New Age Islam
Fri Oct 07 2022, 06:24 AM

Islamic Society ( 9 Jul 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

India: The Phantom of reservation for Muslims مسلم ریزرویشن کا آسیب

مسلم ریزرویشن کا آسیب

انور علی ایڈوکیٹ

”آسیب“ ایک ذہنی بیماری ہے۔ آسیب زدہ آدمی مرنے کی تمنا کرنے لگتاہے اس کو علم نفسیات میں Aflected with Deth Wish کہا جاتا ہے۔”آج پھرمرنے کی تمنا ہے“۔ یہ شاعرانہ مصرع نہیں ہے، بلکہ یہ علم نفسیات کاایک مسئلہ ہے۔ یہ مرنے کی تمنا کسی شخص کو ہوجاتی ہے۔ یہ انفرادی بیماری ہوئی۔ لیکن قوموں کی یہ نفسیات جب اجتماعی طور پر ہوجائے تو یہ ایک خطرناک صورت حال ہوتی ہے۔

ہندوستان میں ”مسلم ریزرویشن کی مانگ“۔ یہ اجتماعی خود کشی کی تمنا ہے اور بس! اس آرٹیکل میں ”مسلم ریزرویشن“ کے مختلف پہلوؤں پر گذار شات ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اپنے تاریخی کردار کو کھوچکی ہے۔جمعیۃ علماء کا موقف ہمیشہ سیکولر ہندوستان میں، متحدہ ہندوستانی قومیت کو قائم رکھنے اور اس کو توانا و تندرست بنانے کا رہا ہے۔ جمعیۃ علماء کے فلاسفر،گائیڈ اور مرشد عام شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے اس اصول”متحدہ ہندوستانی قومیت“ کی خاطر مالٹا کی اسیری کی مشکلات برداشت کرتے ہوئے فرقہ پرست مسلم لیگ کی لعن و طعن کا شکار بنے۔ مولانا آزاد مرحوم پر فرزندان علی گڑھ نے (اپریل 1946 کو سردار بہادر خان حیدرآبادی کی قیادت میں) ان کی ٹرین پر تھوک کی بارش کی،دونوں حضرات کی داڑھیاں مسلم نیشنل گارڈ کے سالار نے (جو بدقسمتی سے سہارنپور کے قصبہ گنگوہ کے تھے) نوچین۔لیکن نیشنلسٹ مسلمانوں کے ان رہنماؤں میں صبر و ضبط کا ہمیشہ مظاہرہ کیا۔ اور ان کی گستاخیوں سے درگذر کیا۔

