ایڈیٹر کا نوٹ:
کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ نیو ایج اسلام اس مضمون میں شامل کئی بیانات سے اتفاق نہیں
کرتا ہے لیکن چونکہ بہت سے مسلمان مفت میں کئی زبانوں میں دستیاب کرائی جانے والی اسلامی
تاریخ کی کتابوں کو مانتے ہیں، اس لئے قارئین کو یہ مطلع کرنا ضروری سمجھا گیا کہ جو
لوگ سعودی عرب کے ذریعہ تقسیم کی جانے والی کتابوں پر انحصار کرتے ہیں ، ان لوگوں کو
’’مسلمانوں کی معصومیت‘‘فلم (Innocence of Muslims) کے بنانے اور اور اس
کے وسیع پیمانے پر سرکولیشن پر ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ اپنا احتساب
کریں اور خود سے سوال کریں کہ کون اصل دشمن ہے، غیر مسلموں کے درمیان وہ لوگ جو دشمن
کے طور پر جانے جاتے ہیں یا وہ لوگ ہیں جو سلف کے اسلام، اسلام کی پہلی نسل کے نام
پر حقیقی اسلام کے محافظ کے لبادہ میں چھپے رہتے ہیں ، جن کا عوام اسلام کی اصل اور
سب سے کٹر ّ شکل کے ضامن کے طور پر احترام کرتے ہیں اور جو سلفیوں کی نمائندگی کر نے
کا دعوہ کرتے ہیں جن کے ذریعہ سے اسلام ہم تک پہنچا ہے۔
Editor’s
Note: Needless to say, New Age Islam does not agree with many of the
formulations in this article, but since many Muslims go by Islamic history
books circulated and distributed free in many languages, it was considered
essential to inform our readers that those who rely on Saudi-distributed books
have no reason to be outraged on the production and wide circulation of the
film “Innocence of Muslims.” They should look within and ask who is the real
enemy, the declared enemies of Islam among non-Muslims or the people who hide
within the cloak of being the protectors of real Islam, the Islam of the Salaf,
the first generations of Islam, who are revered by all Muslims as the real
guarantors of the purest, most orthodox form of Islam and the people through
whom Islam came to us?
آفاق صدیقی برائے نیو ایج
اسلام
15 اکتوبر، 2012
اس نام سے سیم بسیل نے جو
فلم بنائی ہے جس میں محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کے ایک خاص پہلو کو توہین
آمیز طریقہ پر ادا کاروں کے ذریعہ پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ محمدؐ اللہ
کے رسول ہرگز نہیں تھے وہ اپنے شہوانی جذبات سے مغلوب ہوا کرتے تھے اور اپنی جنسی تسکین
کے لیے جو بھی کرتے تھے اس کے حق میں خدا سے وحی نازل کرالیتے تھے اور اس طرح سے معترضین
کی زبان بندی میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ یہود و نصاریٰ پہلے بھی اور آج بھی محمد عربیؐ
کو اللہ کا رسول تسلیم نہیں کرتے اور ہر ممکن طرح سے اپنے دعویٰ کی دلیلیں اسلامی کتبِ
سیر، احادیث اور قرآنی آیات سے فراہم کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تقریر اور تحریر میں زیادہ
دم اس حقیقت سے پیدا ہوجاتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی زندگی میں ایسا کوئی واقعہ موجود
نہیں ہے جس سے انکی جنسی اشتہا کا یا اس سے مغلوب ہونے کا ثبوت ملتا ہو۔ اس کے علاوہ
قرآن اور انجیل کے کسی اور پیغمبر کی زندگی میں اس طرح کا ذکر نہیں ملتا۔ حضرت یوسف
کی زندگی میں ایک واقعہ درپیش آیا جس میں زلیخا کا کردار خراب ہوا ہے اور حضرت یوسف
پاکباز ثابت ہوئے۔ حضرت موسی کی زندگی میں بھی ایک واقعہ آتا ہے جہاں حضرت شعیب کی
