New Age Islam
Wed Oct 05 2022, 04:20 PM

Islamic Society ( 12 Oct 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Friday Khutba is part of prayers, not for reforming society اصلاح معاشرہ کے لئے خطبہ جمعہ کا استعمال

It should be delivered in Arabic: Whether Muslims understand what they are being told is immaterial

Several intellectuals gave their views on the subject of Using Friday Khutba (the speech delivered by the Imam before prayers) for spreading reformist ideas in the Muslim community. Some said that to be effective Khutba should be given in the language Muslims of that area understand. Commenting on these ideas, conservative Deobandi Aalim Maulana Nadeemul Wajidi explains that Khutba is an essential part of Friday prayers, actually one-half of the prayers, and like the prayers should only be delivered in Arabic,  the language of Heaven and angels, who come down to listen to the Khutba; whether Muslims understand that or not is immaterial, as Muslims in any case don’t understand who they are praying to or what they are praying for . He, however, concedes that lectures dealing with reformist and societal issues, which many Muslims consider the primary purpose of Friday prayers (which has to be for that reason a larger congregation than normal five-times-a-day prayers,) can be given in the local language before the Khutba. But there should not be a gap between the Arabic Khutba and the prayers, so the actual khutba should not even be translated in the local language.

URL: http://www.newageislam.com/islamic-society/friday-khutba-is-part-of-prayers,-not-for-reforming-society/d/1901

 

اصلاح معاشرہ کے لئے خطبہ جمعہ کا استعمال

دہلی میں منعقد ہ ایک حالیہ اجتماع میں دانشوروں کی آراء پر مولانا ندیم الواجدی کا تبصرہ

رائے کی آزادی کے نام پر شرعی معاملات میں بے باکانہ موقف اختیار کرنے کا رجحان دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے، موضوعات کی کمی نہیں ہے، ہمارے تجدد پسند دانش اور حضرات اپنی ہمہ دانی کا ڈھنڈورہ پیٹنے کے لئے اور علماء امت کی کم عقلی پرماتم کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی موضوع تلاش کرہی لیتے ہیں، حال ہی میں ایک اجتماع 4-5 اکتوبر، 2009 ء کو دہلی میں منعقد کیا گیا جس کا موضوع تھا”اصلاح معاشرہ کے لئے خطبہ جمعہ کا کا استعمال“، اس دوروزہ اجتماع میں ائمہ مساجد کو جمع کیا گیا تھا، ان سے کہا گیا کہ وہ جمعہ کے خطبے کو مسلمانوں کی معاشرتی اصلاح کے لئے استعمال کریں، اجتماع ایک داعی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”آج معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہاہے لہٰذا بڑھتی ہوئی،برائی پر قابو پانے کیلئے ہمیں خطبہ جمعہ کا استعمال کرنا چاہئے، آج ایک تقریب میں 300 لوگوں کو جمع کرنے کے لئے نہ صرف پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں بلکہ جدوجہد بھی کرنی پڑتی ہے، لیکن جمعہ میں ہمیں یونہی لوگ مل جاتے ہیں، خطبے میں قوم کے عروج، اخوت اور اجتماعیت پر توجہ دینی چاہئے“، دوسرے داعی نے کہا کہ ”یہ افسوس کی بات ہے کہ آج ننانوے فی صد مسلمان نماز جمعہ تو پڑھتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں، مسلمانوں کی اکثریت قرآن کریم کے موضوعات او رپیغام سے بے خبر ہے  جس کی وجہ سے اخلاق و معاملات میں بے شمار خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں ان خرابیوں کو اگر جمعہ کے خطبے کا موضوع بنایا جائے تو مسلمانوں کی ذہنی فکری اور عملی حالت کو بہتر بنانے میں بہت مدد ملے گی“۔

