New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 09:41 AM

Urdu Section ( 8 Nov 2019, NewAgeIslam.Com)

Corrupt Channels Desperate To Set India On Fire فسادی چینل ہندوستان کو آگ لگانے کے لئے بے قرار


علی احمد فریدی

11 سے 17 نومبر، 2019  

نیوز چینل نہیں ، نفرت کی دوکانیں ہیں۔ زہر کے گودام اورفرقہ وارانہ منافرت کے 'ہول سیل ڈیلرز ' ہیں 'جن کی بھگوا گردی' اب ملک کیلئے ایسا ہی خطرہ ہے' جیسے سرحد پار سے پاکستان کا ہے' کیونکہ نیوز چینل اب ملک میں مسلمانو کے خلاف نفرت اور زہر پھیلانے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کیلئے جو کچھ کر رہے ہیں ' وہ ایک المیہ ہے۔ یہ چینل ایسا ماحول بنا رہے ہیں' جو خود  ملک کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔ نیوز چینل پر جاری 'لائیوبحث ' اور 'مذاکرہ ' میں ایک جنگ کا سماں ہے۔ پہلے بات ڈھکی چھپی ہوتی تھی'بات انگلی اٹھانے تک محدود رہتی تھی، مگر اب کھل کر 'مسلمانوں' کو گالیاں دی جانے لگی ہیں۔ کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ رام مندر کے نام پر زہریلے نعرے بلند کرائے جا رہے ہیں، اسٹوڈیو میں جنگ ہو رہی ہے، ہاتھا پائی ہو یا پھر  تکرار کوئی اینکر کسی مہمان کو بہار نکالتا ہےتو کوئی ذلیل کرتا ہے۔ حب الوطنی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، مذہب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ملک میں مسلمانوں کے خلاف  ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو مسلمانوں کے لئے زمین تنگ ہو جائے ۔ ملک کی آبادی کا 14فیصدحصہ الگ تھلگ کیا جا رہا ہے۔ انہیں ' اچھوت ' بنانے کی سازش  کی جا رہی ہے۔ یہ تاثر دینے کی کوشش ہے کہ مسلمان پچھڑے ہو ئے ہیں' بلکہ نا قابل بھروسہ اور حب الوطن بھی نہیں ہیں۔ نیوز چینل کے اس انداز نے ملک میں عوام کو شام کو ٹی وی کے سامنے بیٹھنے کا نشہ لگا دیا ہے۔عوام اس میں مزہ لے رہے ہیں' لیکن ساتھ ہی ساتھ نفرت کے سمندر میں غرق ہو رہے ہیں۔

ہندو مفادات کے تحفظ کے نام پر

قومی میڈیا میں جو کچھ ہو رہا ہے' اسکو ایک گھناونی سازش کہا جا سکتا ہے۔ اینکرز کی فوج ہر شام مسلمانوں اور اسلام کے خلاف محاذ سنبھال لیتی ہےبھگوا مہمان اور کچھ 'زرخرید' نام نہاد مولوی  حضرات کے ساتھ بحث کا آغاز ہوتا ہے' جس میں  تہذیبی ، سماجی، اخلاقی، اور جمہوری قدروں کا خون کیا جاتا ہے۔ گلا پھاڑ پھاڑ کر مسلمانوں کو کوسا جاتا ہے، انگلیاں اٹھائی جاتی ہیںاور سوالیہ نشان لگائے جاتے ہیں۔ان ڈی ٹی وی کے مینجنگ ڈائریکٹر رویش کمار کے مطابق "قومی میڈیا ملک کی ڈیمو کریسی کا قتل کر رہا ہے، یہ کوئی ایک یا دو چینل نہیں کر رہے ہیں'بلکہ کئی سو چینل کر رہے ہیں' جو سماج میں فرقہ وارانہ زہر پھیلا رہے ہیں' مسلمانوں کے خلاف ماحول بنا رہے ہیں؛ ہندوؤں میں عدم تحفظ پیدا کر رہے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا اتنا فرقہ پرست کبھی نہیں رہا تھا۔ مجھے پریشانی یہ ہے کہ یہ لوگ ہندو نوجوانوں کو 'ہجوم' میں تبدیل کر رہے ہیں۔ نوجوان اچّھی تعلیم کے بعد اچّھی ملازمت چاہتا ہے۔ کوئی ڈاکٹر تو کوئی انجینیر  بننا چاہتا ہے'لیکن بن رہا ہے فسادی ۔ہجومی تشدد کا حصہ۔ آج کا میڈیا ہندو میڈیا ہے۔ اسکو صحافتی اصولوں سے کچھ لینا دینا نہیں۔میں تو ہندوؤں سے کہتا ہوںکہ نیوز چینل دیکھنا ہی بند کر دیں کیوں کہ یہی ایک راستہ ہے' جو انکے ناپاک مقاصد کو ناکام بنا سکتا ہے۔"

