New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 07:04 PM

Urdu Section ( 27 Nov 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

They Take Everybody As A Kafir Except Themselvesوہ اپنے علاوہ سب کو کا فر سمجھتے ہیں

 

تنویر زمان خان (لندن)

28 نومبر ، 2012

اسلام فاریو کے کے ترجمان انجم چوہدری جو کہ گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ میں شریعت کے نفاذ کے لئے کوشاں ہیں ۔ 30 نومبر یعنی آئندہ جمعہ کے روز اسلام کی روشنی پھیلانے لال مسجد اسلام آباد میں شریعت فار پاکستان کانفرنس میں شرکت کرینگے ۔اس بات  کا انکشاف مجھے ایک موصول ہونے والے پوسٹر سے ہوا جس کی تفصیلات کی تصدیق میں نے اس کانفرنس کے میڈیا کنٹرول سیل پر فون کر کے کرلی۔ مشہور زمانہ لال مسجد اسلام آباد میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس پانچ نکات پر اپنے علم افروز خطابات سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے غیر اسلامی ہونے کی قلعی کھولے گی جس میں دنیا بھر سے زیر نگرانی علماء پریزیڈنسی کی طرف لال مسجد کے لاوڈ سپیکر وں کا منہ کر کے پورے زور و شور سے اپنے نکات کی تشریح کرینگے ۔

بر طانیہ اور دوسرے ممالک سے اس کانفرنس کو شرف خطابت بخشنے کے لئے جانے والی اہم  شخصیات میں انجم چوہدری (ترجمان اسلام فاریوکے ) ، عمر بکری (امیر المہا جرون) ابووالہ ( ڈائریکٹر ٹروتھ کمشین ) ابوبرا ( ماہر اسلامک جیور سپروڈنس ) ابو ر میس ( چیئر مین نیو مسلم سوسائٹی ) شامل ہیں۔ کانفرنس کی روح او رمقصد تو اس کے نکات سے نمایاں طور پر ظاہر ہورہاہے جب کہ اس پوسٹر کی تصویری Theme بڑی ذو معنی ہے جس میں قائد اعظم  ،آصف زرداری او رملالہ آگ میں گھرے ہوئے ہیں ۔ جب کہ مزار قائد گولی باز کےنشانے پر واقع ہے ۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے بیرون ممالک سے جانے والے تمام مہمان وہ لوگ ہیں جن کی یا تو اپنے پر تشدد نظریات کی وجہ سے کئی ممالک میں داخلے پر پابندی ہے یا انٹیلی جنس ایجنسیاں انہیں اپنی   Observation میں رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں مسئلہ ان کے نظریات کا نہیں ہر شخص کا کسی بھی شخصیت یا نظریئے کے حوالے سے نقطہ نظر اور تقدس ہوسکتا ہے وہ جناح ، زرداری یا ملالہ کو جو بھی سمجھیں ان کا حق ہے۔ وہ پاکستان کے آئین کو گھر کا آئین کہتے رہیں۔ یا ان تمام نکات کو اپنے ایمان کاحصہ بنا کے رکھیں۔ کسی کو کوئی اعتراض نہیں، لیکن جب کوئی فردن یا جماعت ایسے نظریات کو معاشرے پر زبردستی مسلط کرنا چاہتے ہوں تو عوام اور ریاست کا حق بنتا ہے کہ ایسے نظریات رکھنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کریں۔ یہ تو ہے مہذب معاشروں کی بات، ایسے نظریات رکھنے والوں کو ہم گزشتہ دو دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے پوری دنیا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ 11 ستمبر کے بعد یہ قوتیں زیادہ بے لگام ہوچکی ہیں ۔ اور اب پوسٹر میں دکھایا جانے والا مزار جناح ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ان کے نشانے پر ہے۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والے تقریباً تمام مقررین اس بات پر متفق ہیں کہ جناح برٹش ایجنٹ تھا اس لئے اسے دوسری جنگ عظیم سے تھوڑا عرصہ پہلے انڈین سیاست میں واپس بلایا گیا تھا ۔ مسلمانوں کا بہت بڑا فکری مغالطہ ہے کہ جناح پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ جوگندر ناتھ منڈل کو پہلا وزیر قانون نہ بناتا۔ قادیانی کو پہلا  وزیر  خارجہ نہ بناتا ۔ جنرل فرینک مسروی کو پہلا آرمی چیف نہ بناتا ۔ اب آصف زرداری بھی جناح کی تقلید میں  وہی کچھ کررہا ہے جو جناح کا طرزعمل تھا۔ یہ ہے نقطہ نظر شریعت فار پاکستان کے محرکین کا ۔ جو انہی وجوہات کی بنیاد پر آئین پاکستان کو بھی کفر کا آئین سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ اس میں جمہوریت اور آزادیوں کی جو بات کی گئی ہے وہ خلاف شریعت ہے۔اسلئے اس کے خلاف بھی فتویٰ صادر کرنا فرائض اسلام میں شامل ہے ۔ یہ کانفرنس اسلام آباد میں آئی ایس آئی کےدفتر سے چند قدم کے فاصلے پر لال مسجد میں منعقد ہوگی ۔ لال مسجد کوئی معمولی جگہ نہیں ہے ۔

