New Age Islam
Wed Feb 21 2024, 08:01 PM

Urdu Section ( 6 Nov 2010, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Missing The Meaning Of Religion: Killing the daughter to uphold hijab: فہم مذہب میں تیرگی

(Translated from Urdu by New Age Islam Edit Desk)


When a Canada-based girl of Pakistani origin refused to wear hijab, his father who unfortunately was a Pakistani strangled the girl to death with his own hands and ensured a place in heaven for himself. This heart wrenching and horrifying incident took place in Missisau in the neighbourhood of Toronto. In the report released from Canada, it was said that 57 year old Perwez strangled his 16 year old daughter Aqsa Perwez. The girl was immediately taken to the nearby hospital and was kept on ventilation but the powerful hands of the father did not allow any treatment to be effective and the girl was sacrificed to the altar of the ‘religion of peace’ the same night. Later Perwez was arrested.

After reading the news I wondered what the difference was between the pre-Islam and post-Islam age. People would bury their daughters alive then and strangle them to death even now. The deceased girl Aqsa Pervez was studying in the local Applewood Higher Secondary School. Her class-fellows said that Aqsa had some differences with her family for some time as she had refused to wear hijab. No girl in her school wore hijab. The students said that Aqsa would come out in hijab on the insistence of her father and change into general dress after reaching school. The girl students recalled how after reaching school she would rush to the washroom and change her dress. This murder has unleashed a wave of shock through a peaceful country like Canada. When journalists interviewed a woman staying in Toronto for a long time she said,” Hijab has never been a part of the Pakistani society. It has come from Arab and the Arabic culture is different from that of Pakistan.” The woman identified as Sonia Ahmad further said, “The man (Md Pervez) might believe that he had taken a right step and would go straight to heaven where 70 houris would be waiting for him.” She also said, “We Pakistanis are South Asians and the South Asian culture is different.”

Another woman Asma Khatoon, the Chief Editor of a woman’s magazine Muslim Girls told reporters that during his tenure, General Ziaul Haque invited Arab Wahabi Ulema and militants who apart from waging Jihad against the Russians married Pakistani women and on the instructions of their husbands these women started the tradition of hijab in Pakistan. Hijab was not in vogue in Pakistan before Ziaul Haque.

The Editor in Chief of the Muslim Girl vehemently opposed the imposition of the parents’ will on young girls. “Why the woman is victimized is the question which is being asked by one and all today. In my view the answer is plain and simple. One thing is obvious to all that we could not wriggle out of the feudal system, customs and social mores. The other reality which also stares in the face is our jurisprudential literature. I don’t want to say anything more on this subject as some hijab-clad women also feature in the list but this jurisprudential science has not treated the woman very well. The place accorded to women by our faqeehs centuries after the advent of Islam is pretty controversial. I can’t help saying that our knowledge of the religion in terms of women is very poor, obscurantist, feudal and based on bias and ill-will. That is the reason, under this jurisprudential literature an unhealthy mindset about women has developed in the Pakistani society and this mindset has not only made its home in Pakistan but is also showing its effects in the west crossing the borders. Wherever we go we carry the burden of this unhealthy mindset on our head.

Take this example. The West has a democratic society and everyone here has the complete right to express his views. Is not the testimony of a woman considered equal to that of a man? Be it Britain or Canada, Holland or America, none of them is now a country of a single ethnic group or culture any longer. On the contrary the entire West has become a multicultural region. But it does not mean that a new culture should be imposed on the centuries old culture and values.

As we all know, the culture of the sub-continent is almost the same, But isn’t it true that people coming from India and settling here have not only realized the importance of the Western culture but have also accepted it. It is strange that there are Indian Muslims too with Hindus and Sikhs among them. In my view the first generation of Pakistani immigrants had gone abroad only with their beliefs, sects and communities. The arrival of ‘ulema’ and maulvis had not started yet. But later it so happened that from the second and third generation, ‘ulema’ alongwith their beliefs, sects and communities reached and spread in all the lanes and by lanes of every western country. They started blowing the trumpet of communalism and sectarianism as they did in Pakistan. Not only that, declaring this society as kufristan, and pointing out the vices of this society to the new generation, they sent out wrong messages that produced Muslims like Pervez. In fact, Md Pervez who had been residing in Canada has never been a part of this society and can never be a part of this society. Won’t it be better for him then to go back to his own people?

