Having got an FIR registered against Delhi publication Diamond pocket books for having published two imaginary images of the Prophet (pbuh), Muslim ulema (religious scholars) are now pressing for the arrest of the publisher Gulshan Rai. His action is seen as part of the “West’s enmity of Islam” and “an anti-Islam conspiracy to inflame Muslim sentiments.” In a typical write-up, published in practically every Delhi Urdu newspaper, Maulana Nadeemul Wajidi of Deoband expresses his regret for not living in a country like Pakistan where somebody would have killed the man by now. He cites with approval the recent killing of Pakistani Punjab’s Governor Salman Taseer for showing sympathy for “the accursed blasphemer Asaia Bibi” and that of the author of Rangeela Rasool in Lahore in undivided India.
A blasphemer can only be punished with death, the Maulana says. Not resident of Pakistan, unfortunately, however, he cannot demand death for Gulshan Rai. “Living in India, as we do, we are merely demanding,” he says, “action according to the laws of the land. But even that is not coming, as Muslims are not united even on an issue of such paramount importance.’ He regrets that even liberal Hindus are completely silent on this issue, though they often support Muslims on several issues of concern to them. Muslims respect all religious personalities and cannot tolerate blasphemy against the Prophet.
Excerpts from the article follow:
Protect the honour of Prophethood
By Maulana Nademul Wajidi
Translated from Urdu by Arman Neyazi, NewAgeIslam.com
Clearly this is a deliberate provocation. Publishers knew that this will inflame Muslims. Obviously this is a planned conspiracy. Actually people are encouraged to continue with such provocations because they are not getting adequately punished. If this crime also goes unpunished it will further encourage blasphemers. This is not just a Delhi issue. It is indeed an international conspiracy. If there were no major anti-Muslim power behind Gulshan Rai he would not have dared do something like this. For, he surely knows the consequences. Does he not know that in undivided India a Lahore resident had dared to challenge Muslim’s self-respect having written a book called Rangeela Rasool (The colourful Prophet). An illiterate young Muslim Ghazi Ilmuddin had answered him with his sword. Having killed him, he had proved that no one can insult our prophet. Muslims will never tolerate that. Recently Pakistani Punjab’s governor Salman Taseer was killed for showing sympathy for the accursed blasphemer Aaasia Bibi. His own bodyguard Mumtaz Hussain Qadri killed him.
The punishment for blasphemy can be nothing less than death. Muslims have always punished blasphemers with death. But we are live here in India. We are merely demanding punishment in accordance with laws of this land. Why should the government have any problems then?
An FIR has been registered in this case now. But when will this man Gulshan Rai be arrested, we have no idea. This is essentially due to lack of unity among Muslims themselves. Had we together demanded action against this man, action would have been taken against him by now.
We want to address our fellow citizens too. Blasphemy is not an ordinary issue. This can even affect communal harmony in the country. Unfortunately even our broadminded liberal brothers who stand up with us on several issues of our concern are completely silent on this issue. They should condemn this openly and demand punishment according to the laws of the land.
Unfortunately the issue of blasphemy is mixed up with that of freedom of expression. What freedom of expression? If the west does not even allow academic research about holocaust of Jews, what freedom of expression exists in the west? It’s it doable standards. Only Muslims are asked to practice freedom of expression. This double standard is merely an expression of West’s enmity of Islam. A multi-religious country like India should not allow such enmity of Islam especially when Muslims never blaspheme; indeed they respect all saints, prophets or avatars or rishis, munis of any religion.
