New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 01:35 AM

Urdu Section ( 22 Jan 2010, NewAgeIslam.Com)

A Brief History Of The Imperial Education System Of The Subcontinent بر صغیر کے سامراجی تعلیمی نظام کی ایک مختصر تاریخ


عمر جاوید

لارڈ میکالے (Lord Macaulay) نے انڈیا میں انگریزی تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی ۔ اس تعلیمی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے اس نے انڈیا کا کونا کونا گھوم کربرصغیر کے تعلیمی نظام کا مشاہدہ کیا۔ وہ اپنے مشاہد ے اور ایک انگریز ی تعلیمی نظام کی انڈیا میں ضرورت کو 1835(کلکتہ) میں کچھ اس طرح بیان کرتا ہے۔

‘‘ میں نے انڈیا کے چپے چپے کو چھان مارا ہے، لیکن میں نے ایک بھی بھکاری نہیں دیکھا، ایک چور نہیں دیکھا ،بلکہ بے پناہ دولت دیکھی۔ اس ملک کے لوگ بھی اتنے سمجھدار ،قابل اور باصلاحیت ہیں کہ ان تمام خصوصیات کے ساتھ ہم کبھی بھی ان پر حکومت نہیں کرسکیں گے جب تک ہم ان کی ریڑھ کی ہڈی کو نہ توڑ ڈالیں، جو کہ دراصل ان کی روحانی اور ثقافتی روایات ہیں اور جن کو تبدیل کرنے کے لئے میرا مشورہ ہے کہ ان کا قدیم اور روایتی تعلیمی نظام اور ثقافتی اقدار کو بدل دیا جائے ۔اگر انڈیا کے لوگوں کو ہم نے یہ سمجھا دیا کہ ہمارا یعنی انگریزی نظام اور روایات ان سے بہتر ہیں تو اپنی عزت نفس کھو دیں گے اور اپنی ثقافت کوبھول کر ہماری مرضی کے مطابق ایک غلام قوم میں تبدیل ہوجائیں گے’’

ہمیں لارڈ میکالے کی اس سوچ کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ لارڈ میکالے نے برطانوی حکومت کے ایک پہلے سے طے شدہ ایجنڈے کو ایک عملی شکل دی اور ایک ایسا ہدف متعین کیا جو کہ برطانوی حکومت کے(Imperialistic ) ایجنڈےکے مطابق تھا حقیقت میں برطانوی حکومت نے 1813سے ہی انڈیا کے تعلیمی نظام کے تبدیلی کے لیے ایک بجٹ مقرر کردیا تھا۔ اس تعلیمی بجٹ کی کل مالیت اس وقت ایک لاکھ انڈین روپے تھی۔

ان تفصیلات کو جاننے کے بعد کوئی بھی قابل فہم شخص اس بات کا اندازہ لگاسکتا ہے کہ اگر ہمیں اپنے روایتی ،تعلیمی، نظام، مذہبی، اقدار اور روایات کے اہمیت کا اندازہ ہوتا اور اگر ہم لارڈ میکالے کے اس منصوبے اور عزائم کو وقت سے پہلے جانچ لیتے تو شاید اس وقت برصغیر کا نقشہ اور حالات کچھ مختلف ہوتے۔

ہم انگریز کے اس جھانسے میں کیوں آگئے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اس مضمون کا مقصد نہیں بلکہ صرف اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی بلکہ اکثر وبیشتر زہر قاتل بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ آج ہم اس نظام تعلیم سے اس قدر مرعوب ہوچکے ہیں کہ اس کے بغیر زندگی بسر کرنے کا تصور تک نہیں کرسکتے او رہم یہ بھی شاید مکمل طور پر بھول چکے ہیں کہ ہمارا اپنا روایتی تعلیمی نظام کیا تھا؟...یہ تعلیمی نظام آج بھی زندہ  ہے اور اپنا اثر قائم رکھے ہوئے ہے لیکن صرف اس حد تک  کہ مغربی تہذیب کی یلغار کے مقابلے میں ڈھال کا کام دے رہا ہے۔ لارڈ میکالے نے اپنے زمانے میں ایک اور بات کہی اس نے کہا ‘‘ اگر میرا بس چلے تو میں عربی اور سنسکرت کی  کتابوں کی چھپائی بند کرادوں اور مدرسوں اور سنسکرت کے اسکولوں کو بھی منہدم کرادوں’’۔