نوجوان بیٹیوں کے درمیان وہ اکیلے دکھائے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے ان پر لڑکیوں کی
نظر گئی تو وہ انھیں اچھے لگے انھوں نے اپنے باپ سے ان کی تعریف کی جس کے بعد حضرت
شعیب نے اپنی ایک لڑکی سے ان کا عقد کردیا۔ اس کہانی میں بھی حضرت موسیٰ کا کردار حضرت
یوسف کی طرح پاک صاف پیش کیا گیا۔
اب جب محمد عربی کی زندگی
کا مطالعہ اور جائزہ قرآن اور احادیث کی روشنی میں عیسائی اور یہودی کرتے ہیں تو انھیں
ان کے کردار میں وہ خوبی نظر نہیں آتی جو ان سے قبل کے رسولوں یا نبیوں میں ملتی ہے
دوسری سب سے اہم بات وہ ہے جو فروغ اسلام کے لیے یہودیوں اور عیسائیوں کے قتل کے لیے
رسول عربی نے جائز قرار دی تھی۔
وہ یہودی اور عیسائی جنھوں
نے رسول عربی کو خدا کا سچا رسول ان کی کتاب کو آخری کتاب نہیں مانا ان کو جلاوطنی
پر مجبور کردیا گیا اور ان کے مال و متاع سے انھیں محروم کرکے محتاج بنا دیا گیا۔ اور
ان کے مال و ملک کو مال غنیمت قرار دے کر اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے محفوظ کرلیا
گیا۔ جب مسلمانوں کی حکمرانی ایشیا، افریقہ اور اسپین تک قائم رہی مسلمانوں کا یہی
اصول حکمرانی قائم رہا۔ اس طرز حکومت کا عروج سولہویں صدی عیسوی کی ابتدا میں ہی ختم
ہونا شروع ہوگیا۔ اسپین سے مسلمانوں کا انخلا شروع ہوگیا۔ یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا دور
شروع ہوچکا تھا۔ سیاسی اور معاشی نظم میں مثبت تبدیلیاں شروع ہوگئی تھیں یوروپی سیاح
مغرب اور مشرق کے سمندروں میں اپنے پرچم لہرانے لگے تھے اس وقت سے آج تک امت مسلمہ
نے ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا جس سے اس کو دوبارہ اپنا کھویا ہوا اقتدار یا
وقار حاصل کرنے میں کوئی مدد ملی ہو۔
عیسائیوں کی دولت اور ثروت
میں اس وقت سے اضافہ کا جو سلسلہ جاری ہوا وہ اب تک جاری ہے۔ اب انھیں اس بات کا موقع
ملا کہ وہ عالمانہ طور پر اپنے پرانے خیالات کو جو اسلام مخالف تھے انھیں مسلمانوں
اور دنیا کے سامنے رکھ سکیں انھیں یہ خوف اب نہیں ہے کہ وہ جو کچھ کہیں گے یا لکھیں
گے وہ ان کی ہلاکت یا تباہی کا پیش خیمہ بن جائے گا۔
سترہویں صدی کے آواخر سے یورپ
کے عیسائی مبلغین نے کردار محمد عربی اور قرآن کا ناقدانہ مطالعہ شروع کیا اس کے بعد
کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ پہلے اس بات پر زور دیا گیا کہ تورات اور
انجیل سے مقابلہ کرکے یہ ثابت کیا جائے کہ قرآن انھیں دونوں کتابوں سے ماخوذ عبارتوں
اور کہانیوں سے معمور ہے۔ اس میں اگر کچھ اپنا ہے تو وہ کردار محمد عربی ہے۔ اس کے
بعد سارا زور اس پر دیا جانے لگا کہ اسلامی علما و محدثین کی کتابوں کا انہماک سے مطالعہ
کرکے ایسی عبارتیں تلاش کرلی جائیں جن سے رسول عربی کے کردار کو غیر پیغمبرانہ ثابت
کیا جاسکے۔
عیسائیوں اور یہودیوں نے مسلم
مورخین اور محدثین کی ان تحریروں کو جو کسی طرح غارت ہونے سے بچ گئی تھیں یا بچا لی
گئی تھیں وہ آج بھی بہت سے یوروپی کتب خانوں میں محفوظ ہیں پہلے ان کا لاطینی، جرمن،
فرنچ اور ہسپانوی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ پھر انیسویں صدی میں ایسی کتابوں کا ترجمہ
انگریزی زبان میں ہوا جس کے بعد ساری عیسائی دنیا کو ان کے مطالعہ کی سہولت نصیب ہوگی۔
عربی زبان سیکھنے کے لیے چرچ کے نمائندوں کے علاوہ صاحب ذوق، علم دوست غیر مسلموں نے
بھی عربوں کی اسلامی تاریخ اور زبان کے علم میں ملکہ حاصل کرنے کے لیے دنیا کی سب سے
معتبر اسلامی درسگاہ جامعہ ازہر (قاہرہ) میں داخلہ لے کر اپنے مقصود کو پوری طرح حاصل
