کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان پائے جانے والے باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین نسلوں نے عمل کیاتھا ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے چاہتے ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔
بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ وہابی فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں نے پٹروڈالر کی بھاری مدد سے اپنے نظریات کی اشاعت کے ذریعہ اپنے اثرورسوخ میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔ یہ بات اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں ،انہیں نمایاں کریں اور ان کا رد کریں تاکہ وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت ، دیوبندیت وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔
اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا ہے۔یہ اس ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ ایمان ہے کہ کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے میں شامل مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ طالبانیوں کی حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں اور امن عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ، نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے قائل اورقدردان ہیں، تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ، پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔ آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام
--------------------------------------------------------------------
وہ حالتیں کہ جن میں کفار کے عام لوگوں کا قتل جائز ہوتا ہے (7ویں قسط)
شیخ یوسف العبیری رحمۃ اللہ علیہ

امام ابن قاسم نے الحاشیہ میں یہ اجماع نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘‘ علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ جہاد میں (پیچھے سے ) دفاع کرنے کا حکم براہ راست لڑنے کا حکم ہے’’۔ اس پر انہوں نے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے اجماع نقل کیا ہے ۔ امام تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ہی سے یہ بھی نقل کیا کہ طاقت و شوکت والے (لڑنے والی) جماعت کے مدد گار اُس کے حکم کے تحت (شمار کیے جائیں گے) جو حکم اس جماعت کے لیے ہے ۔ جو کچھ اس (لڑنے والی جماعت ) پر ہے وہی ان (مددگاروں) کے لیے اور اُن پر لاگو ہوگا۔ یہ (شرعی) حکم ان لوگوں کا ہے جو جنگ میں (کفار) کی اعانت کرتے ہیں، اس میں وہ معصوم الدم (یعنی عورتیں، بچے، بوڑھے اور جو کوئی ان کے حکم میں ہو) جنہیں آج کے دور میں عام شہری کہا جاتا ہے شامل ہیں ۔
آج امریکی عوام بھی اپنی رائے کے ساتھ جنگ میں اپنی حکومت کی اعانت کرتی ہے ۔ امریکہ میں کوئی فیصلہ اکیلا صدر نہیں کرتا بلکہ ہر فیصلہ اُس ایوان بالا سے صادر ہوتا ہے جس کے ارکان امریکی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لہٰذا اس کا ہر رکن لوگوں کی اُس بہت بڑی تعداد کی نمائندگی کرتا ہے جنہوں نے اسے اس منصب کے لیے آگے لایا اور اسے منتخب کیا ۔ امریکی عوام کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ صدر کی جانب سے جاری ہونے والے کسی فیصلے پر عمل درآمد کو روکیں۔ اسی طرح اُن کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا فیصلہ کرانے کے لیے دباؤ ڈالیں جسے وہ اپنی ضرورت سمجھتے ہوں ۔ جیسا کہ امریکی عوام نے حکومت پر دباؤ ڈال کر اُسے صومالیہ سے اپنی فوجیں واپس بلانے پر مجبور کیا ۔ امریکی عوام نے ہی تو غالب اکثریت سے صدر کو منتخب کیا تھا ۔ حالانکہ وہ انتخابی مہم کے دو ران میں اس صدر کے مستقبل کے منصوبوں اور پالیسیوں کا اعلان کرنے کی وجہ سے اُس کی اسلام دشمن پالیسیوں اور منصوبوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ لہٰذا امریکی عوام کا اپنے صدر کے منصوبوں کو پہلے سے جانتے ہوئے بھی اُسے منتخب کرنا، اس کا عوام کو اس صدر کے فیصلوں میں شریک سمجھا جائے گا۔ بش نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میں جن منصوبوں کا اعلان کیا تھا ان میں اس نے کہا تھا کہ میں بلقان کی فائل بلقان والوں کے لیے چھوڑ دوں گا اور میں مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے فوجی حل پر توجہ دوں گا۔
امریکی عوام کا اس پارٹی کو اس کے پروگراموں اور اس کی تاریخی جاننے کے باوجود بغیر کسی قید و شروط کے منتخب کرنا ان پروگراموں اور اس کی سیاہ تاریخ سے رضا مند ہونے کی علامت ہے ۔ امریکی عوام فیصلہ کرنے والے اور اہل رائے شمار ہوتے ہیں خواہ یہ رائے عسکری ہو یا سیاسی ۔ امریکی انتظامیہ جس رائے عامہ کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے وہ اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ بلاشبہ امریکی عوام ہی اپنے راہ راست ووٹوں کے ذریعے اور پارلیمنٹ میں اپنے نمائندوں کے ووٹوں کے ذریعے بالواسطہ طور پر فیصلے کرتے ہیں۔ رائے عامہ ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر جگہ اور ہر وقت اسلام دشمنی کی امریکی سیاست کے فیصلوں میں امریکی عوام کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے ۔ ہر جگہ امریکی عوام کو خواہ جو اپنے ہاتھ سےلڑے یا اپنی رائے سے لڑائی کے معاملے میں اپنی حکومت کی اعانت کرے...... نشانہ بنانا، ایک ایسا معاملہ ہے جس کی شریعت اجازت دیتی ہے ۔ چونکہ یہ امریکی عوام کی غالب اکثریت کی حالت ہے اس لیے شرعی حکم بھی غالب اکثریت کی بنا پر عام ہوتا ہے ۔