فہم مذہب میں تیرگی

اسد مفتی

کینیڈا میں مقیم ایک پاکستانی نژاد لڑکی نے حجاب پہننے سےانکار کردیا تو اس کا باپ جو بدقسمی سے پاکستانی ہی تھا اس معصوم لڑکی کا اپنے ہاتھوں گلاگھونٹ کے ‘جنت کا حقدار ’ ہوگیا ۔ یہ دل خراش اور دل دوز واردات ٹورنٹو کے مضافات مسی ساؤ میں پیش آئی ۔ کینیڈا سے ساری دنیا میں پھیلنے والی اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ 57سالہ محمد پرویز نامی ایک شخص نے اپنی 16سالہ بیٹی اقصیٰ پرویز کاگلا گھونٹ دیا۔ لڑکی کو فوری قریبی ہسپتال لے جایا گیا اور اس کو مصنوعی تنفس پر رکھا گیا لیکن ظالم باپ کے طاقتور ہاتھوں نے یہ علاج کار گرنہ ہونے دیا اور یہ لڑکی اسی رات ‘پرامن مذہب’ کی بھینٹ چڑھ گئی ۔ بعد میں پرویز کو گرفتار کرلیا گیا۔

خبر پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ اسلام کے ظہور سے پہلے اور بعد میں کیا فرق باقی رہ گیا ہے؟ تب بھی لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے اور اب بھی اپنے ہاتھوں سےگلا گھونٹ دیتے ہیں ۔ مقتولہ اقصیٰ پرویز مقامی ایپل ووڈ ہائی سکینڈری اسکول میں زیر تعلیم تھی۔ اس کی کلاس فیلوز نے بتایا کہ اقصیٰ کے کچھ عرصہ سے اپنی فیملی سے اختلاف چل رہے تھے ۔ خاندان کے درمیان کچھ مسائل تھے کیونکہ اس نے حجاب پہننے سے انکار کردیا تھا۔ اس اسکول کی کوئی لڑکی حجاب نہیں پہنتی تھی۔ ان طالبات نے بتایا کہ اقصیٰ پرویز اپنے باپ کے اصرار پر گھر سے نکلتے وقت حجاب پہن لیتی تھی اور اسکول آنے کے بعد مروجہ سات پہن لیتی تھی۔ ان لڑکیوں کو اچھی طرح یاد تھا کہ وہ اسکول آنے کے بعد کس تیزی سے دوڑ کر واش روم میں داخل ہوتی تھی اور اپنا لباس تبدیل کرتی تھی تاکہ وہ ہم سب کی طرح لگے۔ اس قتل کی واردات نے کینیڈا جیسے پر امن ملک میں صدمہ کی لہر دوڑ ادی۔ اخبار نویسوں نے ٹورنٹو میں کافی عرصہ سے مقیم ایک پاکستانی خاتون کا انٹر ویو کیاتو اس نے کہا ‘‘۔حجاب کبھی بھی پاکستانی معاشرے کا حصہ نہیں رہا، یہ عرب سے آیا ہے اور عربی ثقافت پاکستان سے مختلف ہے’’۔اس خاتون سونیا احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ شخص (محمد پرویز) اب یہ سمجھتا ہوگا کہ اس نے صحیح قدم اٹھایا ہے اور سیدھا جنت میں جائے گا جہاں 70حوریں اس کا انتظار کررہی ہوں گی۔ اس خاتون نے بتایا کہ ‘‘ہم پاکستانی جنوبی ایشیائی باشندے ہیں اور جنوبی ایشیا کے باشندوں کا کلچر جداگانہ ہے’’۔ایک اور خاتون رسالہ مسلم گرل کی چیف ایڈیٹر عاصمہ خان نے صحافیوں کو بتایا کہ سابق ڈکٹیٹر ضیا الحق نے اپنے دور حکومت میں عرب وہابی علما اور جنگجو ؤں کو مدعو کیا جنہوں نے روسیوں کے خلاف جہاد کے علاوہ پاکستانی خواتین سے شادیاں کیں اور خاوند وں کے کہنے پر حجاب کی روایت کا پاکستان میں آغاز کیا۔ ضیا الحق سے پہلے حجاب کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

