New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 02:25 AM

Urdu Section ( 1 Jan 2010, NewAgeIslam.Com)

Are Poverty And Injustice Not The Root Cause Of Terrorism? کیا غربت اور ناانصافی دہشت گردی کی اصل وجہ نہیں ہے؟

ایم اے خالد

کرامت علی جو پاکستان کے نامور سماجی خدمت گار ہیں۔ انہوں نے اپنے دورہ ممبئی میں پریس کانفرنس میں دوران گفتگو یہ انکشاف فرمایا کہ پاکستان میں نام نہاد جہادی پاکستان کی غریب عوام کی غربت کا استحصال کرتے ہوئے انہیں خود کش بمبار بننے کی ترغیب دیتے ہیں او رماں باپ بھی اپنی مفلسی کی وجہ سے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو خود کش بمبار بنانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا  کہ فی خودکش بمبار 5لاکھ روپے کی ادائیگی پر بآسانی دستیاب ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے بعد خود کش کی قیمت میں مزید کمی ہوتی ہے کیونکہ ایک بڑی تعداد تنگدستی (خصوصاً ماں باپ) کو دور کرنے کیلئے اپنے جگر گوشوں کو اس مقصد پر آمادہ کرلیتے ہیں ۔ اس طرح پاکستان میں خود کش بمبار کی دستیابی کا مرحلہ وقت گزرنے کے ساتھ آسان ہوتا چلا گیا ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خود کش دستہ بنا کر دہشت پھیلانا اب آسان ہوگیا ہے۔ پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور اپنے ہی لوگوں کی دہشت گردی کا شکار ہوچکا ہے۔ اب نہ وہاں پر مسجد یں محفوظ ہیں اور نہ ہی امام باڑے اور قبرسان ۔یعنی پاکستان کا خودکش بمبار معاشی بدحالی کی پیداوار ہے ۔ ضرورت انسان سے کیا نہیں کرواتی اسلئے اب ہم ہندوستانیوں کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمیں پاکستان سے آنے والی دہشت گردی کا بھی مقابلہ کرنا ہے اور ہندوستان میں جاری مبینہ طور سے لاقانونیت (لا قانونیت ہمارے ملک کے کئی علاقوں میں جاری ہے یا رائج ہے)کا بھی ۔ ہندوستان میں جاری غربت کا فائدہ اٹھا کر کوئی یہاں کی لا قانونیت اور انتشار کو مزید بڑھاوا دے سکتا ہے ۔ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ کوئی ہمارے یہاں کی غربت کا فائدہ اٹھا کر تخریبی کارروائی میں مزید اضافہ نہ کردے کیونکہ اوقات غربت اور نا انصافی ہی تخریبی کا روائیوں کی وجہ بن سکتی ہے۔ غربت اور ناانصافی وظلم وستم کی ہمارے یہاں پیداوار میں نکسلائٹ ،نکسلائٹ جو آج خوف ودہشت کا دوسرانام بن چکے ہیں اور آج یہ حکومت کے خلاف صف آرا ہیں۔

ہمارے یہاں کی انتظامیہ ظلم وستم کو روکنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے اور یہی نکسلائٹ کی کامیابی کی وجہ ہے۔ہمارے یہاں غربت مزید غریب ہوتا جارہا ہے ۔ کسان غربت سے تنگ آکر خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ تمام حالات منفی اثرات پیدا کررہے ہیں جس سے خطرہ اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ کہیں ایسا نہ کہ ان کی غربت ومفلسی کا فائدہ اٹھا کر کوئی انہیں دہشت گرد انہ کارروائیوں پر آمادہ کردے۔ اس لئے اب ہمیں ہر فرقے اور طبقے کے ساتھ انصاف پسندی سے کام لینا ہوگا۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انصاف کو ممکن بنائے اور مساوات کو عام کرے اور معاشی وسائل ہر ایک کے لئے دستیاب ہوں۔ آزادی حاصل ہوئے 60سال سے زائد کاعرصہ گزر چکا ہے اور آج بھی کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہے۔ یہ ہمارے انتظامیہ کے نا کام ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہماری حکومت کی پالیسی میں کہیں نہ کہیں خامی ہے جس کا خمیازہ غربت کسانوں کو بھگتنا پڑرہا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ حکومت جب غریبوں کے ساتھ انصاف نہیں کرپاتی رحم وہمدردی کا برتاؤ نہیں کرتی تو یہی لوگ نکسلائٹ کی پناہ میں جاتے ہیں جس سے نکسلائٹ کی تحریک مزید مضبوط ہوتی ہے ۔ آج نکسلائٹ سر اٹھائے ہوئے ملک کے ایک بڑے حصے میں سرگرم ہیں۔ بعض جگہ وہ حکومت کی  طرح ٹیکس وصول کررہے ہیں۔ اب نکسلائٹ قانون ہاتھ میں لے کر کوئی نہ کوئی واردات آئے دن انجام دے رہے ہیں جو ملک کی سلامتی وتحفظ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔62سالہ آزادی کے بعد بھی ، ملک کے نیو کلیئر پاور ہونے کے بعد بھی ملک کے کچھ حصوں میں نکسلائٹ کی حکومت کیوں؟