کیا۔ اس طرح اسلامی تاریخ اور قرآن و حدیث کے براہ راست مطالعہ کی فضیلت سے بہرہ یاب
ہوگئے۔ اب وہ ترجموں کی اعانت سے آزاد ہوگئے اب وہ اپنی صواب دید سے قرآن و حدیث کے
خود ترجمان ہوگئے۔ ان کی ترجمانی کی بنیاد عقلی اور منطقی دلائل پر قائم ہوکر غیر اسلامی
معاشرہ میں مقبول ہونے لگی اس کے برعکس ایمانی اور جذباتی مسلمانوں کے لیے روحانی آزار
کا ذریعہ بن گئی۔ اور بعض سمجھ دار عقیدت مندوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہونے لگی۔
مشرق وسطی میں ہی نہیں پوری
اسلامی دنیا میں یہودیوں اور عیسائیوں کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے کوئی مسلمان حضرت
موسیٰ اور حضرت عیسیٰ پر کسی طرح کی نہ تنقید کرسکتا ہے اور نہ ہی انھیں جھوٹا پیغمبر
کہہ سکتا ہے اس لیے کہ قرآن ان کی ہر جگہ تعریفیں ہی کرتا ہے۔ اور یہ اعلان کرتا ہے
کہ اللہ کے نبیوں میں مسلمانوں کو کسی طرح کی درجہ بندی کا کوئی حق نہیں ہے اس کے برعکس
یہودی اپنی کتاب اور پیغمبر کو اور عیسائی اپنی کتاب اور پیغمبر کو ہی آخری تسلیم کرتے
ہیں۔ یہ فرقے نہ تو قرآن کو اللہ کا کلام تسلیم کرتے ہیں اور نہ محمد عربی کو اللہ
کا رسول تسلیم کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے سو ۱۰۰ سال
سے علمی پلیٹ فارم پر آکر یہود و نصاریٰ تاریخی شواہد اور منطقی دلائل سے اپنے عقیدوں
کو حق بجانب بتانے میں مصروف ہیں۔
پہلی اور دوسری عالمی جنگ
نے خدا اور اس کی مذہبی کتابوں کو سخت چوٹ پہنچائی ان دونوں جنگوں میں تقریباً تین
کروڑ انسانی جانیں تلف ہوئیں اور اس سے چار گنا لوگ مجروح لاچار اور لاوارث ہوگئے۔
یہ جنگیں نسلی برتری اور سیاسی اقتدار کی بالا دستی کے لئے لڑی گئی تھیں۔ اتنے برے
سانحوں کے بعد نہ آسمان سے کوئی فرشتہ آیا اور نہ جنگ میں شریک ملکوں پر کوئی آسمانی
عتاب نازل ہوا۔ ان دونوں جنگوں میں انگلینڈ اور امریکہ کی فوجی طاقتوں کو بالادستی
نصیب ہوئی۔ یہ کہا جاسکتا ہے ان کے خدا نے ان کی مدد ضرور کی۔ ہٹلر اور اس کے ساتھیوں
کے خدا کو شکست کا مزہ چکھنا پڑا۔ خود ہٹلر، مسولینی اور سبھاش چندر بوس جیسے لیڈران
زمین دوز ہوگئے اور جاپان کا سر باقی رہا، ہاتھ پاؤں کٹ گئے تھے۔ ان دونوں عالمی جنگوں
کی بنیاد سیاسی تھی اس لیے صلح کے بعد دشمن دوست ہوگئے۔ لیکن اگر ان جنگوں کی بنیاد
مذہب ہوتا تو شاید ان میں دشمنی آج بھی باقی رہتی۔
مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان
دشمنی کی بنیاد سیاسی نہیں بلکہ خالص مذہبی ہے اور ان کے اپنے عقیدوں کے مطابق اسے
تا قیامت باقی رہنا ہے۔
عرب مسلمانوں نے یہودیوں کے
خلاف پوری امت مسلمہ میں نفرت کے جذبات بیدار کرنے اور اسے باقی رکھنے کے لیے بے شمار
نفرت انگیز قصے اپنے مدارس کی کتابوں میں جمع کردیے ہیں جن کو پڑھ کر مسلمان بچے یہودیوں
کو گالی دینے کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ دنیا کی تمام مساجد میں خطبۂ جمعہ میں
یہود و نصاریٰ پر لعنت بھیجنے اور ان کی بربادی کی دعا کرنے کو جزوِ ایمان سمجھا جاتا
ہے۔ یہودیوں کے خلاف عیسائیوں نے بھی یہی دستور اختیار کر رکھا تھا۔ دوسری عالمی جنگ
کے بعد جب ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں آگیا تو یہود دشمن عناصر کو عیسائیوں کے نصاب
سے خارج کیا جانے لگا۔ ۱۹۵۸
میں امریکہ میں ہالی وڈ نے ابن حُر کے نام سے ایک فلم بنا
کر عیسائیوں کے اندر یہودیوں کے خلاف جو جارحانہ جذبہ تقریباً دو ہزار سال سے موجود
تھا اس کو ختم کر دینے کی کوشش اس طرح کی گئی کہ فلم میں ایک یہودی ابن حر پر حضرت