لیکن اب جمعیۃ علماء سرآغاخاں، اور جناح کی سیاسی تھیوری ”ریزرویشن۔ پاسنگ وزن Whietage کو لیکر سیاسی میدان میں آرہی ہے۔جمعیۃ کے موجودہ صدر (جو شیخ الہند کے صاحبزادہ محترم ہیں) یہ بھول گئے کہ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی قیادت میں جمعیۃ نے آئین سازی کے وقت”آئین ساز اسمبلی میں مسلم ریزرویشن اور پاسنگ وزن کو ٹھکرادیا تھا۔ متحد ہ ہندوستانی قومیت ایک شہری ایک ووٹ کے اصول کو تسلیم کیا تھا۔ سورۃ یوسف کی آیت پرمبنی علم التواریخ کا ایک بنیادی اصول ہے۔ ”تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے کیونکہ انسان (اور انسانی سماج) غلطیوں کو دہراتا ہے کیا شاید اکتوبر 1909 کو تاریخ میں مسلمان تعلقداروں،زمینداروں اور نوجوانوں کا 27 نفری وفد سرآغا خاں کی قیادت میں وائسر ائے لارڈ منٹو کے حضور میں باریاب ہوا (شملہ ڈیپوٹیشن) اس وفد نے برٹش سرکار کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا۔ اور مستدعی ہوا کہ نمائندہ اداروں میں اور سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کو مخصوص ریزرویشن دیا جائے (2) نوکریوں میں مسلمانوں کوبلا مقابلہ جاتی امتحانات ترقی دی جائے۔(3)اورہندوؤں سے برابری (Parity) کے لئے ان کو Whietag پاسنگ وزن کے اصول سے ہندوستانی حکومتی اداروں میں لیا جائے۔ یہ ابتدا ء تھی ریزرویشن کی مانگ کی۔ اس کے بعد آئینی اصطلاحات Constitutional Deveo Pment کی ایک ریکارڈ شدہ تاریخ ہے۔ اس جہت میں 1932 کمیونل ایوارڈ اہم ہے۔(1)اس سے مسلمانوں اور سکھوں کو جداگانہ رائے دہندگان کاحق دیا گیا(2) شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈٹرائبس کو جداگانہ رائے دہندگان کا حق دیا گیا۔ اس پر گاندھی جی کامرن برت جس کے نتیجہ میں سورن ہندو، ہریجنوں اور آدی باسیوں کو ایک زمرہ میں رکھا گیا اور عیسائی طبقہ کوبھی الگ رائے دہندگی کی حق ملا۔1935 گورنمنٹ آف ایکٹ میں کمیونل ایوارڈ کوآئینی حیثیت دی گئی اور ہریجنوں، آدی واسیوں کے لئے ریزرویشن کا حق دیا گیا یہ صورت حال 26 جنوری،1949 تک موجودہ آئین کے نفاذ کے دن تک) رہی۔ تاریخ کا یہ طنز بڑا تیکھا اور گہرا ہے کہ متحدہ قومیت ”اور ایک ووٹ ایک شہری“ کے اصول کے علمبردار مولانا آزاد،شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی او رمولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کے سیاسی سجادہ نشینی کے دعویدار جنگ آزادی میں اپنی قربانیوں کا حوالہ دے کر،قومی لیڈروں اور قومی سیاسی جماعت سے پرانی رفاقت اور وفاداری کا واسطہ دے کر، شملہ ڈیپوٹیشن کا کردار دہرارہے ہیں۔

برطانوی تاریخ داں (آرنائیڈٹائن بی اور ان کے مکتبہ خیال کے مورخ) ہندوستانی تاریخ داں (ڈاکٹر تارا چند، اور دوسرے قومی او ربائیں بازوکے تاریخ داں) اس تاریخی تھیوری پر متفق ہیں کہ (i) شملہ ڈیپوٹیشن (1909) سے مسلمانوں میں علیحدگی پسندی کے رجحانات پیدا ہوئے۔(ii) تقسیم ہند کے لئے دوسرے عوامل کے ساتھ مسلم لیگی فرقہ وارانہ سیاست بھی مؤثر رہی ہے۔(iii) او رکانگریس میں لال،بال، پال (لالہ لاجپت رائے،بال گنگا دھر تلک بین، چند رپال) کے مکتبہ خیال کے لیڈر اور ہندوتو عناصر نے یہ انسطوری ذہنیتMYTH عام ہندوؤں کے ذہنوں میں بٹھادی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے پاکستان بنوایا اور بھارت ماتا کے ٹکڑے کئے۔اور یہ کہ ”مسلمان بھارت کے وفادار نہیں ہوسکتے۔موجودہ آئین ہند کے لکھے جانے کے وقت کا نسٹی ٹیوشن اسمبلی کے ارکان (پارکر صاحب، بیگم اعزاز رسول، مولاناحسرت موہانی۔ مسلم لیگ۔ او رمولانا آزاد،مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور سبھی نیشنلسٹ مسلم ارکان نے مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کو وضاحت سے منع کردیا تھا۔

اہم سوال یہ ہے۔”آئینی اور قانونی طور پر سیاسی طور پر اور سماجی نقطہئ نظر سے کیا مسلمانوں کے لئے بحیثیت مذہبی فرقہ Religious Block کے نوکریوں میں تعلیمی اداروں کے داخلوں میں (بشمول ہائر اور ٹیکنیکل (ایجوکیشن) نمائندہ اداروں میں (مرکزی اور ریاستی قانون ساز اداروں میں) ریزرویشن ممکن ہے۔

