New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 05:27 AM

Urdu Section ( 2 March 2010, NewAgeIslam.Com)

Changes In The Collective Thinking Of Muslims Part 2 مسلمانوں کی اجتماعی سوچ میں تبدیلی حصہ۔2


حسن کمال

گزشتہ سے پیوستہ

انڈونیشیا میں انتہاپسندوں کی شکست کے بعد مغربی ممالک کے دانشوریہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ دہشت گردی سے لڑنے کا وہ طریقہ واحد طریقہ نہیں ہے، جو امریکہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ اس سے لڑنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ سول سوسائٹی کو ساتھ لیا جائے اور اسے بتایا جائے دہشت گردی اور بے عقل تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں ۔ اس کے عین بر عکس یہ ایک مقصد کو فوت کرانے والا (Counter Productive) عمل ہے۔اس سے طاقت کے بجائے اجتماعی زندگی میں کمزوری آتی ہے اور ترقیات کا عمل موقوف ہوجاتا ہے۔ اسلامی ریاست کے تصور کے علاوہ جس دوسرے موضوع پر مسلم اُمّہ کنفیوژن کا شکار تھی ،وہ جہاد ہے۔ جہاد مسلمانوں کے لئے ایک بہت محبوب اور مقدس لفظ ہے۔ یہ بات متفقہ طور پر مانی جاتی ہے کہ منفی نفساتی خواہشات یا نفس امّارہ سے جنگ کرنا ہی جہاد اکبر اور اصل جہاد ہے، لیکن جہاد فی سبیل اللہ کے موضوع پر خاصا انتشار پھیلا یا گیا۔ دہشت گردوں نے اپنے بے عقل کو بھی جہاد کا ہی نام دیا، لیکن اجتماعی پیمانہ پر مسلمان ذہنوں میں الجھن بہر حال موجود رہی کہ کیا ہر لڑائی کو جہاد کہا جاسکتا ہے ؟ اور یہ الجھن  بھی رہی کہ جہاد کا اعلان کون کرسکتا ہے۔بڑے بڑے مسلم علما کا کہنا ہے کہ جہاد کا اعلان کوئی فرد یا کوئی جماعت نہیں کرسکتی ۔ اس اعلان کا اختیار خلیفہ ٔ وقت کے ہاتھوں میں یا اگر خلیفہ نہ ہوتو صرف ریاست یا حکومت کے ہاتھوں میں ہے، افراد یا گروہوں کے ہاتھوں میں نہیں۔ جہاد کے لئے یہ بھی ضروری سمجھا جاتا ہے کہ جس کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جائے، اسے پہلے آگاہی دی جائے اور جو کچھ وہ کررہا ہے، اس سے باز رہنے کی تلقین کی جائے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسے پہلے دعوت دی جائے، جس کے قبول نہ کرنے کی صورت ہی میں کوئی قدم اٹھایا جاسکتا ہے ، لیکن مسلمان دیکھ رہے تھے کہ ایسا نہیں ہورہا ہے۔ اسامہ بن لادن اور اس کے مقلدین نےجب چاہا اور جس کے خلاف چاہا جہاد کا اعلان کردیا۔ اس ‘‘جہاد’’ کے سلسلہ میں جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، انہیں کبھی کسی قسم کی آگاہی نہیں دی گئی ۔ یہ بات رفتہ رفتہ عالمی پیمانہ پر مسلمانو ں کی سمجھ میں آنے لگی ،لیکن ایک اور بہت اہم بات تھی، جس نے مسلمانوں کو یہ سوچنے پرمجبور کردیا کہ یہ کیسا ‘‘جہاد’’ ہے؟