مسیح کو مہربان ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ وہ جب قید میں بے حد عذاب میں مبتلا تھا اس کے
حاکم اس پر کوڑے مارتے تھے اور پینے کو پانی نہیں دیتے تھے تو حضرت مسیح نے خود جاکر
اسے پانی پلایا۔ وہ اسے تو نظر آئے مگر دوسروں کو نظر نہیں آئے۔ اس کی بہن اور والدہ
جو رومن حکومت کی قید میں تھے انھیں کوڑھ کا مرض لاحق ہوا تھا۔ حضرت مسیح نے انھیں
شفا بخشی۔ ابن حر اس کی والدہ اور بہن حضرت مسیح کی اس غیر متوقع شفقت اور ہمدردی سے
متاثر ہوکر عیسائی ہوگئے۔ اس فلم کا عیسائی فرقہ پر نمایاں اثر ہوا۔ پہلے انھیں جو
دشمنی یہودیوں سے تھی وہ ہمدردی میں بدلنے لگی۔ اسرائیل کے قیام کے سلسلہ میں جو عیسائی
رفاہ عام کے اداروں نے پہلے امداد دینے سے انکار کردیا تھا وہ اس فلم کی جگہ جگہ نمائش
سے متاثر ہوکر ان کی مدد کو راضی ہوگئے۔
حضرت مسیح کی۳۲، ۳۳ سالہ
زندگی خنجر اور تلوار سے قطعی پاک رہی ہے اس لیے ان کے کردار کو فلم کے ذریعہ عوام
کے سامنے پیش کرنے سے کسی کو کبھی شرمندگی نہیں ہوسکتی۔ اس کے برعکس مسلمان اگر کوئی
فلم بنا کر رسول یا اصحاب رسول کی سیرت کا کوئی پہلو دنیا کے سامنے پیش کریں گے تو
اس کے اثرات کو غارت کرنے کے لیے یورپ یا امریکہ سے دوسری ایک فلم کا بن جانا خلاف
توقع نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ ہم سب کو معلوم ہے کہ اصل اسلام کی تاریخ شمشیر زنی کے کمالات
اور کٹے ہوئے سروں کے انبار سے بھری پڑی ہے۔ آپ دنیا کو اپنے رسول کے انسانی محبت اور
بے پناہ رحمت کے علمبردار ہونے کا یقین کن شواہد کی بنیاد پر دے سکتے؟
آےئے اب اس رسوائے زمانہ فلم
’مسلمانوں کی معصومیت‘ کی طرف جس پر پوری دنیا کے جذباتی مسلمانوں نے اپنے بھائیوں
کو آگ میں جھونکا ان کے گھر بار جلا ڈالے اور خود اپنے شہروں کو برباد کیا، اسلام دشمنوں
کو مسلمانوں سے شاید ایسی ہی امید تھی جسے انھوں نے دل کھول کر پورا کیا۔ آےئے اس فلم
کے اندر موجودہ مناظر کی حقیقت کی طرف نظر ڈالتے ہیں۔
(۱) متبنیٰ
بنانے کے خلاف قرآن کا حکم
(۲) زید
بن حارثہ سے زینب کا طلاق اور اس کے اسباب
(۳) زینب
سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی
(۴) ماریہ
قبطیہ کے ساتھ رسول اللہ کا خصوصی تعلق اور اس کے نیم پوشیدہ اسباب۔ بیویوں سے ربط
کی ترتیب جو بر بنائے انصاف قائم کی گئی تھی اس کی تردید۔ اور پھر ایک ماہ تک اس پر
رسول کا عمل۔
(۵) عائشہ
صدیقہ سے ۹
سال کی عمر میں شادی۔
(۶) بنو
قریظہ کے مردوں کا مکمل صفایا اور اس قبیلہ کی ضعف عمر رسیدہ سردارنی ام قرفہ کا بہیمانہ
قتل اور اس کی پر شباب بیٹی کے جسم پر اسلامی مجاہدین کے لشکر کے لیڈر کی طالبانہ نظر۔
(۷) اور
یہ سب کچھ رسول اللہ کی نظر کے سامنے ہوا۔ جن کا قرآنی لقب رحمت اللعالمین بھی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب کا عقد اپنے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ سے کردیا
تھا۔ یہ عقد سیاسی اور سماجی برابری کی مثال قائم کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ زید
بن حارثہ کے والد حسب روایت عرب تھے لیکن ان کا شمار غلاموں میں تھا۔ حضرت خدیجہ نے
زید کو رسول اللہ کے پاس ہبہ کردیا تھا۔ انھوں نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ عربوں
میں نسلی امتیاز کا جو دستور تھا اس کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے امام المسلمین کو
پہل کرنی چاہیے تھی سو انھوں نے کرکے دکھا دیا۔
اس شادی کا انجام وہی ہوا
