New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 11:16 PM

Urdu Section ( 12 Jan 2010, NewAgeIslam.Com)

The Voice Of Conscience: Part 3 ضمیر کی آواز: قسط3


زاہدہ حنا

ہیرو  شیما سے کچھ فاصلے پرناگا ساکی ہے۔ وقت ان شہروں میں ٹھہر گیا ہے۔ 6؍اور 9؍اگست 1945کی تاریخیں ان میں منجمد ہوگئی ہیں جب انسان نے انسانوں کے قتل عام کا وہ بے بر حمانہ اور سفا کانہ طریقہ پہلی مرتبہ آزمایا جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی ۔ یہ وہ شہر ہیں کہ ان میں جو لوگ ہلاک ہونے سے بچ گئے ان کی اذیت اتنی کر بناک تھی کہ انہیں ہلاک ہونے والوں کے مقدر پر رشک آتا تھا۔

6؍اگست 1945کو ہیرو شیما پر جب ایٹم بم گرایا گیا تو ایک 12سالہ بچہ یا سوٹا کیٹا بھی اس بدنصیب شہر میں رہتا تھا ۔ اس روز اس کے شہر پر جو کچھ گزری وہ اسی کے لفظوں میں سنیئے....

‘‘مجھے آج بھی وہ دن پوری طرح یاد ہے۔ میں اسکول میں پڑھتا تھا ۔صبح سویرے میری ماں نے مجھے بہن کو کھانا پہنچانے کےلیے کہا ۔ میں نے انکار کردیا ۔میری ماں نے مجھے بہت برا بھلا کہا۔ بادل ناخواستہ میں نے کھانا لیا اوریلوے اسٹیشن کی طرف چل پڑا ۔ میں ابھی اسٹیشن پر پہنچا ہی تھا کہ سائرن بجنے لگا ۔میں بھاگا بھاگا گھر واپس پہنچا ۔میرا خیال تھا کہ حملے کی خبر سن کر ماں مجھے بہن کے پاس نہیں بھیجے گی ۔ ماں نے مجھے ڈانٹ ڈپٹ کر دوبارہ بھیج دیا ۔ میں اسٹیشن کے بینچ پر بیٹھا ریل گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔ اچانک تیز روشنی کا ایک جھما کا ہوا ایک لمحے کے لئے ہر چیز نیلاہٹ مائل زردی چھا گئی۔ چندلمحوں کے لئے میری آنکھیں چندھیاں گئیں اور ہم نیم بیہوش ہوگیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہر چیز مسخ ہوچکی ہے ۔ اس روشنی کے فوراً بعد ایک زوردار دھماکے  کی آواز سنائی دی۔ مجھے لگا کہ جیسے کسی نے میرا معدہ چیر کرمیری انتڑیاں باہر نکال لی ہیں۔ اس روشنی اور دھماکے نے بڑی بڑی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بنا ڈالیں ۔ جس جگہ پر میں کھڑا تھا وہ بم گرنے کے مقام سے تقریباً سات کلو میٹر کے فاصلے پر تھی لیکن اس کے باوجود دھماکے کا اثر ایسا تھا کہ اس نے مجھے ہوا میں اچھال دیا۔ یہ سب کچھ ایک لمحے میں ہوگیا ۔پھر مجھے اپنے گالوں پر تپش محسو س ہوئی ۔میں نے اوپر دیکھا کہ نارنجی رنگ کی لہروں کی صورت میں روشنی اور تپش چاروں جانب پھیل رہی ہے۔ میں ایک بینچ کے نیچے چھپ گیا۔ اسی آگ اور تپش کے بیچ میں نے دو جنگی جہاز دیکھے جن سے یہ ایٹم بم گرایا گیا تھا۔  میں گھر پہنچا تو میری ماں بھی خوف سے کانپ رہی تھی۔ علاقے کے سبھی لوگ اکٹھے ہوچکے تھے۔کسی کو معلوم نہیں تھا کہ دراصل ہوا کیا ہے۔ اسی اثنا میں ہمیں کچھ لوگ اپنی طرف آتے ہوئے دکھائی دیے۔ یہ لوگ بھاگے چلے آرہے تھے ۔ہرکوئی بری طرح زخمی اور جھلسا ہوا تھا۔ ہمارے قریب پہنچ کر تقریباً سبھی گر پڑے ۔کوئی سر مررہا تھا، کوئی پانی مانگ رہا تھا کوئی چیخ رہا تھا اور کوئی خاموش کھلی آنکھوں کے ساتھ آسمان کی جانب دیکھے جارہا تھا ۔ ہم لوگ دہشت کے عالم میں انہیں بچانے کی کوشش کرنے لگے۔ اچانک میری ماں نےمجھ سے پوچھا کہ میری بہن کہاں ہے ۔ وہ بھی اسوقت  شہر میں تھی۔

