New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 06:59 PM

Urdu Section ( 4 March 2010, NewAgeIslam.Com)

Preparation Of A Quranic Encyclopedia قر آنی انسا ئیکلو پیڈیا کی تیاری


سلمان احمد عباسی

‘‘دنیا میں قرآن کریم کی روشنی پھیلے چودہ سو سال گزر گئے ،مگر ابھی تک مستند اور قابل اعتبار مسلمان اسکالرز کی جانب سے انگریزی میں ایسا کوئی کام نہیں کیا گیا ہے جس کے ذریعہ مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والےطلبا اسکالرز سیاستداں ،ملٹری جنرل، صحافی ، ادیب اور حق کی تلاش میں نکلنے والے عام افراد بہ آسانی قرآن میں دیئے جانے والے روشن پیغام کی روح تک پہنچ سکیں۔مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرنے میں جہاں ان زبان میں قرآن کی صحیح ترجمانی کرنے والی کتاب نہ رہنے کا المیہ شامل ہے وہیں مغربی مستشر قین کی جانب سےقرآن کی تشریح میں لکھی  گئی ایسی کتب اور انسائیکلو پیڈیاز ہیں، جن میں قرآن کی صحیح تشریح کرنے کے بجائے ایسی باتیں اسلام کی جانب منسوب کی گئی ہیں، جن کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں منفی سوالات اٹھنا ایک ناگزیر عمل ہے۔ عیسائی اور یہودی اسکالرز کی جانب سے قرآن کے اہم موضوعات پر مضامین میں لکھے گئے ہیں جن میں انہوں نے نہ صرف توریت اور انجیل کی اصطلاحات استعمال کی ہیں،بلکہ اسلام پر غلط الزامات بھی عائد کئے ہیں۔’’ یہ الفاظ سوسائٹی فار قرآنک اسٹڈیز کے چیرمین قاضی ذوالقدر صدیقی کے ہیں جو بحریہ آڈیٹوریم میں سوسائٹی فار اسلامک اسٹڈیز پاکستان اور سنٹر فار اسلام اینڈ سائنس کینڈا کے تعاون سے لکھے جانے والے جامع قرآنی انسائیکلو پیڈیا کی ضرورت سے آگاہ کررہے تھے ۔ یہ انسا ئیکلو پیڈیا قرآن کے بارے میں انگریزی زبان میں ہونے والی ایک ایسی جامع تحقیق ہے جس میں قرآن میں استعمال ہونے والے الفاظ ، اصطلاحات ، مسائل اور دیگر موضوعات پر اسلامی کتب کے گرانقد ر ذخائر کے حوالوں کے ساتھ مضامین جمع کئے جائیں گے جس کے ذریعہ مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے عام افراد، اسکالرز اور ہر طقبے کے لوگ استفادہ کرسکیں گے۔ ماضی میں اسلامی علوم کے ماہرین اور اسکالرز کی جانب سے اسلامی علوم ومسائل اور قرآن وحدیث کے ہر گوشے کو اپنی گرانقدر تحقیقات اور تصانیف کی روشنی سے منور کیا گیا ہے لیکن ایسا صرف ان زبانوں میں کیا گیا جو مسلمانوں کے زیر استعمال رہی تھیں۔