لارڈ میکالے کی اس بات سے بھی ہمیں اسی طرف اشارہ ملتا ہے کہ برصغیر میں روایتی درسگاہوں کی موجودگی دراصل صرف مغربیت اور مغربی آمریت ہی کے لیے خطرے کا باعث تھی اور اب بھی بن سکتی ہے ۔ کیا یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنے  مدرسوں کے خلاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک سازش پروان چڑھتے دیکھ رہے ہیں؟

لارڈ میکالے کی باتوں سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ سماجی /معاشرتی انتشار یعنی غربت ،افلاس، ناانصافی اور دیگر معاشرتی برائیاں دراصل بیرونی طاقتوں کے لیے راہ ہموار کرتی ہیں کہ وہ آئیں اور اپنی آمرانہ حکومت کے پنجے گاڑ کر قوموں کو محکوم بنا سکیں ۔ ہمیں ایک بات او ربھی سمجھ لینی چاہئے کہ دوسوسال پہلے جو تعلیمی نظام برصغیر میں رائج تھا اس کے نتیجے میں ایک مستحکم معاشرہ قائم تھا جہاں نہ غربت تھی اورنہ ناانصافی او رنہ کوئی چوری چکاری۔

ہم یہ بات پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ 1813میں ہی برطانوی حکومت نے ایک لاکھ روپے سالانہ کی رقم ایسٹ انڈیا کمپنی کی پشت پناہی میں خرچ کرنی شروع کردی تھی اور یہ سلسلہ پھر نہیں رکا ،پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھی 1955میں USAIDنے 10ملین ڈالر کے لگ بھگ پاکستان سے مشہور بزنس انسٹیٹیو ٹ کے بنیاد رکھی جس کا نام IBA ہے ۔ آج IBA کے طرز پر پاکستان میں بے شمار تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں جن کو مغرب کے فریب زدہ آنکھیں بڑی قابل ستائش نظروں سے دیکھتی ہیں، ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ IBA کے طرز کے ان تعلیمی اداروں کا کوئی مثبت کردار نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بھی ضرور دیکھنا ہوگا کہ ایسے ادارے کہیں لار ڈ میکالے کے بنائے گئے فریم ورک کا حصہ تو نہیں ۔

Business Institutes کی یہاں خصوصی طورپرمثال اس لیے دی گئی ہے کیوں کہ تمام تعلیمی اداروں کے مقابلے میں مغربی سوچ اور فکر کا غلبہ زیادہ تر انہیں تعلیمی اداروں میں نظر آتا ہے او رہمیں اس بات کا بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ ان تمام طلبہ او رطالبات جو ان Institutes سے پڑھ کر نکلتے ہیں ان کی اولین ترجیح Corporations Multinational یا Banks میں نوکری حصول ہوتا ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ ان تعلیمی اداروں میں پاکستان کے بہترین طلبہ و طالبات ہی داخلہ لے پاتے ہیں اور یوں آخر میں ملٹی نیشنلز کا حصہ بن کر اپنے ساری زندگی صابن 249تیل 249گھی 249شمپو ،آئس کریم یا سودی قرضے وغیرہ بیچتے ہوئے گزار دیتے ہیں ۔ یہاں بات صرف شمپو اور تیل وغیرہ بیچنے پر ہی ختم نہیں ہوتی۔ ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ ایک اجنبی تہذیب 249اس کی ثقافت ،اس کی اقدار اور روایات بھی بیچی جاتی ہیں اور خریدنے والا بھی اس پورے پیکج کو خریدتا ہے ۔ کیا ہی بات ہوتی اگر یہی طالب علم اور قوم کے ذہن ترین نوجوان سائنس دان، سیاستداں، Technocrates ،عالم دین وغیرہ بنتے اور وہ تمام شعبے اختیار کرتے جن سے ملک وقوم کی فلاح ہوتی نہ کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اور ان کے اسٹیک ہولڈر ز کی۔

یہ تمام باتیں تھیں 1955میں لیے جانے والے ایک قدم  کی۔ آئیے اب ایک نظر ڈالتے ہیں حال ہی میں لیے گئے USAID کے ایک اور اقدام کی طرف۔ USAID نے حال ہی میں بچوں کے ایک  ٹی وی چینل کی بنیاد ڈالنے کا اعلان کیا اور اسی مد میں کروڑوں ڈالر کے ٹینڈر کھولنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ مختلف اخبارات میں چھپنے والے اس اعلان میں USAID نے اس بات کا بھی اعتراف کیاہے کہ اس ٹی وی چینل کا مقصد دراصل بچوں کی ذہن سازی ہے۔ اس ذہن سازی سے کیا مراد ہے اس کا اندازہ تو صحیح طور پر اس ٹی وی چینل کے On airہونے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا البتہ تاریخی پس منظر کے روشنی میں دیکھا جائے تو اس بات کا گمان کرنا شاید غلط نہ ہوگا کہ یہ ٹی وی چینل بھی دراصل اسی سلسلے کی ہی کڑی ہو۔