اگلی صبح میں  اپنی بہن کی تلاش میں نکلا ۔ہیروشیما کا یہ علاقہ جہاں بم گرایا گیا تھا، یہ لاشوں سے اٹ پڑا تھا ۔ ہر طرف خون، جسموں کے جلنے کی بدبو اور لاشیں تھیں۔ دریا کے کنارے لاشیں بکھری پڑی تھیں ۔ لوگ پانی کی تلاش میں دریا تک پہنچے لیکن خود کو موت سے نہ بچا سکے۔ اسی دریا کے کنارے مجھے اپنی بہن ملی۔ وہ زندہ تھی ۔ اس کا جسم بری طرح جھلس چکا تھا۔ تمام رات وہ درد سے چیختی اور ماں کو پکارتی رہی تھی ۔ ہمیں اس کے کپڑاقینچی سے کاٹنے پڑے ۔بہت کوشش کے باوجود ہم اس کی کھال کپڑوں کے ساتھ اترنے سے روک نہ پائے ۔ اگلے تین دن وہ موت اور حیات کی کشمکش میں رہی ۔ یہ تین دن ہمارے گھر پر موت کا سایہ رہا ۔موت کا سایہ تو پورے ہیروشیما پر تھا۔ جب میری بہن مری تو اس وقت ہیرو شیما کے ان گنت گھروں سے ماتم کی آوازیں بلند ہورہی تھیں۔

یا آپ اس منظر کا تصور کرسکتے ہیں کہ ایک پورا شہر ملبے کا ڈھیر بن جائے، صرف یہی نہیں، آج بھی ہیرو شیما میں مائیں معذور بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔ کیا یہ حیوانیت نہیں ؟ ایٹم بم کی طاقت انسانیت کو تباہ کرنے کی طاقت ہے۔ یہ ہنستے بستے شہروں کو کھنڈر بنادینے کی طاقت ہے ۔ کیا آپ اپنے بچوں کو یہی مناظر دینا چاہتے ہیں، جو میں نے بارہ برس کی عمر میں دیکھے؟ ہمیں جنگ نہیں امن چاہئے ۔ ہمارے سامنے علم ،خوشحالی اور تہذیب کی کئی منزلیں ہیں۔ ہمیں ان منزلوں کو سرکرنا ہے ۔ ہمیں موت نہیں چاہئے ۔ہمیں اپنے بچوں کا محفوظ مستقبل چاہئے ۔نفرتوں کو بھول جائیں اور صرف انسانیت کو یادرکھیں ۔ اس طرح ہم اپنی زمین کو جنت بنا سکتے ہیں۔اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یہ زمین اور اس زمین پرمووجود تہذیب کھنڈر بن جائے گی....ہمیشہ کے لئے ۔ ‘‘اگست 1945کو ناگاساکی پر جو کچھ گزری اس کے بارے میں میکا واچی کا کہنا ہے۔