بدقسمتی سے مغربی زبانوں بشمول انگریزی میں قرآنی تحقیقات پر مبنی کوئی ایسی کتاب یا تصنیف موجود نہیں جس کے ذریعہ قرآن کی اصلی روح تک رسائی حاصل کی جاسکے۔ ا نگریزی زبان میں قرآن کریم کے ترجمے اور تفاسیر موجود ہیں لیکن انسائیکلو پیڈیا کے نام پر ایسی کوئی تصنیف موجود نہیں ۔گزشتہ ایک صدی کے دوران قرآنی انسائیکلوپیڈیا کے نام پر لکھی جانے والی تصنیف کے کئی ایڈیشن موجود ہیں لیکن اس میں کئی قسم ہیں۔ انگریزی زبان میں اسلام کے بارے میں مکمل حوالہ جات کے ساتھ پہلی تصنیف 36۔1913میں انسا ئیکلو پیڈیا آف اسلام کے نام سے لکھی گئی ۔ اس کتاب کا مصنف برل نامی ایک عیسائی تھا جو نسلاً انگریز تھا، لیکن اسے عربی اور اسلامی علوم پرمکمل مہارت حاصل تھی۔ چار جلدوں اور ایک ضمیمے پر مشتمل یہ تصنیف 5042صفحات پر مشتمل تھی۔ مغربی ممالک کی یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں میں مسلسل ساٹھ برس تک اس کتاب کو اسلام کے بارے میں مکمل جامع اور مستند رتحقیقی کتاب تصور کیا جاتا رہا ۔ اس کے جامعیت اور استناد کی حقیقت آگے چل کر واضح ہوجائے گی۔2005میں انسائیکلوپیڈیا آف اسلام ، دوسرا ایڈیشن کے نام سے یہی تصنیف مزید تحقیقی کام کے ساتھ بارہ جلدوں پر مشتمل منظر عام پر آئی۔ یہ وہی انسائیکلو پیڈیا تھا جسے ای جےبرل نے ساٹھ سال قبل تصنیف کیا تھا مگر اس میں مزید تحقیقی کام دیگر پانچ انگریز مستشرق اسکالرز نے انجام دیا تھا، جن کے نام بالترتیب پی جے بیئر مین ، تھامس بینکیس ، سی ای بارسورتھ ،ای وین ڈونزل اور ڈبلیو پی ہیٹر چزایٹ آل تھے ۔تھرڈ سیکنڈ ایڈیشن آف انسائیکلوپیڈیا آف اسلام 2008میں منظر عام پر آیا ۔ اس تصنیف میں مدیر کے فرائض گدرن کارنر ،ڈینس میترینج اور جون نواس نے انجام دیے ہیں۔ ای جے برل کےانسائیکلو پیڈیا آف اسلام کا یہ ایڈیشن مکمل طور پر نئی تحقیقات پر مبنی ہے ۔ یہ چار مراحل میں مکمل ہوگا جس میں سے ہر مرحلے میں ایک جلد ہر سال منظر عام پر آنی قرار پائی ہے۔ یہ تو ای جے برل نامی عیسائی مصنف کی جانب سے اسلام پر مکمل حوالہ جات کے ساتھ لکھی جانے والی تصنیف کی تاریخ تھی۔2001سے 2006کےدرمیان انسائیکلو پیڈیا آف قرآن کے نام سے لکھی جانے والی تصنیف میں قرآن کریم میں استعمال ہونے والی اصطلاحات، تصورات، شخصیات، مقامات، مذاہب،ثقافت وغیرہ پر انگریزی زبان میں مکمل حوالہ جات کے ساتھ بحث کی گئی ہے ۔ چھ سال کے عرصے میں چھ مختلف مراحل میں قرآن کے بارے میں مکمل حوالہ جات کے ساتھ انگریزی زبان میں لکھی گئی اس تصنیف کا مصنف بھی ایک انگریز Jane Dammen Mc Auliffe etalہے ،جس نے اس انسائیکلو پیڈیا کی تصنیف کے لئے ای جے برل نامی عیسائی انگریز مصنف کے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کو  ہی بنیاد بنایا ہے، جب کہ مزید نئی تحقیقات کے لئے کئی عیسائی ،یہودی اور مسلمان مصنفین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ یہ انسائیکلو پیڈیا پانچ جلدوں میں 2919صفحات پر مشتمل ہے جب کہ چھٹی جلد میں فہرست اور کتابیات وغیرہ کا اندراج کیا گیا ہے۔ اس تصنیف میں 277مصنفین نے  حصہ لیا ہے جب کہ اس میں مختلف قرآنی موضوعات پر 638مضامین بحوالہ جات موجود ہیں۔قرآن پر لکھے جانے والے اس انسائیکلو پیڈیا کے ناقابل اعتبار ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کل 277مصنفین میں سے 223غیر مسلم اور صرف 54مسلمان اسکالرز تھے ۔ اسی طرح اس میں لکھے جانے والے 638مضامین میں سے 524غیر مسلم اسکالرز جب کہ صرف 114مسلمان اسکالرز نے تحریر کئے تھے۔ اس طرح اس انسائیکلوپیڈیا میں 82فیصد مضامین غیر مسلم اسکالرز جب کہ 18فیصد مضامین مسلم اسکالرز کے تحریر کردہ ہیں۔ مسلمان اسکالرز کی جانب سے لکھے گئے مضامین میں بھی قرآن کی بنیادی روح کے بجائے عام انداز اپنایا گیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اس انسائیکلو پیڈیا میں شامل کی گئی مسلمان اسکالرز کی تحریریں بھی عام موضوعات پر ہیں بلکہ اسلامی عقائد اور دیگر اہم مو ضوعات پر ہیں بلکہ اسلامی عقائد اور دیگر اہم موضوعات پر لکھے گئے مضامین غیر مسلم اسکالرز کے تحریر کردہ ہیں ۔اس انسائیکلو پیڈیا میں پائی جانے والی خامیوں میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔مذکورہ تصنیف میں شامل کئے گئے مضامین اسلامی علوم میں تحقیق کرنے والے اسکالرز کے لئے تشنہ ہیں کیونکہ ان میں ہر پہلو کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے، اس بنیاد پر اس تصنیف کو جامع نہیں کہاجاسکتا ۔مذکورہ تصنیف میں خدا کا ذاتی نام اللہ کہیں مذکورنہیں ہے بلکہ قرآن کریم میں خدا کے لئے استعمال ہونے والے نام کے بجائے گاڈ لکھا گیا ہےجب کہ اس کی صحیح وضاحت بھی نہیں کی گئی ہے ، جس کی وجہ سے اللہ، بتوں اور دوسرے مذاہب میں عبادت کے لئے استعمال ہونے والے خداؤں میں فرق واضح نہیں ہوتا ۔قرآن کی جانب سے بیان کئے جانے والے اہم ترین موضوع توحید پر اس تصنیف میں کوئی بھی مضمون موجود نہیں ہے جب کہ اس کے مقابلے میں قادیانیوں کو اسلام کا ایک فرقہ بیان کیا گیا ہے اور ‘‘کتا’’افریقی ادب اور سیمس جیسے کردار پر مضامین موجود ہیں۔ قرآنی انسائیکلوپیڈیا میں لفظ قرآن پر کوئی مضمون موجود نہیں ہے، جب کہ غیر قرآنی تصورات، لوگوں اور اصطلاحات پر وافر ذخیرہ موجود ہے۔ بہائی ،معتزلہ اور اس جیسے دوسرے غیر اسلامی فرقوں کو اسلام میں شمار کیا گیا ہے۔ بائبل میں استعمال ہونے والی کئی اصطلاحات کو قرآن پر مسلط کیا گیا ہے حالانکہ قرآن اور اسلامی علوم میں ان کا کوئی تصور بھی موجود نہیں ہے جیسا کہ بتپسمہ وغیرہ ۔قرآن میں مذکورہ جانوروں میں سے اونٹ اور کتے پرتو مضامین موجود ہیں لیکن گھوڑے اور بھیڑ یے کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔قرآن میں مذکورہ ملکہ سبا کا ذکر تو ہےلیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے بھیجے جانے والے خط کا کوئی تذکرہ نہیں ۔قرآن میں موجود چیونٹی اور شہد کی مکھی کو بھی اسی جامع انسائیکلو پیڈیا میں شامل کرنے سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر نظر انداز کیا گیا ہے ۔برل کے انسائیکلوپیڈیا آف قرآن کو اس جیسی بے شمار غلطیوں کی بنا پر جامع ہر گز نہیں کہاجاسکتا ۔