ہندوستان ایک سیکولر، جمہوری، سوشلسٹ ڈیموکریسی ہے۔ اس کا بنیادی نکتہ ہے۔ متحدہ قومی نظریہ۔(دیکھیں مولانا حسین احمد مدنی کی تصنیف۔متحدہ قومیت او رمسلمان) اور ایک شہری ایک ووٹ“ کا اصول۔ آٹیکل 15اور 16 آئین ہند کے مطابق ریزرویشن صرف سماجی اور تعلیمی پسماندہ طبقات کے لئے ہے۔ مذہب کی بنیا د پر (فرقہ وارانہ بنیاد پر) ریزرویشن آئینی نا ممکنات ہے۔ 1951 میں مدراس سرکار نے مذہبی بنیاد پر،ریزرویشن کرتے ہوئے ایک حکم نامہ (کمیونل جی۔او۔) جاری کیا تھا۔ اس کے مطابق میڈیکل کالج میں۔ ہندو غیر برہمن 6۔ پسماندہ ہندو2۔ ہریجن ہندو2۔ عیسائی 1 مسلمان 1۔ کی شرح سے ریزرویشن کیا گیا سپریم کورٹ نے اس کو غیر آئینی قرار دیا۔ دیکھیں اے۔آئی۔آر سپریم کورٹ صفحہ 226۔مدراس سرکار کا دوسرا جی۔ او۔سرکاری نوکریوں میں اسی شرح سے ریزرویشن کے لئے جانے کا تھا۔ وہ بھی سپریم کورٹ نے رد کیا۔اے۔آئی۔آر 1951 صفحہ 229) ان دونوں نظایئر کے اثرات کو جزوی طور پر پہلی اور دوسری آئینی ترمیم سے ختم کیا گیا۔لیکن مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کیا جانا آئینی نا ممکنات سے ہے۔ ان نظائیر کا یہ حصہ اب بھی مؤثر او رملکی قانون کا درجہ لئے ہوئے ہے۔

اندار ساہنی کیس (منڈل کیس) 1993 سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک طرف آخر اور ملکی قانونی ہے۔ مسلمانوں کے فارورڈ طبقات نے بھی مداخلتی عرضی اس مقدمہ میں پیش کی تھی۔سینئر وکیل شیاما لاپپو نے دلیل دی تھی کہ ”اسلام میں انسانی مساوات Equality of Man بنیاد ہے اس لئے مسلمانوں کے مختلف پسماندہ طبقات کو ریزرویشن سے باہر رکھا جائے۔ سپریم کورٹ نے اندراساہنی نظیر میں لکھا ہے ”منبڈل کی اساس و بنیاد پر ریزرویشننہیں۔ اور یہ عرضی خارج کردی گئی۔ سچر کمیٹی رپورٹ، ٹائیں ٹائیں فیش ہوچکی ہے۔ اس پر عمل در آمد یوپی اے سرکار یا کوئی بھی سرکار نہیں کرسکتی۔

رنگاناتھن مشراکمیشن رپورٹ (حقیقی منصف جناب سید طاہر محمود صاحب) ابھی تک پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی گئی ہے۔ اس کے چیدہ چیدہ حصے جناب سید طاہر محمود صاحب نے پبلک کئے۔ اس میں بڑی حد تک تعلیمی سماجی پسماندگی کو ریزرویشن کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ لیکن اس رپورٹ کا وہ حصہ جس میں مسلمانوں کے لئے 15% ریزرویشن کی سفارشات کی گئی ہیں ناقابل عمل ہے۔ محترم سید صاحب موصوف اپنے ایک رائٹ آپ شائع شدہ ٹائمز آف انڈیا میں ”اقلیتی اور ”اقلیت“ اصطلاحات کی تشریح کرتے ہوئے اس حقیقت کو لکھ چکے ہیں۔ وہ اشارہ دے چکے ہیں کہ مسلم سماجی تعلیمی پسماندہ طبقات کے لئے ریزرویشن ممکن ہے۔ ڈاکٹر گوپال سنگھ کمیشن رپورٹ 1983 میں وضاحت سے کہا گیا ہے کہ اقلیت کے پسماندہ طبقات (سماجی تعلیمی پچھڑے پن پر) کے لئے ریزرویشن کیا جانا چاہئے۔