‘‘اگست 1945میں مجھے ناگا ساکی میڈیکل کالج میں داخلہ لیےہوئے چند ہی روز ہوئے تھے ۔ 9؍اگست گرمیوں ایک شفاف اور خوبصو رت دن تھا ۔ صبح آٹھ بجے میں اپنے کمرے سے کالج کے لیے روانہ ہوا۔ مجھے کالج پہنچنے کے لئے ٹرام بس میں سوار ہونا تھا ۔ جب میں بس اسٹاپ پر پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ بس کو حادثہ پیش آگیا ہے اور وہ آگے نہیں جاسکتی ۔ میں نے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا ۔ یہ فیصلہ میری سب سے بڑی خوش قسمتی ثابت ہوا ۔ گیارہ بجے کے قریب میں اپنے کمرے میں ایک کلاس فیلو کے ساتھ بیٹھا گپ کررہا تھا کہ ہم نے بی۔29جہازوں کی آواز سنی۔ چند منٹوں بعد ایک چمکدار زرد روشنی بلند ہوئی اور انتہا ئی زور دار دھماکہ ہوا۔ ہم گھبرا گئے اور نچلی منزل میں غسل خانے میں چھپ گئے ۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ چھت میں سوراخ ہوچکا تھا اور تمام شیشے ٹوٹ چکے تھے ۔شیشے کا ایک ٹکڑا میرے کاندھے میں جا لگا تھا آسمان سیاہ پڑ چکا تھا اور کالی بارش شروع ہو چکی تھی ۔ مکان ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے ۔

میں عورتوں کی چیخ وپکار کبھی نہیں بھلا سکتا ۔ ہر طرف جھلسی ہوئی لاشیں پڑی تھیں جن میں سے سفید ہڈیاں نظر آرہی تھیں۔سڑک کنارے ایک گھوڑا مردہ پڑا تھا ۔ میرے کالج کی عمارت تباہ ہوچکی تھی ۔ جس وقت حملہ ہوا ، میری کلاس فیلو لکچر سن رہے تھے ، جب میں وہاں پہنچا تو ان میں سے کچھ ابھی زندہ تھے ۔ ان میں اپنے جسموں کو ہلانے کی طاقت نہ تھی ۔ ایک نوجوان بہت کوشش کے بعد کھڑا ہوا اور چکرا کر دوبارہ گر پڑا ۔ میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی۔ وہ مرچکا تھا ۔چند دنوں میں وہ سب موت کے منہ میں چلے گئے۔ میں ان کے چہرے اور ان کی آواز کبھی نہیں بھول سکتا ۔

15اگست 1945کو میں گاؤں میں اپنے آبائی گھر واپس چلا گیا ۔ میں جس ریل گاڑی میں تھا اس میں ایسے کئی لوگ سفر کررہے تھے جو ناگا ساکی کی پر ٹوٹنے والی قیامت سے بچ نکلے تھے لیکن اس ہولناک تباہی اور اتنے بہت سے دوستوں اور رشتہ داروں کو اذیت ناک موت مرتے ہوئے دیکھنے کے بعد اپنے بچ جانے پر بھی ان کے چہروں پر خوشی کے کوئی آثار نہ تھے۔میں نے جو دیکھا وہ میرے لیے آج بھی ناقابل برداشت اور ناقابل بیان ہے ۔ جب تک ہم اجتماعی طور پر ان ہتھیار وں کو ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کریں گے، ناگاساکی میں ہلاک ہونے والوں کی روحیں تڑپتی رہیں گی۔’’

میں نے اس ایٹمی قتل عام سے بچے رہنے والوں کی وہ تصویریں دیکھی ہیں جنہیں دیکھ کرانسان ہفتوں کے لیے چین اور آرام سے محروم ہوجاتا ہے ۔ میں سوچتی ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے ان تصویروں کے حقیقی مناظر میں سانس لی ہو گی....یہ کراہتے ہوئے چیختے ہوئے ، آہ و وزاری کرتے ہوئے لہولہان انسان دیکھے ہوں گے....ان پر کیا گزری ہوگی اور آخر کار انہیں کس طور قرار آیا ہوگا؟

یہ 6اور 9اگست 1945کی تصویریں ہیں اور ان دوتاریخوں کی باقیات کے عکس ہیں۔

 ہیروشیما اور ناگا ساکی ......ایک عالم ہو!