 اس کے علاوہ اس میں ایسی کئی سنگین غلطیاں بھی موجود ہیں جن کی بنا پر اسلام کی روح مکمل طور سے تبدیلی ہوجاتی ہے۔ یا تو ایسا علوم اسلامی سے مکمل آگہی نہ ہونے کی وجہ سے کیا  گیا ہے۔یا پھر عیسائیت اور یہودیت کی طرح دین اسلام کو بھی مسخ کرنے کی سازش اس کے پیچھے کارفرما ہوسکتی ہے۔اسلام کی روشنی پھیلنے کے چودہ سوسال بعد تک اسلامی علوم کی روسے جن چیزوں کو غیر اسلامی قرار دیا گیا ہے اسے اسلامی کہتے ہوئے اس تصنیف میں شامل کیا گیا ہے۔شیطانی بول، متعزلہ ، بہائی اور قادیانیوں کے مردہ عقائد حتی کہ سلمان رشدی جیسی ملعون شخصیت کا بھی اس قرآنی انسائیکلو پیڈیا میں اچھے الفاظ میں ذکر موجود ہے۔اس میں یہودیوں اور عیسائیوں کی شخصیات ،مسائل اور قبائل کے حوالے سے ایک مضمون ہے جس میں ان کے قبائل وغیرہ کو مکمل تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے حالانکہ ایسا قرآن میں کہیں موجود نہیں ۔ اس انسائیکلو پیڈیا میں ذکر کی گئی روایات کی اسناد بھی قابل اعتبار نہیں ہیں کیونکہ ان میں شدید تضاد پایا جاتا ہے ۔ حسد اور بغض کے حوالے سے لکھے گئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس سے آپؐ کا گھرانہ بھی پاک نہ تھا اور اس ضمن میں  امہات المومنین پر شدید ترین بہتان طرازی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے مقامات پراسلامی روح کے منافی باتیں ذکر کی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں انگریزی زبان میں اسلام اور قرآن پر مکمل حوالہ جات ساتھ ہونے والا تحقیقی کام نہ تو مکمل طور سے جامع ہے اور نہ ہی اس پر کسی صورت اعتبار کیا جاسکتا ہے ۔اس کے باوجود مغربی ممالک کے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسلامی علو م کی تحقیق کے لئے مذکورہ انسائیکلوپیڈیا کو مکمل جامع اور مستندترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں اسلام کے بارے میں بدگمانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ سوسائٹی فار قرآنک اسٹڈیز (QSQ) کے ڈاکٹر قاضی ذوالقدر کاکہنا تھا کہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سنٹر فار اسلام اینڈ سائنس ،کینیڈ (CISI) کے اشتراک سے ایک مکمل جامع ومستند قرآنی انسائیکلوپیڈیا کی تصنیف عمل میں لائی جارہی ہےاور اسی کی تعارفی تقریر کے سلسلے میں بحریہ اڈیٹوریم میں یہ تقریب منعقد کی گئی تھی۔جامع قرآنی انسائیکلو پیڈیا کی تصنیف کے سلسلے میں عالمی طور پر کام ہورہا ہے ،جس میں بڑے بڑے مسلمان اسلامی اسکالرز کے علاوہ اسلامی سربراہان مملکت اور یونیور سٹیز کی کاوشیں بھی شامل ہیں۔ حالیہ تعارفی تقریب میں حاضرین کے سامنے 80صفحات پر مشتمل جامع قرآنی انسا ئیکلو پیڈیا کا ابتدائی مسودہ پیش کیا گیا ۔