حیرت ہوئی ہے کہ سچر کمیٹی (جس کی آئینی،قانونی حیثیت،صفر ہے) اور جسٹس رنگاناتھن مشرا کمیشن رپورٹوں پر تو زور دیا جاتاہے۔ کیونکہ ان سے مسلم فارورڈ طبقات کی بالادستی کی گرفت مضبوط ہوتی ہے) لیکن ڈاکٹر گوپال سنگھ کمیشن رپورٹ پر کسی مسلم تنظیم یا رہنما،عالم کا زور نہیں ہے۔اقلیتی امور کے وزیر جناب سلمان خورشید خاں صاحب نے ”بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی“ ایک آئینی قانون داں کی حیثیت سے انہوں نے کہہ دیا۔ ریزرویشن مذہبی اقلیت کے لئے ممکن نہیں۔ اور سچی بات کہنے سے مسلم لیڈر عالم سبھی ناراض ہوگئے۔

جمعیۃ علماء اور مسلم تنظیمیں،جو بچوں کی طرح چاند مانگ رہی ہیں۔ ان کی ضد کو پورا کرنے کیلئے۔آئین میں ترمیم کرنی ہوگی۔ آرٹیکل 15-16 میں تو ترمیم کرتے ہی ہوگئی۔آئین کادیباچہ جس میں ہندوستان کو سیکولر سوشلسٹ جمہوریہ کہا گیا ہے۔ اور آئینی مقاصد میں بھی ترمیم کرنی ہوگی۔ آئین کاپارٹ سوئم اور دیباچہ،آئین ہند کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ اس کے بیک اسٹرکچر کو پارلیمنٹ بھی ترمیم کرنے کااختیار نہیں رکھتا۔(کیشونند بھارتی کیس)۔

ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت سے ترمیمی مسودہ پاس ہونا ضروری ہے۔ کیا مسلمانوں (کے فارورڈ طبقات کی خوشنودی) کے لئے یوپی اے سرکار ایسی ترمیم لاسکے گی جیساکہ مسلمانوں کے جماعتیں او رلیڈر مانگ کرتے ہیں؟

پھر مسلم رہنماؤں او رعلماء حضرات کو کیا اس خطرہ کا ذرا بھی ادراک ہے کہ مسلمانوں کی ریزرویشن ترمیم سے آرٹیکل 25-26 اور 29 آئین ہند (اقلیتوں کے بنیادی حقوق) کی کتربیونت کا راستہ صاف ہوجائے گا۔مسلم پرسنل لا،مذہبی آزادی، تبدیلی مذہب تبلیغ مذہب او ردیگر مذہبی امور کے حقوق پر متضاد اثرات کا پورا خطرہ ہوگا۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ہندو ساہتکو لوجی یہ ہے کہ مسلمانوں نے ریزرویشن تحریک 1909 سے اپنی سیاسی موومنٹ شروع کی۔ جو 1947 میں تقسیم کا موجب بنی۔ مسلم ریزرویشن آئینی ترمیم سے زبردست ہندو میں طیش پیدا ہوگا۔ کیا ہندوتو، ہندو عوام کو یہ کہہ کر نہیں بھڑکائیں گے کہ 1909 میں جو کام انگریزی کے ٹوڈی مسلمانوں نے شروع کیا تھا وہ 2009 میں یوپی اے سرکار مسلمان فنڈ نیشلسٹ مولویوں کے زیر اثر کررہی ہے۔

