New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 04:25 PM

Urdu Section ( 26 Dec 2009, NewAgeIslam.Com)

Tragedy Of Karbala and Muharram Procession On The Indian Rajpath سانحۂ کربلا اور ہندوستان راج پتھ پر جلوس محرم


Probably India is the only country in the world where Muharram (Chehlum and Chup Taazia) processions can pass through Raj Path adjacent to such important monuments as Parliament and President’s House. Our beloved country does not give this sort of permission to any other religious group. It is a matter of pride for us that this procession did not stop even in the stormy times of 1947. The compassion inherent in Indian culture is indeed unique, not to be found elsewhere. That is why the sacrifice rendered by Imam Hussain 14 centuries ago is remembered better and with greater fervour in India than perhaps anywhere else in the world. -- Ali Abdi

Source: The Hindustan Express, New Delhi, 26 Dec 2009

URL of this page: https://newageislam.com/urdu-section/tragedy-of-karbala-and-muharram-procession-on-the-indian-rajpath--سانحۂ-کربلا-اور-ہندوستان-راج-پتھ-پر-جلوس-محرم/d/2287

علی عابدی

شاید ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ایوان صدارت او رپارلیمنٹ کے پاس راج پتھ سے چہلم اور تعزیہ کا جلوس گزرسکتا ہے ایسی اجازت وطن عزیز میں کسی اور مذہبی جلو س کو حاصل نہیں ۔ فخر کی بات یہ ہے کہ یہ جلوس1947میں بھی نہیں رکا ۔ ہندوستان کی تہذیب میں غیروں کا درد بانٹنے کا جیسا دستور ہے ایسا دنیا کی کسی تہذیب میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی تاریخ میں جو قربانی امام حسین نے چودہ سوسال پہلے کربلا میں پیش کی اس کی یاد جتنی ہندوستان میں منائی جاتی ہے کہیں اور نہیں منائی جاتی۔ گوالیار ،اندور، دھول پور ، وارانسی ، بھرت پور ،بڑودہ کے علاوہ اتر سے دکھن اور پورب سے پچھم تک ہر جگہ کے بے شمار لوگ دس محرم کو امام حسین کی شہادت کا غم مناتے نظر آتے ہیں ۔ یہ غم پورے بھارت میں بڑی عقیدت او ربہت احترام سے منایا جاتاہے۔ یہاں کے باشندے کسی نہ کسی صورت میں اس قربانی کو یاد کرتے ہیں اور اس یاد کوبڑی اہمیت دیتے ہیں۔مشہور زمانہ فلمی اداکار ،ہر دل عزیز سماجی خدمت گار اور مقبول سیاسی رہنما آنجہانی سنیل دت اپنے آپ کو حسینی برہمن کہتے تھے۔ رسول ﷺ کے چھوٹے نواسے امام حسین تاریخ انسانیت میں پہلا اور شاید آخری بچہ ہے جس کی پیدائش پر خاندان رویا۔ رسول خود روئے جب جبرئیل امین نے امام حسین کی ولادت پر مبارک باد کے ساتھ یہ بتا یا کہ ا س بچہ کو کربلا کے میدان میں تین دن کا بھوکا پیاسا اپنے 71ساتھیوں کے ساتھ شہید کیا جائے گا اور اس کے کنبے کی عورتیں اور بچے قید کر کے دربدر پھرائے جائیں گے۔ جیسا کے عرض کیا گیا سنیل دت اپنے آپ کو حسینی برہمن کہتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بزرگوں کی اولاد نہیں تھی ۔ رسول ﷺ کے معجزوں کو سن کر وہ ان کے پا س پہنچے تو امام حسین کھیل رہے تھے۔ رسولﷺ نے ان سے کہا کہ تم ان کےلئے دعا کرو ۔ حسین نے اپنے ننھے ہاتھ بلند کئے اور دعا کی اور ان کے اولاد ہوئی۔ تب ہی سے لوگ اپنے آپ کو حسینی برہمن کہنے لگے۔ حسینی برہمن دردنا چاریہ کی نسل سے تھے۔ ان میں خودداری ، بہادری، او رہمت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کربلا میں حسین کی شہادت کی خبر سنی تو حسینی برہمن 700عیسوی میں عراق پہنچے اور امام حسین کا بدلہ لے کر واپس آئے۔ یاد رہے کہ کربلا کا واقعہ 680عیسوی میں ہوا تھا ۔ اسلام کا تعلق ہندوستان سے بہت پرانا ہے۔ رسول ﷺ کے بڑے نواسے امام حسن کے وقت سے ہی عرب تاجر سمندر کے راستے کیرل کی بندگاہ پر آتے ۔خواجہ معین الدین چشتی جو خواجہ اجمیری کے نام سے مشہور ہیں اجمیر آئے۔ یہ امام حسین کے خاندان سے تھے اور ہندوستان آنے پر مذہبی رواداتی کی علامت کہلائے ۔ آج بھی ان کے مزار پر ہر مذہب کے ماننے والے آتے ہیں۔ ان کے مزار کے صدر دروازے پر فارسی زبان میں لکھے گئے ان چاروں مصرعوں میں امام حسین کی عظمت اور ان کے مقصد کی بلندی بڑے عام فہم لفظوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے:

