New Age Islam
Sun Dec 04 2022, 08:36 AM

Islam and Spiritualism ( 16 Sept 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Night of mystic power, the Lailat-ul-Qadr شب قدر کی عظمت

By Syed Zafar Mahmood

17 September 2009


One of the odd nights during the last ten days of Ramadan is known as Lailat-ul-Qadr, the Night of Power. It is mostly believed to be the twenty-seventh night, when Allah sent down His comprehensive message in nascent form, from His Preserved Tablet, the Lauh-e-Mahfooz, to the worldly sky. ‘Therein is decreed every matter of ordainment’. Later, God’s revelatie woo the world through Prophet Mohammad brought to him by Archangel Gabriel also happened during one such night. The message was meant to transform conflict situations to ones of peace and harmony.


Divine announcement says that this night is better than one thousand months, a normal human life span. The prayers made during this night have greater value than an entire life of supplication. On this night angels descend to earth carrying God’s bounties and instructions. Talking about the glory of this night, the Holy Message in the Qur’an clarifies that it is He who revealed the message through Mohammad and other prophets.

Some commentators are of the opinion that the process of sending down the scriptural amalgam from the Preserved Tablet to the worldly sky began during mid Sha’baan, the month preceding Ramadan and the process concluded during the Night of Power. Well-researched scholarly opinion simultaneously converges around the belief that the revelation of predecessor scriptures by God to the earlier alshets also occurred during Ramadan nights. And, there is consensus that all these were different editions of the same message.


Multiple scriptures were revealed to the series of recipient prophets during various phases of human history and in different parts of the world. It is ordained in the Qur’an that a believer is expected to equally revere all the prophets and scriptures including those not mentioned by name in the Qur’an. This is indeed a strong directive for maintaining interfaith bonhomie. In the Indian context, many Muslims including the author are of the conviction that the great spiritual names occurring in Indian mythology like those of Rama, Krishna, Mahavira and Buddha, were among those messengers whose names are not mentioned in Qur’an. Yet the believers are duty bound to equally respect them. So is the case with the Vedas.


What was sent down earlier from the Preserved Tablet to the worldly sky was a compendium of God’s perspective planning for the universe including the earth. Subsevelat Revelations that began during different nights of Ramadan through Mohammad and his predecessor prophets – through angelic hosts, representing the spiritual powers of the Mercy of God – were applicable to the respective prophetic communities as much as for the entire mankind.


If God would have so willed He could have made all of us of one faith. But He decided not to do so. He made us into races, nations and faiths. That way He has put us to test during our stay in the world. He evaluates as to, despite being apparently unlike each other in more than one ways, how do we respond to His message and whether we accommodate, love and help each other. How much are we able to appreciate God’s design of intrinsic human unity manifested into outwardly group diversity. God networked humanity in the form of communities led by different prophets who were given scriptures in different languages. The prophets spread to the mankind God’s word respectively revealed through them. Many other messengers helped. Spiritualhtennlightened personalities of the world have also been doing so. That’s equally reflected in the Vedic philosophy - ekam sat viprah budhah - there is only one Truth, wise men tell it differently.

The writer is president, Zakat Foundation of India





شب قدر کی عظمت

مولاناضیاء الہدیٰ قادری

رمضا ن المبارک کے اس مقدس مہینے میں ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے اور اس شب قدر و منزلت اور عظمت و عزت کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب مقد س قرآن مجید میں اس کا ذکر فرمایا ہے، ارشاد ہے ”بے شک ہم نے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر یعنی شب قدر میں نازل کیا ہے، اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے، فرشتے اور روح (جبرئیل) اس میں اپنے رب کے حکم سے (آسمان سے زمین پر) اترتے ہیں، اور وہ رات سراسر سلامتی کی رات ہے طلوع فجر تک۔(سورہ قدر) یہ وہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی، اس سورہ میں ایک رکوع، پانچ آیتیں اور ایک سو بارہ حروف ہیں۔ اسے شب قدر اس لئے کہتے ہیں کہ اس رات میں قیامت تک انسانیت کے دامن کو سلامتی سے اور ہدایت و کامرانی سے لبریز کردیا گیا ہے اور ہدایت و کامرانی کا سرچشمہ صرف قرآن مجید ہے، قرآن مجید خدا کی وہ آخری کتاب ہدایت ہے جس کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے۔ اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرماتاہے کہ اس قرآن کو ہم نے نازل کیا اور اس کے محافظ ہم ہی ہیں۔(قرآن)۔

