New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 10:34 PM

Urdu Section ( 14 Jan 2010, NewAgeIslam.Com)

The Voice Of Conscience: Part 5 ضمیر کی آواز: پانچویں قسط


زاہدہ حنا

پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو آئین اسٹائن امن کے لیے لڑرہا تھا جب کہ اس کے ساتھی پروفیسر ،سائنسداں اور اسکالر جنگی جنون کے سیلاب میں بہہ چکے تھے۔ اس موقع پر آئن اسٹائن نے کھل کر جنگ کی مخالفت کی اور اسے ‘‘فریب کی وبا’’ سے تشبیہہ دی۔ آئین اسٹائن کے ان خیالات کو جرمنی میں شدید ناپسندید گی کی نظر سے دیکھا گیا اور یہ اس کی سوئس شہریت تھی جس نے اسے گرفتاری سےبچائے رکھا ۔ کچھ ایسا ہی حال اس کے دوست اور اس عہد کے عظیم فلسفی برٹرینڈرسل کا  انگلستان میں تھا۔ وہ بھی جنگ کا بدترین دشمن تھا۔ اسے بھی برطانوی عوام ‘‘غدار’’ اور ‘‘بزدل’’ جیسے ‘‘خطابات ’’ سے نوازتے تھے۔

جنگ ختم ہوئی تو جرمنی میں آئن اسٹائن کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر مہم چلائی گئی، جس میں اس کے نظر یہ اضافیت کو بھی رد کرتے ہوئے باطل قرار دیا گیا ۔ یہ صورت حال اس کے ساتھیوں اور  دوسرے پروفیسر وں کے لیے صدمے اور تکلیف کا سبب تھی۔ لیکن ا ن کی بزدلی آرے آئی اور وہ اس کے حق میں آواز اٹھانے کی ہمت نہ کرسکے۔ آئین اسٹائن کو ہجوم سے گھبرا ہٹ ہوتی تھی اور وہ لوگوں کو سامنا کرنے سے کتراتا تھا ۔ پھر وہی شخص اس زمانے میں نہ صرف جرأت و بے باکی کے ساتھ جلسوں سے خطاب کرنے لگا بلکہ اس نے ایسے تمام مقدمات میں بیانات دیے جو علمی حیثیت رکھنے والے مختلف اسکالرز پر صرف اس لیے چلائے جارہے تھے کہ وہ جرمن حکومت سے مختلف مؤقف اورنقطہ نظر رکھتے تھے۔

ہٹلر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ آئن اسٹائن کو جان بچا کر جرمنی سے فرار ہونا پڑا۔ اس زمانے میں فاشزم کی مخالفت کرنے والے ادیبوں اور دانشوروں کی کتابوں کے ساتھ آئن اسٹائن کی کتابیں بھی جرمنی میں جلائی جارہی تھیں۔ اسی زمانے میں نازیوں نے آئن اسٹائن کے سر کی قیمت بیس ہزار مارک مقرر کی۔ وہ خود اپنی جان کی انتی بھاری قیمت پر حیران ہوتا رہا۔

جرمنی سے جان بچا کر نکلنے کے بعد وہ امریکہ چلا گیا اور پھر وہیں کا ہورہا۔1939میں کچھ سائنسدانوں نے آئن اسٹائن سے رابطہ کیا اور اسے اس بات پر آمادہ کیا کہ  وہ امریکی صدر روز ویلٹ کو خط لکھے اور ان سے اصرار کرے کہ وہ ایٹم بم کی تیار ی کی طرف توجہ دیں کیو نکہ نازی جرمنی بھی ایٹم بم کی تیاریوں میں تیزی سے مصروف ہے۔صلح جو اور امن پسند آئن اسٹائن نے اس خوف سے کہ کہیں جرمنی جوہری ہتھیار بنانے میں پہل نہ کرجائے، اپنی زندگی کا وہ قدم اٹھایا جس کا قلق اس کے دل سے مرتے دم تک نہ گیا۔ اس کی تجویز کو مانتے ہوئے امریکی صدر نے ‘‘مین ہیٹن پراجیکٹ’’ کی منظوری دے دی، یہی وہ پروجیکٹ تھا جس نےدنیا کے پہلے ایٹم بم کو جنم دیا۔ یہ درست ہے کہ آئن اسٹائن نہ تو جوہری طبیعات پر کام کررہا تھا اور نہ اس نے ‘‘مین ہیٹن پروجیکٹ’’ کی کامیابی میں کوئی کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ اسی کی ترغیب پر یہ پروجیکٹ قائم ہوا اور اسی کے تحت 16جولائی 1945کو وقت سحر دنیا کا پہلا کامیاب ایٹمی تجربہ ہوا جس کی بنیاد پر وہ ایٹم بم تیار ہوئی جو ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرائے گئے اور جن کے گرائے جانے سے اس دنیا میں جوہری اسلحے کی تباہ کاریوں کا آغاز ہوا۔