مسلم گرل کی ایڈیٹر ان چیف نے نوجوان لڑکیوں پر والدین کی مرضی مسلط کیے جانے کی سخت مخالفت کی۔ عورت پر ظلم کیوں کیا جاتا ہے؟ وہ یہ سوال ہے جس پر آج اپنوں اور غیروں کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ میرے حساب سے اس سوال کا جواب تو بہت سادہ اورعام فہم ہے۔ ایک بات تو سب پر واضح ہے کہ جاگیر دارانہ نظام ، رسم ورواج او رمعاشرت سے ہم نکل نہیں سکے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسری اہم حقیقت بھی ہمارا منہ چڑھارہی ہے اور وہ ہے ہمارا اسلامی فقہی لٹریچر ،اس سلسلے میں مجھے زیادہ کچھ نہیں کہنا کہ اس میں بہت سے ‘پردہ نشینوں ’ کے نام بھی آتے ہیں مگر اس فقہی علوم میں عورت سے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ ظہور اسلام کے صدیوں بعد آنے والے فقہا نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ خاصا متنازع ہے۔ یہ بات کہے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ عورت کے بارے میں ہمارا فہم دین ناقص ،فرسودہ ،جاگیردارانہ اور بغض وتعصب پرمبنی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس فقہی لٹریچر کے زیر سایہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے بارے میں ایک طاقت ورنا قص سوچ پیدا ہوگئی ہے اور یہ ناقص سوچ نہ صرف  پاکستان میں اپنا گھر بناچکی ہے بلکہ اس کی سرحدوں سے باہر مغرب میں بھی اپنا رنگ دکھارہی ہے۔ ہم جہاں جاتے ہیں اسی ناقص سوچ کی گٹھڑیاں سرپر اٹھائے جاتے ہیں۔

اب یہی دیکھیے مغرب ایک جمہوری معاشرہ ہے یہاں ہر ایک کو اپنی بات کہنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ کیا یہاں عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر نہیں ہوتی؟ برطانیہ یا کینیڈا ،ہالینڈ یا امریکا کسی ایک نسل یا ثقافت کے ملک نہیں رہے بلکہ سارا مغرب ایک ملٹی کلچر یا کثیر الثقافتی خطہ بن گیا ہے مگر اس کثیر ثقافتی معاشرے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہاں صدیوں پرانی اقدار اور تہذیب پر کوئی اور تہذیب مسلط کردی جائے۔

جیسا کہ سب جانتے ہیں  برصغیر کی تہذیب لگ بھگ ایک جیسی ہی ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ بھارت سے آکر یہاں مغرب میں بسنے والوں نے اس مغربی تہذیب کی اہمیت کا نہ صرف احساس کرلیا ہے بلکہ اسے قبول بھی کرلیا ہے اور عجب بات یہ ہے کہ ان میں نہ صرف ہندو اور سکھ شامل ہیں بلکہ بھارتی مسلمان بھی ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ میرے حساب سے پاکستان سے تارکین وطن کی پہلی نسل تک اپنے اپنے عقائد مسلک اور فرقہ ہی لے کر بیرون ملک گئے تھے۔ ابھی مولویوں، اور ‘علما’ کی آمد شروع نہیں ہوئی تھی پھر ہوا یہ کہ دوسری تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے مغربی ملکوں کی ہر گلی اور ہر محلے میں ‘علما’ کے ساتھ ان کے مسلک ،عقائد اور فرقے بھی پہنچ گئے۔ ان لوگوں نے پاک سرزمین کی طرح مغرب میں بھی فرقہ وارانہ اور تنگ نظری کے ڈھول پیٹنے شرو ع کردیے صرف یہی نہیں بلکہ اس معاشرے کو کفر ستان سے تعبیر کرتے ہوئے اس معاشرے کی برائیاں گنا گنا کرنئی نسل کو ایسا پیغام دیا کہ اس میں محمد پرویز جیسے مسلمان پیدا ہونے لگے۔ کینیڈا میں مقیم محمد پرویز دراصل اس معاشرے کا کبھی بھی حصہ نہیں رہا ، کبھی بھی حصہ نہیں بن سکتا تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ محمد پرویز واپس اپنے لوگوں میں پلٹ جائے؟