New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 08:21 PM

Urdu Section ( 12 Oct 2012, NewAgeIslam.Com)

Derogatory Films and the Right to Freedom of Expression ہتک آمیز فلم اور آزادی اظہار رائے کا حق

 

طاہر گورا کی منیر سامی سےبات چیت

 

طاہر گورا: راول ٹی وی کی جانب سے طاہر گورا بلا تکلف بحث مباحثہ کے ساتھ حاضر ہے۔ ناظرین آج ہم جس موضوع پر بات کرنے جا رہے ہیں ۔ اس موضوع پر پہلے بھی ہم نے اسٹوڈیو میں   بات چیت پیش کی ہے۔ یہ بلا شبہہ ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ اور اس کے تناظر میں ہم کھل کر بات کریں گے۔ موضوع ہے  Freedom of Expression آزادی اظہار کے حق ۔ اس کا تناظر Innocence of Muslims نامی وہ مبینہ فلم ہے جس کے ابھی ہم نے کچھ ٹریلر ہی دیکھے ہیں ۔ اور ہمیں یہ فلم دیکھنے کا کوئی اتفاقنہیںہوا، کیونکہ  یہ دستیابنہیںہے، مگر ہم اس کے تناظر میں  اس پر کھل کر بات کریں گے۔ اس پر میں نے  جس مہمان کو دعوت دی ہے وہ  ایک انتہائی جانی پہچانی ہستی ہیں  وہ ہمارے اسٹوڈیو میں  ہماری درخواست پر بار بار آتے ہیں ، اور آج ہم نے پھر ان سے درخواست کہ وہ تشریف لائیں، چونکہ  ان کا اس موضوع پر بولنا اس لئے اہم ہے کہ وہ  انٹرنیشنل پین کینیڈا چیپٹر  کے ڈائرکٹر رہ چکے ہیں  اور Freedom of Expression کے لئے  بہت ہی جدو جہد والا کام ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شاعر ہیں ،   کالمنسٹ ہیں ، رائٹر ہیں  اور ایکٹی وسٹ ہیں  ۔ میری مراد   جناب منیر سامی صاحب سے ہے۔ ہم بریک لیتے ہیں  جیسے ہی  ہم واپس آئیں گے منیر سامی صاحب سے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھائنگے  کریں گے۔

Welcome back ناظرین! منیر سامی صاحب اسٹوڈیو میں تشریف لانے کا بہت بہت شکریہ۔ اور ہم آپ کو بار بار زحمت دیتے رہتے ہیں ۔ جن موضوعات پر  ہم بات چیت کرتے ہیں  ان پر  تنقید یا رائے دینے کا حق آپ کو  اس لئے ہے  کیونکہ آپ ان کو بخوبی جانتے ہیں ۔ اور آج کا موضوع Freedom of Expression آزادی اظہار   کے حق سےمتعلق  ہے ،  اور اس پر آپ کی نہ ختم ہونے والی جدو جہد ہے۔ اور اس فلم کے حوالے سے جس کا نام Innocence of Muslims ہے، پوری دنیا میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ Freedom of Expression کیا ہے،  Blasphemy کیا ہے، اور Insult of Religion کیا ہے اور وہ حد بندیاں پوری دنیا تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، کہ کہاں سے کس کی حد شروع ہو تی  ہے اور کہاں پر ختم ہوتی ہے۔ آپ پہلے یہ بتائے کہ Freedom of Expression ہے کیا؟

منیر سامی: اس کی مثالیں ہم کو دو جگہ لکھی ہوئی ملتی ہیں ۔ ایک امریکہ کا آئین ہے، کیونکہ امریکہ کا ذکر  اس میں بار بار آتا ہے۔ تو امریکہ کے آئین میں جب  پہلی ترمیم ہوئی تھی، اس میں بالکل واضح کر دیا گیا تھا کہ ، دو آزادیاں انہوں نے مربوط کی ہیں ، ایک تو مذہب کی آزادی ، جو مرضی چاہیں  مذہب اختیار کریں اور اسی طریقہ سے  صاف لکھا ہے کہ اظہار رائے اور   تقریر کی مکمل آزادی  شہریوں کو ہوگی۔   لوگ اس بات کو سمجھتے نہیںہیں ۔  1776 یعنی اتنی پرانی بات ہے۔ تو یہ بنیاد ہے اس سے پہلے کہیں  پر بھی کوئی بنیادنہیںبنائی گئی۔ اس کے بعد جسے ہم اقوام متحدہ کا  ہیومن رائٹس چارٹر کہتے ہیں ، اس کی شک  19 میں یہ صاف صاف لکھا ہے کہ ہر شخص کو مذہب کی آزادی ہوگی، اظہار رائے کی آزادی ہوگی، جس طرح سے وہ چاہے گا اس کو کر سکے گا، اور اسکی کوئی حدبندی  نہی   ہوگی، اور نہ کسی میڈیا کی حد ہوگی،  جیسا دل چاہے اپنا اظہار کرے،  اور ان دونوں آزادیوں  میں انہوں نے کوئی شرطنہیںلگائی ہے۔ بالکل غیر مشروط آزادیاں ہیں ۔

طاہر گورا: ہمارے کینیڈا کے ہیومن رائٹس چاٹر میں بھی تو اس کا ذکر ہے۔

منیر سامی: اس کے اندر بھی مکمل طور پر یہی بات ہے، بلکہ آپ نے  ہیومن رائٹس چارٹر  کا ذکر کیا، تو بعض دفع کینیڈا میں  جو ہمارے سخت گیر لوگ ہوتے ہیں ، وہ بھی ان باتوں کو اٹھاتے ہیں ، جو کینیڈا کے ہیومن رائٹس کمیشنس  بنے ہوئے ہیں  ان میں بار بار یہ بات جاتی ہے۔ اور ہر دفع فیصلہ آزادی اظہار رائے کے حق میں ہی آتا ہے اور اس پر کوئی قدغننہیں لگاتا ہے، اس پر بات ہم آگے بڑھتے ہوئے کر سکتے ہیں ۔ کیونکہ اس پر بہت چرچہ چل رہا ہے کہ اس پر کوئی پابندی یا قدغن لگانی چاہیئے۔ سوال یہ ہے کہ اس پر  لگانی  چاہیئے کہنہیںلگانی چاہیئے؟ اور کس طرح سے لگانی چاہیئے؟

طاہر گورا: ہم یہ دیکھتے ہیں  کہ اس پر پابندی لگانی چاہیئے کہنہیںلگانی چاہیئے؟ ہم ایک ٹسٹ کیس کے طور پر Innocence of Muslims نامی فلم  کے ٹریلر کو دیکھتے ہیں ۔ آپ کو  وہ ٹریلر دیکھنے کا اتفاق ہوا ، مجھے بھی اتفاق ہوا، تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ جو وہ ٹریلر ہے وہ Freedom of Expression کے زمرے میں چل سکتے ہیں ؟ یا Hate Crime کے زمرے میں آتے ہیں ؟

منیر سامی: دیکھئے جس نے وہ بنایا ہے وہ امریکہ کے  آزادی اظہار  کے تحت بنایا ہے اور  وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو ایسا کرنے کا حق ہے۔ اس  میں جو نفرت ڈھونڈ رہے ہیں  یا اپنے خلاف  نفرت  پاتے ہیں   وہ ظاہر ہے دوسرے لوگ ہیں ۔ ہمنہیںکہہ سکتے کہ  اس نے Hate بنائی ہے یانہیںبنائی ہے، اس نے ایک بری فلم بنائی ہے۔ ایسے برے کام پہلے بھی ہو چکے ہیں ۔ امریکہ میںایسی کم از کم دس فلمیں ہیں  جو عیسیٰ مسیح کے خلاف بنی ہیں ۔ ابھی ایک پلے چل رہا ہے  The book of  Mormon, براڈوے، نیو یارک میں، جس میں مارمن مذہب کا ستیاناش کر دیا ہے، جس میںحضرت عیسیٰ کا کیسے کیسے مذاق بنایا  ہے ، مذہب کا ستیا ناش کر دیا ہے۔ وہ چل رہا ہے، اسے ٹونی اوارڈ ملا ہے، جہاں پر یہ لوگ بنا رہے ہیں  اچھے یا برے جیسے  The book of  Mormon ، جو Mormon مذہب والوں کی ہے ۔ ظاہر ہے اعلیٰ آرٹ ہے، کوئی اچھے پیمانے پر  بناتا ہے کوئی  گھٹیہ پیمانے پر ، اس شخص نے گھٹیہ  پیمانے پر بنائی، تو اس نے تو اپنی آزادی استعمال کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس میں جو نفرت ہے وہ  میں ڈھونڈ سکتا ہوں، آپ ڈھونڈ سکتے ہیں ، مسلمان ڈونڈھ سکتے ہیں ،  ہم  چاہیں  تو ڈھونڈ سکتے ہیں ۔  اورڈھونڈ ڈھونڈ کے لا رہے ہیں ،  اور  میںنہیں سمجھتا ہوں کہ، میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ، ہاں، بہت ہی واہیات، بہت ہی  Vulgar، بہت ہی بری فلم ہے، ایسی تو بہت سی Pornographic  فلم، فحش فلمیں روز روز بنتی ہیں ، جنہیں  نہیں دیکھنی ہوتی ہے،نہیںدیکھتا، آپ کینیڈا میں گلیوں گلیوں جائیں تو آپ کو Pornographic فلموں کی دکانیں ملیں گی، کوئی اندر گھس رہا ہوتا ہے، چھپ کے، کوئی نکل رہا ہوتا ہے، جسےنہیںدیکھنی ہے وہ نظر بچا کے جا رہا ہوتا ہے۔ 