URL: https://newageislam.com/the-war-within-islam/blasphemy-indian-muslim-ulema-intensify/d/4620
ناموس رسالت صلی اللہ
علیہ وسلم کی حفاظت کیجئے
مولانا ندیم الواجدی
دہلی کے ایک اشاعتی ادارے
ڈائمنڈ پاکٹ بکس نے کامکس ورلڈ کے اپنے تازہ شمارے میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ
وسلم کی دو خیالی اور فرضی تصویریں بھی شائع کی ہیں او رایک مضمون بھی، جو اگرچہ
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعارف کے عنوان سے ہے مگر اس میں کچھ ایسی
باتیں بھی بیان کی گئی ہیں جو نہ صرف یہ کہ غیر حقیقی ہیں بلکہ توہین آمیز بھی
ہیں، اس ادارے کے پروپرائٹر گلشن رائے نے دہلی کی چند با اثر مسلم شخصیتوں کو ایک
خط لکھا ہے، جس میں اس نے یہ وضاحت کی ہے کہ یہ پرانی اشاعت کا معاملہ ہے جس پر
پہلے ہی صفائی دی جاچکی ہے، ہمیں یاد پڑتا ہے کہ اس ادارے نے چند سال پہلے بھی یہ
حرکت کی تھی اور اس وقت معافی تلافی کے بعد یہ معاملہ دب گیا تھا، اب پھر یہ
معاملہ سامنے آیا ہے، اگر حقیقت میں یہ وہی شمارہ ہوتا جو چند سال پہلے چھپا تھا
تب بھی اعتراض ضرور ہوتا، کیونکہ جب ادارے نے غلطی مان لی تھی تو اس شمارے کوضائع
کردینا چاہئے تھا او راسے کسی بھی حالت میں منظر عام پر نہیں لانا چاہئے تھا، اس
کا مطلب یہ ہے کہ ادارے نے ابھی تک اس شمارے کی تمام کاپیاں ضائع نہیں کی ہیں، ویسے
بھی ڈائمنڈ پاکٹ والوں کا یہ دعویٰ کہ یہ شمارہ کئی سال پہلے والا شمارہ ہے جھوٹ
پر مبنی ہے، اس لیے کہ اس پر اشاعت کی جو تاریخ درج ہے وہ اپریل 2011 کی ہے اور ا
س میں جو معلومات دی گئی ہیں اور جو اشتہارات شائع کئے گئے ہیں وہ سب 2011 سے تعلق
رکھتے ہیں،اس کا مطلب یہ ہوا کہ پرانی تصویریں اور پرانا مضمون دوبارہ بدنیتی سے
چھاپا گیا ہے، جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے انہیں معلوم تھا کہ مسلمان اس پر مشتعل
ہوں گے، اس کے باوجود اس کی دوبارہ اشاعت عمل میں لائی گئی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ
یہ کام کسی خاص منصوبے کے تحت ہورہا ہے، ورنہ اس کو دوبارہ شائع کرنے کی کوئی
ضرورت نہ تھی، خاص طور پر اس وقت جب یہ مضمون پہلے بھی اعتراض کی زد میں آچکا ہے۔
اصل میں یہ جرأت ا س لئے
بڑھ رہی ہے کہ جو لوگ اس طرح کے کاموں میں ملوث ہیں انہیں کوئی سزا نہیں مل رہی
ہے، زیادہ سے زیادہ یہ ہوتاہے کہ بہت زیادہ احتجاج کے بعد چند سطروں کا ایک معافی
نامہ متعلقہ لوگوں کی طرف سے شائع کردیا جاتاہے اور مسلمان مطمئن ہو کہ معاملہ ختم
کردیتے ہیں، اگر جرائم کے خاتمے کے لیے معافی کو کافی سمجھ لیا جائے تو جرائم کا
سلسلہ ختم ہی نہیں ہوسکتا، لوگ جرم کرتے رہیں گے او رمعافی مانگ کر بری ہوتے رہیں
گے، ڈائمنڈ پاکٹ بکس کا معاملہ تو یہ ہے کہ اس نے اب معافی تک نہیں مانگی او رنہ
کسی طرح کا کوئی اظہار ندامت کیا بلکہ یہ ادارہ اس اشاعت کو پرانی اشاعت کہہ کر
اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جو بھی
کیا ہے وہ جان بوجھ کر کیا ہے، اگر یہ غلطی اَن جانے میں سرزد ہوگئی تھی تووہ کھلے
طور پر معافی مانگ کر اس غلطی کا اعتراف کرسکتا تھا، اب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا
جاسکتا کہ جو کچھ کیا گیا ہے وہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے، جو بہت بڑا جرم ہے او راس