کوئی اصول نہ کوئی حد

قومی میڈیا کیلئے اب کوئی قاعدہ قانون نہیں رہ گیا ہے۔ ہر ضابطہ کوڑے دان میں ہے۔ کون کیا دیکھا رہا ہے، کتنا جھوٹ ہے اور کتنا خطرناک ہے 'اسکی کوئی پکڑ نہیں۔ نگراں ادارے بھی ڈھیلے اور بے بس ہیں۔ بے بنیاد خبروں اور جعلی وڈیو کا سیلاب ہے 'جو ملک کا ماحول خراب کر رہے ہیںلیکن کسی کی کوئی پکڑ دھکڑ نہیں۔ مثال کیلئے سدرشن ٹی وی ہےجو نو ئیڈا مین ہے جس کے مالک ہیں سریش چاوہنکے' جو   خود ایک اینکر کے کردار میں سامنے آتے ہیں۔ انکی دلیل ہے کہ ہندستان کو اسلامی ملک بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نیوز چینل پر کچھ بھی دکھانے کیلئے حقائق یا ثبوتوں کی ضرورت نہیں۔ مثال کے طور پر کہا گیا کہ "ہندو لڑکیوں سے شادی کرنے کیلئے مسلمانوں نے سازش کی ہے"۔ ایک وڈیو میں سریش کہتے نظر آ رہے ہیں کہ "جس رفتار سے مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے ' دو ملک کیلئے خطرناک ہے۔"

فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش

اتر پردیش میں کملیش تیواری کے قتل کے بعد جو تماشہ ہوا اس میں ایک نمونہ اے بی پی نیوز کے اینکر سمت اوستھی کے نام رہا ' جس نے کملیش تواری کی ماں سے انٹرویو کے درمیان جب وہ کچھ لیڈران کے نام لے کر بتا رہی تھیں کہ ان کے بیٹے کے قتل کے ذمہ وار ہیں'اس وقت سمت اوستھی نے اس کو ہندو –مسلم رنگ دینے کی کوشش کی ۔ کملیش تواری کی ماں نے سمت اوستھی کو خوب پھٹکارا کہ ہندو مسلم کی بات میں نے نہیں کی 'تم کیوں کر رہے ہو؟وہ یہی کہتے رہے کہ یوگی جی تو ہندو ہیں'وہ کیوں مروا ئیں گے کملیش تیواری کو؟ اس ویڈیو میں سمت اوستھی جس انداز میں ذلیل ہوے وہ سوشل میڈیاپر سپر ہٹ ہو گئے ۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اے بی پی نیوز بنگال کے "آنند بازار پتریکا ' گروپ کا ہے ' جس کا انگلش اخبار' ٹیلی گراف' ملک میں سیکو لرآزم کا ستون مانا جاتا ہے' لیکن پرنٹمیڈیا کا کردار کچھ اور ہے' جبکہ الیکٹرانک میڈیا کا کچھ اور۔