جو فطرۃً ہونا چاہیے تھا۔ حضرت زینب خوش رنگ اور خوبصورت خاتون تھیں پھر وہ قبیلۂ قریش
کی ایک فرد تھیں اس لیے ان کا ایک عرب سیاہ فام مرد کو جس کے اندر کسی عورت کے لیے
اس کے سوا کوئی خوبی باعث کشش نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ رسول خدا کے منہ بولے بیٹے تھے۔
لیکن جنسی رفاقت کے لیے ان کی طرف حضرت زینب کے لیے کوئی رجحان متوقع نہیں ہوسکتا تھا۔
لیکن منشاء رسول، منشاء الٰہی تسلیم ہوتا تھا اس لیے اس رشتہ کو قبول نہ کرنا خدا اور
رسول کے خلاف بغاوت کے برابر تھا۔ چناں چہ جب حضرت زینبؓ اور ان کے اہل خانہ کو نبیؐ
کے اس مشورے کو قبول کرنے میں تردد ہوا تو قرآن کی سورہ احزاب کی آیت نمبر نازل ہوئی
جس میں تنبیہ کی گئی کہ ’’کسی بھی مومن مرد اور عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ
کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔ یاد رکھو اللہ اور اس کے رسول کی جو
نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔‘‘
اس کے بعد آیت نمبر ۳۷ نازل
ہوئی جس میں اللہ فرماتا ہے ’’یاد کر جب تو اس شخص (زید) جس پر اللہ نے انعام کیا اور
تونے بھی ‘‘ کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر، اور تو اپنے دل میں وہ
بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا حالانکہ
اللہ اس کا زیادہ حق دار تھا کہ تو اس سے ڈرے۔ پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض
پوری کرلی (یعنی طلاق دے دیا)، ہم نے اسے تیرے نکاح میں دیدیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے
لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ جب کہ وہ اپنی غرض ان سے
پوری کرلیں، اللہ کا یہ حکم تو ہوکر ہی رہنے والا تھا۔‘‘
اس آیت میں اللہ اپنے رسول
سے یہ کہتا ہے کہ تو اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا
اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا‘‘ اس چھپانے اور ظاہر کرنے والی بات کی تفسیر علامہ
محمد جونا گڑھی نے اس طرح کی ہے۔
’’... اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیشن گوئی سے بھی آگاہ فرما دیا تھا کہ
زید کی طرف سے طلاق واقع ہوکر رہے گی اور اس کے بعد زینب سے آپ کا نکاح کردیا جائے
گا تاکہ جاہلیت کی اس رسم تبنیت (منہ بولا بیٹا بنانے کی رسم) پر ایک کاری ضرب لگا
کر واضح کردیا جائے کہ منہ بولا بیٹا احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور
اس کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے۔ اس آیت میں انھیں باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔...
دل میں چھپانے والی بات یہی
تھی جو آپ کو حضرت زینب سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتلائی گئی تھی، آپ ڈرتے تھے اس
بات سے کہ لوگ کہیں گے اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ حالانکہ جب اللہ کو آپ کے ذریعہ اس
رسم کا خاتمہ کرانا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ کا یہ خوف فطری
تھا اس کے باوجود آپ کو یہ تنبیہ فرمائی گئی۔ ظاہر کرنے سے مراد یہی ہے کہ یہ نکاح
ہوگا، جس سے یہ بات سب کے علم میں آجائے گی۔
یہ نکاح معروف طریقے کے برعکس
صرف اللہ کے حکم سے نکاح قرار دیا گیا، نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر
ہی۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا
جاسکتا کہ اس سے پہلے اسی سورہ کی آیت نمبر۶ میں یہ حکم جاری ہوچکا تھا
کہ متبنیّٰ بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے۔ اس حکم کے مطابق زید بن حارثہ ہی نہیں بلکہ تمام