طاہر گورا: دیکھئے دو مسائل ہیں ۔ ایک ساتھ  Parallel  چل رہے ہیں ، ایک Freedom of Expression ایک Hate Literature  کا ہے، ایک تیسرا نکتہ  Insult of religion کا بھی ہے، تو آپ   Insult of religion کو الگ سے دیکھتے ہیں  یا  Freedom of Expression کی مد میں اس کی آزدی ہے یا Hate Crime میں آتا ہے؟

منیر سامی: دیکھئے دو باتیں ہیں ، میں تو  Insult of religion کو تو تسلیم ہینہیںکرتا ہوں، وہ کسی بھی مذہب کی ہو، اس مسئلہ میں  ہوتا کیا ہے، جب ہم مسلمان  ہوتے ہیں  تو ہم اس کے اوپر بہت زیادہ چوکنےّ ہو جاتے ہیں ، حساس ہو جاتے ہیں ، لیکن  کسی بھی مذہب کی توہین، توہین ہے۔ توہین سے مراد وہ  ہے جس کی مثال   پاکستان میں بار بار مثال ملتی ہے کہ  آپ احمدیوں کی توہین کرتے ہیں ، میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہمارے پاسپورٹ کی درخواست پر لکھا ہوا ہے کہ  جو احمدی مسلک کے بانی ہیں  ، ان کو جھوٹا کہو، لکھا ہوا ہے نا، تو ہم اس کی توہینکر رہے ہیں ۔ اوباما نے جو بات کہی  ہے اپنی تقریر میں، جسے میں سمجھتا ہوں کہ  بہت ہی معرکتہ الارآء بات ہے اور  اسی موضوع پر اقوام متحدہ میں کہی ہے کہ  دیکھئے وہ لوگ جو یہ کہ رہے ہیں  کہ اسلام کی  توہین کو Condemn کرنا چاہیئے، پھر انہیں  لوگوں سے ہم یہ  توقع کریں گے کہ وہ ہر مذہب کی توہین کو Condemn کریں گے۔ یہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو نہیںہو سکتا ہے۔ تو بنیادی طور پر مذہب کی توہین سے کیا مراد، اگر آپ مذہب کی توہین سے بچنے لگیں تو دس ہزار مذہب بیٹھے ہوئے ہیں ۔

طاہر گورا: آپ نے اوباما کی تقریر کا حوالہ دیا۔ اوباما نے  تو ایک مرتبہ جیسا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں کہا کہ  اگر مذہب کی توہین آپ صرف اسلام کی توہین سمجھتے ہیں  تو باقی  مذاہب کی توہین کا بھی آپ کو خیال رکھنا ہوگا۔  مگر اس سے پہلے اوباما اور ہلیری کلنٹن نے جب یہ ٹریلر  سامنے آتا ہے اور لیبیا میں سفیر راف   مارے جاتے ہیں  تو اس وقت  وہ ایک طرح سے  وہ  کیا اس فلم کو Condemn کر  رہے تھے وہ  ؟

منیر سامی: انہوں نے اس کو  Condemnنہیںکیا، انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ یہ فحش فلم ہے، یہ فلم ایسی ہے جس سے کچھ  لوگوں کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں ، کیونکہ وہ اس کو اپنے جذبات مجروح ہونا سمجھ رہے ہیں ، تو انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں  کہ  اس سے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں ، لیکن انہوں نے یہنہیںکہا کہ ہم اس کو Condemn کر رہے ہیں ، وہ صاف طور پر یہ کہہ ہینہیںسکتے ہیں  ، ان کو اجازت ہینہیںہے،  امریکہ کے صدر کو اجازتنہیںہے کہ کسی کے فن پارے کو جو غلط فن پارہ بھی ہے اس کو  روک دیں، اس نے بس یہ کہا کہ میں کچھنہیں کر سکتا ہوں ۔ اس نے بس یہی کہا ہے کہ بری چیز کے خلاف  تشددنہیںکریں، آپ کو اچھینہیںلگی، اخلاقی طور پر ہمیں بھی اچھینہیںلگ رہی ہے۔  اخلاقیات کی بنیاد پر لیکن  یہنہیںکہہ رہے ہیں  ، اوباما نے یہ کہا ہے کہ  میرے مذہب کی روزانہ توہین ہوتی ہے۔

طاہر گورا: اوباما کے اس بیان کے حوالے سے جو انہوں نے شروع میں دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ کئی لوگوں کے جذبات کو مجروح کر سکتی ہے، یہ آج ہماری بحث کا چوتھا نکتہ ہے، اس پر امریکہ میں میڈیا کے بہت سارے لوگوں نے  تنقیدکی  اور آج بھی کہہ رہے ہیں  کہ  اوباما  Freedom of Expression کا مخالف ہوتا جا رہا ہے، اس حوالے سے آپ کیا  سمجھتے  ہیں ؟

منیر سامی: دیکھئے،  اس نقطہ نطر سے یہی بات اخذ کی جائے گی کہ  امریکہ کے اقدار میںیہ ہو ہینہیںسکتا کہ  امریکہ کا صدر آکر کوئی ایسا بیان دے، جس کے بین السطور میںیہ بات نکالی  جا سکے کہ  وہ فلاں فلاں کام کو  روکنے کی کوئی بات کر رہے ہیں ۔ اس نے تو ہاتھ کھڑےکر لئے  کہ میں تو روک   سکتا ہی نہیں ہوں، میں کچھ نہیں کر سکتا ہوں، اس نے صاف کہا ہے کہ ہمارے آئین کے اندر جو آزادی ہے اسکے تناظر میں میں کچھ نہیں کر سکتا ہوں، وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ بری لگ رہی ہے۔ یہ اچھی نہیں لگ رہی ہے۔  میرے رسول یعنی حضرت عیسیٰ کے خلاف  بھی باتیں ہوتی ہیں ۔ میں عیسائی ہوں،  امریکہ کے  زیادہ تر لوگ عیسائی ہیں  ان کے خلاف کیا کیا ہوتا ہے ہم ان کو کچھ نہیں کر سکتے ہیں ، تو یہ توہین کا جو معاملہ ہے،  یہ تو اپنے دل کا معاملہ ہے، مطلب آپ سمجھیں کہ  میں نے آپ کی توہین کر دی۔ آپ نے میرے عقیدے کی توہین کر دی، تو یہاں پر اگر توہین مذہب کو دیکھیں تو  ساروں کا یہی ہے۔

طاہر گورا: آپ نے بہت اہم بات کہی، توہین مذہب  کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو  مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ  جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے  پیغمبر نے جب یہ کہا لوگوں سے کہ  تم لوگ جو مذہب مانتے چلے آ رہے ہو غلط ہے، جو دین میں تم لوگوں کے لئے لے کر آیا ہوں وہ درست ہے، مبصرین کہتے ہیں  وہ بھی تو ایک طرح سے  دوسرے مذہب کی توہین ہے،  مگر در حقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے  Freedom of Expression  کے حق کو وہاں  پر برتا تھا،  انہوں نےبالکل درست کیا تھا، ویسے ہی آپ کو  آج کوئی برتتا ہے تو وہ درست  ہوگا تو آپ کیا  سمجھتے ہیں ؟