اس اجتماعی کے ذریعے جو پیغام دیاگیا ہے وہ اخبارات کے وسیلے سے عام مسلمانوں تک پہنچ چکا ہے، قدرتی طور پر لوگوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہوتا کہ آخر علماء کی توجہ اس اہم نکتے کی طرف اب تک کیوں نہ مبذول ہوئی کہ جمعہ کے خطبات کے ذریعے مسلمانوں کی اصلاح کا کام لیا جاسکتا ہے، وہ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ علماء تو اس اہم حقیقت کے ادراک سے غافل رہے۔ او رچندڈاکٹر حضرات نے اپنی خداداد بصیرت سے یہ بات جان لی کہ جمعہ کے خطبات سے معاشرے کی اصلاح کا کام لیا جاسکتا ہے، جو کام چودہ سو سال تک علما ء نہ کرسکے اور جس نکتے تک علماء کی رسائی آج تک نہ ہوسکی وہ کام چند نئے تعلیم یافتہ حضرات نے انجام دے ڈالا۔

یہاں خطبہ جمعہ سے مراد اگر وہ خطبہ ہے جو امام جمعہ اذان جمعہ کے بعد برسرمنبر کھڑے ہوکر دیتاہے تو ہمیں عرض کرنے دیجئے کہ یہ موضوع نیا نہیں ہے، کچھ لوگ پہلے بھی یہ بحث اٹھا چکے ہیں کہ آخر نمازیوں کے سامنے عربی زبان میں خطبہ دینے کا فائدہ کیا ہے جب کہ وہ کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں، یہ سوال وقتاً فوقتاً اٹھتا رہتا ہے او راس کا جواب بھی دیا جاتاہے،دہلی کے اس اجتماع کو بھی اسی خاص نظریئے کے حامل افراد کے خیالات کے تسلسل کی ایک کڑی کہا جائے توبہتر ہوگا، اور اگر خطبہ جمعہ سے مراد وہ تقریریں ہیں جو جمعہ سے فراغت کے بعد کی جاتی ہیں تو اس موضوع پر اجتماع کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ عموماً مساجد میں اس طرح کی تقریریں ہوتی رہتی ہیں، شاید ہی کوئی مسجد ایسی ہو جہاں اس طرح کی تقریروں کا اہتمام نہ کیاجاتا ہو، ایسا لگتا ہے کہ اجتماع کا موضوع وہ خطبہ جمعہ ہے جو نماز جمعہ سے ٹھیک پہلے دیا جاتا ہے، کیونکہ اجتماع کے داعی حضرات نے بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہی ہے کہ لوگ قرآن کے پیغام کو سمجھتے ہی نہیں ہیں،ا س اجتماع کے ذریعے ائمہ مساجد کو یہ پیغام دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ وہ اپنے خطبات جمعہ میں مسلمانوں کی معاشرتی خرابیوں کو موضوع بنائیں او ران کی اصلاح کالائحہ عمل پیش کریں، یہ کام عربی زبان میں خطبہ دے کر تو نہیں ہوسکتا، یقینی طور پر اس کے لئے اردو میں خطبہ دیا جائے گا، یا ان ددسری زبانوں میں جو نمازی حضرات آسانی کے ساتھ سمجھ لیتے ہوں، اس طرح ائمہ مساجد کوبالواسطہ طور پر عربی زبان میں خطبہ ترک کرنے اور اردو وغیرہ زبانوں میں خطبہ دینے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔

یہ ہدایت شریعت کے حکم اور مقصد کے بالکل خلاف ہے، فقہاء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ”دوسری زبان میں خطبہ پڑھنا یا عربی میں پڑھ کر ترجمہ کرنا خلاف سنت بلکہ بدعت او رناجائز ہے اور صاحبین کے قول پر تو نماز جمعہ ہی ادا نہیں ہوگی(خطبات جمعہ وعیدین بہ زبان عربی ص، 69، فتوی مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی ؒ) یقینا یہ سوال بڑا اہم ہے کہ جب مخاطب سمجھتے ہی نہیں ہیں تو عربی میں خطبہ پڑھنے سے کیا فائدہ؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ شرعی احکام کا مدار کتاب اللہ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عمل صحابہؓ وتابعینؒ، اجماع امت اور قیاس صحیح پر ہے، کسی رواج یا ضرورت پر نہیں ہے، خطبے کے سلسلے میں بھی وہی حکم قابل عمل ہوگا جو اصول شریعت کے دائرے میں ہو، مخاطب بات سمجھ رہے یا نہیں شریعت کو اس سے کوئی بحث نہیں ہے، اگر یہ سوال خطبے کے سلسلے میں کیا جاسکتاہے تو نماز، قرأت قرآن، اذان واقامت اور تکبیر ات وغیرہ پر بھی کیا جانا چاہئے بلکہ قرأت قرآن پر تو زیادہ کیا جاناچاہئے کہ قرآن کریم تو سراپا ہدایت ہے اور اللہ کے احکام کی تبلیغ کے لئے ہی نازل ہواہے، ہر نماز میں قرآن کریم پڑھا جاتاہے لیکن صرف عربی زبان جاننے والے ہی اس کا مطلب سمجھتے ہیں، باقی لوگ ایک لفظ بھی نہیں سمجھتے، اب اگر کوئی کہنے لگے کہ جب نماز پڑھنے والے قرآن کریم کی آیات کے معنی ہی نہیں سمجھتے تو نماز میں آیا ت کے تلاوت سے کیا فائدہ،بہتر ہوگا کہ عربی میں آیات کی تلاوت کے بجائے نماز پڑھنے والوں کی زبان میں ان کے مطالب بیان کردیئے جائیں تو کیااس کی بات تسلیم کرلی جائے گی، اسی طرح اذان واقامت جو جملے ادا کئے جاتے ہیں وہ بھی غیر عربی دانوں کے لئے قابل فہم نہیں ہیں،بہتر ہوگا کہ اذان واقامت بھی ان زبانوں میں ہو جن کو اس علاقے کے مسلمان سمجھتے ہوں جہاں اذان دی جارہی ہے یا اقامت کہی جارہی ہے، کسی کو کیا معلوم حی علی الصلاۃ، یا حی علی الفلاح کا کیا مطلب ہے، کم از کم ان دو جملوں ہی کو اردو وغیرہ میں کہہ دیا جائے، جن کے ذریعے اہل ایمان کو نماز اور کامیابی کی طرف آنے کی دعوت دی جارہی ہے۔

اصل میں غیر عربی میں خطبے وغیرہ  کی بات وہ لوگ کرتے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ نماز جمعہ میں خطبے کا کیا مقام ہے، قرآن کریم نے خطبہ جمعہ کو ذکر سے تعبیر فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔۔(الجمعۃ:9) ”اے ایمان والو!جب جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ و“مشہور مفسر حافظ ابن کثیر نے ذکر اللہ کی تفسیر میں لکھا ہے: فان المراد من ذکر الہ الخطبۃ ”ذکر اللہ سے مراد خطبہ جمعہ ہے (تفسیر ابن کثیر) علامہ سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک خطبہ ذکر ہے(المبسو ط: 2/26، باب صلوۃ الجمعۃ)اس سے معلوم ہواکہ خطبہ جمعہ و عظ و تقریر نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا ذکر ہے، اور نماز میں اس کی وہی حیثیت ہے جو تسمیہ، تعوذ، تسبیح، تمحید، ثنا، تشہد وغیرہ کی ہے، جس طرح یہ چیزیں عربی زبان میں پڑھی جاتی ہیں اسی طرح خطبہ بھی عربی زبان میں ہی پڑھاجانا چاہئے۔حدیث میں ہے: فاذا خرج الامام حضرت الملائکۃ لیستمعون الذکر (بخاری:1/301، رقم الحدیث: 841)”جب امام (نماز پڑھانے کے لئے) نکلتاہے تو ملائکہ ذکر سننے کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: فاذخرج الامام طورا صحفھم و یستمعون الذکر (بخاری:1/314،رقم الحدیث:887) ”جب امام نماز کے لئے باہر آتاہے تو ملائکہ اپنے صحیفے (کلام پاک) بند کردیتے ہیں اورذکر سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں“ فقہاء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ جمعہ کے دن چار رکعت کے بجائے دورکعتیں رکھی گئی ہیں او رباقی دو رکعتوں کی جگہ خطبہ رکھا گیاہے(البحراالرائق:2/ 270) گویا خطبہ نماز کا درجہ رکھتاہے، اسی لئے خطبے کے دوران بات چیت کرنا حرام ہے، خطبے کا یہ پہلو بھی اس امر کا متقاضی ہے کہ اس کی زبان عربی ہو، کیوں کہ تمام نمازیں عربی ہی میں ادا کی جاتی ہیں۔