بیرون ملک سے آنے والے خطرات سے تو ہم نمٹ سکتے ہیں لیکن جو جوالامکھی ہمارے اپنے ملک کے اندر ہے اور کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اس پر قابو پانا ہمارے لئے بے حد ضروری ہے۔ ملک کے عوام اگر اپنے ملک کی انتظامیہ سے ناخوش ہوں تو ہمارا نیو کلیئر پاور ہونا یا سپر پاور ہونا کیا معنی رکھتا ہے ۔ ہمارے یہاں آج بھی عوام کی بڑی تعداد غربت وافلاس سے نبرد آزما ہے۔ دیہاتوں کی بات  تو جانے دیجئے ممبئی جیسے بڑے شہر میں جو معاشی پایہ تخت بھی ہے وہاں کے لوگوں کو کسی نہ کسی حد تک پانی سے محروم رکھنا یا آدھے سے ایک گھنٹے تک پانی کا ملنا کیا ہمارے خوشحال ہونے کی علامت ہے؟ ممبئی شہر کی بڑی تعداد آج بھی اپنی حاجت کو پورا کرنے ریل پٹریوں کی طرف جاتی ہے۔ کیا یہ ہمارے خوشحال ہونے کی دلیل ہے؟ آزادی کے 62سال بعد بھی معاشی خوشحالی کے دعوے کے باوجود ملک کے 24فیصد آبادی کا انتہائی غربت ہونا کیا ہماری خوشحالی کیاعلامت ہے ۔ صاحبان یہی ہمارے بھارت کا حقیقی چہرہ ہے۔

اب وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم آزادی کے اصل مقصد کو سمجھیں اور یہ اچھی طرح جان لیں کہ ملک کی خوشحالی کامطلب صرف چند لوگوں کی خوشحالی یا ایک خاص طبقے کی خوشحالی نہیں ہے بلکہ صحیح معنو ں میں عوام کی اکثریت کی خوشحالی ہے۔ جس دن عوام کی اکثریت خوشحال ہوگی تب ہی ہم صحیح معنو ں میں خوشحال ہوں گے اور کوئی نکسلائٹ بننے کی ضرورت کو محسوس نہیں کرے گا۔

آئیے صاحبان کچھ باتیں فرقہ پرستی کے بارے میں بھی ہوجائے ۔ ہمارے ملک میں فرقہ پرستی اور منافرت کا ناگ پھن پھیلائے کھڑا ہے اور ہماری حکومت و انتظامیہ اسے مزید طاقتور بنارہی ہے ۔ آر ایس ایس جو کہ ایک ہندو تو اوادی خالص برہمن نواز تنظیم ہے اور حکومت کے ہر شعبے پر قابض ہے۔ آبادی کا تناسب انتہائی کم ہونے کےباوجود اہم عہدے ان لوگوں کی تحویل میں ہے۔ یہ منافرت پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں  دیتے جس سے ملک کے دوسرے فرقوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ آر ایس ایس نے پورے ملک میں اسکولوں کا جال بچھا رکھا ہے جہاں نفرت وعداوت کی تعلیم عام ہے ظاہر سی بات ہے جب بچے ایسے اسکول سے پڑھ کر اعلیٰ مناصب پر پہنچیں گے تو کیا وہ سیکولر اقدار کی پاسداری و پاسبانی کرسکیں گے۔ کیا اس طرح کبھی ہندو مسلم کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹا جاسکے گا۔کیا اس طرح ہمارے ملک میں کبھی بھی حقیقی امن قائم ہوسکے گا؟ ان ساری باتوں پر غور وفکر کر کے ہم امن پسند لوگوں کو ملک کی سلامتی وتحفظ کے لئے آگے آنا چاہئے ۔تبھی ہمارا بھارت گاندھی جی کے سپنوں کا  ایک پر امن اور خوشحال ہندوستان ہوسکتا ہے۔ تو آئیے ہم اپنے ملک کو ایک پرامن اور خوشحال ملک بنانے کے تعلق سے سوچنا شروع کردیں تاکہ ملک سے غربت  ، ناانصافی ،ظلم وستم اور فرقہ پرستی کا خاتمہ ہو اور پیار و محبت ،مساوات ،امن وبھا ئی چارگی کی فضا قائم ہو۔

(بشکریہ ہمارا سماج نئی دہلی)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/are-poverty-and-injustice-not-the-root-cause-of-terrorism?--کیا-غربت-اور-ناانصافی-دہشت-گردی-کی-اصل-وجہ-نہیں-ہے؟/d/2314




Loading..

Loading..