منیر سامی: ہر نبی جو آتا ہے وہ پرانے والے مذہبوں کو منسوخ کرتا ہوا آتا ہے۔ ہم نے کچھ مذہبوں کو منسوخ نہیں کیا ، ہم نے کہا کہ کچھ مذہبوں کے سلسلہ کو آگے بڑھا دیا۔  لیکن آپ کا کہنا ہے کہ وہ آپنی  آزادی اظہار کے حق کا استعمال کر رہے تھے،  ان کے خلاف جبر و تشدد ہو رہا تھا، لیکن جب ایسا ہو رہا تھا، وہ اس وقت اپنا رویہ کیا تھا، جب  اس رویہ کی بنیاد پر  تلوار سے تلوار کو مار رہے تھے، یا اپنی توہین کرنے والوں کو قتل کروا رہے تھے، بڑی بحث چلتی  ہے جس کے اوپر ہم پہلے بات کر چکے ہیں  کہ شبلی نعمانی  کہہ چکے ہیں  کہ توہین رسالت کرنے والے کو قتل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ ساری باتیں ہو چکی ہیں ۔

طاہر گورا: آپ بہت اہم باتیں کر رہے ہیں ، ہم باتیں آگے بھی کریں گے، ابھی ہم ایک چھوٹے سے بریک کی طرف بڑھتے ہیں ۔ ناظرین ہمارے ساتھ رہیئے گا۔

Welcome back ناظرین! منیر صاحب آپ  نےبہت اہم  نکات اٹھائے، جیسے کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں  کہ توہین ، کوئی ایک مذہب جب دوسرے کو ردّ کرتا  ہے تو یہ  ایک مذہب کے ذریعہ دوسرے کی Blasphemy کرنا ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ توہین نہیں بلکہ Freedom of Expression  ہے، اس سلسلہ میں ایک بہت ہی اہم قول ہے،  حسین ایبش نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں ایک جملہ   مجھے پسند آیا، جس میں لکھا ہے کہ  Blasphemy is an indispensable human right. Without the right to engage in blasphemy, there can be no freedom of inquiry, expression, conscience or religion. یہ بات آپ کو ٹھیک لگتی ہے؟

منیر سامی:  یہ کہتا ہے کہ کسی مذہب کی توہین کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے،  اور اس کے بغیر ہر طرح کی آزادی جیسے آزادی اظہار، آزادی تحریر یا فن کی بات نہیں ہو سکتی ہے۔ اور یہ تو بڑے بڑے فلسفی ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں ، اور یہ مسئلہ چلتا ہے اور اس کے خلاف جدو جہد چلتی ہے، جب کوئی کسی بات کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، آپ کی بات کو، میری بات کو یا کسی اور کی بات کو  تو پھر ادیب بھی آتے ہیں ، شاعر بھی آتے ہیں  اور ہمیشہ اس کے آگے قدغن لگا کر کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، فیض احمد کا بہت مشہور سا قطعہ ہے،  مطاع لوح و قلم چھن گیا تو کیا  غم ہے،    زباں بندی کے زمانے میں بھی ہوئے اور یہ کام تو  کب سے ہو رہے ہیں ، کچھ اس کے خلاف مسلسل کھڑے رہتے ہیں ، جدو جہد کرتے رہتے  ہیں ، اپنی جان تک دیتے ہیں ،  پاکستان میں جان دیتے ہیں ،  دنیا کے دوسرے ملکوں میں جان دیتے ہیں ،  اچھا یہ صرف ہمارے یہاں ہی نہیں ہوتا ہے،  یہ مسلمان نہیں ہیں   کہ توہین کر رہے ہیں ، دنیا کے اندر جو با ضمیر فنکار ہیں ،  جس کے اوپر حسین ایبش نے بات کی ہے ، وہ اپنے اس حق کو سمجھتے ہیں  کہ ہم  توہین مذہب کی بھی۔  وہ اپنی جان دینے کو تیار رہتے ہیں ۔

طاہر گورا:  مذہب کی توہین، ،جب ہم یہ کہتے ہیں ، جب ہم یہ جملہ استعمال کرتے ہیں  تو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی مکروہ کام ہے اور دوسری طرف ہم یہ دیکھ رہے ہیں  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی یہ کام بہت ہی عمدہ طریقہ سے کیا  اور اپنے  Freedom of Expression کا استعمال کیا   جب انہوں نے یہ کہا کہ جو تم لوگ کر رہے وہ غلط ہے ، میں جو کہہ  رہا ہوں وہ دین تم لوگوں کے لئے درست ہے۔ آپ نے اس تناظر میں بات کیا کہ مسلمانوں کے علاوہ جو وحدانیت میں یقین رکھنے والے مذاہب ہیں  جیسے عیسائیت اور یہودیت سے فرد یہ ہے کہ اور ہم ان کو مانتے ہیں  ، مگر  میں  اگر باریک بینی سے دیکھنا چاہوں تو آپ بھی وضاحت کیجئے کہ ہم  شاید توریت کی بھی عزت کر لیں گے اور یہ کہتے ہوئے بائبل کی بھی عزت کر لیں گے، کہ ان میں تبدیلیاں ہوئی ہیں  اورنہیں تسلیم کریں گے اور  ان مذاہب کو اپنے مذہب اسلام کی میراث میں  رکھ لیں گے۔ مگر ہم مسیحیوں کو اور  یہودیوں کو بطور گروہ جو ہے وہ ہم انہیں   تسلیم کرنے کو تیارنہیں کیا وجہ ہے اس کی؟

منیر سامی:  یہ آپ نے بہت عمدہ بات کہی۔  یہ تو ہم کہتے ہیں  کہ جی ہم آپ کی توہین نہیں کر سکتے یہ  ہمارے عقیدہ میں داخل ہے کہ ہم توریت، انجیل اور زبور کی عزت کرتے ہیں ، لیکن کسی اور مذہب کی نہیں کریں گے۔ اور کسی رویہ کی نہیں کریں گے

طاہر گورا:  یعنی  Hinduism کی نہیں کریں گے؟

منیر سامی:  اس کے اوپر بہت بڑی مثال ہے۔ ابھی تین چار دن کے اندر ٹورنٹو میں  امریکن کونصلیٹ کے سامنے جا کر جلسہ شروع کیا تھا، جن کا  بھی وہ گروپ تھا اور جن لوگوں نے وہ کیا تھا،  اس کے اندر مجھے اتنا افسوس ہوا کہ میں ایک جگہ  گیا جہاں اس کے پرچے بنٹ رہے تھے، اس میں لکھا تھا کہ جو صرف  Monotheist Religion  کے ماننے والے ہیں ، وہ سارے وہاں تشریف لائیں۔ اس کا کیا مطلب ہوا کہ جو Polytheist  ہیں ، یعنی جو کئی خدائوں کے ماننے والے لوگ ہیں ، ان کو وہاں آنے کا حق نہیں ہے اور ان کو اپنی آزادی کا  بھی حق نہیں ہے، تو یہ توہین مذہب کی بات تو جھوٹی ہو گئی نا۔ اگر آپ سب سمجھ رہے ہیں  کہ توہین مذہب ہے تو  ساری دنیا کو ساتھ لے کر کھڑے ہو جائیں۔ اس کا کیا مطلب ہوا کہ آپ نے  ہندوئوں، بودھوں اور ایسے دوسرے پیگن (Pagans)لوگوں کو ، جو ایک خدائے واحد پر یقین نہیں رکھتے ہیں  اور آپ نے ان کو زمرے سے نکال دیا اور یہ کینیڈا میں ہوا، کیا ہماری آنکھیں بند ہیں ، کیا ہم ہر چیز دیکھتےنہیں ہیں ۔

طاہر گورا:  آپ نے بات چھیڑی تو مجھے یاد آیا کہ اسی پمفلیٹ میں  جہاں پر وہ  خدا کی وحدانیت کا نعرہ لگا رہے تھے وہیں  پر وہ اس مبینہ فلم  کو ایک امیریکن یہودی کے ساتھ جوڑ رہے تھے، وہ یہ کہہ رہے تھے کہ  یہ فلم انہوں نے بنائی ہے اور  ساتھ ساتھ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اس طرح کے جو  واقعات ہیں  اس کے لئے انہوں نے ایک جملہ کہا  Jews purpose does served اور یہ وہی بات ہے کہ ایک طرف تو آپ ان کو مدعو بھی کر رہے ہیں  اور دوسری طرف آپ ان کو  Reject کر رہے ہیں  اور Hatred  کا رویہ کر رہے ہیں  اور یہ جانتے ہوئے کہ بھی ا س فلم کو بنانے والا یہودی نہیں تھا۔ کیا یہ تضاد ہے؟