خطبہ جمعہ کے سلسلے میں فقہی کتابوں میں جو شرائط مذکور ہیں ان سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ شریعت میں خطبے کی حیثیت محض وعظ وتذکیر کی نہیں ہے بلکہ خطبہ نماز کا ایک حصہ ہے، اسی لئے خطبے کے سلسلے میں پہلی شرط یہ ہے کہ وہ جمعہ کے وقت میں پڑھاجائے، یعنی زوال سے پہلے نہ پڑھا جائے، اگر نماز جمعہ کے بعد خطبہ پڑھا گیا تو نماز درست نہ ہوگی، ایک شرط یہ بھی ہے کہ مخاطب صرف مرد ہوں، عورتیں نہ ہوں، اگر صرف عورتیں مخاطب ہوں گی تو خطبہ صحیح نہیں ہے، پھر یہ بھی شرط نہیں کہ مخاطب تک امام کی آواز پہنچے، یا تمام حاضرین سن لیں خود امام کی آواز انتہائی پست ہو، یا شور و شغب کی وجہ سے آواز نہ پہنچ رہی ہو یا تمام لوگ بہرے ہوں، یا سورہے ہوں تب بھی خطبہ ہر حال میں پڑھنا ضروری ہے (البحرالرائق:2/ 256) کتب فتاویٰ میں تو یہ بھی ہے کہ اگر سامعین میں تمام لوگ علماء اور فضلاء ہوں تب بھی خطبہ پڑھا جائے گا، اگر خطبہ عبادت اور ذکر نہ ہوتا بلکہ وعظ ہوتا تو دین کی باتوں سے اچھی طرح واقف ہیں (فتاوی رحیمیہ: 6/142) فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ امام کے لئے خطبے کے دوران دنیوی معاملات میں کلام کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ یہ ذکر ہے (المبسوط:2/27) اس طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جب امام خطبہ پڑھ رہا ہوتو سننے والے خاموش رہیں، اس دوران تسبیح پڑھنا، درود شریف پڑھنا، تکبیر کہنا یا سلام کا جواب دینا بھی جائز نہیں ہے، بلکہ جو لوگ بول رہے ہوں انہیں بھی زبان سے خاموش کرنے کی اجازت نہیں ہے، اسی طرح اگر امام نے خطبہ دیا، خطبہ دے کر وہ کسی کام میں مشغول ہوگیا یہاں تک کہ خطبے اور نماز کے درمیان خاصا وقفہ ہوگیا تو خطبے کااعادہ ضروری ہے، اگرچہ خطبہ بھی وہی وہ جو پڑھا جاچکاہے اور سننے والے بھی وہی لوگ ہوں (البحرالرائق: 2/258) ان تمام احکام و شرائط سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خطبہ جمعہ عبادت او رذکر ہے،پند و نصیحت نہیں ہے اور نہ وعظ و تقریر ہے اگر ایسا ہوتا تو ان شرطوں کی ضرورت ہی نہیں تھی، اسی لئے فقہا ء نے یہ فیصلہ کیاہے کہ خطبہ جمعہ عربی زبان میں دیا جائے گا، کسی دوسری زبان میں خطبہ دینا مکرو وتحریمی ہے،علامہ عبدالحئی لکھنوی ؒ فقہ کی مشہور کتاب شرح وقایہ کے حاشیے عمدۃ الرعایہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں خطبہ دینا اس سنت کے خلاف ہے جو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہئ کرام ؓ سے مسلسل اور متواتر چلی آرہی ہے، اس لیے دوسری زبان میں خطبہ دینا مکروہ تحریمی ہے (شرح الوقایہ:1/342) مشہور محدث امام نووی ؒ شافعی نے کتاب الاذکار میں اس کی صراحت فرمادی ہے کہ خطبے کا عربی میں ہوناضروری ہے،(کتاب الاذکار باب صلاۃ الجمعۃ) نفس خطبہ کو جمعہ کے لئے شرط قرار دینے کا مطلب بھی یہی ہے کہ خطبہ محض وعظ و تذکیر نہیں ہے کہ جمعہ اس پر موقوف ہوجائے، بلکہ یہ نماز جیسی ہی ایک عبادت ہے، حافظ ابن ہمامؒ نے فتح القدیر میں جمعہ کے لئے خطبے کی شرط پر اجماع نقل کیا ہے (البحرا لرائق:2/257) کیونکہ ذکر کا مقصد محض ایک جملے، ایک کلمے، ایک تسبیح، ایک تحمید سے بھی سے بھی حاصل ہوسکتا ہے اس لیے امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک اگر کسی شخص نے خطبے میں صرف ایک تسبیح پڑھ دی تو خطبے کی شرط پوری ہوجائے گی(مبسوط:2/31) اگر خطبہ ذکر کے بجائے تذکیر ہوتا تو کیا ایک تسبیح سے یہ مقصد پورا ہوسکتا تھا۔