آئن اسٹائن نے ایٹمی اسلحے کی تیاری کے سلسلے میں امریکی صدر کو جو خط لکھا تھا، اس پراسے عمر بھر پشیمانی رہی۔ ایک جگہ اس نے لکھا ۔۔۔

‘‘اگر مجھے گمان بھی ہو تا کہ جرمنی ایٹم بم بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے گا تو میں اس بم کے سلسلے میں کبھی کچھ نہ کرتا’’۔

آئن اسٹائن نے اپنی آخری عمر اسی احساس جرم کے ساتھ بسر کی تھی اورپھر اس کا کفارہ اس طرح ادا کیا کہ آخری سانس تک جوہری اسلحے اور جنگی جنون کے خلاف اپنی پوری قوت سے لکھتا اور بولتا رہا۔ آئن اسٹائن نے جوہری اسلحے کے خلاف اس وقت آواز بلند کی جب ترقی یافتہ ملکوں کے صرف رہنما ہی نہیں، ان کی رائے عامہ بھی تباہ کن ہتھیار کو تیارکرنے او رموقع آنے پر اسے ‘‘دشمن’’ کے خلاف استعمال کرنے کے حق میں تھی۔ یہی وہ جنگجو یانہ رویہ تھا جس نے دنیا میں ایٹم بم کے حصول کو قوموں کی بڑائی اور ان کے عزت نفس کا مسئلہ بنادیا۔

جنگ عظیم دوئم میں اتحادی ہونے کے باوجود روس نے امریکہ کی ایٹمی طاقت سے خودکو خطرے میں محسوس کیا۔ چنانچہ چار سال بعد 1949میں روس نے پہلا ایٹمی  دھماکہ کیا اور اس کے ساتھ ہی دنیا کی ان دوبڑی طاقتوں میں نیو کلیائی اسلحے کی دوڑ کا بھیانک آغاز ہوگیا۔ یکم نومبر 1952کو امریکہ نے ہائیڈروجن بم کا دھماکہ کر کے دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ اگلے برس 12؍اگست 1953میں 77ایٹمی دھماکے کیے جب کہ اسی برس روس نے 18اور برطانیہ نے 7ایٹمی دھماکے کیے ۔ 1962میں امریکہ کے 94اور روس کے 72دھماکوں سمیت مجموعی طور پر 171ایٹمی دھماکے ہوئے 1964میں چین بھی نیو کلیئر کلب میں شامل ہوگیا۔ 1994تک نیو کلیائی کلب کے پانچ ممبران مجموعی طور پر 2036ایٹمی دھماکے کرچکے تھے۔ ان میں 1030امریکہ، 715روس، 192فرانس، اور 14چین نے کیے۔ چونکہ 1965میں سطح زمین پر ایٹمی تجربات کرنے پر پابندی لگادی گئی تھی ،لہٰذا اب تمام ایٹمی تجربات زیر زمین ہورہے تھے۔

روس اور امریکہ کی یہ دوڑ صرف ایٹم بموں تک محدود نہ رہی۔ 1950کی دہائی میں ہائیڈروجن بموں کی دوڑ شروع ہوگئی جس کے بعد بین البراعظمی میزائلوں کا مقابلہ شروع ہوگیا۔ 1960میں امریکہ کے پاس 630ایٹمی ہتھیار تھے جبکہ روس کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 600ہوگئی جب کہ امریکہ کی تعداد بڑھ کر 5000ہوچکی  تھی۔ 1985میں امریکہ کے پاس 111000اور روس کے پاس 8500نیو کلیائی ہتھیار تھے۔ 1990میں دنیا کی کل ایٹمی ہتھیار وں کی تعداد 50,000تھی۔