دوسری جنگ عظیم میں ہارتا ہوا جاپان ،امریکیوں کے ایک نئے ہتھیار کا تجربہ کرنے کےلئے موزوں علاقہ تھا۔ چنانچہ وہاں بسنے والے انسان تجربہ کے لیے استعمال ہونے والے چوہے (Guinea Pig )کے طور پر استعمال کر لیے گئے ۔ تجربہ جب صد فیصد کامیاب رہا تو ان دونوں شہروں پر گزرنے والے عذاب کی تفصیلات پر اوروہاں کے زندہ اور مردہ شہریوں کی تصویریں شائع کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ۔زبردست ‘‘مارے اور رو نے بھی نہ دے’’ کی اس سے اعلیٰ مثال ہمیں اورکہاں ملے گی۔

ہم ناواقف رہے....ہمیں ناواقف رکھا گیا ۔جنگ کے کئی برس بعد تک ہم حقائق سے ناواقف رہے۔ مقبوضہ افواج نے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ہونے والی ایٹمی بمباری کے بارے میں کچھ بھی شائع کرنے پر پابندی عائد کررکھی تھی۔ حقائق اکٹھا کرنے والی جاپانی ٹیمیں جوان شہروں کی وسیع تباہی کی تفصیلات کا جائزہ لینے اور بچے رہنےوالوں کو طبی امداد دینے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ ان کے کاموں میں بھی رکاوٹ رہی۔

8ستمبر 1951کو سان فرانسسکو ٹریٹی پر دستخط ہونے کے بعد ہی ایٹمی بمباری کے متاثرین کی تصویروں ، روغنی تصویروں ، کہانیوں ،ناولوں اور متاثرین کی لکھی ہوئی یادداشتوں تک عوام کی رسائی ہوسکی۔ اس موضوع پر اعلیٰ ترین شاہکار  Graphics Ashaiکے 6اگست 1952کے شمارے میں پیش کیے گئے یعنی تباہی کے چھ برس بعد یہل شمارہ ‘‘ایٹمی تبارہ کاریوں پر سے پہلی مرتبہ پردہ اٹھا تا ہے’’ کے عنوان سے منظر عام پر آیا ۔ اس شمارے میں چھپنے والی تصویریں اتنی ہیبت ناک تھیں کہ انہیں دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجائیں ۔ ان تصویروں سے ہیرو شیما اور ناگاساکی سے باہر رہنے والوں کو پہلی مرتبہ ان شہروں کی ہولناک تباہی کے بارے میں معلوم ہوا۔

آج  دنیا میں ان دوشہروں کو رسمی طور پر ضرور یاد کیا جاتا ہے، ہر سال اگست کے مہینے میں ان کا سوگ بھی منایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقتاً ان شہروں کو ان میں ہلاک ہونے والے اور ان کے زندہ مقتولوں کو بھلا یا جاچکا ہے۔ انہیں اگر بھلا نہ دیا گیا ہوتا اور انسان اگر ان دوشہر وں کے قتل پر شرمندہ ہوتا تو آج ساری دنیا میں ایٹمی اسلحے کی دوڑ جاری نہ ہوتی او رہر ملک اپنے ‘دفاع ’ کے نام پر ایٹمی طاقت بننے کے لیے بے قرار نہ ہوتا ۔

