New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 06:36 PM

Urdu Section ( 17 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Toward An Islamic Enlightenment اسلامی روشن خیالی اور علم و آگہی کی جانب ایک پیش قدمی

 

 

  

 

ساہن الفے

9 فروری 2014

Toward an Islamic Enlightenment: The Gülen Movement

(دی گولن مومنٹ: اسلامی روشن خیالی اور علم و آگہی کی جانب ایک قدم)

ایم ہاكان ياؤوز M. Hakan Yavuz

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس

ترکی کے ایک اسلامی اسکالر نے اسلام کی ایک ایسی ترجمانی پیش کی ہے جو (مذہبی آزادی اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے احترام پر مبنی) امن، جمہوریت، سیکولرازم، سائنس،تعلیم اور اقتصادیات کی وکالت کرتی ہے اور جس نے بین المذاہب مکالمہ، باہمی افہام و تفہیم اور مختلف نسلی و مذہبی شناخت اور طرز زندگی رکھنے والےلوگوں کے تئیں احترام کی حمایت کی جو کہ ترکی کے مقامی اور بیرونی لوگوں کے لیے انتہائی تجسس کا موضوع ہے۔

جس سماجی تنظیم کی انہوں نے بنیاد رکھی اور جس نے تعلیمی، میڈیا اور تجارتی انٹرپرائزیز کو اسپانسر کیا اور جس نے ترکی میں اور 120 سے زیادہ ممالک میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کا قیام کیا وہ بھی یکساں طور پر تعجب اور تجسس کا باعث ہے۔

پوسٹ اسلامسٹ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان جو کہ 2002 سے برسراقتدار ہیں اور جنہوں نے ابھی حال ہی میں گولن اور ان کی تحریک کا نام عزت و احترام سے لیا تھا اور ان کی ستائش بھی کی تھی، انہوں نے اب گولن کو ایک ‘‘جھوٹا نبی’’، ‘‘جھوٹا ولی’’ اور ایک ‘‘نقلی اسکالر’’ کہنا شروع کر دیا ہے اور گولن مومنٹ کو ایک ‘‘مشابہ ریاست’’، ‘‘گینگ’’ اور ‘‘حشاشين کا شکار’’ کہا، جنہوں نے ان کے قریبی تاجروں، ان کی حکومت کے ممبران اور بیوروکریٹس کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ ان مستغیثوں اور ان پولس اہلکاروں پر انہوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ انہیں گولن سے ایسا کرنے کا حکم ملا ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ گولن اور ان کی تحریک ایک سات فروغ ملا ہے۔

میرے غیر ملکی دوست اور ہم منصب مجھ سے اکثر یہ پوچھتے ہیں کہ جو میں نے اب تک کالمز لکھی ہیں اس کے علاوہ گولن اور ان کی تحریک کے بارے میں کیا پڑھی جائے۔ ان تمام مطالعات میں جو کہ اس موضوع پر اب تک کئے گئے ہیں، میں سب سے زیادہ قابل ذکر اسے پاتا ہوں جو امریکہ میں یوٹاہ یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے ایک ترکی پروفیسر جناب ایم ہاكان ياؤوز M. Hakan Yavuz نے کیا ہے۔ ان میں کوئی شک نہیں کہ وہ اکیلے ایک ایسے فاضل ہیں جنہوں نے اس موضوع پر تحقیق کرنے میں سب سے زیاہ توانائی اور وقت صرف کیا ہے اور انہوں نے اس موضوع پر اپنے مشمولات کو وسیع پیمانے پر شائع کیا ہے۔ شاید کبھی کبھی گولن مومنٹ پر براہ راست ان کی تنقید سے ان کی پیش کش میں معتبریت کا اضافہ ہوتا ہے۔