دنیا کی کوئی طاقت اس میں تبدیل و تحریف کی طاقت نہیں رکھتی۔ زمین و آسمان مل کر بھی قرآن کے ایک نقطہ کو اپنے مقام سے ہٹا نہیں سکتے۔ حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت او ردلیل کے طور پر ہر پیغمبر کو معجزہ عطا فرمایا او رمجھے جو معجزہ عطا فرمایا وہ قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید وہ معجزہ ہے جس سے رہتی دنیا تک دنیائے انسانیت کو ہدایت ملتی رہے گی،(بخاری)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نبی نہیں جس کو اس وقت جب کہ لوگ اس پر ایمان نہ لارہے ہوں معجزات نہ دیئے گئے ہوں، سارے نبی گئے تو وہ معجزات بھی ان کے ساتھ روانہ ہوگئے اور مجھے جو معجزہ دیا وہ سب سے اہم ہے اورعظیم تر معجزہ میرے رب نے عطا فرمایا او روہ قرآن مجید ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس قرآن کے پیروکار اس روئے زمین پر سب سے زیادہ ہونگے(بخاری) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار معجزات دیئے گئے، ان تمام معجزات میں قرآن مجید سب سے بڑا معجزہ ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ اس کی عظمت،برتری اور اہمیت اس قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیجئے کہ اس قرآن پر ایمان لانے والا ایک مسلمان بھی ا س دنیا میں رہے گا، اس کی وجہ سے دنیا رہے گی او رجب کوئی مسلمان نہیں رہے گا تو دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ قیامت برپا ہوجائے گی۔ قرآن پر ایمان لانے والا ایک فرد واحد سے دنیا زندہ ہے اور قیامت رکی ہوئی ہے۔ (بخاری)۔ اللہ، اللہ کہنے والوں کا یہ مقام ہے۔ وہ زمانہ قریب قریب تر ہے، ساری دنیا کلمہ گوہوگی، اس معجزہ قرآن پر ایمان لانا ہی ہوگا، اس شب تاریک زمانہ کو سحر ہونا ہی ہے۔ ارشاد فرمایا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ ساری دنیا مسلمان نہ ہوجائے، یہ زمین اسلام سے لبریز ہوجائے گی، کسی کے اقتدار کا علم نہیں لہرائے گا، حکمرانی اسلام کی ہوگی،یہ دنیا اللہ کی ہے، اللہ کے نام سے زمین پرُ ہوجائے گی، جس طرح پیالہ پانی سے لبریز ہوجاتاہے، اسلام سے زمین لبریز ہوجائے گی۔ اس کے بعد قیامت عظیم کا مرحلہ شروع ہوجائے گا، (بخاری)۔ یہ ہے قرآن کی عظمت اور پیغمبر اسلام کا معجزہ۔ ارشاد گرامی ہے کہ فرمایا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانہ آئے گا کہ قرآن پڑھنے والے سب سے زیادہ ہونگے، جو کتاب دنیا میں سب سے پڑھی جائے گی وہ قرآن مجید ہے۔ اور اس زمانے کا آغاز ہوچکا ہے انجام کاانتظار کیجئے۔

آج ارض سما کی فضا قرآن مجید کی تلاوت سے گونج رہی ہے، آج مغرب و مشرق کی نگاہیں قرآن مجید پر لگی ہوئی ہیں، دنیا کی آدھی دولت، زمین کے نصف خزانے قرآن مجید پر خرچ ہورہے ہیں، علمائے سوء خریدے جا چکے ہیں، مولویوں کا انبار ہے، امریکہ و برطانیہ اور اسرائیل کی نیند حرام ہیں۔ مگر قرآن مجید کا ایک نقطہ اتنا ثقیل ہے کہ زمین و آسمان لرزہ بر اندام ہیں۔ اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) اس کا مقابلہ کوئی نہیں سکتا، اللہ ہمیشہ سے ہے او رہمیشہ رہے گا، اللہ کی ذات قدیم ہے، اللہ کا کلام قرآن مجید بھی قدیم ہے، اس قدیم قرآن کو ایک حادث ذات، جو سب سے اعلیٰ ذات ہے، ایک انسان جو مخلوق ہے، افضل ہے، افضل الخلائق و البشر ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدیم قرآن مجید کو نازل فرمایا او ر پورا تیس پارہ ’ب‘ سے ’س‘ تک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے سینہ پاک میں محفوظ فرمادیا گیا (سبحان اللہ و بحمدہٖ سبحان اللہ العظیم) (بخاری)۔