ہمیں یہ بات بھی جاننی چاہئے کہ ان دومقتول شہروں کی تباہی و بربادی کی داستان کو فاتح نے نہ صرف یہ کہ دبادیابلکہ برسوں تک دنیا تو دور کی بات ہے، خود جاپان کےشہری اس تباہی وبربادی کی تفصیل سے واقف نہ تھے ۔ جاپان پر قابض امریکہ فوجوں کے غیر انسانی رویے کے سبب بچے رہنے والوں کو ناکافی طبی امداد بہم پہنچائی جاسکی ۔ ان کی آباد کاری کا کام بھی بہت سست رفتاری سےہوا ۔ 8؍ستمبر 1951کے بعد جاپانی اخباروں اور رسالوں کو اس بات کی اجازت ملی کہ وہ ان شہروں اور ان کے باشندوں پرگزرنے والی قیامت کی تصویر یں یا اس کے بارے میں تحریریں شائع کرسکتے ہیں۔ یہ اجازت ان شہروں کی ہلاکت کے مکمل چھ برس بعد ملی تھی۔

ان دوشہروں کی ہلاکت کو 55؍برس گزرچکے ۔ جاپان اب دنیا کی عظیم صنعتی طاقت ہے۔ دونوں شہر دو بارہ سے بسائے جاچکے لیکن ہیروشیما میں ‘‘امن پارک’’ کے شمال میں وہ پسماندہ علاقہ ہے جو ‘‘ایٹمی جھونپڑپٹی’’ کہلاتا ہے۔ یہ جھونپڑپٹی دریائے اوتاتک پھیلی ہوئی ہےاور یہاں تقریباً ایک ہزار خاندان رہتے ہیں جو چار ہزار افراد پر مشتمل ہیں۔ اس جھونپڑ پٹی میں بیشتر وہ لوگ رہتے ہیں جو ایٹمی حملے سے متاثر ہوئے۔ یہاں اور ہیروشیما کے دوسرے پسماندہ علاقوں میں آج بھی ایٹمی حملے کے وہ بیمار موجود ہیں جو 6؍ اگست 1945سےبستر پر پڑے ہیں۔ تابکاری کاشکار ہونے والے ان معذوروں او رمجبوروں میں بعض ایسے بھی ہیں جن کا کوئی علاج نہ ہوا ۔ وہ لحظ لحظ مرتے ہیں اور پھر بھی زندہ ہیں۔ انہو ں نے کبھی ‘‘اٹامک بم اسپتال ’’ کی شکل نہیں دیکھی، اس کی دہلیز بھی پار نہیں کی، کیو نکہ وہ غریب تھے۔ اتنے غریب کے اپنا علاج کرانے کے بھی اہل نہ تھے ۔ ایسے لوگ ہیرو  شیما کی کسی کھنڈر بستی میں چھپر کے نیچے زندگی گزارتے ہیں یا تنگ اور پر ہجوم گلیوں کے کسی کونے میں پڑے رہتے ہیں او رمٹھی بھر چاول کے لیے گزر نے والوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

وہ بچے جو اس مہیب سانحے کے مہینوں بعد پیدا ہوئے ،ان میں سے بیشتر کسی نہ کسی طور پر معذور ہیں۔ کوئی اندھا ہے ،کیسی کی عمر 26سال ہے مگر ذہنی عمر 26؍مہینے سے زیادہ نہیں ، کسی کے پاؤں مڑے ہوئے ہیں او رکسی کی انگلیاں ٹیڑھی ہیں۔ یہ بچے ‘‘ہیروشیما’’ کے بچے کہلاتے ہیں اور اپنے ساتھ ڈاکٹروں کے وہ تصدیق نامے لیے پھرتےہیں جو ان کی پیدائش کے بعد ان کی ماؤں کو دیئے گئے تھے اور جن میں لکھا تھا۔۔۔‘‘ایٹمی تابکاری کا وہ شکار جو 6اگست 1945کو رحم مادر میں موجود تھا ’’۔ یہ تصدیق نامے دو چار یا دس پانچ نہیں ،ہزاروں کی تعداد میں جاری کیے گئے تھے ۔ ان میں سے ہزاروں بچے سسک کر ختم ہوے لیکن ہزارو ں اب بھی زندگی کی تہمت پوری کررہے ہیں۔