شروع میں جب خود کشی دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو لوگوں کو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں کو علم تھا کہ خود کش دھماکہ یا اپنے جسم سے بم باندھ کر دشمن کے حصار میں گھس جانا او ردشمن کے ساتھ ہی اپنے بدن کے بھی چتھڑے اڑا لینا ،جاپانیوں کا ایجاد تھا۔ جاپان کی ریڈآرمی نے سب سے پہلے یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس کے بعد ایل ٹی ٹی ای کے سری لنکا تملوں نے اسے اپنایا اور اسے اپنا خاص ہتھیار بنالیا، لیکن کسی مسلمان کا اس طرح اپنی جان دیناکسی کے سان وگمان میں بھی نہیں تھا۔ مسلمانوں کا عام اعتقاد یہی تھا کہ خود کشی حرام موت ہے۔ اس لئے شروع شروع میں بیشتر مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس پر کس طرح کا رد عمل ظاہر کریں۔ بدقسمتی سے چند دہشت گردوں نے کچھ نام نہاد علما سے خود کش بمباروں کے حق میں فتوے بھی حال کرلئے ۔ اس سے اور بھی کنفیوژن پھیل گیا، لیکن جب ان خو د کش بمباروں نے امریکہ اور ناٹو کے فوجیوں کی بجائے مسجدوں ،خانقاہوں اور میت کے جلوسوں میں گھس کر عام شہریوں کو اڑانا شروع کردیا توسوال اٹھنے لگے کہ کیا جہاد بے ضرر اور معصوم شہریوں کو اور وہ بھی مسلمان شہریوں کی جانیں لینے کی اجازت دیتا ہے؟ عراق اور پاکستان میں کئی خود کش دھماکے اس وقت ہوئے جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ بیشتر کی مو ت اس وقت واقع ہوئی جب وہ سجدے میں گرے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کو کسی بھی طرح جائز اور اسلامی نہیں کہا جاسکتا تھا۔ درحقیقت 11/26کے واقعہ کے بعد ہی مغربی دنیا کے دانشور مسلم علما سے اپیل کرنے لگے تھے کہ جہاد اور جہادیوں کی بابت ایک واضح موقف اختیار کیا جائے ۔ جہاد کی وضاحت کی جائے اور ممکن ہوتو اس تعلق سے فتوے بھی جاری کئے جائیں ۔ شروع شروع میں ان اپیلوں کی ان سنی کی گئی، لیکن جب مسجدوں اور جنازے کےجلوسوں پر خود کش حملے بڑھنے لگے تو سنجیدہ علما کے طبقے کو کچھ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ چنانچہ 2006سے اس طرح کے نام نہاد اور خود کش دھماکوں کے خلاف فتوے آنے بھی لگے ۔ 2007میں اسامہ بن لادن کے استاد معنوی اور ایک بے حد محترم سعودی عالم سلمان  الاوذہ نے اسامہ بن لادن کے نام ایک کھلا خط لکھا، جس میں انہوں نے دوسری باتوں کے علاوہ اسامہ بن لادن کو سرزنش کی کہ ‘‘ خود کش دھماکوں کے کلچر کوفروغ دے کر تم نے قتل وغارت او رعوام کے لئے مصیبتوں کو عام کردیا ہے اور تمام کی تمام مسلم اُمّہ کا امیج بگاڑ کر رکھ دیا ہے’’۔امیج کو بگاڑ کر رکھ دینے کی بات ایسی تھی، جس سے کوئی صاحب عقل مسلمان انکار ہی نہیں کرسکتا تھا۔