عرب مسلمانوں پر یہ حکم جاری ہوگیا تھا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس حکم
کے جاری ہوجانے کے بعد زید بن محمد زید بن حارثہ ہوگئے تھے اور خود رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم اس کا اعلان کرچکے تھے کہ اب زید کو زید بن محمد کوئی نہیں گہے گا۔ یہاں
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کتبِ سیرت میں یہ بات جگہ جگہ ملتی ہے کہ نبیؐ کے دل میں حضرت
زینب کی محبت بیٹھ گئی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ زید طلاق دے دیں تو میں خود نکاح کرلوں
گا۔ اللہ کا یہ کہنا کہ وہ جانتا تھا کہ زید اور زینب کی شادی کا انجام کیا ہونا ہے
اور رسول کے دل میں زینب کے لیے جو کشش تھی جسے خود رسول چھپا رہے تھے اللہ اس سے بھی
واقف تھا اس لیے زید نے طلاق دیا اور ایام عدت کے پورا ہوتے ہی خود اللہ نے زینب کو
اپنے محبوب رسول کی پوشیدہ تمنا کو پورا کرتے ہوئے ان سے ان کا عقد کردیا جس کے لیے
نہ کسی گواہ، نہ مہر نہ ہی کسی دوسرے کو خبر دینے کی ضرورت در پیش آئی۔ حتیٰ کہ زینب
کو بھی اس کی خبر نہیں دی گئی۔ معترضین کا کہنا ہے کہ عورت کی رضا کے بغیر اس کا کسی
مرد سے نکاح اسلامی شریعت میں نہیں ہوسکتا۔ اور اگر کردیا گیا ہے تو وہ باطل ہوجائے
گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سماجی معاملات میں اگر اس طرح کوئی نبی یا رسول اپنی خواہش
کی تکمیل کرنا چاہے تو اس کے لیے بہت آسانی ہے کہ وہ اپنے مقلدین سے یہ کہہ دے کہ میں
جو کچھ کرتا ہوں اس کی خبر اللہ کو پہلے سے ہوتی ہے اور میرا ہر عمل اس کی مرضی کے
مطابق ہی ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ایسا کوئی نبی یا رسول عوام الناس کا نہ رہنما ہوسکتا
ہے اور نہ ہی مقبول و محبوب بندہ الٰہی سمجھا جاسکتا ہے۔ نبی اور رسول خدا کے احکامات
کے اسی طرح پابند سمجھے اور بتائے جاتے ہیں جیسے ان کے ماننے اور پیروی کرنے والے لوگ۔
مذکورہ مذموم فلم ’’اینوسنس آف مسلمز‘‘ میں فلم ساز نے رسول اللہ کی حضرت زینب سے قربت
کا جو منظر دکھلایا ہے اس میں یہ دکھایا ہے کہ رسول اللہ جب ان کے جسم پر ایک محرم
کی طرح ہاتھ پھیرتے ہیں تو حضرت زینب کو بہت حیرانی ہوتی ہے کہ وہ ایسا کیسے کر رہے
ہیں جب کہ وہ ان کے نکاح میں نہیں آئی ہیں۔ ان کے اعتراض یا حیرانی کو دور کرنے کے
لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ ان سے اللہ نے ان کا عرش پر نکاح کردیا
ہے اس لیے اب وہ ان کی منکوحہ ہیں اور وہ اب ان کے اللہ کے حکم سے مقرر کردہ شوہر ہیں۔
اس طرح کے مناظر فلم کے پردہ پر دیکھ کر مسلمانوں کو پہلے شرمندگی اور پھر غصہ آنا
ایک فطری بات کہلائے گی۔ لیکن ایک غیر مسلم یا ایسا مسلمان جو حالات اور کوائف پر بلا
احترام نظریں ڈال کر ان کی حقیقت سے روشناس ہونے والا ذہن رکھتا ہے وہ ایسے واقعات
کا جب ذکر قرآن میں پڑھتا ہے اور پھر ائمہ اور مفسرین کی تاویلات پڑھتا ہے تو اسے اس
کے اندر علمی اور عقلی دیانتداری کے فقدان کی جھلک ضرور نظر آتی ہے۔ میرے سامنے جیسا
کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ علاّمہ محمد جونا گڑھی کے اردو ترجمہ اور تفسیر کا وہ
نسخہ موجود ہے جسے بے حد عالمانہ تصدیق اور تحقیق کے بعد سعودی حکومت کے سربراہ شاہ
فہد بن عبد العزیز آل سعود کی طرف سے تمام اردو داں مسلمانوں کے لیے مفت تقسیم کرایا
گیا ہے میرے اقتباسات اسی ترجمہ اور تفسیر سے ماخوذ ہیں۔