ان دوشہروں پرجو کچھ گزری اس کا ایک مظہر تو لاشوں کےڈھیر ،جھلسے ہوئے بدن، مسمار عمارتیں اور خاکستر باغات تھے اوردوسری طرف وہ نفسیاتی اثرات ہیں جو اس عظیم سانحے سے بچے رہنے والوں پر مرتب ہوئے ۔ ان متاثرین کو کس نام سے یاد کیا جائے۔ شاید ان کے لئے ‘‘زندہ مقتول’’ کا لفظ مناسب رہے گا۔ ابتدائی دنوں میں ان میں سے بیشتر افراد کو اس بات کا احساس یا علم ہی نہ ہوتا تھا کہ وہ جاگ رہے ہیں یا سورہے ہیں ۔ بدن کے کسی حصے میں یا ہر حصے میں ناقابل برداشت درد انہیں زندہ ہونے کا یقین دلاتا ،دن پروہ رات کا گمان کرتے اور کبھی آدھی رات کو سمجھتے کہ دن نکل آیا ہے۔ ان میں سے بعض کے لیے جسمانی اذیت اس قدر ناقابل برداشت تھی کہ وہ چیخ چیخ کر روتے ۔ پاس سے گزر نے والوں کی منتیں کرتے، گڑ گڑ اتے کہ انہیں جان سے مار دیا جائے ۔ انہیں زندگی نہیں چاہئے ۔

ان زندہ مقتولوں کے لیے ماں باپ، بھائی بہن، شوہر بیوی ، بچوں ،رشتہ داروں اور دوستوں کا چشم زدن میں یوں صفحہ ہستی سے غائب ہوجانا۔۔۔ خود ان کا جو کہ امیر، خوشحال یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے،بھکاری بن جانا، ایک ایسا ذہنی صدمہ تھا جس نے ان میں سے بیشتر لوگوں کو ذہبی طور پر پھر کبھی موت متوازن نہیں ہونے دیا۔ ان لوگوں کے دل امید سے خالی ہوگئے اور ان کی زندگی سے رشتے منہا ہوگئے ۔ اب کوئی گھر ایسا نہ تھا جہاں وہ جاسکتے ہوں ۔ اب کوئی شخص ایسا نہ تھا جسے وہ‘‘اپنا’’ کہہ کر پکار سکتے ہوں۔

ان میں سے بیشتر جھلس گئے تھے ۔ ان کے مسخ چہرے او رسکڑے ہوئے سیاہ بدن کو لوگ جب غور سے دیکھتے تو انہیں ان صحتمند لوگوں سے نفرت ہوتی ۔ انہیں دنیا زہر لگتی اور دنیا والے قاتل ۔ ان میں سے بہتوں نے اپنے آپ کو اسپتال کے کمروں یا حکومت کی طرف سے فراہم ہونے والی رہائش میں قید کرلیا ۔ وہ پہروں آئینے کے سامنے کھڑے رہتے اور ان میں اپنی کھوئی ہوئی صورت ڈھونڈ تے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اپنے شاداب چہرے کی بجائے ایک ایسا چہرہ ہوتا جسے وہ خو اہش کے باوجود کسی طور نہ پہچان پاتے۔ جھلسی ہوئی بھنو یں، جلے ہوئے بال،آنکھوں کے ڈلے باہر کی طرف نکلے ہوئے ،ہونٹوں کا تناسب بگڑا ہوا، چہرے کی کھال کہیں سے سمٹی اورکہیں سے لٹکی ہوئی۔