منیر سامی:  یہ بہت بڑا تضاد ہے۔  اس لئے کہ یہاں جب ان مسلمانوں پر مصیبتیں پڑتی ہیں  تو  یہودیوں کا دامن پکڑنے کے لئے بھاگتے ہیں  اور  اسی کینیڈا کے اندر  جب شریعت لاء کا مسئلہ چل رہا تھا کہ ہم شریعت قوانین کو داخل کر دیں گے تو وہ یہودیوں کا ہاتھ پکڑ کر پھر رہے تھے۔ دیکھئے جو بھی مطالبہ جھوٹ کی بنیاد پر ہوگا  وہ برحق نہیں ہے۔  آپ نے جو یہودیوں کی باتیں واضح کیں اور ہندؤں اور دیگر لوگوں کی بتائیں، یہ اپنوں  کو ہی نہیں مانتے ہیں ، مثلاً یہاں پر ایک انجمن ہے جو مسلمانوں  کی بڑی انجمن سمجھی جاتی ہے اور لوگ اس کے بارے میں کافی باتیں کرتے ہیں  اور ان پر  ہم لوگوں سے بھی زیادہ توجہہ دیتے ہیں ،  لوگ سمجھتے ہیں  کہ ہم لوگ پتہ نہیں کہاں سے آ گئے ہیں  الٹی الٹی باتیں لے کر کے۔ اس انجمن نے کہا کہ اگر یہاں پر کوئی فلم دکھانا چاہے گا  تو اس کو آزادی اظہار کی آزادی ہے

طاہر گورا: شاید   کیئر کین نے کہی۔

منیر سامی:  میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا تھا لیکن آپ نے لے لیا،  اب کیئر کیرن  کے جو چاہنے والے ہیں  ISNA بھی اور ICNA بھی، کہ کیئر کیرن  نے یہ بات کیوں کہہ دی، کیئر کیرن حق بات کر رہی ہے تو اس نے یہ بات کیوں کہہ دی؟ ٹھیک ہے کہ نہیں ۔ ساری بات جھوٹ ہے۔ مثلاً آپ کے یہاں سہروردی صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاکہ بنانے والے کے خلاف مقدمہ کر دیا تھا۔ بڑا مشہور مقدمہ تھا اور اسے ہیومن رایٹس کمیشن میں لے گئے، اس کی تو لوگ چرچا کرتے ہیں  کہ انہوں نے اس کو رگیت دیا اور خود ہی انہوں نے اپنا مقدمہ  Drop کر دیا۔ اور جب انہوں نے مقدمہ  ڈراپ کیا تو انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں  جو آزادی اظہار ہے بڑی مقدس ہے اور میں یہ سمجھ سکا ہوں کہ اس کے اندر بڑی تقدیس ہے، اس لئے میں اپنے مقدمہ کو واپس لے رہا ہوں۔  بھائی آپ نے یہ مقدمہ کرنے سے پہلے کیوں نہیں سوچا تھا کہ آزادی اظہار  اتنی مقدس ہے۔ اگر کینیڈا میں  بیٹھ کر سہر وردی صاحب جو کسی  بڑی اسلامی انجمن سپریم اسلامک کونسل آف کینیڈا سے تعلق رکھنے کا دعوہ کرتے ہیں، وہ یہ بات کہہ رہے ہیں ۔  وہ تو مسلمان ہیں ۔ مسلمانوں کو نظرنہیں آ رہا ہے کہ آپ کا اپنا آدمی کیا کہہ رہا ہے۔

طاہر گورا:  ہاں یہ تو اچھی بات ہے اگر سہروردی صاحب، کیئر ن کیرن ایک طرح سے اگر روشن خیالی کی بات کریں اور روشن خیالی کی وہ بات کریں جو   Rationality پر مبنی ہے اور جو بنیادی حقائق سے جڑی ہوئی ہے۔  اور اس کا فائدہ در حقیقت ہمیں ہوگا۔ دیکھئے آج فرانس کے ایک وزیر کے بیان کی طرف آپ کی توجہہ دلانا چاہتا ہوں، انہوں نے مسجد کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ اگر مسلمانوں نے Freedom of Expression  کا احترام نہ کیا  اور تشدد پر اتر آئے تو ہم ان کو فرانس سے نکال  دیں گے۔

منیر سامی:  دیکھئے بار بار وہی بات ہو رہی ہے۔ اظہار رائےکی آزادی  اور آزادی مذہب جڑی ہوئی چیزیں ہیں ، یہاں کی مسجدوں میں ہم جو مرضی تقریر کرتے ہیں ۔ آپ نے کبھی سنا کی کینیڈا کی حکومت نے جاکر کسی مسجد کے امام کو گرفتار کر لیا ہو، یا یہودیوں کو ہم روزانہ گالیاں دیتے ہیں  ، ہماری قرآن کی آیتوں میں فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ، مسلسل کہا جاتا ہے کہ نہیں کہا جاتا ہے ، ہماری ہر دعا ختم ہوتی ہے فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ کہ ہمیں کافروں کی قوم کے اوپر فتح دے،  کیا کسی نے یہ کہا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو بھائی،  اور اظہاررائے کی  آ زادی کو تو ایک طرف آپ مسلسل استعمال کئے جا رہے ہیں  اپنے لئے اور آزادی مذہب استعمال  کر ہے ہیں ، کہ کینیڈا میں، یوروپ میں  مساجد کی  تعداد بڑھتی  جا رہی ہے۔ اس کو آپ اخلاقی طور پرنہیں دیکھ رہے ہیں ، قومیں ہمیں آزدی مذہب کے تحت ہی تو مسجدیں بنانے دے رہی ہیں ۔

طاہر گورا:  میں مسلمانوں کے اندر جو تین چار بڑے گروہ ہیں   جو Blasphemy کے ایک دوسرے پر حملے کرتے رہتے ہیں ، ان کے حوالے اور ٹورنٹو کے اس احتجاج کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا کہ اس احتجاج میں ہم بنیادی طور پر دیکھتے ہیں  کہ جو اہل تشیع حضرات ہیں  ان کے ایک حاوی گروہ نے اس کو Organise کیا ۔ حالانکہ اس میں اہل سنت بھی شریک ہوئے اور سبھی ایک زبان تھے کہ ہمیں احتجاج کرنا چاہیئے، مگر سوال یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو نعرے لگا رہے تھے کہ ہم سب ایک ہیں ، مگر ہمیں اس حقیقت کونہیں بھولنا کہ  وہ اہل تشیع جو اپنا Freedom of Expression صدیوں سے برت رہے ہیں   اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کونہیں مانتے ہیں ، ان کا حق ہے ، وہ ان کے بارے میں  شواہد لاتے ہیں ،  اسے طرح جو احمدی ہیں  اور ا ن کی جو تشریح ہے اسلام کے حوالے سے وہ،بنیادی طور پر تو اسلامی شریعت پر ہی یقین کرتے ہیں ، تو اس تشریح کو بھی وہ  Blasphemy سمجھتے ہیں  اور آپ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے اظہاررائےکی آزادی کے حق کا استعمال کر رہے ہیں ، تو یہ کیسے ممکن ہیں  کہ جو اتنے بڑے بڑے اختلافات ہیں ، ان کو بھول کر ایک دم سے متحد ہو جائیں؟

منیر سامی: اس کی بنیاد جھوٹ پر ہے نا،  یہ ساری کہانی جھوٹی ہے، یہودی سازش کی کہانی تو کہہ رہے ہیں  ، ابھی آپ نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو جلسہ تھا اس کی ایران کیوں مدد کر رہا تھا؟ سعودی عرب کیوں نہیں کر رہا تھا؟ یہ شیعہ سنی اتحاد دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں  جب پاکستان میں روز  شیعہ  قتل ہوتے ہیں ، تو کیوں نہیں کوئی سنی گروپ  پاکستانی سفارت خانے کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا ہے  کہ ہم شیعوں  کے قتل کے خلاف ہیں ۔

طاہر گورا:  آپ بہت اہم بات کر رہے ہیں ، ہم یہیں  پر بریک کرتے ہیں   اور یہیں  سے بات کو آگے برھائیں گے، ناظرین ہمارے ساتھ رہیئے گا۔