اس مسجد سے پوری دنیاواقف ہے جہاں اسلامی تعلیم حاصل کرنے والی برقعہ پوش خواتین نے اسلام آباد کے کئی کاروبار اور دکانیں اس لئے بند کروا دی تھیں اور بہت سارے دکاندار وں کو اغوا کر کے بھی لال مسجد میں لے گئی تھیں کیونکہ وہ ان کے کارو بار کو غیر شرعی سمجھتی تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کے  زمانے میں اسلام آباد کے وسط میں یہ مسجد اس لئے تعمیر کی گئی تھی کہ وہ ملک بھر میں بنائے جانے والے مجاہدین کے نیٹ ورک کو کنٹرول کرے ۔ یہ نیٹ ورک جو کہ جہادی عناصر پیدا کرنے کی فیکٹریا ں تھیں جنہیں مدارس کہا جاتا ہے ۔ ان مدارس نے بڑی کامیابی سے ایسے جہادیوں کا فلڈ  Flood کردیا۔ جنہیں مذہب کے نام کی چابی لگا کے جو چاہے استعمال کرے ۔ وہ اسے فرمان الہٰی سمجھ کے قربان ہونے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔ مذہبی جذبے کے استعمال میں قربان ہوجانے کی مثال 1977 کی نظام مصطفیٰ کی قومی اتحاد کی تحریک تھی ۔ جس میں قومی اتحاد نے اپنے اقتدار کے لئے سیکڑوں لوگوں کو نظام مصطفیٰ کے نام پر قربان کیا ۔ اب گزشتہ بارہ برس سے انتہاپسند تنظیموں کے تیار کردہ نوجوان بچے شریعت کے نفاذ کے نام پر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف خود کش بمبار بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔ جو اپنے ہی ہم وطنوں کے قتل کے بدلے جنت لے رہے ہیں ۔ جس شریعت فار پاکستان کانفرنس کاہم ذکر کررہے ہیں اس کے تمام فکری محافظ پوری دنیا میں نظام خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ خود کے سوا ساری دنیا کو کافر سمجھتے ہیں۔اور ان کافروں کے خلاف مسلح جہاد فریضہ دین ہے ۔ شریعت فار پاکستان کے اولین اصول کے مطابق دراصل آئین پاکستان کفر ہے ۔ اسلئے اس آئین کفر کے تحت چلنے والی ریاست بھی کافر ریاست ہے ۔