آئن اسٹائن ،برٹرینڈ رسل ، آندرے سخاروف وہ لوگ تھے جنہوں نے ‘‘غداری’’ اور ‘‘وطن پرستی’’ کے الزام سنے۔ انہیں ماؤف بوڑھوں کے نام سے پکارا گیا۔ ان کے ہم وطنوں نے ان پر گندے انڈے اور ٹماٹر برسائے ۔ برٹرینڈر رسل کو لندن کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور اس خوش خیال فلسفی کے ساتھ کسی مجرم اور آوارہ گرد کا ساسلوک کیا گیا۔ آئن اسٹائن نے جلا وطنی کی زندگی گزاری آندرے سخاروف نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن ان لوگوں نے ہمیت نہیں ہاری ،اپنی آواز مدھم نہیں ہونے دی۔ یہ لوگ تنہا اس عذاب ناک سفر کو طے کرتے رہے جو یہ آنے والی نسلوں کی زندگی ،ان کی خوشحالی اور ان کی خوش خیالی کے لیے کررہے تھے۔ انہوں نے یہ دکھ ان کے لیے اٹھائے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔

آئن اسٹائن نے ایک جگہ لکھا۔۔۔۔

‘‘ہمارے سامنے دوراستے ہیں یا تو ہم جوہری اسلحے سے نجات حاصل کرلیں یا نسل انسانی کی مکمل تباہی اور اسکے نیست ونابود ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔ قومی تفاخر ایک بچکانہ بیماری ہے۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ انسانیت چھوت کی بیماری میں مبتلا ہوگئی ہے۔ ہماری نصابی کتابیں جنگ کی تعریف و توصیف سے بھری ہوئی ہیں اور اس کے لائے ہوئے عذابوں اور تباہ کاریوں کو چھپاتی ہیں۔ یہ کتابیں ہمارے بچوں کی رگوں میں نفرتوں کا زہر انڈیلتی ہیں۔ میں جنگ کی بجائے امن کی تبلیغ کروں گا۔ میں نفرت کی بجائے محبت کوپھیلاؤں گا۔’’

یہ آئن اسٹائن ،آندرے سخاروف، برٹرینڈ رسل او ردوسری طرف دانشور اور سائنس داں تھے جنہوں نے مغرب و مشرق کی نئی نسلوں کو اپنے حکمرانوں سے مختلف طور پر سوچنے کے لیے مجبور کیا۔ایک ایسے زمانے میں جب سب ہی اپنے لشکروں کی تعداد بڑھارہے ہوں اور اپنے اپنے ہتھیار چمکارہے ہوں، جب ہر طرف جنگی جنون کی سیاہ آندھی چل رہی ہو اور آگ ہر طرف سے یلغار کررہی ہوتو ان لوگوں کی قدر وقیمت کس قدر بڑھ جاتی ہے جو چلو بھر پانی لے کر اس سرخ وسیاہ جہنم کی مہیب آگ کوبجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ درجن بھر کنیڈین نوجوانوں نے کروز میزائل تیار کرنے والی فیکٹریوں کی دیوار وں پر اپنا خون چھڑکا اور اس ‘‘جرم کی پاداش’’ میں گرفتار ہوئے تو یہ بارہ نوجوان ذہن کے افق پر امید کے بارہ سورج بن کر طلوع ہوتے ہیں  اور ڈوبتا ہوا دل تھم سا جاتا ہے کہ ہوش دنیا سے ابھی مکمل طور پر رخصت نہیں ہوا اور باضمیر ابھی زندہ ہیں۔ میں نے ان نوجوانوں کے بارے میں 1994میں پڑھا تھا۔

دنیا میں یہ دو انتہا ئیں ہمیشہ سے موجود رہی ہیں۔ ایک طرف نیرو تھا ، جس نے ایک زندہ شہر کو آگ کے دائرے میں جلتے او رمرتے دیکھا او رعالم وجد میں بانسری بجاتا رہا اور اسی پہلی صدی عیسوی میں مشہور رواقی فلسفی سینکا تھا جس کا کہنا تھا کہ زندگی محض خیر سے عبارت ہے اور جو شوئے قسمت سے نیرو جیسے نیم دیو انے شہنشاہ کا استاد تھا۔ یہ وہی شاہی استاد سینکا ہے جو خیالات کے اختلافات کے سبب شاگرد شہنشاہ کے غیض و غضب کی بھینٹ چڑھا اور جسے حکم دیا گیا کہ موت اس کا مقدر ہے۔لیکن وہ شالی جلاد کے ہاتھوں موت کے گھاٹ نہیں اتار ا جائے گا بلکہ اسے خود کشی کرنے پڑے گی تاکہ شاگرد شہنشاہ  پر یہ ‘‘الزام ’’ نہ آئے کہ اس نیاا ستاد محترم کے خون سے ہاتھ رنگین کیے۔