Welcome back ناظرین! منیر صاحب ہم نے بات کا سلسلہ جہاں سے توڑا تھا وہیں  سے بات کو  آگے بڑھاتے ہیں ، آپ نے بہت اہم نکتہ اٹھایا کہ  جس طرح سے پاکستان میں شیعوں کی ایک طرح  سے نسل کشی ہو رہی ہے ، اس پر شیعہ کیوں جاکر احتجاج نہیں کرتے ہیں ، سعودی سفارت خانے کے سامنے، پاکستانی سفارت خانے کے سامنے جو ٹورنٹو یا نیو یارک ، واشنگٹن میں ہے وہاں جا کر کیوں احتجاج نہیں کرتے ہیں ، کیا وجہ ہے اس کی؟

منیر سامی:  میں تو سوال ایران سے کرتا ہوں ، میں بار بار سوال کرتا ہوں،  میرے پاس جواب نہیں ہے۔ ایرانی حکومت جو سب سے بڑی شیعہ حکومت ہے ، جس نے شیعہ اصولوں کی بنیاد پر ایک  نام نہاد اسلامی ریاست بنائی ہے، وہ کیوں نہیں پاکستانی سفیر کو بلاتی ہے  اور اس کو rejoinder دیتی ہے کہ آپ نے ہمارے لوگوں کا ستیاناش کر دیا، ہم آپ سے تعلقات توڑ لیں گے، کیوں نہیں توڑ لیتے، تو یہ کوئی کھیل تماشہ ہی ہو  رہا ہے نا،  یعنی پھر تو آپ جھوٹ بول رہے ہیں ،  کہ آپ کے اپنے لوگ مارے چلے جا رہے ہیں  اور آپ  ان کے لئے تو کوئی احتجاج نہیں کر رہے ہیں ۔

طاہر گورا:  ٹورنٹو کی جس ریلی کا ذکر آپ کر رہے ہیں ، اس ریلی میں  جو مبصرین تھے وہ اس پر تنقید کرتے ہیں  کہ  وہاں کے جو مرکزی مقررین تھے، جو تقریر کرنے والے بڑے بڑے لوگ تھے  وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ شیعہ سنی  کا مسئلہ نہیں ہے، جو کہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے، بار بار کہہ رہے ہیں  کہ یہ یہودیوں کی، امریکیوں کی سازش ہے، اور ان کی تقسیم ہے ، یہ کیا بیان ہے؟

منیر سامی:  پھر Geopolitics آ جاتی ہے۔ یہ ساری منافقت ہے اور جب منافقت کی بنیاد پر آپ کوئی حق مانگنے جائیں گے تو دنیا واضح طور پر دیکھ لے گی آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ جھوٹ آپ کے چہرے پر لکھا ہوا نظر آ جائے گا، جو بھی یہ کہتا ہے کہ شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے ، اس سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں ، اور پھر جھوٹے پر تو اللہ کی لعنت ہوتی ہے، ان کو  شرم بھی نہیں آ تی ہے کہ روزانہ  جھوٹ بول رہے ہیں ، پاکستان میں روزانہ شیعہ مارے جا رہے ہیں ، احمدی مارے جاتے ہیں ، عیسائی مارے جاتے ہیں ، ہم کیوں نہیں جا کر کھڑے ہوتے ہیں ، کوئی یہاں پر  امریکی سفارت خانے کے سامنے کر کے دکھائے کہ ، اے امریکہ والوں، تم پاکستان کو اتنی امداد دئے چلے جاتے ہو، وہاں پر ان قوموں کے خلاف اتنی قتل و غارت گری ہو رہی ہے، آج ہم تم سے درخواست کرتے ہیں  کہ   اس میں آکر تم ہماری مدد کرو ،  وہ تونہیں کرتے، وہ تو سیدھے سیدھے ہر بات کو یہودی سازش بنا دیں گے، ہر بات کو امریکی سازش بنا دیں گے، ان کو پتہ ہے کہ امریکی حکومت کچھ کرنہیں سکتی  ہے، دنیا لکھ رہی ہے کہ امریکی حکومت کچھ نہیں کر سکتی ہے آزادی تحریر اور تقریر کے بارے میں، چاہے وہ کتنی بھی غلاظت سے بھری کیوں نہ ہو۔ تو ہم کیوں نہیں جا کر درخواست کرتے کیونکہ ہم کرنا ہی نہیں چاہتے۔

طاہر گورا: کیا یہ ممکن ہے کہ ہم آزادی تحریر کے حق کو آزادی اظہار  کے حق کو   دبا سکیں جیسا کہ اس وقت مسلمان کوشش کر رہے ہیں  اور OIC  کوشش کر رہی ہے کہ ہم اقوام متحدہ سے ایسا کوئی بل پاس کروا لیں جو اسلام کے تناظر میں یا کسی بھی مذہب کے خلاف کوئی بات نہ ہو سکے۔

منیر سامی:  اس بات کی کوشش  انہوں نے پہلے کی تھی اور اس میں ناکام ہو گئے تھے، پھر ناکام ہو جائیں گے، یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔  ابھی جو صدر بیٹھا ہوا تھا، جہاں پر یہ درخواست دی جا رہی تھی، اقوام متحدہ  کے حقوق انسانی کونسل، اس کے صدر نے کہہ دیا  یہ آپ کیا بات کر رہے ہیں ، یہ تو طے شدہ مسئلہ ہے،  مجھےنہیں پتہ کہ وہ کس ملک کا نمائندہ تھا ، اب اس سے سعودی عرب باہر ہونے والا ہے، پاکستان  اس میں ہے نہیں ، 40-44  ملکوں کا گروپ ہے، ظاہر ہے کہ وہ ممالک ان کے قابو میں نہیں ہیں ، دوسری بات کہ اگر آپ کر بھی لیں گے، فرض کریں کہ آپ ایک نظریاتی طور پر دکھانے کے لئے ایک Resolution پاس بھی کر دیں تو اس پر عمل در آمد کیسے ہوگا؟ آپ کہہ رہے ہیں  ان چیزوں کو  Criminalise کرو، ان بے وقوفوں کو نظرنہیں آ رہا ہے کہ ان تمام ملکوں میں جہاں آزادی اظہار کا اتنا زور ہے وہاں پر   Hate Crime Laws بھی موجود ہیں ۔ میں نے ایک چیلنج کیا، لیکن کوئی سننے والانہیں ہے، میں نے چیلنج کیا ہے کہ اگر آپ کو اس فلم میں اتنی مصیبت نظر آئی ہے، جس میں آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوئی ہے، تو یہ بری بات ہے، میرا بھی دل دکھتا ہے کہ ہمارے ایک نبی کی توہین کر دی، کیونکہ عقیدہ تو عقیدہ ہوتا ہے، دل کو تو لگتا ہے کہ بہت بڑی برائی کر دی ہے،یہ تو Insult ہے، لیکن یہ کہ کسی نے کیوں نہیں امریکہ میں جاکر کسی عدالت کا دروازہ کھٹ کھٹایا اور یہ کہا کہ اس شخص نے توہین کی ہے اور ان ان اصولوں پر توہین ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے ہم مقدمہ کرنا  چاہتے ہیں ۔ یہ نہیں ہے کہ ان ملکوں میں کام نہیں ہوتا ہے، ابھی امریکہ میں ہی کسی نے Mormon مذہب کے لوگوں میں بھی اختلافات ہوتے ہیں ، عیسائیوں میں بھی اختلافات  ہوتے ہیں  جیسا کہ ہمارے یہاں بھی ہوتے ہیں ۔ تو کوئی  Mormon مذہبی رہنما جو اس سے خوش نہیں تھا، میرے خیال میں یہ عیسائیوں میں Mormonلوگوں کا ایک گروپ ہے کو جو لمبی داڑھیاں رکھتے ہیں  جن کی عورتیں لمبے بال رکھتی ہیں ، کٹوا نہیں سکتی ہیں ، اسی کے اندر کوئی دشمن گروپ پیدا ہو گیا اس کے کسی شخص نے ایک مذہبی پیشوا کی داڑھی اور اس کی بیوی کے بال کاٹ دئے، اس شخص کو سزا ہوئی،  پندرہ پندرہ، بیس بیس سال کی سزا ہوئی، آپ ثابت کریں، آپ یہ ثابت کریں کہ اس کو کرنے سے میری ذات پر حملہ ہوا ہے یا اتنا اکسایا گیا ہے کہ لوگ میرے گھر کو جلانے آ گئے، وہ وہی کرے گا جس کے خلاف آپ کام کر رہے ہیں ،، فلم بنانے والا وہ جاکر  مقدمہ دائر کر  دے گا، وہ کہے گا جی میں نے تو یہ کیا تھا یہ لوگ تو مجھے مارنے چلے آئے، Hate Crime تو یہ کر رہے ہیں ، میں تونہیں کر رہا ہوں۔