نزول قرآن کی وجہ سے جو رات اتنی بلندی کو پہنچ جائے کہ کائنات خداوندی کی کوئی رفعت و بلندی اس کو چھونہ سکے اس رات کا ستارہ کتنا تابناک ہوگا اور اس رات میں مسلمان عبادت میں مصروف ہوجائے، گریہ وزاری کرے، اپنے رب سے عفو کا طلبگار ہوجائے تو اس مسلمان کی قسمت کا ستارہ کتنا بلند تر ہوگا، کسی انسان کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ روایت ہے کہ اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے، جنت کا مستحق ہوگا،جہنم کی آگ حرام کردی جائے گی، فلاح و کامرانی اس بندہ مومن کا خود بڑھ کر استقبال کرے گی، فتح مندی کے ستارے سلام کریں گے، ہر مسلمان شب قدر کا استقبال کرے او راپنے قلب و ذہن کی تاریک دنیا کواجالوں میں تبدیل کردے، آج باطل طاقتیں تیز تر ہیں، ہر طرف شرک و بدعت کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، فرزندان توحید کی اکثریت قبروں کی چادروں میں لپیٹے جاچکے ہیں، غضب الہٰی کی آگ شدت سے ساری دنیا میں محسوس کی جارہی ہے، دولت کا سمندر بہہ رہا ہے، امت مسلمہ کا شیرازہ بکھر چکا ہے،عزت و اکرام کا دائرہ خشک ہوچکاہے، دل کا سکون غائب ہے، دماغ مضطرب ہے، سارا سامان معیشت موجود ہے، راحت نہیں ہے، کیونکہ کتاب وسنت سے ہمارا رشتہ منقطع ہوچکاہے، مزید روایات صحیحہ کی روشنی میں شب قدر کی فضیلتیں ملاحظہ فرمائیں۔”رمضان المبارک کا مہینہ تین عشروں پر مشتمل ہے۔شب قدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں آتی ہے۔ رمضان المبارک کی اکیسویں، تئیسویں،پچیسویں، ستائیسویں،اور انتیسویں شب، ان پانچ راتوں میں سے ایک رات قدر و منزلت کی رات ہے، انہیں راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا حکم ہے۔ ائمہ دین، محدثین اور علمائے حق کی اکثر یت 26 رمضان المبارک کی 27ویں شب، شب قدر کی قائل ہے۔ 27 ویں شب درمیان میں ہے اور درمیان کی چیز کی بڑی اہمیت ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہؓ نے 27ویں شب کو شب قدر مانا ہے۔ اس رات میں اس رات کی عبادت ہزار راتوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ (حدیث)۔ گزشتہ امتوں کے احوال بیان کرتے ہوئے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک آدمی تمام رات بیداررہ کر مصروف عبادت رہتاتھا اور سار ا دن جہاد کرتا تھا، زندگی کے تمام دن او رزندگی کی تمام راتیں اللہ کی راہ میں گزر گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان المبارک کی صرف ایک رات (شب قدر کی طرف متوجہ فرمایا) اس آدمی کی تمام راتوں او رتمام دنوں کی عبادت سے افضل ہے صرف ایک رات کی عبادت، وہ شب قدر ہے، ہزار راتوں سے یہ رات بہتر ہے،(حدیث)۔ اس قرآن مجیدکو ’لوح محفوظ‘ پر اتارا۔لوح محفوظ اس تختی کا نام ہے جس کی وسعت زمین و آسمان سے زیادہ ہے، لوح ایک وسیع دنیا ہے جہاں قرآن مجید محفوظ ہے، اس کی حفاظت کا سامان زمین پر نازل ہونے سے پہلے کردیا گیا۔ خود قرآن کا ارشاد ہے ”قرآن مجید، فی لوح محفوظ“ اور اس قرآن مجید کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا، غار حرا ء سے اس کی ابتدا ہوئی جو مکہ معظّمہ کاایک پہاڑ ہے اور 23 سالوں تک مسلسل نازل ہوتا رہا۔ آخری کلام مدینہ منورہ میں مکمل کردیا گیا۔ کتنی باعظمت و ذات گرامی ہے جن کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اس قلب اطہر پر اللہ کا بڑا کلام نازل ہوا، کتنے اہتمام سے نازل ہوا، 3 بار سینہ چاک کیا گیا، نور الہٰی سے سینہ منور کیا گیا، اس کے بعد حضرت جبرئیلّ کی وساطت سے 23 سال میں یہ امانت آسمان سے زمین پر منتقل کردی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے”اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ یہ قرآن مجید روح القدس (جبرئیل) نے تمہاری رب کی جانب سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے، (قرآن)۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان المبارک کے مہینے میں جبرئیل سے دور فرماتے،تیس پارہ قرآن، جبرئیل سناتے اور پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرئیل تیس پارے سنتے۔ آج ساری دنیا یہ سنت زندہ ہے اور زندہ جاوید ہے۔ کروڑوں حافظ مشارق و مغارب میں پھیلے ہوئے ہیں، انسان تو انسان روئے زمین کی سارے مساجد قرآن مجید کی صداسے گونج رہی ہیں، محراب و منبر سے لے کر درودیوار وحی الہٰی سے سرشار ہیں، کاش فرزندان توحید ایک ہوکر نصرت الٰہی کے مہمان بن جاتے۔