جرم کی سزا دینی ضروری ہے، اگر اس معاملے کو اسی طرح چھوڑ دیا گیا تو مجرم کا
حوصلہ بھی بڑھے گا اور کل کو وہ اس سے بھی زیادہ اہانت آمیز مواد شائع کرے گا اور
اس سے حوصلہ پا کر دوسرے بدباطن لوگ بھی مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے اس طرح کے
حربے اختیار کریں گے۔
اہانت رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کا سلسلہ نیا نہیں ہے، دنیا میں اسلام کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں نے پیغمبر
اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدت کو نشانہ بنانا شروع کردیا تھا، اس کے ساتھ
ہی یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ اس طرح کی حرکتوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی
عظمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جب تک یہ دنیا قائم ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی حرمت اور تقدس کے نغمے گونجتے رہیں گے،کتنے ہی دریدہ دہن لوگ بدزبانیاں
کریں او ربدگمانیاں پھیلائیں آپ کی تو قیر کم ہونے والی نہیں ہے،قرآن کریم نے خود
یہ اعلان کردیا ہے: ”ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بلند کردیا ہے۔“(الم
نشرح:4) چودہ سو سال سے ساری دنیا اس رفعت ذکر کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کررہی ہے،
چند بدباطن لوگ اس سے حیران او رپریشان بھی ہیں اور وقفے وقفے سے جو باتیں ان فتنہ
پرور لوگوں کی زبان و قلم سے نکلتی ہیں اس کی وجہ دراصل وہ مقبولیت ہی ہے جو اللہ
نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے لائے ہوئے دین کو عطا کی ہے، اس طرح
کی حرکتوں کے مرتکب اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہم دین اسلام کاکچھ بگاڑ لیں گے یا
دنیا کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک و صاف شبیہ کو نعوذ باللہ داغدار کردیں
گے تو یہ ان کی بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرما چکا ہے: ”جو لوگ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہیں ہم ان (کو سزا دینے) کیلئے کافی
ہیں۔“(الحجر:95) جس ذات پاک کی حرمت و تقدیس کا حامی او رمحافظ خود خالق کائنات ہو
اسے کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں
کہ لوگ ہمارے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہتے رہیں او رہم خاموش تماشائی بنے
رہیں، یہ بات انسانی فطرت کے بھی خلاف ہے اور مقتضائے عقل کے بھی منافی ہے، آپ جس
سے محبت کرتے ہیں او رجس شخصیت کی عظمت و عقیدت آپ کے دل میں ہے او رجس کی تعظیم و توقیر کے اظہار کے لیے آپ ہمہ وقت رطب
اللسان رہتے ہیں اگر اس کی شان میں کوئی گستاخی کرے گا تو یہ بات آپ سے برداشت
نہیں ہوسکتی، اگر کسی دنیاوی رشتے سے محبوبیت حاصل کرنے والے کسی شخص کی شان میں
گستاخی آپ کو گوارہ نہیں تو اس عظیم شخصیت کی شان اقدس میں کی جانے والی گستاخی آپ
کیسے گوارا کرسکتے ہیں،جس کی محبت آپ کے ایمان کی بنیاد ہو او رجس کی محبت آپ کی
اخروی نجات کا مدار ہو، اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل
میں اس عظیم الشان ہستی کی محبت نہیں اور اگر محبت نہیں ہے تو پھر آپ مسلمان