اسی سینکا نے ایک خط لکھا تھا جس میں کہا تھا۔۔۔۔

‘‘ ہم میں سے صرف افراد ہی نہیں اقوام بھی پاگل ہوگئی ہیں۔ایک آدمی قتل ہو جائے تو ہم شور مچادیتے ہیں لیکن سوال یہ ہےپیدا ہوتا ہے کہ پھر ہم لڑائیاں کیوں لڑتے ہیں؟ ہم بستیوں کو تہ تیغ کر کے اسے اپنی فتح وعظمت کا نشان کیسے ٹھہراتے ہیں؟ نہ ہماری ہوس کی حد ہے اور نہ ہمارے ظلم کی ۔ جب فرد سے کوئی جرم سرز د ہوتا ہے تو ہم اسے سزا دیتے ہیں لیکن سینیٹ اور ہماری منتخب اسمبلی کے اراکین کے حکم سے جو ظلم وستم ہوتا ہے اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ انتظامیہ کے افسران اور سرکاری ملازموں سے وہ کام کرائے جاتے ہیں جو عوام کے لیے ممنوع ہیں۔ ایک قتل عام کرکے لوٹتے ہیں تو انہیں انعام و اکرام نے نوازا جاتا ہے ،ان پر پھول برسائے جاتے ہیں۔’’

اس خط کے مندرجات پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ بھلا کیسے ممکن تھا کہ نیرو اور اس کا استاد ایک ہی زمانے میں سانس لیں۔ ‘‘بیچارہ’’ شاگرد، استاد کو خود کشی کا حکم نہ دیتا تو کیا کرتا؟ اسی طرح کروز میزائل کی فیکٹری کی دیواروں کو اپنے خون سے رنگین کرنے والے نوجوان گرفتار نہ کیے جاتے تو کیا ہار پھول پہنا کر رخصت کیے جاتے ؟

سینکا کے اس خط کے ذکر کے ساتھ ہی 6؍جولائی 1944کا لکھا ہوا سرونسٹن چرچل کا ایک خفیہ خط یاد آتا ہے جو اس نے برطانوی محکمہ دفاع کے نام لکھا تھا جس میں کہا تھا کہ....

 

‘‘ہوسکتا ہے کہ ابھی ا س بات میں چند ہفتے یا چند مہینے باقی ہو ں جب میں آپ لوگوں کو حکم دوں کہ جرمنی کے ہر گوشے اور ہر کونے میں زہریلی گیس پھیلا دی جائے اور یہ سمجھ لیں کہ جب یہ کر گزرنے کا وقت آئے گا تو ہمیں سوفیصد ی اس پر عمل کرنا ہوگا۔ اس حکم کو دینے سے پہلے میری خواہش ہے کہ اس معاملے پر کچھ سمجھدار افراد غیر جذباتی او رمتشدد انہ انداز میں غور وفکر کریں۔ اس بارے میں شکست خوردہ ذہنیت رکھنےوالے ان لوگوں کی رائے لینے کی کوئی ضرورت نہیں جو ان دنوں دعائیں او رمناجاتیں گاتے ہوئے ہمیں کبھی اس کو نے میں اور کبھی اس نکڑ پر نظر آتے ہیں’’۔