ان لوگوں کے اندر احساس تنہائی اور بیگا نگی پوری شدت سے ابھر اور ان میں سے بیشتر کو جسمانی درد کے علاوہ ہر احساس سے عاری کرگیا ۔ ان میں سے بہتوں نے جسمانی صحت یابی کے بعد اپنے آپ کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ ان کے خاندان ختم ہوگئے تھے۔ دوست نہیں رہے تھے، ان لیے اب وہ صرف اپنی محنت پر ہی بھروسہ کرسکتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے ‘‘کام’’ ڈھونڈنا شروع کیا اور اپنی اپنی ملازمتوں پر جاتے ہوئے انہوں نے نئے رشتے قائم کرنے اور نئے گھر بنانے کی کوشش کی ۔ ان میں سے بہت سے اس احساس جرم کا شکار ہوئے اور اس میں مبتلا رہے کہ ان کا زندہ رہنا مرجانے والے رشتوں کے ساتھ غداری تھی۔ اس احساس جرم نے ایسے لوگوں کی زندگی جہنم بنادی ۔ زندہ رہ جانے والوں میں سے کچھ کو اس خیال نے زندہ رہنے پرمجبور کیا کہ وہ اپنے خاندان کے زندہ رہ جانے والے تنہا فردہیں اور یہ ان کی ذمہ دار ی ہے کہ وہ ختم ہوجانے والے عزیزو ں کے نام پر خوشبو  ئیں جلائیں اور ان کی نجات کی دعا کریں۔ یہ زندہ مقتول ہر وقت اس نفسیاتی دباؤ کا شکار رہے اور آج بھی رہتے ہیں کہ تابکاری کے دور رس اثرات جانے کب ان پر حملہ کردیں۔ وہ اپنے بچوں کی جسمانی او رذہنی صحت کی طرف سے ہر وقت پریشان رہتے ہیں کیو نکہ ایسی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جن میں تابکاری سے متاثرہونے والے والدین کے بہ ظاہر صحتمند بچوں پر پیدائش کے برسوں بعد تابکاری کے اثرات ظاہر ہوئے۔ ان لوگوں کو اس بات کا بھی ہمیشہ احساس رہا او ررہتا ہے کہ ان کے وہ ہم قوم جو دوسرے شہرو ں میں آباد تھے او ر جو اس سانحے سے قطعاً متاثر نہیں ہوئے ،وہ ان میں او ر اپنے آپ میں فرق کرتے ہیں اور انہیں رحم کی نظر سے دیکھتے ہیں ،یا کبھی کبھار کا رویہ ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہےجیسے انہیں چھوت کی کوئی بیمار ی ہو۔

طاقت کے نشے میں چور ہوکر ان دوشہروں کو جس طور پر ذبح کیا گیا اس کی لفظوں سے تصویر کھینچی نہیں جاسکتی ۔ اس ذبح عظیم کا اندازہ ان تصویروں سے کیا جاسکتا ہے جن میں سے بعض اس سانحے کے چند گھنٹوں بعد، دوسرے دن، چند دنوں ، چند مہینوں اور چندبرسو ں بعد کھینچی گئیں۔ایٹمی حملے کے متاثرین نے اپنے ذہن پر نقش ہوجانے والی موت، انسانی بے چارگی ، درد اور اذیت کو جس طور کینوس پر نقوش او ررنگوں سے ابھارا ہے، وہ بھی دیکھنے اور محسو س کرنے والی چیزیں ہیں۔ میں کراچی میں جاپانی قونصل خانے کے اتاکا صاحب کی بہت منون ہوں جن کی وساطت سے میں ان سینکڑوں تصویروں او رپینٹنگز کو دیکھ سکی جنہوں نے جنگ اور ایٹمی ہتھیار وں سے نفرت کے رنگ کو میرے اندر اور گہرا کیا۔

ذومن کین ایک جاپانی فوٹو گرافر ہے۔ اسے ہیروشیما کی ہلاکت کے بارے برس بعد ایک جاپانی ہفت روزہ کی طرف سے اس شہر کے کھنڈ رات اور اس کے متاثرین کی تصویر یں اتارنے کے کیے بھیجا گیا تھا، اس کاکہنا ہے کہ 23جولائی 1957کو سہ پہر کو  میں اسے روز مرہ کاکام سمجھ کر روانہ ہواتھا ۔لیکن وہ ایک ایسا لمحہ تھا جس سے میری زندگی بدل ڈالی ہے ۔ میں نے اتنا درد والم ،اتنی بے بسی ، انسان اور انسانیت کی تذلیل کے ایسے مناظر کبھی نہیں دیکھے تھے اور تب میں نے اپنی زندگی جو ہری ہتھیارو ں کے خلاف جدوجہد کےلیے وقف کردی۔

