New Age Islam
Tue Feb 10 2026, 06:17 AM

Multimedia ( 22 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

NewAgeIslam TV: Islamisation of Pakistani History پاکستانی تاریخ کا اسلامائزیشن

 

مجاہد حسین،  بیورو چیف،  نیو ایج اسلام، برسلز کے ساتھ ایک انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ  (Transcript):

 22مئی، 2013 

 

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی شروع کی جو  تحریک تھی، اس کے بارے میں ہم نے بہت سی چیزوں کو ڈھانپ دیا ہے۔  ہمارے یہاں آج وہ طبقہ زیادہ محب وطن کہلاتا ہے، جو پاکستان کو ایک قطعی طور پر مسلم ریاست، اسلام کے نام پر بنی ہوئی ریاست، اور پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ، یہاں یہ اس کے پاس حوالہ جات  ہیں اور وہ ہر اس شخص کو بالکل  ردّ کر دیتا ہے جو اس  نقطہ نظر کو اپناتا  ہے کہ پاکستان ایک سیکولر قیادت کے تحت بنا اور پاکستان کو بنانے میں جو اشخاص  شامل تھے، جو تنظیمیں ، جو جماعتیں اس میں شامل تھی، ان کا نقطہ نظر بالکل واضح تھا، کہ پاکستان ایک  ایسی ریاست ہوگی جہاں پر  تمام مذاہب کے لوگوں کو مکمل آزادی ہوگی اور اس میں مذہب کے نام پر کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں برتی جائے گی۔

 لیکن ہمارے یہاں یہ المیہ ہوا ہے کہ ہم نے   اپنی پاکستان کی تاریخ کو نئے سرے سے مرتب کیا ہے اور اس کو جیسے بھٹّو صاحب کے دور میں اداروں کو قومیا لیا گیا ، ہم نے پاکستان کی تاریخ کو اسلامیا لیا ہے۔ ہم نے تاریخ کی اسلامائزیشن کر دی ہے اور ایسے تمام لوگ اور ایسی تمام تنظیمیں ، ایسے تمام مکاتب فکر  جو پاکستان کی تحریک کے دنوں میں  قائد اعظم رحمت اللہ  علیہ اور ان کے ساتھیوں سے قطعی طور پر متفق نہیں تھے۔  وہ ہر حوالے سے نہ صرف پاکستان کی تحریک کی تشریح کرتے ہیں  بلکہ پاکستان میں دیگر مذاہب کے لئے  کسی قسم کی گنجائش رکھنے پر قطعی طور پر تیار نہیں ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ جب تحریک پاکستان اپنے  عروج پر تھی  تو بر صغیر میں ایسی وہ تمام تنظیمیں،  سیاسی و مذہبی تنظیمیں جو مذہب کو ہی ترجیح دیتی تھیں اور مذہب کے حوالے سے ہی پہچانی جاتی تھیں، وہ تو پاکستان کے قیام کی مخالف تھیں، ہمارے پاس مثالیں ہیں، جمعیتہ علماء ہند سے لے کر ، احرار تک، جماعت اسلامی تک ، جتنی بھی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیمیں تھیں ، بر صغیر کے مسلمانوں کی وہ تقسیم ہندوستان کی مخالف تھیں۔

 چاہے وہ تحریک خلافت سے  متاثرہ لوگ ہوں ، یا جماعت اسلامی  کے لوگ ہوں، یا  وہ احرار ہوں، چاہے وہ جمعیتہ علماء دیو بند کے لوگ ہوں، ان کام نقطہ نظر بالکل واضح  ہے ان کے  پبلیکیشن ، ان کے تمام تر مضامین، اس وقت کی تمام   تحریکیں یہ  ہماری سامنے ہیں۔ تو یہ تھوڑا مشکل بات ہے ہم ان تمام قوائف کو  اور ان ساری تاریخ کو بھول جائیں اور ایک نئی تاریخ  کو مرتب کریں،  تو ہم نے یہ  کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے یہاں یہ تاریخ مرتب ہو چکی ہے۔ اور آج بھی پاکستان کے غالب میڈیا میں جو لوگ ٹی وی پر آکر بات کرتے ہیں یا اخبارات کے ایڈیٹوریل میں لکھتے ہیں، ان کے یہاں یہ ایک اتفاق رائے موجود ہے کہ  قائد اعظم کا نقطہ نظر بہت واضح تھا اور یہ صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے بنایا گیا ملک تھا  اور جو باقی لوگ ہوں گے یہاں پر وہ مسلمانوں کے برابر نہ تو حقوق کے حقدار ہیں  اور نہ ہی ان کو مسلمانوں کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔ ٹھیک  ہے،  لیکن اس سے حاصل کیا ہوا ہے۔