اس فلم میں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے کسی اچھے عمل یا کارنامے کی منظر کشی نہیں کی گئی ہے۔ صرف ایسے واقعات
کو فلمایا گیا ہے جس سے ان کی کردار کشی ہوسکتی ہو۔ حضرت زینب کے نکاح والے واقعہ کے
بعد دوسرا منظر حضرت ماریہ قبطیہ کے ساتھ حضرت حفصہ کے خیمہ میں مباشرت کا ہے۔ اس کی
تصویر کشی کے لیے بھی مواد قرآن سے لیا گیا ہے۔ سورۃ التحریم کے شروع میں ہی اللہ فرماتا
ہے کہ: ’’اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے
ہیں۔ کیا آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ اس آیت کی تفسیر میں علامہ
جونا گڑھی لکھتے ہیں ’’سنن نسائی میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک لونڈی تھی جس کو آپ
نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، جبکہ دوسرے علماء اسے ضعیف قرار دیتے ہیں لیکن حدیث کے
عظیم محقق شیخ ناصر الدین البانی اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔ اس کی تفصیل دوسری کتابوں
میں اس طرح بیان کی گئی ہے۔ کہ یہ حضرت ماریہ قبطیہ تھیں، جن سے رسول اللہ کے صاحبزادے
ابراہیم تولد ہوئے تھے۔ یہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ کے گھر آ گئی تھیں جب کہ حضرت حفصہ
موجود نہیں تھیں۔ اتفاق سے انھیں کی موجودگی میں حضرت حفصہ آگئیں۔ انھیں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے گھر میں خلوت میں دیکھنا ناگوار گزرا اور نبیؐ نے
بھی یہ محسوس کیا جس پر آپ نے حضرت حفصہ کو راضی کرنے کے لیے قسم کھا کر ماریہ کو اپنے
اوپر حرام کرلیا، اور حفصہ کو تاکید کی کہ وہ یہ بات کسی کو نہ بتلائیں۔
لیکن جب حضرت حفصہ نے یہ راز
افشا کر دیا تو نبیؐ کو سخت ناراضی ہوئی اور سورۂ تحریم کی پانچویں آیت سے رسول کی
دونوں بیویوں عائشہ اور حفصہ پر جنھوں نے رسول کے ماریہ کے ساتھ باری کے بغیرجنسی تعلق
پر ناخوشگواری کا اظہار کرکے رسول اللہ کو لا جواب کیا تھا ان پر اللہ نے اپنا شدید
رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دھمکیاں دیں اور یہاں تک کہا کہ اگر رسول ان سے ناخوش ہوکر انھیں
طلاق دیدیں تو اللہ خود اپنے رسول کے لیے ان سے بہتر بیویاں فراہم کردے گا۔ جو ان سے
بہتر ایمان والیاں اور عبادت کرنے والیاں ہوں گی ان میں بیوہ اور کنواریاں بھی ہوسکتی
ہیں۔ اور ان سے کہا اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو تو بہت بہتر ہے۔‘‘ اور اگلی
آیت میں عذابِ جہنم سے ڈرایا گیا۔
عیسائی اور یہودی علما اور
محققین کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ قرآن، حدیث اور سیرۃ رسول کا مطالعہ ایک مسلمان
کے جذبۂ عقیدت کی روشنی میں کریں گے اور جو کچھ لکھیں گے اس سے اسلام کو فروغ اور مسلمانوں
کے ایمان کو تقویت پہنچے گی۔ قطعی نا معقول فکر ہوگی۔
وہ شارحین قرآن جن کی اپنی
زباں عربی ہے اور وہ مسلمان بھی ہیں وہ ایسی کوئی تشریح یا تفسیر نہیں لکھیں گے جس
کی ضرب، قرآن، رسول اور اسلامی خدا کی ذات پر پڑتی ہو۔ ہاں اگر وہ خود کو سیکولر فکر
کا حامی کہتے ہیں تو بات دوسری ہے۔ انھیں پھر اس بات کی آزادی ہے کہ وہ عقیدے اور ایمان
کی چاشنی سے الگ رہیں اور تاویلات کے خوشنما جزیروں کا رخ نہ کریں۔ جو کچھ کہیں اس
کی بنیاد عقلی دلائل اور تاریخی شواہد پر ہونی چاہیے ایسی تحریر کے اثرات مخالف اور
معاون پر جو بھی ہوں انھیں اس سے ذرا بھی خوف لاحق نہیں ہوگا۔ تمام مذاہب کی بنیاد
ان کے رہنماؤں کے ذاتی جذبات پر ہی رکھی ہوئی ہے۔
آگے چل کر اس مذموم فلم میں
اُم قرفہ کے بہیمانہ قتل کی تصویر پیش کرکے فلم ساز یہ دکھانا چاہتا ہے کہ مسلمان اپنے
