنی یامذکورہ پانچوں ستون کےمقابلے اختیاری تصور کرتے ہیں، اورصرف انہی  پانچ ستونوں کو اللہ کا لازمی حکم  گردانتے  ہیں۔  نتیجتاً   اکثر مذہبی مکالموں میں اس مؤخر الذکر کاحوالہ نہیں دیتے،اور انہیں اپنے خیالات سےبھی دورکر دیتے ہیں۔  اور تمام اسلامی ویب سائٹ میں نماز کے اوقات اور ایمان  کے دوسرے ستونوں کا ہی ذکر ہوتا ہے ، شاید ہی کسی ویب سائٹ میں آفاقی فضائل، برتاؤ ، اخلاقی معیار اور اسلام کی اخلاقی ضروریات کے لیے کوئی  جگہ مختص ہو۔

ستم ظریفی یہ ہےکہ گزرتے وقت کے ساتھ قرانی ہدایات کے گوناگوں عناصر عالمی  سطح پر انسانی معاشرے میں سرایت کر گئے اور اس کی روشن خیالی اور ترقی میں  اہم کردار ادا کیا، اور مسلمان ہیں کہ اس سےسمجھوتہ کئے بغیر سختی کے ساتھ  قرآنی احکامات (سوائے ایمان کے ستونوں کے)سے دوری بنائے ہوئے ہیں اور مذہبی علوم کے  ثانوی وسائل‑ حدیث اور  قدیم اسلامی قوانین  سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ یوں تو بہت دیر ہو چکی ہے لیکن پھر بھی مسلمانوں کوایمان کے ستونوں کے متعلق  موجودہ  تنگ نظری سے نکل کر  قرآنی ہدایات کی وسعت کےمطابق اپنے خیالات کو وسعت دینی چاہیئے، ورنہ ایسا نہ ہو کہ وہ خود ایک مسلک میں تبدیل ہوجائیں،  جیسا کہ مغربی عیسائی کھلے طور پر اعلان کرتے ہیں اور  ان کے  مخصوص عقیدےسےاسکا اظہار بھی ہو تا ہے۔

ملاحظات:

1۔ صحیح بخاری، انگریزی ترجمہ محسن خان، نئی دہلی 1984، Vol.1، اکسیشن 17

2۔ صحیح بخاری، انگریزی ترجمہ محسن خان، نئی دہلی 1984، Vol.1، اکسیشن 50

3۔ صحیح بخاری، انگریزی ترجمہ محسن خان، نئی دہلی 1984، Vol.1، چیپٹر 42, ، 'دی بک آف بلیف'۔

 

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔متعلقہ مضمون: مختلف اسلامی رسومات اور طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

 

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/literalist-comprehension-of,-and-exclusivist-dedication-to-the-pillars-of-faith-purports-to-reduce-islam-to-a-cult-of-five-pillars/d/7771

 

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/literal-meaning-of-a-word--special-affirmation-with-the-pillars-of-islam,-limits-it-to-a-religion-of-only-five-pillars--لفظی-افہام-وتفہیم---ایمان-کےستونوں-کےساتھ-کوئی-خاص-انتساب-اسلام-کوصرف-پانچ-ستونوں-کے-ایک-مذہب-میں-محدود-کر-دیتا-ہے/d/7964

 

Loading..

Loading..