New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 11:37 PM

Urdu Section ( 10 Nov 2013, NewAgeIslam.Com)

Did Ulema of Deoband Oppose Modern Education? کیا علما ء دیوبند نے جدید تعلیم کی مخالفت کی ہے؟

 

طالب علم

8 نومبر، 2013

عرصہ دراز سے یہ بات بڑے زور  و شور سے کہی جارہی ہے کہ علما ء کرام بالخصوص علما ء دیوبند نے جدید تعلیم کی مخالفت  کی یہاں تک کہ علماء انگریزی زبان  اور ادب  کے بھی مخالف تھے،انہوں نے انگریزی تعلیم کے خلاف فتویٰ دے کر مسلمانوں  کو اس سے محروم رکھا جس کی وجہ سے مسلمان دنیوی تعلیم کی مخالفت کے اس بے بنیاد  افسانہ کو اس زور شور اور تسلسل  کے ساتھ پھیلا یا جارہا ہے کہ آج ہمارے بہت سے پڑھے لکھے لوگ اس دام  فریب میں پھنس گئے  حتی کہ آج کل مولویوں کا بھی ایک طبقہ اس پر یقین  کرتا ہے اور اپنے بزرگوں کی رائے سمجھ  کر جو انگریزی  تعلیم کی مخالفت میں بحث کرنے لگتا ہے ، اور مدارس سے فراغت  کےبعد یونیورسیٹوں  میں تعلیم حاصل کرنے کو قوم کےساتھ خیانت قرار دیتا ہے۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ علماء حق نے کبھی بھی انگریزی یا کسی اور زبان کو سیکھنے  کی نہ مخالفت کی اور نہ ہی  وہ ایسا کرسکتے تھے ، ظاہر ہے وہ کسی علم کے حاصل کرنے کی مخالفت کرتے بھی کیسے جب کہ پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم آج سے چودہ سو سال پہلے ہی واضح اعلان فرما چکے تھے کہ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم اور مسلمہ ہر مسلمان مرد عورت پر علم  حاصل کرنافرض ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاص علم کی بات نہیں کہی بلکہ خود اپنےچہیتے صحابی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو یہودیوں  کی زبان عبرانی سریانی سیکھنے کا حکم دیا تھا ، جیسا کہ حدیث شریف  میں آتا ہے جس کے راوی خود حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں ۔