طاہر گورا: آپ نے اہم بات کی۔ آپ نے  مثال بھی بہت عمدہ دی جو  اس کے سارے تاظر کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے، مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ  ایک طرف سے تو ہمارا  یہ مطالبہ ہے کہ  یہ  Hate Crime ہے مگر ہم میں  سے کوئی اس کو ثابت نہیں کر سکتا ہے۔ مگر مبصرین یہ کہتے ہیں  کہ Hate Crime وہ ہوتا ہے  جس پر کسی گروہ کی جان کو خطرہ ہو، اس سارے واقعہ میں  تو ایک Insult ہے، کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہے، اگر جان کو خطرہ ہے تو یہ خود ہی مشتعل ہوتےجا رہے ہیں  ، ایک دوسرے کو مارے چلے جا رہےہیں  ، اس میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

منیر سامی: میں ایک بات کہتا ہوں، پہلی بات یہ ہے کہ  اگر یہ Hate ہے تو پورے یوروپ اور امریکہ میں، کینیڈا میں، جہاں پر یہ سارے ہنگامے کئے جا رہے ہیں ، تو وہاں پر  Hate Crime Laws موجود ہیں ، میں نے کسی کو یہ مشورہ دیا کہ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ دنیا کا امیر ترین مسلمان ملک  سعودی عرب اور دوسرے مسلم ممالک  مل کر  Anti Hate Crime اور Anti Islam Hate Crime Fund کا قیام کریں، جس کے اندر وہ سو ملین ڈالر ڈال دیں، اور پھر کوئی ایک مثالی مقدمہ اٹھائیں اور اس مقدمہ کو لے کر کینیڈا میں بھی اور امریکہ میں بھی آگے چلیں اور کہیں  کہ وکیلوں کو پیسے ہم دیں گے، ہم امریکہ کے بہترین آئینی وکلاء استعمال کریں گے، اور یہاں کے وکیل پیسہ لینے کے لئے تیار رہتے ہیں ، ان کو ان کے پیسے دیجئے400 ڈالرس، 500ڈالرس جو اس کو چاہیئے، اس کی ذریعہ سے ہم درخواست ڈالیں گے اور ہم اس کو سپریم کورٹ تک لے کر جائیں گے۔ اس کو چیلنج کریں گے اور دیکھیں گے کہ  یہ ہوسکتا ہے کہ نہیں ہو سکتا ہے۔  کوئی بھی نہیں کر رہا ہے، ایک  سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اتنا ہنگامہ سعودی عرب میں کیوں نہیں اٹھ رہا ہے، پاکستان میں تو ہو رہا ہے، اس بار ایران  میں بھی ایسا کوئی بڑا ہنگامہ نہیں ہو رہا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جمعہ کے دن لاکھوں لوگوں کوجمع   کر لیتے  ہیں ، اس دفع تونہیں کیا انہوں نے۔ سعودی عرب میں کیوں نہیں کیا، اس لئے کہ  وہاں ان ملکوں میں آازدی اظہار کے حق کا خود وجودنہیں ہے۔

طاہر گورا: آپ بڑی اچھی بات کر رہے ہیں ، اگر یہ واقعی  Hate Crime ہے تو یہ لوگ پیسے جمع کریں اور یہ الگ بات ہے  کہ عدالتیں بعد میں فیصلہ کریں گی کہ Hate Crime تھا یا Freedom of Expression ہے، مگر کیا ان پر بھی مقدمہ نہیں ہو سکتا جو  باقاعدہ Hate Crime کر رہے دوسرے مذاہب کے خلاف ۔

منیر سامی: ان کے ساتھ تو ایسا ہوگا، میں تو آپ سے یہی کر رہا ہوں کہ اگر یہاں پر احمدی رہتے ہیں ،  آپ کسی کو اکسائیے کہ جاکر  احمدی  مسجد کو توڑ کر آ جائو۔ آپ کسی کو اکسائیے کہ فلاں احمدی مولانا ہیں  ان کو جاکر قتل کر دو، کیوں نہیں کرتے ہیں ، اس لئے کہ ان کا دم نکلتا ہے۔   کیونکہ ان ملکوں میں  آزادی اظہار کا حق نہیں  ہے ، کیونکہ وہاں آزادی مذہب بھی نہیں ہے، جن ملکوں میں جھوٹ کی پوٹلی پر کام ہو رہا ہے، جو خود دوسرے کے مذہب کو  Protect نہیں کرتے ہیں ، ان کی توہین کرنے والوں کی خبرنہیں لیتے،وہ کیسے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ  دوسرے ان کے مذہب کی عزت کر لیں۔

طاہر گورا: بد قسمتی سے   Hate Crime کے تو خود مرتکب ہیں

منیر سامی: روزانہ کرتے ہیں

طاہر گورا: آپ نے اہم نکتہ اٹھایا تو کیا  پاکستان  یا دیگر اسلامی ممالک میں Freedom of Expression کا کوئی Concept ہی نہیں ہے۔

منیر سامی: اس لئےنہیں ہے کہ  سالہا سال سے  دنیا مانتی ہے کہ ہم آمریت کے نظام کے تحت رہے ہیں ، سالہاسال سے، جب سے ہم آزاد ہوئے ہیں ، برطانہ بھی  ہمیں کچھ نہ کچھ آزادی دے دیا کرتا تھا، لکھنے کی ،پڑھنے کی وغیرہ وغیرہ لیکن سالہاسال سے ہمارے  یہاں یہ روایت بن ہی نہیں سکی یا ہم  اس بات کو سمجھ ہی نہیں پائے ہیں ، کہ یہ آزادی اظہار ہوتی  کیا بلا ہے؟  پاکستان میں ابھی میں آپ سے سوال کروں کہ وہاں  لوگ ہمیں سنیں، تو ان سے سوال کروں کہ  آپ کے یہاں آزادی اظہار والی انجمنیں بہت وثوق والی کیوں نہیں ہیں  سامنے، آپ نے جو صحافیوں کی انجمنیں بنا رکھی ہیں ، ان کے دم نکلے ہوئے ہیں ۔  کوئی پاکستانی صحافی، ابھی  پچاس صحافی ، بیس صحافی مارے گئے، اب وہاں کاطریقہ یہ ہو گیا ہے کہ، جیل  میں ڈالتے ہیں   تاکہ دنیا کو نظر آئے کہ ہم نے پکڑ کر بند کر دیا ، اور وہاں سیدھے سیدھے مار ہی دیتے ہیں ۔ ایسا کیوں نہیں ہے کہ پانچ دس ہزار صحافی، وکلاء سڑکووں کےاوپر نکلیں اور  کہیں  کہ ان کو آزادی اظہار کا حق تھا ۔ طالبان کے خلاف لکھنے کا، حکومت کے خلاف لکھنے کا ، فوج کے خلاف لکھنے کا ، آپ دیکھتے ہیں  کسی کو آتا ہوا،

طاہر گورا:  بد قسمتی سے ہمیں ایسا ہوتا ہوا نظرنہیں آ رہا ہے۔

منیر سامی: جب ہمیں نظر ہی نہیں آتا تو ہمیں سمجھ میں کیسے آئے  کہ اظہاررائے کی  آزادی ہوتی ہی کیا چیز ہے، کیونکہ ہم نے اپنی پوری نفسیات بگاڑ دی ہے۔

طاہر گورا: آپ نے بہت  اہم بات کی ہے۔ فی لحال وقت ہے بریک کا، ناظرین ہمارے ساتھ رہیئے گا۔

