New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 11:34 PM

Islamic Society ( 20 Oct 2009, NewAgeIslam.Com)

مسلمان اتنے کمزور کیوں ہیں؟

ڈاکٹر فرخ سلیم

اس وقت کرۂ ارض پر تقریباً 1476233470 مسلمان آباد ہیں ۔ جن میں سے ایک ارب ایشیاء میں،400ملین افریقہ ، 44ملین یورپ میں اور 6ملین امریکہ میں رہتے ہیں ۔ دنیا میں ہر پانچواں انسان مسلمان ہے۔ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد کے ساتھ مسلمانوں کا تناسب کچھ ا س طرح سے  بنتا ہے کہ ہر ہندو کے مقابلے میں 2مسلمان اور ہر یہودی کے مقابلے میں ایک سو مسلمان ۔ تو پھر سوچنے کہ اس قدر کثیر قدر تعداد میں ہونے کے باوجود مسلمان اس قدر بے وقعت اور کمزور کیوں ہیں؟

وجہ صاف ظاہر ہے: اسلامی کانفرنس تنظیم یعنی او آئی سی کے رکن ممالک کی تعداد  57ہے اور ان تمام مسلم ممالک میں  یونیورسیٹوں کی کل تعداد 500 ہے یعنی 30 لاکھ مسلمانوں کے لئے صرف ایک یونیورسٹی  ا س  کے برعکس امریکہ میں 5758یونیورسٹیاں موجود ہیں اور ہندوستان میں یونیورسٹیوں کی تعداد 8407ہے۔2004 میں شنگھائی  جیا ڈونگ یونیورسٹی  نے کار کردگی کے اعتبار سے دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کی اور حیران کن طور پر درجہ اول کی 500یونیورسٹیوں میں مسلم ممالک کی کوئی ایک بھی یونیور سٹی جگہ نہ پا سکی۔

اقوام  متحدہ کے ادارہ برائے ترقی (یو این ڈی پی) کے جمع کردہ اعداد وشمار کے مطابق پوری  عیسائی دنیا میں شرح خواندگی تقریباً 90فیصد ہے اور 15 عیسائی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں شرح خواندگی سو فیصد ہے۔ اس کے بالکل برعکس مسلم ممالک میں اوسط شرح خواندگی تقریباً 40 فیصد ہے او رکوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں جہا ں شرح خواندگی سو فیصد ہو۔ عیسائی دنیا میں تقریباً 98فیصد پڑھے لکھے یا خواندہ افراد وہ ہیں جنہوں نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ مسلم ممالک میں ایسے خواندہ افراد جو پرائمری پا س ہیں ان کی شرح 50فیصد ہے عیسائی ممالک کے 40فیصد خواندہ افراد نے یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل کی ہو۔

مسلم ممالک میں ہر دس لاکھ مسلمانوں میں سے 230سائنسداں ہیں جبکہ امریکہ میں ہر دس  لاکھ افراد میں چار ہزار سائنسداں موجود ہیں اورجاپان میں ہر دس لاکھ افراد میں سے پانچ ہزارسائنسداں ہیں۔ پوری عرب دنیا میں ہمہ وقتی محققین کی کل تعداد پینتیس ہزار ہے اور ہر دس لاکھ عربوں میں صرف پچاس تکنیک کار موجود ہیں۔ عیسائی ممالک میں یہ تناسب ہر دس لاکھ افراد میں ایک ہزار تکنیک کاروں کا ہے ۔مزید برآں مسلم دنیا تحقیق اور تعلیم و ترقی پر اپنی مجموعی پیدوار کا صرف اعشاریہ دو فیصد خرچ کرتی ہے جبکہ عیسائی دنیا اپنی مجموعی پیدوار کا پانچ فیصد حصہ علم و تحقیق اور ترقی کی مد میں صرف کرتی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلم دنیا میں علم و آگہی اجاگر کرنے اور اس کی ترویج کی صلاحیت انتہائی کم ہوکر رہ گئی ہے۔

معاشرے میں علم و آگہی  پھیلانے کی نشاندہی ان دوچیزوں سے بھی ہوتی ہے کہ ہر 2000افراد کے لئے روزانہ کتنے اخبارات شائع ہوتےہیں اور ہر دس لاکھ افراد کیلئے کتنی کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ پاکستان میں  ہر 1000افراد کے لئے 23روز نامہ اخبارات شائع ہوتے ہیں جبکہ سنگا پور میں یہ تناسب ہر ہزار افراد کیلئے 360اخبارات ہے۔

برطانیہ میں ہر ایک کے لئے 2000کتابوں کی اشاعت ہوتی ہے جبکہ مصر میں دس لاکھ افراد کے صرف 20کتب شائع کی جاتی ہیں۔

نتیجہ :۔ مسلم دنیا علم و آگہی پھیلانے میں ناکام ہورہی ہے۔

علم کے استعمال کی نشاندہی کرنے والا ایک اہم عنصر یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ کسی ملک کی مجموعی بر آمد ات میں سے اعلیٰ تکنیکی  مصنوعات کی بر آمدات کا شرح تناسب کیا ہے۔ پاکستان کی کل برآمدات میں سے اعلیٰ تکنیکی  مصنوعات کی بر آمدات کا تناسب صرف ایک فیصد ہے۔ یہی تناسب سعودی عرب میں صرف 0.3فیصد، کویت، مراکش اور الجیریا میں بھی یہ تناںب 0.3فیصد ہے جبکہ سنگا پور میں یہ تناسب اٹھاون فیصد ہے۔

نتیجہ : مسلم دنیا اپنے علم کو بروئے کار لانے میں ناکام ہورہی ہے۔

مسلمان دنیا میں کمزور کیوں ہیں؟ کیونکہ ہم اپنے لوگوں کو علم و آگہی نہیں دے پارہے ۔مسلمان کیوں کمزور ہیں؟ اس کے لئے ہم علم کی تر ویج و اشاعت نہیں  کرپارہے ۔ مسلمان کیوں بے وقعت ہیں؟ اس لئے کہ ہم علم کو بروئے کار ہی نہیں لارہے  اور مستقبل تو انہیں  معاشروں کا ہوگا جن کی بنیاد علم و آگہی پر رکھی گئی ہے۔

یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ او آئی سی کے رکن مسلم ممالک کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کھرب ڈالرز سے بھی کم ہے جبکہ صرف امریکہ سالانہ بارہ کھرب ڈالرز کی اشیاء اور روزگار پیدا کرتا ہے، چین آٹھ کھرب ڈالرز سالانہ، جاپان 3.8کھرب ڈالر ز کی مجموعی پیداوار GDP حامل ہے۔(مساوی قوت خرید کی بنیاد پر ؟)

تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، کویت اور قطر اجتماعی طو رپر پانچ سو ارب ڈالرز کی مصنوعات اور روزگار سالانہ پیدا کرتے ہیں جبکہ صرف سپین ایک کھرب ڈالرز کی  مصنوعات و روزگار سالانہ پیدا کرتا ہے اس طرح کیتھولک پولینڈ میں یہ شرح چار سو نواسی ارب ڈالر ز اور بدھ تھائی لینڈ میں پانچ سو پینتالیس ارب ڈالرز ہے۔( مسلمانوں کی مجموعی پیداوار آمدنی باقی  دنیا کے مقابلے میں بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے)۔

تو مسلمان کیوں اتنے کمزور ہیں؟

جواب ہے : ‘‘تعلیم کی کمی ’’۔

URL of this page:http://www.newageislam.com/islamic-society/مسلمان-اتنے-کمزور-کیوں-ہیں؟/d/1958

Loading..

Loading..