سرونسٹن چرچل جیسے سیاستدانوں اور جرنیلوں کی آج بھی کوئی کمی نہیں ۔ آج کل جبکہ روزانہ اخبارات ،رسائل او رٹیلی ویژن کے ذریعہ ہمیں فوجوں کی تعداد ہتھیار وں کے نام ،طیاروں کی اقسام اور بموں کی ہلاکت خیزی کا دائرہ اثر بتایا جاتا ہے تو بے اختیار پہلی دوسری جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد یادآتی ہے۔ فرانس ، جرمنی، برطانیہ ،اٹلی، سوویت یونین او رامریکہ کے ہلاک شدگان کی کل تعداد پہلی جنگ عظیم میں چوراسی لاکھ اٹھارہ ہزار تھی ،جبکہ دوسری جنگ عظیم میں ان ملکوں کے ہلاک شدگان میں جاپانی ہلاک شدگان کا بھی اضافہ ہوا تھا اور یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ انہتر لاکھ تینتیس ہزار تک جاپہنچی تھی ۔ دونوں ہی مرتبہ ہلاک شدگان کے اعداد شمار ہونے سے بہت پہلے اپنی اپنی فوجیوں کی شان وشوکت اور ان کی عدوی قوت کا اعلان کیا گیا تھا۔ ٹینکوں کی تعداد بتائی گئی تھی، بمباری طیاروں کے اعداد وشمار جاری ہوئے تھے اور ہر  دوفریق نے خود کو ‘‘ناقابل تسخیر ’’ قرار دیا تھا۔ کاش جنگو ں کے شائقین ایک جنگ کے آغاز سے پہلے، سابقہ جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے بھی دنیا کو آگاہ کردیا کریں۔

جائزہ لیا جائے تو دنیا پر حکومت کرنے والے سیاستدانوں ،فوجی جرنیلوں ، افسر شاہی کے افراد او راسلحے کے بڑے بڑے صنعتکار وں کی کل تعداد بہ مشکل تمام چند ہزار افراد دنیا کی ہر قوم سے تعلق رکھتے ہیں ، ہر زبان بولتے ہیں ، ہر عقیدے او رہر نسل اور رنگ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی  ہیں جو دنیا پر اور انسانیت پر جنگیں مسلط کرتے ہیں اور جن کی ہوس اقتدار او رہوس زر کسی طرح کم نہیں ہوتی ۔ دوسری طرف دنیا بھر کے عوام ہیں، دانشور ،ادیب ، سائنسدان اور فنکار ہیں جنہیں ان جھگڑوں سے غرض نہیں ، جو امن چین سے اپنے اپنے گھروں میں رہنا چاہتے ہیں، اپنے اپنے شہروں کو محفوظ ومامون دیکھنا چاہتے ہیں ،اپنا کام کرنا چاہتے ہیں۔ جنہیں بڑوں کی اس شطرنج کے نہ آداب واصول معلوم ہیں اور نہ اس بازی سے کوئی دلچسپی ہے۔ اس کھیل میں کوئی بھی جیتے  کوئی بھی ہارے ،گھر عوام کے گرتے ہیں۔۔۔ بیٹے ان کے مارے جاتے ہیں اور بیٹیاں بھی برباد ہوتی ہیں۔یہ عوام صرف تیسری دنیا میں بھی رہتے ہیں ۔ انہیں بھی جنگ سے اتنا ہی ڈر لگتا ہے جتنا ہمیں موت کا خوف انہیں بھی ستاتا ہے او ر شہروں کی موت ان کے اعصاب پر بھی آسیب کی طرح سوار رہتی ہے۔ ٹورنٹو کے یہ بارہ لڑکے ان ہی عوام میں سے ہیں۔پیرس اور واشنگٹن کی سڑکوں پر امن مظاہرے کرنے والے بھی عوام ہیں جنگ سیاور وہ بھی نیوکلیائی او رکیمیاوی جنگ سے مغرب کتنا لرزاں ہے ، اس کا اندازہ ان کے ادب سے ہوتا ہے ۔ ان کے یہاں ایسے متعدد افراد ہیں جنہوں نے جنگ کے خوف سے یا جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے زندگی جیسی خوبصورت چیز دی ہے۔

‘‘ میں آپ کو ایک چیک بھیج رہی ہوں، یہ چیک میری جانب سے نہیں، میرے اس بیٹے کی جانب سے ہے جس نے کچھ دنوں پہلے خود کشی کرلی۔ یہ رقم خطیر نہیں، انجان اور اجنبی لوگ میرے بیٹے کی یاد میں مجھے جو رقم بھیجتے ہیں انہیں اکٹھا کرکے میں آپ کو بھیج رہی ہوں۔ آئندہ جب بھی مجھے ایسے عطیے مو صول ہوئے وہ میں آپ کو ہی بھیج دوں گی۔ آپ کو میں اپنے بیٹے کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں۔ وہ 23برس کا تھا اور ہوش سنبھالنے کے بعد سے نیو کلیائی لڑائی کا خوف اس کے اعصاب پر ہمہ وقت چھایا رہا۔ وہ شاعر اور موسیقار تھا۔ اس کی بیشتر نظمیں اور دھنیں جنگیں جنون میں مبتلا لوگوں کے خلاف تھیں۔ یہ لو گ ہمارے چاروں طرف نظر آتے ہیں ۔ اس نے اپنے کمرے کی چھت سے لٹک کر خودکشی کرلی تھی۔ اسے جب نیچے اتارا گیا تو اس کی جیب سے اخبار کا ایک تراشہ نکلا جس میں نیوکلیائی جنگ کی تباہ کاریوں کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں ۔ اس خوف نے میرے بیٹے کے اعصابی نظام کو شل کردیا تھا پھر وہ اس خوف میں اتنا ڈوبا کہ اس نے خود ہی اپنی جان لے لی۔ خوف اس کی برداشت سے باہر ہوچکا تھا۔’’