ایم ہاكان ياؤوز کی ایک حالیہ کتاب ‘‘Toward an Islamic Enlightenment: The Gülen Movement’’ (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس) ایک ایسی کتاب ہے جسے میں خاص طور پر پڑھنے کے قابل پاتا ہوں اس لیے کہ اس کتاب میں گولن کے نظریات کے ارتقاء کا پس منظر اور اس تحریک کے ڈھانچے کے متعلق ایک جامع اور مانع مطالعہ پیش کیا گیا ہے جو انہوں نے شروع کیا ہے۔ یقیناً ان کی تحقیق کوئی آخری اور حتمی تحقیق نہیں ہے اور اس کے بہت سارے پہلوؤں پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن میری سمجھ کے مطابق اس موضوع پر یہ اب تک کا سب سے اچھا مطالعہ ہے۔

اس کا اصل موضوع گفتگو جیسا کہ عنوان سے اس کی طرف اشارہ ملتا ہے اور اس کی وضاحت تعارفی کلمات میں بھی کی گئی ہے، درج ذیل حصہ ہے:

اسلام کا تعین کسی ایک شکل میں نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام کی تاریخ بھی مختلف تشریحات سے بھری پڑی ہے۔ جدیدیت اور عالمگیریت (Modernisation and globalisation) کے اس عمل کی وجہ سے بنیادی طور پر اسلام کی دو مختلف اور متضاد تشریحات معرض وجود میں آئی ہیں۔ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) بنیاد پرست جدیدیت Modernisation کو مسترد کرتے ہیں اور قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی ایک ‘‘خالص’’ اسلام کا اصرار کرتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف جدت پسند لوگوں کو عصر حاضر میں امت مسلمہ کی دنیوی اور روحانی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے سخت اور انتہاء پسندی سے آزاد اسلامی نظریات اور معمولات کی تلاش کی ہے۔ گولن اور ساتھ ہی ساتھ فضل الرحمٰن، عزت بیگووچ، عبد الواحد، عبدالكريم سروش اور راشد الغنوشي بھی اسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں سے تعلق رکھتے ہیں۔ روشن خیالی کا مطلب مذہب کو مسترد کرنا نہیں ہےبلکہ اس کا مطلب معاشرے اور اس کائنات کو سمجھنے کے لیےایک تنقیدی استدلال کو بروئے کار لانا ہے۔ سعید نورسی (1878-1960) اور گولن ‘‘اسلامی روشن خیالی’’ کی نمائندگی کرنے والے ہیں جنہوں نے ایک عظیم انسانیت نواز معاشرے کی تعمیر کی خاطر اصلاحات پیدا کرنے کے لیے اسلام کی ترجمانی عقل و استدلال اور سائنس کی روشنی میں کی ہے۔

گولن مومنٹ کے حتمی اہداف کے تعلق سے ملک اور بیرون ملک میں اکثر سوالات کیے جاتے ہیں۔ ایم ہاكان ياؤوز نے اس کا جواب یہ دیا ہے: ‘‘اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس تحریک کا مقصد نہ تو معاشرتی بالادستی قائم کرنا ہے اور نہ ہی ترکی ریاست کی حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ بلکہ اس کا مقصد مؤمنوں اور معاشروں کے درمیان اور اجتماعی طور پر ریاست اور انسانیت کے درمیان اخلاقیات اور حسن سلوک کے شعور کو فروغ دے کر اور اسے تقویت پراہم کر کے معاشرے اور سیاست کو ایک نیا رخ دینا ہے۔

اس کتاب کا وہ باب جس میں خود کے سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے والوں، اسلام پرستوں، کرد قوم پرستوں اور علوی مذہبی اقلیت کے ایک طبقے کی جانب سے گولن مومنٹ کے خلاف کی گئی تنقیدوں اور سوالات کو زیر بحث لایا گیا ہے اس نے اس کتاب کو اور بھی معنیٰ خیز بنا دیا ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ: http://www.todayszaman.com/columnist/sahin-alpay_338942_toward-an-islamic-enlightenment.html

URL:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/şahin-alpay/toward-an-islamic-enlightenment/d/35669

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/şahin-alpay,-tr-new-age-islam/toward-an-islamic-enlightenment-اسلامی-روشن-خیالی-اور-علم-و-آگہی-کی-جانب-ایک-پیش-قدمی/d/35811

 

Loading..

Loading..