چوتھی حالت:
عورتوں ، بچوں او ربوڑھوں کے قتل کے جواز کی حالتوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب دشمن کے قلعوں کو فتح کرنے کے لیے مسلمانوں کو انہیں جلانے یا پانی میں غرق کرنے یا ان میں زہر پھیلانے یا ان میں سانپ ،بچھوں اور زہریلے مکوڑے چھوڑنے کی ضرورت پڑے خواہ اس کے نتیجے میں معصوم لوگ ہی مارے جائیں ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘کھجور کے درختوں او رگھروں کو جلانے ’’ کے عنوان سے باب باندھا ۔ جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجور کے درختوں کو جلا ڈالا۔’’
امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری جلد 6 صفحہ 154 میں کہتے ہیں :
‘‘ امام بخاری کا یہ کہنا کہ کھجور کے درختوں اور گھروں کو جلانے کا باب ...... جمہور علماء نے انہیں جلانے کے جواز کو اپنا یا ہے ۔ اور دشمن کے ملکوں میں تخریب کاری کے جواز کو بھی ، جب کہ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ ، اللیث رحمۃ اللہ علیہ اور ابوثور رحمۃ اللہ علیہ نے اسے مکروہ جانا اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اپنے لشکروں کو کی جانے والی اس وصیت کو دلیل بنایا کہ وہ ان میں سےکوئی کام نہ کریں’’۔
جب کہ اس کا جو اب امام طبری رحمۃ اللہ علیہ نے دیا ہے کہ
‘‘ یہ نہی (منع کرنا) انہیں قصداً کرنے پر محمول ہے، برخلاف اس کے کہ وہ لڑائی کے دوران ایسا کچھ کریں ۔ جیسا کہ طائف پر منجنیق (توپ) نصب کرنےسے ہوا ۔ یہ اسی طرح کا جواب ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع کرنے کے مسئلے میں دیا ہے اور ایسا ہی اکثر علما ء نے کہا ہے ۔اسی طرح پانی میں غرق کر کے قتل کرنے کے بارے میں ہے ۔ اور امام طبری رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ بھی علما نے یہ کہا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکروں کو اس لیے منع کیا اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ ملک (آسانی سے) فتح ہوجائیں گے ۔ سوحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس ملکوں کے وسائل کو مسلمانوں کے لیے باقی رکھنے کی غرض سے کہا تھا ۔ واللہ اعلم ’’۔
امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سنن میں ‘‘دشمن کے ملکوں میں آگ لگانے ’’ کا باب باندھا ہے ۔ جس میں وہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ‘‘ انہوں نے کہا کہ مجھے اسامہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں (اسامہ رضی اللہ عنہ کو ) حکم دیا اور فرمایا اُن پر صبح کے وقت اچانک حملہ کر اور آگ لگا۔’’
دشمن کو جلانا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگ کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے ۔ یہ بات تو واضح ہے کہ آگ جلانے سے کئی معصوم لوگ بھی قتل ہوجاتے ہیں اور اسی طرح جانور ہلاک اورکھیتیاں بھی تباہ ہوجاتی ہیں ۔ ان سب کو بچانے کی مصلحت ،انہیں ختم کرنے کی مصلحت سے کم تر ہے ۔ کیونکہ شوکت و قوت والے دشمن کے قتل کرنے کی مصلحت اُس کے علاوہ دوسروں کو زندہ چھوڑ نے کی مصلحت سے زیادہ بڑی ہے ۔
علامہ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے المغنی میں فرمایا :
‘‘جب دشمن سے جنگ کی جائے گی تو اُنہیں آگ کے ساتھ نہیں جلایا جائے گا ۔ اگر دشمن پرغلبہ حاصل ہوجائے تو اُسے آگ کے ساتھ جلانا جائز نہیں ۔ ہمارے علم کےمطابق اس میں کوئی اختلاف نہیں ۔ جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اہل ردّت (مرتدین ) کو آگ کے ساتھ جلانے کا حکم دیتے اور یہ کام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کےحکم سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کیا ۔ مگر آج لوگوں کے درمیان آگ سےجلانے کے ناجائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں پاتا ’’۔
حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں ایک دستے کا امیر بنایا ۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس دستے کے ساتھ نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘اگر تم فلاں آدمی پکڑ لو تو اسے آگ سے جلاڈالو’’۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جانے کے لیے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی ، میں واپس لوٹ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘ اگر تم فلاں کو پکڑ و تو اُسے قتل کرڈالو مگر جلانا نہیں کیونکہ آگ سے سوائے آگ کے رب کے اور کوئی نہیں جلاتا ۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ۔ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مانند روایت کی ہے ۔
(جاری)
بشکریہ : نوائے افغان جہاد ، جنوری ، 2013
URL: https://newageislam.com/urdu-section/taliban-fatwa-terrorism-that-needs/d/9938