اس غمزدہ ماں نے خط کے آخر میں لکھا تھا۔۔۔

‘‘میں یہ سب کچھ آپ لوگوں کو اس لیے لکھ رہی ہوں تاکہ آپ کے توسط سے بے شمار افراد یہ جان لیں کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو کس قدر شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کررکھا ہے اور ہم انہیں کس طرح مرنے پرمجبور کررہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس بارے میں سوچیں کہ وہ جو ابھی زندہ ہیں اور جنہوں نے اپنے آپ کو ختم نہیں کیا ہے، وہ ایک بہتر پرُ امید اور پُر امن وپرُ سکون دنیا میں زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں ۔ کیا ہم انہیں اسی لیے وجود میں لائے تھے وہ ایک پاگل ،جنگ زدہ اور زہر ناک دنیا میں سانس لیں اور تڑپ تڑپ کر مرجائیں ؟’’

ایک گمنام ماں، ایک رواقی فلسفی اور ایک برطانوی مدبر کے یہ خطوط ہمارے ہاتھ میں آئینہ تھمادیتے ہیں اور اس آئینے میں ہمیں مظلوموں اور ظالموں کے چہرے نظر آتے ہیں ۔ اس آئینے میں آگ میں گھرے ہوئے اور خون میں ڈوبے ہوئے خواب ہیں اور بے قابو آگ کو اپنے خوابوں سے بجھا نے کی آرزو کرنے والے انسان ہیں جن میں سے کچھ کو یہ خواہش اس قدر نڈھال کردیتی ہے کہ وہ شعر کہنے کی بجائے اپنے کمرے کی چھت سےلٹک کر مرجانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں اور کچھ کروز  میزائل تیار کرنے والی فیکٹری کی دیواروں پر اپنا خون چھڑ کتے ہیں او رگرفتار ہوتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ تمام تباہ کن ہتھیار وں کی ایجاد سائنس دانوں کا کارنامہ ہےلیکن اس پر انہیں آمادہ کرنے اور انعام واکرام دینے کا جرم اعلیٰ فوجی اور سیاستدانوں کے سر ہے۔ ان مہیب ہتھیاروں کو ایجاد کرنے والے اب ان کی وہشت ناکی سے سب سے زیادہ لرزہ بر اندام ہیں۔پہلے ایٹمی تجربات او ر ہتھیاروں کے مخالف سائنسدانوں کو انگلیوں پر گنا جاسکتاتھا لیکن اب ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس وقت امریکی ،فرانسیسی ،برطانوی روسی اور دیگر قومیتیں رکھنے والے لاتعداد سائنسدان تمام دنیا کو ان خطرات سے آگاہ  کررہے ہیں جن سے ہماری دنیا کسی بھی لمحے دوچار ہوسکتی ہے۔ کس قدر مضحکہ خیز صورت حال ہے کہ فرانسیسی حکومت 1990میں چار کھرب چھہتر ارب فرانک کی رقم مخصوص کررہی تھی تاکہ اس سے پانچ سال تک فرانسیسی افواج کے لیے جوہری اسلحے کی خریداری کی جاسکے ۔ دوسری طرف فرانسیسی سائنسدان ان ہی جوہری ہتھیار وں کے خلاف کتابیں لکھ رہے تھے۔۔ تقریریں کررہے تھے۔

1989میں دو فرانسیسی سائنسدانوں ہیوبرٹ ریوز اور البرٹ جیکو ارڈ کی کتابیں منظر عام پر آئیں۔ ان کتابوں میں دونوں نے نیوکلیائی جنگ کے نتیجے میں انسان کے مکمل خاتمے اور دنیا کی بربادی کی تفصیلات بیان کی تھیں۔