خطبہ جمعہ کے سلسلے میں سب سے اہم بات وہی ہے جو صاحب عمدۃ الرعایہ نے ارشاد فرمائی کہ عربی زبان میں خطبہ دینا ایک ایسی سنت ہے جس پر دور نبوت اور عہد خلافت سے مسلسل عمل چلا آرہاہے، سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام خطبے عربی زبان میں ارشاد فرمائے،خلفا راشدین کے دور میں بھی جب کہ مملکت اسلامیہ کی حدود کر چکی تھیں اس طریقے پر عمل رہا، حالانکہ غیرملکوں سے دوسری زبان بولنے والے خود بھی مدینہ منورہ میں حاضری دیا کرتے تھے، مگر ان کی زبان کو ترجیح دی گئی ہو، فتوحات کے زمانے میں صحابہ کرامؓ جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر دور دوراز کے علاقوں میں بھی پہنچے۔ ان علاقوں میں عربی زبان نہ بولی جاتی تھی او رنہ سمجھی جاتی تھی، ان علاقوں کے باشندوں کو احکام شریعت سے واقف کرانے کی ضرورت بھی تھی، وہ وقت بھی آج جیسا نہیں تھا، ذرائع ابلاغ مفقود تھے، نہ کتابیں تھیں، نہ اخبارات ورسائل تھے، نہ ریڈیو، ٹی وی اور انٹر نیٹ تھا، مگر اس کے باوجود خطبہ جمعہ عربی زبان میں ہی دیا گیا، کوئی ایک واقعہ بھی تو ایسا نہیں ہے کہ کسی صحابیؓ نے مخاطبین کی رعایت سے غیر عربی میں خطبہ دیا ہو یا دلوایا ہو، یا عربی خطبے اردو ترجمے کرایا ہو، جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلی ؒ نے اپنی کتاب مسوّی شرح مؤطا میں خطبہ جمعہ کے اجزاء کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ ”اگر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرات کے خطبوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات نکھر کر سامنے آتی ہے کہ ان خطبوں میں چند چیزیں ضروری ہوا کرتی تھی، اللہ تعالیٰ کی حمد، شہادتیں،سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ سلام، حضرات خلفائے راشدین کاذکر خیر اور ان خطبوں کا عربی زبان میں ہونا، اس پر مشرق و مغرب کے تمام ملکوں میں مسلمانوں کا مسلسل اور مستقل عمل رہا ہے، حالانکہ بہت سے ملکوں کے رہنے والے عجمی تھے اور وہ عربی نہیں سمجھتے تھے(2/155) اس تعامل سے جو خلفائے راشدین، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، محدثین ؒ اور مجتہدین ؒ تک مسلسل جاری و ساری رہا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ضرورت او رمصلحت کے باوجود عربی زبان کو چھوڑ کر مخاطبین کی رعایت میں ان کی زبان میں خطبہ جمعہ نہیں دیا گیا، اس کی اتفاق یا رسم و رواج کا نام بھی نہیں دیا جاسکتا،بلکہ یہ ایسا عمل ہے جسے ہر دور میں واجب الاتباع سمجھا گیا ہے۔