اندرا ساہنی کیس میں ریزرویشن اصول وضاحت سے دے دیئے گئے ہیں۔کھلا میدان 50% جنرل فیلڈرز روڈ۔50% اس ریزروڈ پچاس فیصد ہیں 23% شیڈولڈ کاسٹ اور ٹرائبش 27% بیک ورڈ کلاسز۔ اس 27% میں کچھ ریاستوں نے مسلم پسماندہ طبقات تیلی جولاہے۔ پنیہ، دھنیہ وغیرہ 8% تک مخصوص کیا ہے۔ (حالانکہ عملی طور پر ان کو کچھ نہیں ملا ہے) سوال یہ ہے کہ مسلم ریزرویشن 27% ریزرویشن سے دیا جائے گا۔ یا 50% کھلے جنرل کیک سے۔؟ جو بھی شکل اختیار کی جائے گی، ہندو مسلم کشمکش بڑھنے کی موجب ہوگی۔(i)50% جنرل کہیں سے مسلم ریزرویشن کو عام ہندوبرداشت نہیں کرے گا(ii)23% ایس ٹی ایس سی کہیں سے کوئی بھی حکومت نہیں دے سکتی۔ نہ ہی ایس سی ایس ٹی طبقات برداشت کریں گے۔ وہ متشدد طریقہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گے۔27% بیک ورڈ سے کچھ مسلم برادریوں کو کچھ ریاستوں نے ریزرویشن دیا ہے لیکن وہ محض کاغذی ہے (ملائم سنگھ یادو مایاوتی کی مثال یوپی میں سامنے ہے۔ریزرویشن کے مسلم سماج میں اثرات ضرور ارسال ہوں گے۔ ابھی تک تو اصول مساوات اسلام کے دبیز پردہ میں ایک ”مسلم اتحاد“ کا بھرم ہے۔ لیکن یہ سماجی حقیقت ہے کہ مسلم سماج ذات پات میں، عمومی طور پر تقسیم ہے۔ او ریہ تعلیم 2005 سے اب تک ہے۔ علماء نے کنو کے نام پر منوکی ورن آشرم و یوستھا کو مسلمانوں میں ٹرانس پلانٹ کردیا ہے۔ اشراف، ارزال اور اجلاف کی تقسیم ہندوستان کے مذہبی لٹریچر میں سبھی فرقوں کی کتابوں میں ہے۔ ہمارے علماء نے سورۃ حجرات کی آیت کی تفسیر۔ قرآن کے الفاظ او راس کی روح کے خلاف کی ہوئی ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ۔مساوات انسانی کی آیت مذکورہ اور خطبہ حجۃ الوداع میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مساوات انسانی کے احکامات اور دوسری مساوات انسانی کی احادیث کامطلب یہ ہے کہ یہ مساوات عبادات میں ہے۔ امور دنیاوی میں نہیں۔ شریف، ذلیل تو خدا کے بنائے ہوئے ہیں۔”مولانا اشرف علی تھانوی، مفتی محمد شفیع عثمانی،مولوی مودودی نے اس نسل نسب پرستی میں سبھی حدود کو پار کر رکھا ہے۔ ہندوستان کے سبھی مسلکوں کے دینی لٹریچر میں ”کفو“ سے متعلق فتاویٰ کو اگر ایک جگہ کرکے شائع کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ”ہندوستانی اسلام“ Indian Islam in Sociaz Practice ایک نسل نسب پرست مذہب ہے۔ مساوات انسانی کے حقیقی اسلامی اصولوں پر کوئی عمل نہیں کیاجاتا ہے۔