دشمنوں کے ساتھ کس قدر وحشیانہ سلوک روا رکھتے تھے اور اگر کوئی خوبصورت جواں عورت
مل جائے تو ان کی رگ شہوت میں کتنا جوش پیدا ہوجاتا تھا۔
اُم قرفہ جس کا نام فاطمہ
بنت ربیعہ تھا جو قبیلۂ بنو قریظہ کی سردارنی تھی اس کے قبیلہ کے افراد نے ایک مسلم
وفد کو لوٹایا یا نقصان پہنچایا تھا۔ زید بن حارثہ اس وفد کے لیڈر تھے ان کو زخمی کردیا
تھا۔ وہ مدینہ واپس آئے۔ صحت مند ہوئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مجاہدین
کی ایک مصلح جماعت کو انتقامی کارروائی کے لیے اس قبیلہ کی طرف بھیجا۔ مسلمان فتح یاب
ہوئے۔ اس پورے قبیلہ کے مردوں کو جن کی تعداد بعض نے ۹۰۰ بتائی
ہے ان کے سر قلم کردیے گئے۔ ام قرفہ جو ایک سن رسیدہ اور ضعیف العمر عورت تھی۔ اس کی
دو ٹانگیں دو الگ اونٹوں کے پاؤں سے باندھ کر اونٹوں کو دو سمت ہنکا دیا گیا جس کے
نتیجہ میں اس کے جسم کے دو حصے الگ الگ ہوگئے، پھر اس کا سر قلم کرکے نیزے پر رکھ کر
پرچم فتح و نصرت بنا کر مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔
بعض نے لکھا کہ اس کے سر کو مدینہ میں لوگوں کی عبرت کے لیے گھمانے کا حکم رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔
ام قرفہ کے قتل اور بنو قریظہ
سے انتقامی کارروائی میں مسلمانوں نے پورے قبیلہ کا صفایا کردیا۔ یہ بات تمام مورخین
کے مطالعہ سے ثابت ہے۔ اس کی روایت ابن اسحق واقدی، طبری ابن ہشام، ابن کثیر اور ہم
سے بہت قریب صفی الرحمن مبارک پوری کی سعودی حکومت سے سیرت کے انعامی مقابلے میں اول
نمبر حاصل کرنے والی کتاب ’الرحیق المختوم‘ میں سب نے اپنے اپنے طرز اور فہم کے مطابق
اپنے ایمان کی روشنی میں اس واقعہ کو قلم بند کیا ہے۔ دشمن سے انتقام لینے میں کوئی
فوج اعلیٰ اخلاقی معیار کا ثبوت نہ فراہم کرسکی ہے اور نہ کبھی کرسکتی ہے۔ مذہبی قوموں
کی جنگ یا سیاسی معاشی جنگ ہو اسے جنگ صرف اس لیے کہا جاتا ہے اس کے حیوانی میں شریک
آدمی صرف اپنی حیوانی جبلتوں کی قوت اور صفت کی بدولت کچھ کر دکھانے کا حوصلہ اپنے
اندر زندہ پاتا ہے لہٰذا ام قرفہ کے قتل کا منظر جب لوگ اپنے کھانے کے دسترخوان پر
نصف درجن خادموں کے احاطہ میں خوش ذائقہ خوراک سے لطف ہو رہے ہوں تو بہت شاق گزرے گا۔
ان کے سارے احساساتِ لطف و لذت میں زہر گھل جائے گا۔ پھر قاتل اور مقتول کے لیے ان
کے جو جذبات ہوں گے ان کا اندازہ ہم اس وقت انتہائی پرسکون اور راحت افزا ماحول میں
بیٹھے ہوئے بخوبی کرسکتے ہیں
اب سوچنے کی بات صرف اتنی
ہی ہے کہ ہم ایک سوچی سمجھی سازش کا شکار ہوکر کس کا نقصان کر رہے ہیں اور شکست دراصل
کس کے مقدر کا حصہ بنتی جارہی ہے۔
میں اپنے خدا سے یہی دعا کر
رہا ہوں کہ وہ مسلمانوں کی آنکھوں پر جو خوش گمانیوں کی عینک چڑھی ہوئی ہے اسے اتار
دے۔
(نوٹ: اس سلسلے میں سورہ احزاب اور سورہ تحریم کی تفصیلات تفسیر فتح
محمد خاں جوناگڑھی میں دیکھئے)
ڈاکٹر آفاق صدیقی نے علی
گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی زبان اور ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے اور علی
گڑھ مسلم یونیورسٹی، کشمیر یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک استاد کے طور
پر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ 8 سال تک نائجیریا میں سینئر ایجوکیشن افسر کے طور پر کام
کر چکے ہیں۔ یورپ، امریکہ اور پاکستان کا کئی بار سفر بھی کر چکے ہیں۔
URL: https://newageislam.com/urdu-section/movie-innocence-muslims-based-saudi/d/8985