یہاں اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا چاہئے کہ خطبہ جمعہ، اذان واقامت او رنماز وغیرہ میں عربی زبان کو ضروری قرار دینے میں ایک اہم مصلحت بھی ہے اور وہ مصلحت اسلامی اتحاد کی حفاظت اور اس کا فروغ ہے، مسلمان دنیا کے کسی بھی گوشے میں چلے جائیں انہیں خطبہ جمعہ وغیرہ سے اگر وہ عربی میں ہوں یہ محسوس نہ ہونا چائے کہ وہ اجنبی اورغریب الوطن ہیں، عربی زبان قرآن کریم کی زبان ہے،اہل جنت کی زبان ہے، اس دنیا میں بھی وہ روئے زمین کے تمام مسلمانوں کو یگانگت اور اخوت کے رشتے میں باندھے ہوئے ہے، خطبہ جمعہ میں اس کو ترک کرنے سے مسلمانوں کے اس اتحاد پر ضرب پڑسکتی ہے، یوں بھی اس زبان کو ملت اسلامیہ کے لئے وہی اہمیت حاصل ہے جو کسی حکومت کی سرکاری زبان کو حاصل ہوتی ہے، یہ اہمیت آج بھی باقی ہے او رہمیشہ رہے گی، ہر مسلمان کا رشتہ زندگی قرآن کریم کے ساتھ استوا ر ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن کریم کی زبان سے بھی ہمارا تعلق مضبوط ہو او ر یہ تعلق اسی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے کہ ہم جمعہ وعیدین جیسے ملّی او رمذہبی اجتماعات میں یہ زبان استعمال کریں (فتاویٰ رحیمیہ:6/138)۔

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ خطبہ توعربی زبان ہی میں دے دیا جائے،لیکن ساتھ ہی ا س کا ترجمہ بھی کردیا جائے تاکہ خطیب نے جو کچھ کہا ہے لوگ اسے جان لیں، مگر فقہاء نے متعدد وجوہ کی بنا پر اس کی اجازت بھی نہیں دی ہے، پہلی وجہ تو ہے کہ یہ عمل اس سنت کے خلاف ہے جو عہد نبوت سے اب تک جاری ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ ترجمے کو بھی خطبے کی طر ح ضروری سمجھنے لگیں گے، حالانکہ اس کا شریعت سے کوئی ثبوت نہیں ہے، پھر اگر عربی میں خطبہ دیا جائے اور ساتھ ہی اس کا ترجمہ بھی پڑھا جائے تو خطبہ او رنماز کے درمیان فصل لازم آئے گا جو جائز نہیں ہے، اور فصل کی صورت میں خطبے کا اعادہ ضروری ہے، فقہ کی کتابوں میں خطبے کے دس اجزاء بیان کئے گئے ہیں حمد وثنا، صلاۃ وسلام وغیرہ اگر یہ تمام باتیں پہلے عربی میں پھر اردو وغیرہ میں بیان کی جائیں گی تو خطبہ طویل ہوجائے گا اور طویل خطبہ دینا خلاف سنت ہے اور اگر اختصار کیا جائے تو خطبے کے کچھ اجزاء ترک کرنے پڑیں گے، ایسا کرنابھی خلاف سنت ہے، سنت یہ ہے کہ خطبہ مختصر ہو، فقہاء نے اختصار کی تحدید بھی کردی کہ اس کے دونوں حصے طوال مفصل کی ایک سورت (سورہ ملک، سورہ قاف وغیرہ) سے زیادہ نہ ہوں (درمختار، باب الجمعہ) خطبے میں طوالت پسندیدہ نہیں ہے، کیونکہ نماز میں بچے، بوڑھے، بیمار، معذور، مسافر او رمصروف لوگ بھی ہوتے ہیں، ان سب کی رعایت ضروری ہے فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے: ویکرہ العطویل (نود الایضاح:125) ”خطبے میں طوالت مکروہ ہے“ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے خطبے کی طوالت کو ظالم حکمرانوں کا طریقہ قرار دیا ہے کہ وہ خطبے تو لمبے دیتے ہیں اور نمازیں مختصر پڑھتے ہیں۔(موطا امام مالک: 1/173، رقم الحدیث:417) اگر خطبہ جمعہ کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی پڑھا جانے لگے تو ان جگہوں پر صورت حال مضحکہ خیز ہوجائے گی جہاں ایک سے زیادہ زبانیں بولنے او رسمجھنے والے ہوں گے، آخر خطیب کتنی زبانوں میں ترجمہ کرے گا، ایک زبان میں کرتاہے تو مقصد پورا نہیں ہوتا، کئی زبانوں میں کرتاہے تو جمعہ کا تمام وقت تو خطبے ہی میں نکل جائے گا۔