کہلانے کے مستحق بھی نہیں ہیں۔
یہ بات اس لیے کہنی پڑرہی
ہے کہ دہلی کے اس ادارے کے خلاف جوکچھ بھی ہورہا ہے وہ بڑے مختصرپیمانے پر
ہورہاہے، مسلمانوں کے مجموعی رویےّ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ اس معاملے کو
بہت ہلکے انداز میں لیا جارہا ہے،ابھی تک مسلمانوں کی بہت سی تنظیموں کے قابل
احترام قائدین نے تو اپنی زبان تک نہیں کھولی،حالانکہ یہ معاملہ اتنا معمولی نہیں
ہے جتنا سمجھا جارہا ہے، 2006 میں ڈنمارک کے کارٹونسٹ نے جو حرکت کی تھی اس کے
خلاف ساری دنیا اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی او رپورا عالم اسلام ایک آواز ہوکر چلاّ
اٹھا تھا کہ یہ حرکت برداشت نہیں کی جائے گی، آج ساری دنیا تو ایک طرف پورا
ہندوستابن بھی متحد نظر نہیں آرہا ہے بلکہ دہلی کے تمام حلقے بھی اس حرکت کے خلاف
ایک ساتھ آواز بلند کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اسی وجہ سے دہلی حکومت کا روّیہ
بھی ٹال مٹول والا ہے، بڑی کوششوں کے بعد گلشن رائے کے خلاف ایف آئی آر درج ہوسکی
ہے، گرفتاری کب ہوگی کچھ نہیں کہا جاسکتا، حکومت کا یہ،ڈُھل مُل رویہ صرف اس لیے
ہے کہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد نہیں ہے، ورنہ رپورٹ درج ہونے میں اتنا وقت نہ
لگتا او رمجرم کی گرفتاری اب تک ہوچکی ہوتی۔
یہ کہنا کہ معاملہ صرف
دہلی کے ایک ایڈیٹر کاہے غلط ہے، یہ بین الاقوامی سازش کی ایک کڑی ہے، ا س کو اسی
پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے،اگر گلشن رائے کے پش پشت کوئی بڑی مسلم دشمن طاقت
نہیں ہے تو وہ اس طرح کا خطرناک قدم نہیں اٹھا سکتا تھا،کیونکہ وہ اس اقدام کے عواقب
سے اچھی طرح واقف ہے،اسے معلوم ہے کہ مسلمان جان پر کھیل کر بھی اپنے آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کے ناموس کا تحفظ کرتاہے، کیا اسے معلوم نہیں کہ غیر منقسم ہندوستان کے
لاہور میں رہنے والے ایک شخص راج پال نے ”رنگیلا رسول“ نامی کتاب لکھ کر مسلمانوں
کی غیرت کو للکار ا تھا تو اس کا جواب ایک ان پڑھ نوجوان غازی علم الدین نے اپنی
تلوار سے دیا تھا او راسے موت کے گھاٹ اتار کر یہ ثابت کردیا تھا کہ مسلمان سرکار
دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت پر کوئی حرف گیری برداشت نہیں کرسکتا، حال ہی
میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اس کے باڈی گارڈ ممتاز حسین
قادری نے قتل کردیا،کیونکہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے
والی ایک عیسائی عورت ملعونہ آسیہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا او را س کی
سزائے موت پر تخفیف کرانے کی کوششوں میں حصہ لیا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ شاتم رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور مسلمانوں نے ایسے لوگوں
کو سزائے موت ہی دی ہے، مگر ہم یہاں ہندوستان میں رہتے ہیں اس لیے معاملے کو تھانہ
کچہری تک لے جاکر مجرم کو ہندوستان کے آئین کے مطابق سزا دلواناچاہتے ہیں،اگر ہم ایسا
چاہ رہے ہیں تو حکومت کو اس سلسلے میں پس و پیش کیوں ہے۔
اس سلسلے میں ہم اپنے
برادران وطن سے بھی یہ عرض کرناچاہتے ہیں کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو
صرف مسلمانوں کا یا اسلام کا مسئلہ نہ سمجھئے،یہ بہت سنگین معاملہ ہے، اس سے ملک
کی فرقہ وارانہ یک جہتی کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے
جو کشادہ ذہن اور وسیع سوچ رکھنے والے غیر مسلم بھائی بہت سے مسائل میں ہماری آواز
میں آواز ملاتے رہتے ہیں وہ اس سلسلے میں بالکل خاموش ہیں، انہیں کھل کر اس کی
مذمت کرنی چاہئے اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دینے کامطالبہ کرنا چاہئے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ
توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع کو اظہار رائے کی آزادی سے جوڑ کر دیکھا
جاتاہے، یہ ایک مضحکہ خیز نظریہ ہے،بلاشبہ ہر شخص اظہار رائے کی آزادی کا حق
رکھتاہے، لیکن دنیا کی کوئی بھی مہذب قوم یا دنیا کے کسی بھی ملک کا قانون رائے کی
ایسی آزادی کو جائز نہیں ٹھہراتا جس سے کسی دوسرے کی دلآزاری ہوتی ہویا اس ملک میں
امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہوتا ہو، مغرب ا س وقت اظہار رائے کی آزادی کا سب سے
بڑا علم بردار ہے، لیکن خود ڈنمارک،اسپین، فن لینڈ، جرمنی، یونان، اٹلی، آئر لینڈ،
ناروے، نیدر لینڈ، سوئزر لینڈ، آسٹریلیا وغیرہ مغربی ممالک میں بے لگام اظہار رائے
کی آزادی کے خلاف قانون موجود ہے، ان ممالک میں مذہبی جذبات مجروح کرنے پر بھی
پابندی عائد ہے، برطانیہ میں ملکہ کے خلاف توہین کرنے والے کے لئے سزا مقرر
ہے،مغرب میں یہ قانون بھی نافذ ہے کہ یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے خلاف تاریخی تحقیق
کرنا بھی ناقابل مواخذہ جرم کے دائرے میں آتاہے، بھلا یہ کیسی رائے کی آزادی ہے جس
کو صرف اسلام او را س دین کی مقدس شخصیات او رمقدس کتاب تک محدود رکھا جائے او
راپنے معاملات میں اس کی اجازت نہ ہو، یہاں تک کہ حقائق او رواقعات پر تنقید اور
محاسبہ تک گوارا نہ کیا جائے، مغرب کا یہ دوہرا معیار دراصل اسلام دشمنی کی علامت
ہے، ہندوستان جیسے کثیر مذہبی او ر سیکولر ملک میں اس طرح کی اسلام دشمنی کی اجازت
نہ دی جانی چاہئے، ویسے بھی اسلام کے ماننے والے کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات پر
تنقید نہیں کرتے، کیونکہ یہ ان کے مذہبی احکام کے خلاف ہے، قرآن کریم میں صاف طور
پر فرمایا گیا ہے: ”او ربرا مت کہو ان کو جن کی یہ اللہ کو چھوڑکر عبادت کرتے ہیں
کیونکہ پھر وہ براہِ جہل حد سے گزر کر اللہ کو برا کہیں گے۔“(الاانعام:109)ہمارے
علم میں کوئی ایسی تحریر یا تقریر نہیں ہے جس میں کسی مذہب کی کسی مسلمہ شخصیت کے
خلاف کسی مسلمان نے کبھی کسی طرح کی کوئی ہرزہ سرائی کی ہو، یا اسے ہدف تنقید
بنایا ہو، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہا السلام تو خیر اللہ کے برگزیدہ بندے او
رپیغمبر ہیں اور ان پر ایمان لائے بغیر کسی مسلمان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی،
مسلمان تو شری رام، شری کرشن اور ہندوؤں کے دوسرے اوتار او ران کے رشیوں منیوں کی
بھی عزت کرتے ہیں، ایسے صاف ستھرے مذہب کے ماننے والوں کی دلآزاری کرنا اوران کو
اشتعال دلانے کی کوشش کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔
URL: https://newageislam.com/the-war-within-islam/blasphemy-indian-muslim-ulema-intensify/d/4620