  ہم نےنظریہ پاکستان کی اسطلاح  1956 میں وضح کی ۔ اس کے بعد ہم نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ بنائے۔ اس کے بعد دو قومی نظریہ کو ہم نے جس طرح استعمال کرنے کی کوشش کی، پاکستان میں ، پھر اس کے زیر اثر ہم نے ایک نئی تاریخ مرتب کی۔ ہم ارے یہاں بچوں کو جو معاشرتی علوم پڑھایا جاتا ہے، جو سیاسی اور تاریخی حالات اور واقعات  کے بارے میں طالب علموں کو  بتاتی ہے تو اس میں ، ہم نے ایک باقاعدہ کوشش کر کے  ایک ایسی وضح اختیار کر لی ہے ہمارے رویوں نے کہ  اس میں ہمیں ہر وہ آدمی جو مسلمان نہیں ہے،  وہ دشمن نظر آتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کے ہندوستان کے ساتھ ایک پاکستان ملک کے طور پر  ہمارے بہت سارے اختلافات ہیں ۔ ہم جنگیں لڑ چکے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہندوستان کا رہنے والا ہر  وہ ہندو جو ہے  وہ پاکستان کا خاتمہ چاہتا ہے۔ پاکستان کا دشمن ہے۔ ہر وقت  پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ ہم نے تو یہیں تک اکتفا نہیں کیا ۔ ہمیں تو عربوں سے زیادہ اسرائیل سے  تکلیف ہے، ازیت ہے ۔ وہ عرب جو اسرائیل کے ساتھ تنازعہ  میں الجھے ہوئے ہیں، ان کے یہاں اسرائیل کے حوالے سے جو  ایک اجتماعی تصور ہے وہ اتنا سخت نہیں ہے جتنا ہمارے یہاں ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری بد قسمتی ہے ، مجموعی طور پر ہم نے اپنے بچوں  کے، اپنی قوم کے دماغ کو کھولنے کے بجائے اس کو  بند کر دیا ہے، ایک تنگ نظری کی ہم نے قومی سطح پر  تعلیم و تربیت کی ہے۔

 میں آپ کو مثال دینا چاہتا ہوں اگر آپ پاکستان کے  ضیاء الحق کے دوران  اور اس کے بعد تک کے  اگر آپ ٹی وی ڈارمے دیکھتے ہیں  تو اس میں پتہ چلتا ہے کہ جو ایک آدمی  جس کو کردار دیا گیا ہے ایک ہندو کا ۔  وہ ایک مذہبی آدمی ہے ۔ اس کا جو سارا روپ ہے وہ ایک مذہبی آدمی کا ہے۔ لیکن اس کو دکھایا جاتا ہے کہ وہ ہر وقت سازش  میں مصروف ہے،  وہ مارنا چاہتا ہے مسلمانوں کو۔  اسلام کے خلاف اس کا جینا مرنا ہے۔  وہ ایک ایسا آدمی ہے جس سے کراہت محسوس ہوتی ہے، مسلمان کو ایک دین دار کو۔  تو اس سے ہم نے اجتماعی فضا کو جو ایک علمی فضا  ہو سکتی تھی اس کو مسموم کر دیا  ہے۔ اس سے ہم کو کیا حاصل  ہوا ہے میں سمجھتا ہوں  کہ ہم کو سوائے اس کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا  ہے  کہ ہم نے اپنے ہی ملک میں  اپنے سے مختلف نقطہ نظر  کے حامل مسلمانوں کے لئے  زندگی اجیرن کر دی ہے۔

URL for English transcript:

http://www.newageislam.com/multimedia/newageislam-tv--islamisation-of-pakistan’s-history/d/11602

URL:

https://newageislam.com/multimedia/newageislam-tv-islamisation-pakistani-history/d/11684

 

Loading..

Loading..