البتہ معاشرہ کی اصلاح کے لئے وعظ و تذکیر ضروری ہوتو خطبہ جمعہ سے قبل کچھ کہا جاسکتا ہے، چنانچہ روایات میں ہے کہ دور فاروقی میں حضرت ابوہریرہ ؒ منبر کے پاس کھڑے ہوکر حدیثیں بیان کرتے تھے، پھر حضرت عمر فاروقؓ تشریف لاتے اور خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے(مسند رک حاکم:1/108) صحابی رسول حضرت تمیم داریؓ کے بارے میں بھی منقول ہے کہ وہ حضرت عمر فاروقؓاور حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں خطبہ جمعہ سے پہلے وعظ کہا کرتے تھے (مسند امام احمد حنبلؒ:3/449) صحابہ کرامؓ کا یہ عمل بھی واضح کررہا ہے کہ وعظ و تذکیر الگ چیز ہے اور خطبہ جمعہ الگ چیز ہے، ان دونوں کو ایک سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے، اگر خطبہ جمعہ کا مقصد وعظ ہوتا تو صحابہ کرامؓ کو کیا ضرورت تھی کہ وہ الگ سے وعظ کہتے جو کچھ موقع محل کی مناسبت سے ضروری ہوتا خطیب خود کہہ لیتا، آج بھی اسی طریقے پر عمل کیا جاسکتاہے، بلکہ عمل ہو بھی رہا ہے، اکثر و بیشتر مساجد میں جمعہ سے پہلے وعظ کہا جاتاہے، ائمہ مساجد کو اس کی ترغیب دی جاسکتی ہے کہ وہ اس طرح کے اصلاحی مواعظ کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں، مگر اس کاالتزام نہ کریں، کبھی کبھی ترک بھی کردیا کریں،تاکہ عوام مواعظ کوبھی جمعہ کا حصہ نہ سمجھنے لگیں، فقہاء نے احتیاط کے مدنظر یہاں تک کہاہے کہ واعظ اور خطیب الگ الگ ہوں تو بہتر ہے۔ اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ خطبہ جمعہ کاحصہ ہے، جس طرح نماز کی زبان عربی ہے اسی طرح خطبہ جمعہ کی زبان بھی عربی رکھی گئی ہے، اس سے انحراف کرناجائز نہیں ہے، اس پر فقہاء احناف کا اتفاق ہے، اس حالات میں اصلاح معاشرہ کے نام پر خطبہ جمعہ کی زبان پربحث کھڑی کرنا مناسب نہیں ہے، اصلاح معاشرہ کے لئے دوسرے ذرائع بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں، مساجد میں نمازیوں کے اجتماع کو خطبہ جمعہ سے پہلے یا نماز جمعہ کے بعد خطاب کیا جاسکتا ہے عملاً مساجد میں ایسا ہو بھی رہا ہے، کیا اصلاح معاشرہ کا کام ان خطبات کے ذریعے انجام نہیں دیا جاسکتا؟

URL: http://www.newageislam.com/islamic-society/friday-khutba-is-part-of-prayers,-not-for-reforming-society/d/1901



Loading..

Loading..