 یہی صورتحال پھر ریاست کے تمام اداروں کی بھی ہے ۔ ان کے بلوگ  Blog میں بڑا واضح لکھا ہے کہ وہ جناح کو غدار اسلام سمجھتے ہیں اس لئے مزار قائد کو تباہ کرنا ان کا پہلا مقصد ہے ۔ کیونکہ آئین، ملک اور بانی ملک سب کفر پرکھڑے ہیں ۔ اسی لئے عوام بھی اسی صف کفر میں کھڑے ہیں ۔ لہٰذا اگر کوئی خود کش بمبار عام عوام کو نشانہ بناتا ہے تو یہ اچنبہ کی بات ہے ۔اس لئے کہ ان کا یہ عمل ان شریعت والوں کے بنیادی پروگرام سے متصادم نہیں ہے۔ اتنے تضادات کے بعد جب ملالہ کا ذکر ہوگا تو اس کا بھی شرعی عدالت میں ٹرائل تجویز کیا گیا ہے ۔ کیو نکہ ان کی شریعت کی روشنی میں ملالہ کے آنسو مگر مچھ کے آنسو ہیں۔ پریزیڈنسی اور وزیر اعظم ہاؤس بھی کیونکہ اسلام سے متصادم تعلیمات پرچل رہے ہیں اس لئے انہیں بھی چھوڑا نہیں جاسکتا ۔ جب شریعت کے نفاذ کے مراحل پر انجم چوہدری اور عمر بکری بات کریں گے تو یہ کانفرنس ایک اعلان جنگ کا منظر بنائے گی ۔ یہا ں غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کے نفرت بھرے نظریات کے پرچار کی اجازت کون دیتا ہے ۔اتنے سارے لوگ جو بیرون ممالک سے پاکستان جائیں گے انہیں کون سی اتھارٹی ویزا جاری کرے گی۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ لال مسجد کا نظم و نسق کس قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ۔ حکومتیں کب تک مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کی تعلیمات کو عام پھیلانے کی اجازت دیتی رہیں گی ۔ ان لوگوں کی عوام کے اندر کیا نمائندہ حیثیت ہے۔ یہ مٹھی بھر لوگ کس طرح حکمرانوں اور میڈیا کوبلیک میل کرلیتے ہیں ۔

 میڈیا میں ان کے ایجنٹ بیٹھے ہیں ۔ جو انہیں پروجیکٹ کرتے ہیں ۔ عام ٹی وی شوز میں دیکھا جاتا ہے کہ عموماً سیاسی پس منظر کے جو لوگ بلائے جاتے ہیں ان کی عوام میں کوئی منتخب حیثیت ہوتی ہے ۔ جب کہ بے شمار  مذہبی عناصر کو اہم اور حساس قومی امور پر رائے زنی کے لئے بلایا جاتا ہے ۔جن کی نہ تو کوئی مقبولیت ہوتی ہے نہ ہی کوئی منتخب حیثیت ، انہیں دیگر و جوہات کے علاوہ  اس لئے بھی بلایا جاتا ہے کہ میڈیا والے ان کی نقصان پہنچانے کی طاقت اور صلاحیت سے ڈرتے ہیں ۔ آج اس بارہ سالہ طویل دہشت گردی کی جنگ سےاگر ہمارے حکمران او رعوام یہ سبق نہ سیکھیں کہ کن عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے اور کون سے عناصر کو لائم لائٹ میں لانا چاہئے ۔ تو اب واپسی کے تقریباً تمام راستے بند ہونے والے ہیں ۔ لال مسجد اگر ایسے ہی عناصر کی آماجگاہ بن رہے ہیں ۔ تو پھر وہاں سے نفرت کا لاوا ہی ابلے گا ۔ اور ہم مذہب کے نام پر دھوکہ کھاتے رہیں گے ۔ دھوکہ کھانا اور اس پر خوش ہونا خود فریبی  ہے کوئی دانشمندی نہیں ۔

28 نومبر، 2012  بشکریہ : روز نامہ جدید خبر ، نئی دہلی  

URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/(تنویر-زمان-خان-(لندن/they-take-everybody-as-a-kafir-except-themselvesوہ-اپنے-علاوہ-سب-کو-کا-فر-سمجھتے-ہیں/d/9466

 

Loading..

Loading..