ضابطے نہ کوئی قانون

سدرشن جیسے چینل تو زہر اگل ہی رہے ہیں'لیکن اسکے ساتھ تمام چینل اپنے اپنے طور پر آزاد ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قومی میڈیا کا ایک بڑا حصّہ اب گیر جانبدار نہیں۔ اس سلسلہ میں سی این این ۔ نیوز 18 کے ایگزیکٹی ایڈٹر  بھوپیندرچوبے کا کہنا ہے کہ "اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قومی میڈیا کو کچھ توازن بنائے رکھنا چاہیئے' جو ضابطہ ہیں' ان کی پابندی نہیں ہو رہی ہے، جس کے سبب سوال اٹھتے ہیں"۔اسی طرح 'انڈیا ٹو ڈے ' گروپ کے کنسلٹنگ ایڈٹر راج دیپ سر دیسائیکا مانناہے کہ "ملک کا میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک کا ایک بڑا طبقہ اقلیتوں کے خلاف ہے، جو شرماناک ہے۔ صرف ٹی آرپی  کیلئے ہم گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔" قومی میڈیا کے نفرت پھیلانے کے سوال پر بہر حال ساوتھ  ایشین میڈیا واچ کی ایڈیٹر سیوانتی نینا کا کہنا ہے کہ "۔ ایسا نہیں ہے کہ سب یہی کر رہے ہیں۔ یہ نفرت انگیزی اور فرقہ واریت چند چینل اور اینکر پھیلا رہے ہیں' لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینل ہیں۔" ممتاز صحافی اور تجربہ کار صبا نقوی کا ماننا ہے کہ ٹیلی ویزن  میڈیا نے ہندو مسلمان کا زہر پھیلایا ہے' صرف زیادہ دکھنے اور بکنے کے چکّر  میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

نفرت جو سرحد پار گئی

ان نیوز چینل کی زبردست "پہنچ " ہے، جس کا زبردست اثر ہوتا ہے۔ کسی بھی اِیشو  پر رائے بنانے میں انکا اہم کردار ہے'مگر افسوس یہ سب منفی تشہیر کے ذمہ دار ہیں۔حیرت اور افسوس کی بات یہ ہےکہ اب ان چینل کا اثر ملک کے اندر نہیں ' بلکہ باہر بھی ہو رہا ہے۔خلیجی ممالک میں بھی اس کا اثر  ہو  رہا  ہے جہاں لاکھوں ہندستانی مقیم ہیں۔ماہرین کا ماننا ہےکہ اس قسم کا پروپیگنڈہ اور نفرت کے سبب خلیجی ممالک کا میں اس قسم کا پرپیگنڈہ اور نفرت کے سبب خلیجی ممالک میں اس کا اثر نظر آ سکتا ہے۔ ابو ظہبی کے تجزیہ کار شاہجہاں  کا ماننا ہے کہ "ہندوستانی نیوز چینل جس انداز میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیں' اسکے سبب متحدہ عرب امارات میں ماحول خراب ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے' جہاں ہندو اور مسلمان سب مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہاں زبردست ہم آہنگی اور بھائی چارہ ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں ہندستانی اور پاکستانی بھی رہتے ہیں' جو پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔یہ بہت ہی شرماناک بات ہےکہ قومی میڈیا اس قسم کی مہم میں جٹا ہوا ہے۔میں ایک غیر مقیم ہیندستانی کی حیثیت سے صورتحال سے  بہت پریشان ہوں۔

 11 سے 17 نومبر، 2019 ، بشکریہ:نئی دنیا

             

http://www.newageislam.com/urdu-section/علی-احمد-فریدی/corrupt-channels-desperate-to-set-india-on-fire-فسادی-چینل-ہندوستان-کو-آگ-لگانے-کے-لئے-بے-قرار/d/120217 

  

Loading..

Loading..