جیکو ارڈ کا کہنا تھا کہ کسی بھی نیوکلیائی جنگ کے نتیجے میں انسان واقعتاً بھاپ بن کر اڑ جائیں گے ،کونوں کھدروں میں بچ رہنے والے جو انسان چند دن یاشاید چند ہفتے زندہ رہ سکیں ان کی نصیبوں پر رشک کریں گے جو پہلے ہی لمحے  ختم ہو گئے ۔ جیکوارڈ کے پیش کردہ اعداد وشمار کے مطابق 80کی دہائی کے اختتام پر دنیا میں جو نیو کلیائی اسلحہ تھا، اگر اس کا صرف ایک فیصد بھی کسی جنگ میں استعمال ہوگیا تو زمین پر اس نیو کلیائی سردی کا آغاز ہوجائے گا جس کا خاتمہ شاید ہزاروں برس بعد ہی ممکن ہوسکے۔ دوسرے لفظوں میں دنیا ایک بار پھر ‘‘برفانی دور’’ سے دوچار ہوجائے گی۔

فرانسیسی سائنسدان سوزان سولو من ہے جو انٹا رکٹک کے فرانسیسی اسٹیشن پر ایک عرصے تک متعین رہی اور سترہ سائنس دانوں کی ٹیم کی سربراہ تھی۔ وہاں ایک مہینے تک برف پر مختلف تجربات کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ زمین کی فضا کے حفاظتی غلاف اوزون میں امریکہ کے رقبے کے برابر جو سوراخ ہوچکا ہے ،اسے ماحول کی آلودگی کے علاوہ نیو کلیائی تجربات بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچار ہی ہیں۔ یاد رہے کہ چند برس پہلے امریکیوں نے فرانس کے کانگو رڈ طیاروں کو بھی اوزون کے غلاف کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

امریکی محقق کا رل ساگان او رروسی سائنسدان نگیتا موسیٰ یو اس بات پر متفق رہے ہیں کہ دنیا میں اگر نیو کلیائی جنگ چھڑگئی تو اس کے نتیجے میں نہ صرف یہ ہے کہ کروڑوں ٹن دہکتی ہوئی راکھ دنیا پر برسے گی جس کی وجہ سے دنیا مکمل تاریکی میں ڈوب جائے گی اور ‘‘ نیوکلیائی رات’’ کا آغاز ہوگا بلکہ اوزون کا غلاف بھی پارہ پارہ ہوجائے گا۔ یہ غلاف ہے جو کرۂ ارض پر انسان کو سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں نے محفوظ رکھتا ہے۔

فرانسیسی سائنس دان ریوز نے لکھا کہ دنیا پر نیو کلیائی راکھ کی گرد کی جو چادر تنے گی ، سورج کی گرمی اورروشنی اس ربیز چادر سے گزر نہیں سکے گی جس کے نتیجے میں دنیا کا درجہ حرارت نقطہ امجماد سے بیس اور تیس درجے نیچے گرجائے گا۔ تب دنیا میں اس نیو کلیائی سردی کا آغاز ہوگا جس کی تباہ کاریوں کا انسان ابھی اندازہ بھی نہیں کرسکتا ۔ موسموں کی اس اچانک تبدیلی کے سبب سمندر وں او رہواؤں میں بھیانک تلاطم ہوگا جو خوفناک طوفانوں کو جنم دے گا۔ بے پناہ سردی اور سورج کی روشنی زمین پر نہ پہنچ سکیں گے سبب روئیدگی ختم ہوجائے گی۔

جیکو ارڈ بتانا ہے کہ سال چھ مہینے بعد نیو کلیائی راکھ کی برسات جب ختم ہوگی اور نیو کلیائی رات سے دنیا کو نجات دینے کے لئے سورج کی روشنی زمین پر پہنچے گی تو اوزون کا غلاف تباہ ہوجانے کے سبب سورج کی وہی روشنی جو دنیا کے لیے سرچشمہ حیات تھی اس کے بالائے بنفشی شعائیں دنیا میں تباہی مچادیں گی۔

(جاری)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/the-voice-of-conscience--part-5--ضمیر-کی-آواز--پانچویں-قسط/d/2384


 

Loading..

Loading..