وہ کہتا ہے کہ جب میں اپنا کیمرہ لے کر ہیرو شیما کے کھنڈ رات میں نکلا تو بچے رہنے والے گروہ درگروہ میرے کیمرے کے سامنے آکھڑے ہوئے ۔ انہوں نےکہا کہ ہماری تصویریں اتارو،انہیں لے جاو او رساری دنیا کو دکھا دوتاکہ دنیا میں پھر کبھی کوئی اس گرب سےنہ گزرے ،جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ کین کا کہنا ہے کہ میں نے ہیروشیما میں ہزارو ں تصویریں اتاردیں اور ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جسے اتارنے کے لیےکیمرے کا بٹن دباتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو نہ بہہ رہے ہوں۔

اس سانحہ کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایٹمی ہتھیار تیار ہی نہیں کیے جاتے لیکن اس کی بجائے زیادہ ‘‘بہتر’’ اور زیادہ ‘‘موثر’’ ایٹم بم بنائے جانے لگے ۔تمام بڑی طاقتوں کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی دوڑ شروع ہوگئی اور اس کے حق میں دلیل یہ دی گئی کہ ‘‘عالمی امن’’ برقرار رکھنے کے لیے ایٹمی ہتھیار نہایت ضروری ہیں اور یہ بھی کہ زیادہ سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ،امن عالم کی ضمانت اور علامت ہیں۔

آج دنیا کے بہت سے ملک ایسے ہیں جن میں جنگی جنون کو اور ایٹمی قوت بننے کی خواہش کو ہوادی جاتی ہے۔ ان ملکوں کے ننگے او ر بھوکے عوام کو ‘‘تنظیم طاقت’’ بننے کے سنہری خواب دیکھا ئے جاتے ہیں ۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے اپنی مٹھی کے چاولوں او راپنے ہاتھ کی روٹی سے بھی دستبردار ہوجائیں کیونکہ وہ اپنے دشمن سے اسی وقت محفوظ رہ سکتے ہیں جب کہ وہ ایٹمی طاقت ہوں۔ میرے خیال میں ایسے تمام ملکوں میں ہیروشیما اور ناگا ساکی کے کھنڈ رات، انسانی ڈھانچوں کے ڈھیر ،بچے رہنے والوں کے جھلسے ہوئے جسموں اور ان کے مسخ چہرو ں کی تصویروں ابتدائی جماعت سے نصاب میں شامل ہونی چاہئیں ۔بچو ں کو ، ان کے والدین اور استذہ کو معلوم تو ہو کہ جوہری ہتھیار کیا ہوتے ہیں اور وہ انسانوں پرجہنم کے کون کون سے درکھولتے ہیں۔ ان دوشہرو ں کی ہلاکت کو 55؍برس گزرچکے ۔ ان کی ہلاکت کے حوالے سے ایک کتاب کا ذکر ناگزیر ہے جو 1962میں چھپی تھی اور جس کا نام ‘‘جلتا ہوا ضمیر’’ The Burning Conscience) تھا۔ یہ ہیروشیما پرایٹم بم گرانے والے پائلٹ میجر کلاڈ ایتھر الے او ر معروف آسٹروی دانشور گنٹر اینڈ رز کی خط وکتابت پر مشتمل تھی، اس کا دیباچہ بیسویں صدی کے عظیم فلسفی اور امن پرست دانشور برٹرنڈ رسل نے لکھا تھا ۔

(جاری)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/the-voice-of-conscience--part-3--ضمیر--کی-آواز---قسط3/d/2375


 

Loading..

Loading..