شاہ است حسینؓ بادشاہ است حسینؓ

دین است حسینؓ دین پناہ است حسینؓ

سرداد نہ داد دست دردست یزید

حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ

جس کے معنی کچھ اس طرح ہیں کہ حسین شاہ ہے بادشاہ بھی ہے حسین دین بھی ہے دین کی پناہ بھی ہے۔ سردے دیاپر یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ حسین لاالہ کی بنا ہے ۔حضرت امام حسین رسول ﷺ کے نواسے اور رسول ﷺ کے چچا ابوطالب کے پوتے ہیں۔ جب رسول ﷺ کے بچپن میں ان کے والدین کا انتقال ہوگیا تو ابوطالب نے رسول کی پرورش کی۔ رسول اپنے نواسوں سے اس قدر پیار کرتے تھے کہ انہوں نے بچپن سے بار بار ان نواسوں کو اپنی امت کو پہنچوایا۔بارہا اصحاب سے مخاطب ہوکر کہا کہ حسین منی انامن الحسین یعنی حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ جس نے حسین کو خوش کیا اس نے خدا کو خوش کیا جس نے حسین کو ناراض کیا اس نے اللہ کو ناراض کیا۔22رجب 60ہجری میں یزید کی تاج پوشی ہوئی ۔یزید نے تخت پر بیٹھے ہی اپنے سفیر سے مدینہ کے گورنر ولید ابن عتبہ کو کہلوایا کہ حسین کو کہو کہ میری بیعت کرے یعنی ہم جو بھی کررہے ہیں اس پر رضا مندرہیں ورنہ ان کا سرکاٹ لو۔ امام حسین نے بیعت سے انکار کردیا اور اپنے ساتھیوں سے ساتھ مکہ چلے گئے تاکہ وہاں سلامتی سے رہ سکیں ۔ حج کے ایک دن پہلے تک مکہ میں رہے ۔ دیکھا کہ وہاں بھی یزید کے آدمی ان کا خون بہا کر مکہ کی زمین کو رنگ دیں گے تو کوفے کے لئے کوچ کیا۔ اس وقت عرب کے بہادر قبیلے کا سردار عدی بن حاتم ان کے پاس آیا اورکہا آپ میرے ساتھ چلیں آپ کو کوئی مار نہیں سکے گا۔ امام حسین نے کہا مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں مجھے نانا کادین بچانا ہے۔ راستے میں اپنے  بھائی مسلم کی کوفے میں شہادت کی خبر ملی ۔آگے برھے تو حرنے ایک ہزار کی فوج کے ساتھ ان کا راستہ روکا۔ حرکا لشکر پیاسا تھا آپ نے اس کے لشکر کو ہی نہیں اس کے گھوڑوں کو بھی پانی پلایا پھر بھی حر انہیں زبردستی کربلا میں لے آیا امام حسین کی جنگ تخت وتاج کے لئے نہیں تھی بلکہ وہ نانا کے دین اور انسانیت کے اصولوں کو بچانے کےلئے آئے تھے۔ امام حسین مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کوچ کر کے  کربلا آئے۔ بعد میں نہر فرات سے اپنے خیمے ہٹا کر دنیا کو بتانا چاہا کہ میں جنگ نہیں کرنا چاہتا ۔ اگر امام حسین چاہتے تو غیبی طاقت سے یزید کو ختم کرسکتے تھے لیکن امام حسین کو تو یزید ی سوچ کو ختم کرنا تھا۔ رسول ﷺ کی وفات کے پچاس سال کے اندر دوبارہ سب کچھ وہی ہونے لگا تھا جیسے رسولﷺکے پہلے ہوتا تھا۔ شراب ،جوا، زنا ہی نہیں بلکہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹے کو باپ کی بیویتر کہ میں حاصل کرنے کا پورا حق تھا۔ یزید کوڈ ر تھا کہ امام حسین کے رہتے ہوئے رسولﷺ کے ذریعہ کئے ہوئے reformation کو ختم  نہ کرسکے گا۔ اس لئے وہ بیعت چاہتا تھا۔ امام حسین نے کہا کہ ظالم اور جابر کے ماتحت زندگی گزارنا صرف باعث ذلت ورسوائی ہے اور اس کے ہاتھوں مارے جانا سچی شہادت ہے۔ امام حسین نے رہتی دنیا کو سبق سکھایا کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ ظلم کے سامنے سرنہ جھکا نا چاہئے نہ ہی خاموش تماشائی بن کر بیٹھنا چاہئے بلکہ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام خطرے کے باوجود حق کی حمایت جاری رکھنا چاہئے اوراس راستے پرچلنے میں کوئی قربانی دینے کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔یزید کو ملوکیت کی حفاظت کرنی تھی جبکہ امام حسین کو اسلام کی قدروں کو پامال ہونے سے بچا نا تھا جو نانا کی سرپرستی اور تربیت کے نتیجے میں ان کے مزاج کا ناقابل تغیر حصہ بن چکا تھا۔ بیشک یزید امام کو شہید کر کے اموی حکومت بچانے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن امام حسین نے انسانی تاریخ کی بے مثال قربانی دیکر اسلامی قدروں کی بنیاد ایسی مضبوط کردی جو کسی بھی طاقت کے آگے ہار نہ سکی۔ یزید نے جس حکومت کو بچانا چاہا تھا اس کا نام لیوا بھی نہ رہا یہاں تک کہ یزید کے اپنے بیٹے نے اس تخت پر بیٹھنے سے انکار کردیا۔امام حسین نے ظلم وجبر کے خلاف ایسا راستہ دکھایا جس پر چل کر مسلم ہی نہیں غیر مسلم نے بھی اپنی غلانی کی زنجیر یں تو ڑ کر پھینک دیں ۔ گاندھی جی نے کہا تھا ہم نے آزادی کیلئے لڑنے کا سبق امام حسینؓ سےلیا ہے۔

(بشکریہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/tragedy-of-karbala-and-muharram-procession-on-the-indian-rajpath--سانحۂ-کربلا-اور-ہندوستان-راج-پتھ-پر-جلوس-محرم/d/2287


 

Loading..

Loading..