مسلم ریزرویشن سے مسلم ہندوستانی سماج کشمکش پیدا ہوجائے گی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مسلم پسماندہ طبقات کی قدیم تحریک ’مومن کانفرنس تین حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ قریشی برادری کے دو حصہ ہوگئے ہیں۔ تیلی بھی تین جگہ تقسیم ہیں ان تینوں بڑی برادریوں کے لیڈر علماء اور ایلڈیٹ لیڈروں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔لیکن نوجوان طبقہ میں بے چینی ہے اور وہ ذلت طبقات کے لائنوں پر سوچ رہے ہیں۔ نوجوان ڈائینامک لیڈر پسماندہ مسلم سماج میں سے ابھر کر آنے میں بس وقت کی دیر ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ اور آل پارٹی مسلم کانفرنس (1929-1930) ریزرویشن کی مانگ کو کانگریس نے کبھی تسلیم نہیں کیا سپرد کمیٹی اور بھولابھائی ڈیسائی کمیٹی کی رپورٹوں کو کانگریس نے رد کیا۔ (1945-46) یوپی اے اتحاد میں اتنی سیاست جرأت نہیں کہ وہ جمعیۃ یا مسلمانوں کی تنظیموں کی ریزرویشن کی مانگ کو تسلیم کر کے قانونی اور آئینی قدم اٹھائے۔کانگریس کی تاریخ بتاتی ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کو کانگریس نے 1930 آئینی نیشنل قرار دیا تھا۔(حوالہ ریزرویشن نمبر 16)

مسلم لیڈر،مسلم تنظیمیں ان کے اپنے منفی مفادات ہیں وہ عام مسلمانوں کو پرسنل لاء،مسلم یونیورسٹی،جامعہ ملیہ کا اقلیتی کردار، اردو،مدارس دینیہ اور ایسے ہی مسئلے!۔ سوال یہ ہے کہجمعیۃنے یا کسی بھی مسلم جماعت نے مسلمانوں کی اکثریت۔دستکار، غریب مزدور، چھوٹے کسان۔ ان کی اقتصادی مشکلات پر غور کیا ہے؟ قالین، بنکری،بنارسی ساڑی، لوہار، لکڑی،برتن ساڑی کی دستکاری بیڑی کی دستکاری وغیرہ یہ سب زبردست بحران میں مبتلا ہے۔ورلڈ بینک،اور انٹر نیشنل مونیٹری فنڈ کی اقتصادی پالیسیوں، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی حکمت عملی ان سب کا اثر ہندوستانی انڈسٹری اور چھوٹی انڈسٹری پربرُا اثر پڑرہا ہے۔ بے روزگاری پھیل رہی ہے۔علماء اورمسلم لیڈروں میں اتنی تعلیم اور صلاحیت ہی نہیں ہے کہ ان بنیادی مسئلوں پر غور کریں۔ ملکی پیمانہ پر اور انٹر نیشنل پیمانہ پر جو مونیٹری دباؤ ملک کی معیشت پر ہے او رجس کے نتیجہ میں گھریلو انڈسٹری،اسمال انڈسٹری اور درمیانی انڈسٹری (جن میں مسلمان کاریگر دستکار لگے ہیں) اس پر مسلم لیڈروں کوئی توجہ نہیں ہے۔ علماء میں تو اس کا ذرہ برابر بھی ادراک نہیں ہے کہ عام مسلمان کن حالات میں روزگار کے مسئلوں سے دو چار ہے۔

مسلمانوں کے بنیادی مسئلوں پر توجہ دینے کے بجائے کھلونوں سے بہلانے کی بات کی جاتی ہے۔ اگر کانگریس اپنی بنیادی آئیڈیولوجی کے اوپر عمل کرتے ہوئے دستکار طبقات،اور ہنر مند کاریگر وں،مزدوروں اور چھوٹے کسانوں کے معاشی مسئلوں کی طرف توجہ دے۔ تو پھر مسلمان کانگریس کے دامن میں آجائیں گے۔ جس کی ابتداء ہوچکی ہے۔ ضرورت ہے کہ کانگریس اور سودیشی کے پروگرام کو مؤثر طریقہ سے عمل میں لائے۔مسلم ریزرویشن ایک اسطور ہے۔ ایک آسیب ہے۔ یہ محض ایک کھلونا ہے اور بس!

URL: https://www.newageislam.com/islamic-society/india-phantom-reservation-muslims/d/1537


Loading..

Loading..