ترجمہ۔: مجھے حکم دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے میرے لئے  یہود یوں  کی کتاب میں چند کلمے  سیکھو اور فرمایا خدا کی قسم مجھے یہودیوں  پر اپنے خط  کے متعلق اطمینان  اور بھروسہ  نہیں ہے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نصف مہینہ بھی نہ گزر نے پایا تھا کہ میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے سیکھ لیا جب میں نے سیکھ لیا تو جب کوئی خط یہودیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتے تو میں انکی طرف سے لکھتا اور جب وہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا خط پڑھ کر سناتا ، اس حدیث  کے ذیل میں ملا علی قاری و ضاحت کرتے  ہیں کہ شریعت کے نزدیک کسی زبان کا پڑھنا یعنی سیکھنا  عیب کی بات نہیں چاہے سریانی ہو یا عبرانی ہندی ہو یا ترکی یا فارسی ، قرآن  کریم کی متعدد آیتوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام میں زبان کی تفریق نہیں ہے بلکہ قرآن نے تو زبانوں کے اختلاف کو خداوندقدوس کی نشانی قرار دیا ہے، (روم 22) یعنی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں  میں سے ہے آسمان و زمین کا بنانا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کامختلف  ہونا ۔ یہ بات متفق علیہ کہ جس چیز کااللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہو اس سے اگر کوئی شخص انکار کرتا ہے تو وہ مسلمان نہیں ہوسکتا علما ء کی نسبت تو اس طرح کاگمان بھی قائم نہیں کیا جا سکتا  بالخصوص علما ء دیوبند کی نسبت  جن کا مقصد روز اوّل  سے ہی اسلام کی اشاعت  ہے شریعت کی ان واضح  ہدایات  کے پیش نظر ہمارے اسلاف  نے دوسری قوموں کےعلوم  و فنون کو اپنانے میں اس  وقت بھی کوئی جھجک محسوس نہیں کی جب وہ دنیا کے ایک بڑے خطہ  پر اپنی شان و شوکت کاعلم بلند کئے ہوئے تھے انہوں نے ماضی  میں نہ صرف یونانیوں  کے علوم و فنون فلسفہ  ، حکمت، طب، ریاضی، ہئیت ، نجوم ، کیمیا ، اطیر، جعفرایہ اور طبیعات  وغیرہ کو نہ صرف حاصل کیا بلکہ انہیں اس طرح  اپنا لیا کہ وہ سقراط جالینوس اور ارسطو و افلاطون  کے علمی کےمالک ووارث بن گئے ۔ علما ء اسلام نےان علوم و فنون کہلاتے ہیں جب ماضی  میں علما ء کرام نے اپنے وقت  کے تمام علوم میں مہارت حاصل کی ہے تو موجودہ علما ء کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ جدید تعلیم کے مخالف ہیں ایک شدید غلط فہمی ہے ۔ میں آپ  کے سامنے ہندوستان کے چند جید علماء کے فتوے نقل کرتا ہوں جس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا  انہوں نے جدید تعلیم کی مخالفت کی یا اس کی حمایت ؟ 1857 سے پہلے ہی ہندوستان میں انگریزی زبان وادب کاچرچا عام ہوچکا تھا اور اس کی افادیت کو بھی عوام تسلیم کررہے تھے، مگر جب انگریزوں کی سازشوں  کا جال مسلمانوں پر منکشف  ہوا تووہ کس قدر بد کے اور اس سلسلے  میں علما ء  سے فتویٰ  پوچھا کہ کیا انگریزی زبان و ادب  کو سیکھا جاسکتا ہے تو علما ء نےاس کے  جواز کا فتویٰ دیا سرسید احمد خاں لکھتے ہیں کہ شاہ عبدالعزیز  جو تمام ہندوستان میں نامی مولوی  تھے مسلمانوں نے ان سے فتویٰ پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ انگریزی کالج جانا اور پڑھنا  اور انگریزی زبان سیکھنا بموجب مذہب کے سب درست ہے بلکہ انہوں نے مزید فرمایا کہ جاؤانگریزی کالجوں میں پڑھو اور انگریزی  زبان سیکھو شرعاً  ہر طرح جائز ہے ( اسباب بغاوت ہند)

فقہ حنفی  کے قدیم  تعلیمی  مرکز فرنگی محل لکھنو کے یگانہ و روزگار عالم مولانا عبدالحی  لکھنوی  نے انگریزی تعلیم کےمتعلق  فتویٰ  دیا کہ انگریزی زبان کا پڑھنا یا انگریزی لکھنا سیکھنا  اگر بہ لحاظ تشیہ  کے ہوتو ممنوع ہے اور اگر اس لئے  ہو کہ ہم انگریزی میں لکھے ہوئے خطوط پڑھ سکیں  اور ان کی کتابوں کے مضامین سے آگاہ ہوسکیں تو کوئی حرج نہیں ( مجموعہ فتاوی مولانا عبدالحی)۔ مولانا رشید احمد گنگو ہی سے انگریزی زبان کی تعلیم کے سلسلے میں فتویٰ  پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ انگریزی  زبان سیکھنا درست ہے بشر طیکہ کوئی  معصیت کا مرتکب نہ ہو اور نقصان دین میں اس سے نہ ہو ( فتاوی رشیدیہ)