Welcome back ناظرین! منیر صاحب آپ نے بہت ساری جہتوں سے اس مسئلے کو ہمیں سمجھانے کی کوشش کی۔  میں نے کہا تھا کہ ایک طرف آزادی اظہار کا معاملہ اور دوسری طرف توہین مذہب کا معاملہ ہے۔  توہین مذہب کی جب ہم بات کرتے ہیں  یا اعلان کرتے ہیں  کہ یہ قانون پاس ہو، تو یہ ہمارے لئے مشکل ہو جاتا ہے کہ  ہم اس وقت کہتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں  کہ  ہم تو دیگر مذاہب کی توہین کر رہے ہیں ۔ جہاں تک دیگر مذاہب کی توہین کی بات ہے تو وہ خود  اسلام اس پر  Freedom of Expression کو Exercise کرتا ہے۔ وہ خود دوسروں کو Reject کرتا ہے اور اس میں کوئی بری بات نہیں ہے۔ اچھا اس سارے تناظر میں جب ہم بات کو آگے بڑھاتے ہیں   تو ایک اہم نکتہ جسے ہم نے چھوا جس پر ہمیں تفصیلی بات  کی ضرورت ہے،وہ یہ کہ لوگوں کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں  اس فلم سے یا اس ڈینش کارٹونوں سے یا حتیٰ کی بیچارے سلمان رشدی کے ناول پر، اس سے لوگوں کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں  مسلمان 1.4- 1.6 بلین ہیں ۔ تو ہم یہ کہتے ہوئے بھول جاتے ہیں  کہ دوسری طرف 3.6 بلین دیگر لوگ بھی ہیں ۔ 1.6 بلین لوگوں کے جذبات مجروح نہ ہوں ان کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟

 منیر سامی: یہ تو  مفاد پرستی یا خودغرضی کی بات  ہے کہ ہم تو  اپنے لئے آسانی کرتے رہیں  دوسروں کو نہ ہم حق دینا چاہتے ہیں  اور نہ  عزت کرنا چاہتے ہیں ۔ اس میں ایک ضروری بات رہ ہی جا رہی ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں عرض کرنا چاہوں گا۔

طاہر گورا: جی ضرو رضرور

منیر سامی: جب ہماری لوگوں سے بات ہوتی ہے کہ ہمارے اظہار رائے کی  آزادی کی تو آپ بڑی بات کرتے ہیں  لیکن  وہ جو  Holocaust Denial کے کرائم ہیں  ، ان کو تو سب Holocaust Denial بنا دیتے ہیں  Holocaust  کی تو کوئی بات ہی نہیں کر سکتے ہیں۔  اور امریکہ کو الزام  دیتے ہیں  کہ امریکہ Holocaust Denial لوگوں کو  بننے دیتا ہے اور ان کو یہ نہیں پتہ ہے کہ امریکہ میں Holocaust Denial کرائم نہیں ہے۔ عوام کو یہ بات پتہ ہونی چاہیئے۔

طاہر گورا: فرانس اور جرمنی میں ہے۔

منیر سامی: اس کی بھی بات کرتے ہیں ۔  یہودی خود اس بات پر نالاں ہیں  کہ  امریکہ  کی جو آزادی اظہار کی پہلی ترمیم ہے  وہ انہیں  یہاں پر   Holocaust Denial کو جرم نہیں بنانے دیتی ہے۔ اور سب لوگ یہ سمجھ  کر امریکہ کو ڈنڈہ مارتے ہیں  کہ تم تو  یہودیوں کی مدد کرتے ہو۔ Holocaust Denial کی یہ کتنی اہم بات ہے۔

طاہر گورا: اور شاید کینیڈا میں بھی نہیں ہے۔

منیر سامی:  Hate Crime   کہیں  بھی نہیں ہو سکتا ہے، لے جائوامریکہ میں بیٹھ کر Holocaust کو برا کہتے رہو، کوئی نہیں پکڑنے والا۔ پھر کوئی کہتا ہے کہ امریکہ میں کمیونسٹ پارٹی نہیں ، کمیونسٹوں کو بولنےنہیں دیتے ہیں ۔ ان کو پتہ نہیں کہ نیو یارک میں کمیونسٹ پارٹی  بنی ہوئی ہے اور وہ کمیونسٹ پارٹی خود کہہ رہی ہے کہ پہلے تو ہمارے اوپر پابندیاں ہوتی تھیں لیکن گزشتہ تیس چالیس سالوں میں قوانین ہمارے حق میں بہتر ہوتے چلے جا رہے ہیں  ہم نے اپنی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی ہیں ، ہم سچ کو دیکھنانہیں چاہتے ہیں ، جھوٹ کو پھیلانا چاہتے ہیں ۔ میڈیا تھوڑا بہت ہمارے قبضے میں آگیا ہے، ہم جھوٹ بولتے ہیں ۔

 اب فرانس کی اور جرمنی کی بات کر لیتے ہیں  آخریہ  Holocaust Denial جرم ہے کیوں؟ وہ اس لئے ہے کہ مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ لاکھوں یہودی بری طریقے سے مارے گئے تھے۔ اگر کوئی کہے کہ چھ ملین مارے گئے تھے، تو اب گنتی تو میں نہیں کر سکتا، میرا سوال یہ ہے کہ اگر آپ نے پچاس لوگوں کو بھی ایک تندور میں بھون دیا اور یہ ہوا ہے، اور سب کی پچھلے ساٹھ سال کی مکمل تاریخ موجود ہے، جب یہ کسی کو گرفتا کرتے ہیں ، جس نے اس Holocaust میں حصہ لیا تو اس کے خلاف ان کے پاس پورا ثبوت ہوتا ہے۔ چلیئے ایک لاکھ، دو لاکھ، چھ ملین نہ مانو میں انکارنہیں کر رہا ہوں، میں تو مانتا ہوں کہ ایک  ظلم عظیم ہوا تھا، نسل کشی ہوئی تھی، لیکن یہ نہیں سمجھ رہے ہیں  ان قوانین سے آپ کی اپنی کیا مدد ہو رہی ہے۔ دیکھئے بوسنیا میں جب اس قسم کی نسل کشی شروع ہوئی، تو امریکہ نے بوسنیا پر جاکر بم باری ناٹو کے ذریعہ کیا۔ مسلم ممالک اس بات کو بھول جاتے ہیں ۔ سربینس کو مارا ہے ان کے ذریعہ سے مسلمانوں کی ریاست بن کر سامنے آئی ہے۔ مسلمان تو اس بات کو تو بھول جاتے ہیں ۔ بوسنیا کے سارے لوگ یہاں پر پھرتے ہیں ۔ کیسے آگئے یہاں پر، بوسنیا کی بہت سی مسجد بنی ہوئی ہے یہاں کینیڈا میں۔ تو ان ملکوں میں دیکھئے کہ کیا وہ اتنے ظالم لوگ تھے۔  یوروپ میں یہودیوں کے خلاف نفرت ہمیشہ سے رہی ہے۔ کیونکہ وہ یہودیوں کو کرائسٹ کلر  سمجھتے ہیں ۔ جو بہت شدت پسند عیسائی ہیں ۔  سفید فام نسلی مصیبتیں تو ہیں ، Anti-Semitism وہیں  سے نکل کر آیا ہے۔ یہودیوں کے خلاف ابھی بھی  Anti-Semitism کیا جاتا ہے۔ ان قوموں نے جنہوں نے جنگ عظیم میں حصہ لیا لاکھوں لوگ مر گئے کٹ گئے۔ تو انہوں نے سوچا کہ یہ جذبہ تو ہمارے یہاں موجود ہے اور یہ کسی بھی وقت بھڑک سکتا ہے اور یہ  Holocaust Denial  کی تردید کرنا اس کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے، ، اس لئے ہم اس کو جرم قرار دے رہے ہیں ۔ خود اپنے احساس جرم کے تحت اس کو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں  اور اپنی قوم کو سختی سے اس جرم سے روکنا چاہتے ہیں ۔ اور ہم اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اور یہودیوں نے جو بھی قوانین انسانی حقوق کے بنوائیں ہیں ، اس سے سب مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

طاہر گورا: بدقسمتی سے ہمیں یہ واضح فرق سمجھ ہی نہیں آتا کہ رائے اور حقیقت میں کیا فرق ہوتا ہے۔  Freedom of Expression رائے کے لئے ہے، آپ اگر حقائق کو غلط طریقے سے پیش کریں گے تو شاید کوئی آپ کو کچھ کہے گا تونہیں لیکن  آپ پر کوئی جرم نہ لگائے، دنیا کے بہت سے ملکوں میں، جرمنی میں ہوں گے تو لگ جائے گا ، مگر آپ الّو تو نظر آئیں گے۔