بہت جلد یہ احساس بھی مسلمانوں میں عام ہونے لگا کہ اسامہ بن لادن اپنے مقاصد میں لاکھ مخلص ہوں لیکن ایک تو اگر ان کو سعودی حکمرانوں سے شکایت تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ سعودی عرب کے حکمراں مسلم اُمّہ کے مفادات کی حفاظت کی بجائے امریکہ کی غلامی کررہے ہیں تو انہیں سعودی حکمرانوں کے خلاف جد وجہد کا آغاز سعودی عرب میں رہ کر ہی کرنا چاہئے تھا۔ ان کے پاس وسائل اور افراد کی کمی نہیں تھی۔ دنیا کی تاریخ میں اتنا مالدار اور دولت مند ‘‘انقلابی’’ کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اس میں شک نہیں یہ ‘‘ وتو اصو بالحق ووتو ا صوبالصبر ’’ کی کڑی آزمائش سے گزرنے کا مرحلہ ہوتا، لیکن مقلدر سول عربیؐ کے لئے یہ کوئی مشکل کا م بھی نہیں تھا۔ بن لادن کی جد وجہد عدم تشدد کی راہ پر بھی ہوسکتی تھی۔ وہ اگر ہندوستانی گاندھی کی تقلید نہ بھی کرتے تو ان کے سامنے لیبیائی گاندھی عمر مختار کی مثال موجو دتھی۔ ایسی ہی جدوجہد شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے خلاف امام خمینی نے شروع کی تھی اور اس کے لئے جلاوطنی تک قبول کرلی تھی۔ اس سے بھی قطع نظر اسامہ بن لادن دنیا کے تمام مسلمانوں سے تو جہاد میں شامل ہونے کا تقاضا کررہے تھے، لیکن خود ان کے گھر کا کوئی فرد ان کے جہاد میں شامل نہیں تھا۔ گویا وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے جوان بچے کو سرسے کفن باندھیں اور ان کے اپنے بچوں سروں پر سہرے بندھتے رہیں۔ عام مسلمانوں کو جب ان حقائق کا علم ہوا تو ان کے ذہنوں میں اسامہ بن لادن کی نیت پر شک پیدا ہونے لگا۔ ان کےمقلدین نے جب شریعت کے نام پرمسلم عورتوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ،بچیوں کے اسکول بند اور بعض حالات میں تباہ کردئے ، عورتوں کو ملازمتوں حتیٰ کہ بازاروں تک جانے سے محروم کردیا گیا تو یہ شبہ یقین میں بدل کیا کہ یہ جہادی نہیں ۔ ان کے ذہنوں میں شریعت محمدیؐ کی غلط تصویر ہے۔ عورتوں پر ظلم اس اسلام کا حصہ ہوہی نہیں سکتا تھا، جس نے سب سے پہلے دنیا سے عورتوں کے حقوق تسلیم کرائے تھے۔ ان کا مقصد صرف کسی نہ کسی طرح اقتدار کا حصول ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسامہ بن لادن ،القاعدہ اور ان کے معاونین کا بھرم بڑی تیزی سے ٹوٹنے لگا۔

عالمی طور پر مسلمان آج بھی پریشان ہے، ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں وہ ناانصافی اور ہر اسانی کا بھی شکار ہے، لیکن اس میں یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ بے عقل اور بلا سبب تشدد اس کے مسائل کا حل ہر گز نہیں ہے۔ امریکہ میں براک اوبامہ کی جیت اور ‘بشیت’ کی ہار سے وہ پوری طرح مطمئن نہ بھی سہی ، لیکن پر امید بہر حال ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود آج اسرائیل کا وہ دبدبہ نہیں ہے، جو کل تک تھا ،اس کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی ہے۔ مسلمان اس کا کھیل سمجھنے اور دوسرووں کو سمجھانے میں کامیاب ہورہے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ مسلمان پہلی بار اسرائیل کو خوفزدہ دیکھ رہا ہے۔ وہ ایران سے خوفزدہ نظر آرہا ہے۔ مسلمان آج کل کے مقابلے میں زیادہ تو انا اور پراعتماد نظر آتا ہے۔ وہ دیکھ رہا کہ اُمّہ نے بہترین ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس داں پیدا کرنا شروع کردیئے ہیں۔ اس کی اجتماعی سوچ نے اپنی منزل طے کرلی ہے۔ یہ منزل صرف حصول علم کی راہ پر چل کر مل سکتی ہے۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/changes-in-the-collective-thinking-of-muslims-part-2--مسلمانوں-کی-اجتماعی-سوچ-میں-تبدیلی-حصہ۔2/d/2529


 

Loading..

Loading..