علما ء نے روز گار حاصل کرنے کے لئے بھی کھل کر انگریزی تعلیم کے جائز ہونے کافتویٰ  دیا حجۃ الاسلام الامام محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان طلبا ء کی نسبت جو مدارس عربیہ سے فارغ ہوکر سرکاری اسکولوں  میں داخل ہوناچاہیں  1290 مطابق 1873  میں دارالعلوم  دیوبند  کے جلسہ تقسیم  انعامات  میں تقریر  کرتے ہوئے ایسے طلبا ء کی ان الفاظ  میں حوصلہ افزائی فرمائی اگر مدرسہ کے طلبہ سرکاری مدرسوں میں جاکر جدید علوم  حاصل کریں تو یہ بات ان کو کمال  کی جانب بڑھانے  والی ثابت ہوگی ۔(روداد دارالعلوم 1290 ھ مولانا مناظر احسن گیلانی نے مولانا نانو توی رحمۃ اللہ علیہ  کے متعلق سوانح قاسمی میں لکھا ہے کہ آپ ایک بار سفر حج کو جارہے تھے سفر بحری جہاز  سے تھا اتفاق  سے جہاز میں سوار ایک انگریز نے آپ سے اسلام کے سلسلے میں سوال کیا چونکہ آپ  انگریزی بولنا نہیں جانتے تھے اس لئے ترجمان کے ذریعہ اس کے سوال کا جواب دیا تو وہ بہت خوش ہوا اور مطمئن ہوا اس پر مولانا نے کہا کہ اگر میں براہ راست انگریزی میں اس کے سوال کا جواب دیتا تووہ زیادہ بہتر طریقہ سے اپنے سوال کاجواب پاکر مطمئن ہوتا  اس کے بعد مولانا نے اپنی خواہش ظاہر  کی کہ میں واپس ہندوستان جاکر انگریزی سیکھو ں گا مگر آپ کایہاں آنے کے بعد انتقال ہوگیا مولانا گیلانی کایہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ صورت حال پیش آجاتی تو دارالعلوم دیوبند  کی علمی تحریک کا رنگ ہی کچھ  اورہوتا،استاذ الا ساتذہ شیخ الہند  بھی انگریزی حکومت سے سخت نفرت کےباوجود انگریزی تعلیم کےمخالف نہ تھے اس لئے انہوں نے شید علالت کی حالت میں  16 صفر 1239 ھ مطابق  29 اکتوبر 1920 کو علی گڑھ کاسفر کیا اور مسلم نیشنل یونیورسٹی  کی بنیاد رکھی جو بعد میں جامعہ ملیہ  اسلامیہ کے نام سے موسوم ہوکر علی گڑھ سے دہلی منتقل  ہوئی ۔ اس موقع پر آپ نے جو اہم خطبہ  دیا تھا وہ ہمیشہ یاد گار رہے گا آپ نے فرمایا تھا آپ میں سے جو محقق اور با خبر لوگ ہیں وہ جانتے ہونگے  کہ بڑے بزرگوں نے کسی وقت  بھی کسی اجنبی  زبان کے سیکھنے  اور  دوسری قوموں  کے علوم  و فنون  کے حاصل کرنے پرکفر  کافتویٰ  نہیں دیا، علما ء کے  ان اقوال سے ہٹ کر اگر ان علما ء کا تذکرہ کروں تو ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے جنہوں نے انگریزی تعلیم میں مکمل  مہارت  حاصل کی ہے ان اقوال  سے یہ بات بالکل  واضح  ہوگئی کہ علما ء  کےمتعلق بالخصوص علما ء دیوبند  کے متعلق  جو غلط فہمیاں  پھیلائی گئی ہیں اس میں  کچھ صداقت نہیں بلکہ  یہ ان پر الزام تراشی ہے۔

8 نومبر، 2013  بشکریہ : روزنامہ عزیز الہند ، نئی دہلی

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/طالب-علم/did-ulema-of-deoband-oppose-modern-education?-کیا-علما-ء-دیوبند-نے-جدید-تعلیم-کی-مخالفت-کی-ہے؟/d/24373

 

Loading..

Loading..