جامع قرآن انسا ئیکلو پیڈیا کے ایڈیٹر انچیف اور سی آئی ایس کے اہم ذمہ دار ڈاکٹر مظفر اقبال کے مطابق مذکورہ انسا ئیکلو پیڈیا کی تصنیف اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ یہ اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مغربی زبان میں مکمل طور سے مسلمان اسکالرز کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔

سات جلدوں پر مشتمل یہ جامع ومانع قرآنی انسائیکلو پیڈیا اپنے ابتدائی مراحل میں ہے، جس کی پہلی جلد 2011کے رمضان المبارک میں منظر عام پر آئے گی، اس طرح سات سال کے عرصے میں 2017تک مذکورہ انسائیکلو پیڈیا کی تصنیف مکمل ہوگی ۔پاکستانی عوام کے لیے یہ بھی اعزاز کی بات ہے کہ ان سائیکلو پیڈیا کی پہلی جلد کی تقریب رونمائی 2001میں سب سے پہلے پاکستان میں ہی کی جائے گی۔

یہ انسا ئیکلو پیڈیا نہ صرف مطبوعہ صورت میں موجود ہوگا بلکہ اسے آن لائن بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ دنیا کے کسی کونے میں موجود کوئی شخص بلا روک ٹوک اس تک رسائی حاصل کرسکے ۔ ابتدائی طور پر انگریزی زبان میں پیش کئے جانے والے اس منصوبے کو تدریجاً دیگر مغربی زبانوں اور بعد ازاں اردو، عربی، فارسی سمیت گئی اسلامی ممالک میں رائج زبان میں پیش کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو مکمل طور سے مالی تحقیقی اور اخلاقی مدد فراہم کرنے والی شخصیات اور اداروں میں ملائشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتر بن محمد، اسلامی یونیورسٹی کالج آف ملائشیا کے سابق سربراہ اور حالیہ ملائشین وزیر ڈاکٹر عبداللہ بن مڈزن، الجامعہ العالمیہ پاکستان کے نائب صدر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری ، اسلامک انٹر نیشنل یونیورسٹی پاکستان ،انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائشیا اور برطانیہ کی دی اسلامک فاؤنڈیشن سرفہرست ہیں۔ جامع قرآن انسائیکلو پیڈیا منصوبے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مکمل طور سے اوپن سورس ہے اور دنیا کا کوئی بھی مسلمان اسکالر اس میں حصہ لے سکتا ہے ۔مذکورہ منصوبے کے سلسلے میں ہر لمحے ہونے والی پیش رفت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو آگاہ رکھنے کےلئے www.iequran.comکےنام سے ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی ہے،جہاں اس منصوبے کے سلسلے میں ہونے والی ہر پیش رفت کے بارے میں کئی زبانوں میں معلومات موجود ہیں۔ اگر چہ مغربی ممالک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فی الحال برل کی تصنیف کردہ اسلامی اور قرآنی انسائیکلوپیڈیا موجود ہیں، لیکن اس منصوبے پر کام کرنے والے مسلمان اسکالرز کا منصوبہ مذکورہ انسا ئیکلو پیڈیا کو بھی یہاں تک پہنچانے کا ہے ،لیکن اس سلسلے میں انہیں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

مذکورہ منصوبے کےایڈیٹر انچیف ڈاکٹر مظفر اقبال کا کہنا ہے کہ مغربی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں رائج قوانین کی روسے یہاں اس کتاب کی گنجائش موجود نہیں جسے وحی الہٰی سمجھتے ہوئے لکھا گیا ہو، کیونکہ وہ اسے خدا کی نازل کردہ قرار دیتے ہوئے تحقیقی مواد نہیں سمجھتے ۔یہی وجہ ہے کہ ان اداروں میں ای جےبرل کی تصنیف کردہ انسائیکلو پیڈیا تو موجود ہے کیونکہ وہ ایک عیسائی تھا، جس نے اسے خدا کی نازل کردہ سمجھ کر نہیں بلکہ اپنی ذاتی تحقیق قرار دیا ہے جب کہ مسلمانوں کی جانب سے قرآن پر کی جانے والی ہر تحقیق خدا کے نازل کردہ احکامات کی روشنی میں ہی کی جاتی ہے ۔اگر چہ مذکورہ تصنیف کو منظر عام پر لانے اور اسے ای جے برل کی تصنیف کردہ غیر جامع وناقابل اعتبار انسائیکلو پیڈیا کے مقابلے میں مغربی جامعات میں جگہ دینے میں مشکلات تو ہیں مگر اس منصوبے پر کام کرنے والے افراد اس بارے میں خاصے پر جوش اور حوصلہ افزا ہیں۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/preparation-of-a-quranic-encyclopedia--قر-آنی-انسا-ئیکلو-پیڈیا-کی-تیاری/d/2536


 

Loading..

Loading..