بچوں کی ذہن سازی کی مطلب ہے کہ آپ آنے والی ایک نہیں بلکہ کئی نسلوں کی ذہنی اور فکری Directionمتین کررہے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک اور دلچسپ مثال حال ہی میں ہمارے سامنے آئی ۔ کراچی میں Educational Technologies کے نام سے ایک کمپنی ایک ایسیProducts  کو پروموٹ کررہی جس کے ذریعے آپ اپنے نومولود یعنی ایک دو ماہ کے بچے کی تعلیم و تربیت شروع کرسکتے ہیں۔ اس Product Educational کے ذریعے جوکہ مکمل طور پر انگریزی زبان میں ہے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو اس وقت ابھار ا جاتا ہے جب بچوں کی Learning ability تیزی سے Developہورہی ہوتی ہےیعنی چار سال تک یا اس سے کم عمر ۔ اس طریقہ تعلیم کو دیکھنے کے بعد ہمیں یہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ اس ذریعہ تعلیم سے مغربیت کو گھٹی میں ملا کر بچوں کو پلانے کا تو انتظام ہے لیکن اسلامی طرز عمل اور روایات کو سکھانے کی کوئی گنجائش نہیں ۔

یہ تو چند مثالیں ہیں او رمجھے یقین ہے کہ آپ کے پاس مزید ہونگی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسی صورت حال میں کیا کیا جائے جس گھن چکر میں ہم اور آپ پھنس چکے ہیں اس سے نکلنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے ۔میرے نزدیک اس مسئلہ کے حل کے لئے سب سے پہلے اس مسئلہ کا ادراک ضروری ہے اور جب آپ ایسا کرلیں گے تو آپ کو اسی راہیں نظر آنی شروع ہوجائے گی جن پر چل کر آپ اپنے آپ کو اور اپنی آنے والی نسل کو اس عملی اور نفسیاتی جنگ سے محفوظ رکھ سکیں گے۔

کسی بھی تہذیب کی مضبوطی اور استحکام اس کے ideological framework پرہوتا ہے۔اگر اس  framework ideological میں کوئی دراڑ ہے تو اس تہذیب کو منہدم ہونے سے  کوئی نہیں بچا سکتا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پچھلے دو سو سال سے جو تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ جولارڈ میکالے نے شروع کیا اس کے باوجود ہماری چند روایات اور چند ادارے (Institutes)اس ideological frameworkسے قریب ہونے کی وجہ سے ابھی تک  Functional ہیں اور اگرہم مغربی کی غلامی سے آزاد ہوکر زندگی گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں تو  ہمیں اس روایتی طرز کے تعلیمی اداروں سے اداروں سے اپنا بھی تعلق جوڑنا ہوگا او راپنے آنے والی نئی نسل کی ابتدائی تربیت کے لیے بھی ان کے ساتھ الحاق کو یقینی بنانا پڑے گا۔ یہاں اس بات کا انکار نہیں ہے کہ جدید تعلیم کا بھی اپنا ایک مقام ہے لیکن ہمیں اس کو اپنی ترجیحات میں دوسرے نمبر پر لانا پڑے گا۔پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف ہمیں اس وقت بڑھنا ہوگا جب بنیادی تعلیم اور تربیت خالص اسلامی اور روایتی طرز عمل سے پرُ ہو۔ اس سلسلہ میں مدرسوں کو بھی حاضر دماغی سے کام لینے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں ایسی اجتہادی تبدیلیوں کو متعارف کرائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اپنے اور اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم دینے کے بعد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعلیم جاری رکھوا سکیں۔

لارڈ میکالے کا اگر یہ عمل بارگاہ الہی میں مقبول ہوتا تو ا سکے صدقہ جاریہ میں مستقل اضافہ ہورہا ہوتا مگر حقیقت شاید ا سکے بالکل بر عکس ہے۔ لارڈ میکالے کو جو بھی عذاب مل رہا ہے وہ اس کو ملتا رہے گا مگر ہمارے پاس متبادل راہ موجود ہے ۔ ہم اب بھی اس جنگ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں صرف مسئلہ کا ادراک او رتھوڑی سے ہمت کی ضرورت ہے۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/a-brief-history-of-the-imperial-education-system-of-the-subcontinent--بر-صغیر-کے-سامراجی-تعلیمی-نظام-کی-ایک-مختصر-تاریخ/d/2407


 

Loading..

Loading..