منیر سامی: دیکھیں میں نے کسی سے کہا کہ  کینیڈا میں خبریں چھپتی ہیں  کہ یہودی  کے قبروں کے اوپر سواستک کا نشان بنا دیا  گیا، یہودی قبریں توڑ دی گئیں، کیا کسی  نے مجھ کو دکھایا ہے کہ مسلمانوں کی قبروں کو الٹ دی کسی نے یہاں پر ۔ ہماری قبرین یہاں پر عیسائیوں کے برابر میں لگی ہوئی ہیں ۔ ہم پاکستان میں اپنے قبرستانوں میں احمدیوں کو دفن ہونےنہیں دیتے ہیں ۔

طاہر گورا: تو کیسےہم یہ Blasphemy  کی بات کرنے کی ہمت کر سکتے ہیں ؟

منیر سامی: سب جھوٹے ہیں  ہم لوگ ، سیدھے سیدھے ہم یہ بات کہہ رہے ہیں  جو بات بھی  جھوٹ کی بنیاد پر ہوگی ،جو  شاخیں نازک پر آشیانہ بنیں گیں ناپائیدار ہونگی، بات اقبال نے ہی کہی ہے، اقبال اقبال کرتے رہتے ہیں  لیکن اس کی بات سنتےنہیں ہیں

طاہر گورا: کبھی کبھی انہوں نے اچھی باتیں بھی کی ہیں

منیر سامی: شاعر تو وہ اچھے تھے کہیں  کہیں  پر وہ، باتیں تو اچھی کرتے تھے، الٹ پلٹ کرتے تھے اور ہم اسی الٹ پلٹ میں کچھ باتیں اپنے کام کی نکال لیتے ہیں  جیسے ملا  اپنی چیزیں لے کے پھرتا ہے۔ وہ دکھاتاہے  کہ بھئی تم اس کو بھی  تو دیکھ لو۔  وہ بھی تو آزادی اظہار کا استعمال کر رہے تھے جب وہ کہ رہے تھے سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔

 نانک نے جس  دھرتی پر وحدت کا گیت گایا  میرا وطن وہی ہے۔ اب جاکر علامہ اقبال پر  Blasphemy کا مقدمہ کر دو  کہ انہوں نے نانک کو وحدت کا پیغمبر قرار دے دیا۔

طاہر گورا: ایک طرف تو ہم  Balsphemy کے مقدمہ کرنا چاہتے ہیں  تو دوسری طرف ہم چاہتے ہیں  کہ  Balsphemy  ختم ہو جائے، تو ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ کیا کرنا ہے؟

منیر سامی: اس لئے کہ وہ جہالت  کے پتلے ہیں ۔

طاہر گورا: بد قسمتی سے

منیر سامی: دیکھئے ابھی میں نے آپ سے بات کہی کہ  آزادی کے صحافی صحافی ہم چیختے رہتے ہیں  ، ہم ان کے لئے لڑتے

 رہتے ہیں ، وہ  آزدی کے لئے کچھ نہیں کر رہے ہیں ، وہ گورا صاحب پر یا منیر صاحب پر یاکسی باہر والے پر  Dependent ہیں ، انگریزی میں لکھ لکھ کر شور مچاتے رہتے ہیں ، انگریزی کوئی پڑھتا وڑھتانہیں ہے، جب اردو میں بات جانے لگتی ہے تو مشکل ہو جاتی ہے وہ کہتے ہیں  کہ یہ کیا ہو گیا، یہاں پر لوگ بیٹھ کر، آپ کے یہاں لوگ ٹی وی پر پروگرام کرتے ہیں ، آپ بات کر رہے ہیں  تو میں آپ کو جواب دے رہا ہوں۔ دوسروں کے خلاف Blasphemy کرنا جرم ہے کہ نہیں ، یہاں پر ٹی وی اینکرس سے بات کرو تو بات کو کاٹ دیتا ہے۔ یہ تو ظلم ہے، یہ تو جھوٹ ہے۔ اگر آپ اس میڈیا میں آکر بیٹھیں گے  جس کی آپ کو اجازت ملی ہے تو آپ یہاں پر سچ نہیں بولیں گے اور سچ سے منھ ادھر ادھر کریں گے تو یہ میڈیا کی جو عنایت آپ کے اوپر ہوئی ہے وہ ایک  نہ ایک دن ختم ہو جائے گی۔

طاہر گورا: ایک اہم بات جس کو میں دوبارہ چھونا چاہتا ہوں، جذبات مجروح ہونے کے معاملے کو لے کر ،  ایک مثال دوبارہ دیکھنے کو ملی اور فرانس سے ہی آئی، فرانس میں ایک بل پاس ہونے جا رہا ہے اور اس بل میں کہا گیا ہے کہ Gays اور  جو Lesbians ہیں  وہ آپس میں والدین کہلائیں گے۔  ماں اور باپ کا کھانہ فرانس کے تمام فارموں سے نکالا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں فرانس کا جو کیتھولک چرچ ہے وہ ظاہر ہے react کر رہا ہے، اس کی ایک انتہائی Mild قسم کی Reaction سامنے آئی ہے، جس میں کچھ اس طرح کی بات کی گئی ہے کہ بھئی یہ زیادتی ہے یہ اچھانہیں ہے، یہ غلط ہے، تو دلچسپ بات یہ ہے کہ فرانس میں اہم واقعہ ہونے جا رہا ہے کہ وہاں صرف Parents رہیں  گے ماں اور باپ نہیں رہیں  گے۔ تو اتنی بڑی Balsphemy مذہب کی ہو رہی ہے اور اس کو وہ قبول کر رہے ہیں ۔

منیر سامی: دیکھئے قدریں مکمل طور پر بدل گئی ہیں ۔  ابھی میں نے  ایک کالم لکھا ہے جو شاید کل پرسوں لوگوں کے سامنے آئے گا، جس میں  میں  نے کینیڈا کا جو شماریاتی ادارہ ہےStatistitcs Canada اس نے جو مردم شماری کی رپورٹ نکالی ہے، اس میں اس نے کہا ہے کہ کیسے یہاں کی قدریں بڑھ رہی ہیں ، یہاں پر ہم جنس پرست شادیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، پھر غیر شادی شدہ جوڑے ساتھ رہ رہے ہیں ، یہاں پر سنگل فیملیاں بہت زیادہ عروج پر جا رہی ہیں ، مسلمان ان سب چیزوں کو تو دیکھ رہا ہے، اس کے خلاف عیسائی بھی شور مچاتے ہیں ، قانون کوئی نہیں بنا سکتا، انہوں نے طے کر لیا ہے کہ انسانی حقوق سب سے عظیم ترین چیز ہے، دنیا میں بقائے باہمی کے لئے، اور اس کے اندر اظہار رائے کی آزادی کا حق سب سے بڑا حق ہے۔

طاہر گورا: آپ نے دو اہم باتیوں  پر ہمارا  پروگرام بھی ختم ہوتا ہے۔ تھوڑا سا Sum up کروں گا کہ انہوں نے طے کر لیا ہے کہ انسانی حقوق سب سے زیادہ عظیم ترین چیز ہے اور انسانی حقوق کے تعین کا دارومدار  اظہار حق پر ہے

منیر سامی: آپ نے کہا کہ رسول اللہ  صلی علیہ وسلم آزادی اظہار کا استعمال کر رہے تھے۔

طاہر گورا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استعمال کیا، بھرپور طریقے سے استعمال کیا، قرآن شریف کی جو آیات ہیں  پورا کا پورا جو متن ہے  وہ خود آزادی اظہار کا نمونہ ہے۔  بہت سی جگہوں پر قرآن دوسرے نظریات کونہیں مانتا ہے۔  تو یہ ایک حق ہے اور  یہی وہ حق ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  تسلیم کرتے تھے اور اسی  حق کو فرانس بھی لے کر چل رہا ہے۔

منیر سامی: ساری دنیا لے کر چل رہی ہے۔

طاہر گورا: اور ہم  یہ کہہ رہے ہیں  کہ کسی طریقے سے ایسے بل لائیں کہ  دنیا پر پھر قدوغن لگ سکیں تو جو کہ شاید ممکن ہوتا نظرنہیںآرہا ہے۔

منیر سامی: احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں  جو ایسی بات سمجھ رہے ہیں ۔

طاہر گورا: آپ نے بہت اچھی بات کے ساتھ ہمارے پروگرام کا اختتامی جملہ کہا۔  ناظرین اسی کے ساتھ ہمارا پروگرام دیکھنے کا بہت بہت شکریہ۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/derogatory-films-and-the-right-to-freedom-of-expression--ہتک-آمیز-فلم-اور-آزادی-اظہار-رائے-کا-حق/d/8982

 

Loading..

Loading..