New Age Islam
Thu May 19 2022, 10:44 AM

Islam and Science ( 22 Jul 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Indian Maulanas using solar eclipse for spreading superstition سورج گہن کے موقع پر نماز اور دعا کا اہتمام کیا جائے

 

مولانا ندیم الواجدی

خبروں میں بتلایا گیا ہے کہ ہمارے ملک کے بعض حصوں میں 22 جولائی 2009 کو مکمل اور بعض حصوں میں جزوی سورج گہن ہوگا۔ اس دوران سائنس داں حضرات ملک کی مختلف رصد گاہوں سے تجربات و انکشافات کے لئے گہن کے منظر کا مشاہدہ کرتے ہیں طبی نقطہ نظر سے بھی کچھ احتیاطی تدابیر کی جاتی ہیں، گہن کے سلسلے میں مذہب کا بھی ایک مخصوص نقطہئ نظر ہے،ذیل کے مضمون میں یہ بتلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گہن کی شرعی حیثیت کیا ہے،اور جب گہن کا واقعہ پیش آئے تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔

چاند، سورج،زمین اور دوسرے تمام سیارے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں او راپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں، ان میں سے ہر ایک کی گردش کا وقفہ متعین ہے ایک کا دوسرے سے فاصلہ بھی طے شدہ ہے، نہ کبھی وقفہ کم و بیش ہوتاہے او رنہ فاصلے میں کمی و زیادتی ہوتی ہے، سورج اپنے مدار میں گردش کررہا ہے، زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے،اور چاند زمین کے چاروں طرف طواف کررہا ہے،اگر زمین،سورج اور چاند کے درمیان حائل ہوجائے تو اسے چاند گہن (خسوف) کہتے ہیں اور چاند، زمین اور سورج کے درمیان حائل ہوجائے تو اسے سورج گہن (کسوف) کہتے ہیں، خسوف کے وقت چاند بے نور ہوجاتاہے اور کسوف کے وقت سورج کی روشنی زائل ہوجاتی ہے، اس کا ایک پہلو تو وہ ہے جو ماہرین فلکیات کی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آیا کہ چاند اور سورج کاگہن طبعی اسباب کے نتیجے میں ہوتاہے اورا س کا حساب پہلے سے طے شدہ ہے، چنانچہ سالوں پہلے یہ بتلایا جاسکتاہے کہ فلا ں سال فلاں تاریخ کو اتنے بج کر اتنے منٹ پر سورج گہن ہوگا او رفلاں فلاں جگہ ہوگا اور اتنی دیر تک رہے گا۔اور دوسرا پہلو وہ ہے جسے ہم شرعی نقطہئ نظر کہتے ہیں،ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم طبعی اسباب سے زیادہ شرعی پہلو پر یقین رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ سورج کا بے نور ہونا اللہ تعالیٰ کے غضب کا ایک مظہر ہے،جس طرح بارش کا نہ ہونا بھی بندوں کے لیے خداتعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے او راسی لیے اسے بڑی آزمائش اور ابتلاکہا جاتاہے، اس موقع کے لئے حکم دیا گیا ہے کہ تمام بندگان خدا اللہ کی طرف رجوع ہوں اور نماز استسقا ء اور استغفار کا اہتمام کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دورہو او رباران رحمت میسر آئے،اسی طرح کسوف کے وقت بھی نماز کا حکم دیا گیا ہے، تجدد پسند اس طرح کے مواقع پر نمازوں کے اہتمام اور رجوع الی اللہ کی  ضرورت کا مضحکہ اڑاتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ یہ تمام واقعات اسباب طبعیہ کے تحت ظہور پذیر ہورہے ہیں، ان کو اللہ کی رضاء وغضب سے جوڑنا بے معنی ہے۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ کسوف جیسے واقعات طبعی اسباب کے نتیجے میں پیش آتے ہیں تب بھی انہیں معمولی واقعات سمجھ کر نظر انداز کرنا غلط ہے یہ اللہ تعالیٰ کی جلالت ِ شان او رکمالِ قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ہے کہ وہ جس طرح چاہتاہے ان سیاروں کوگردش دیتاہے،او رجس طرح چاہتا ہے ان کو نور عطا کرتاہے اور جب چاہتا ہے ان کو بے نور کردیتاہے، اس کی عظمت وجلالت اور قدرت کے اس نظارے کے بعد ضروری ہے کہ بندگان خدا اپنے عجز کا اعتراف کریں اور سربہ سجود ہوکر یہ تسلیم کریں کہ تمام کائنات اسی کے دست تصرف میں ہے، وہ جس طرح چاہتا ہے اس میں الٹ پھیر کرتارہتا ہے۔

مانا کہ کسوف و خسوف طے شدہ اور مقررہ نظام کے تحت ہوتے ہیں، لیکن اس نظام میں اگر ذرا بھی خلل واقع ہوجائے تو بڑی تباہی ہوسکتی ہے،جیسا کہ عرض کیا گیا کہ کسوف کے وقت چاند، سورج اور زمین کے درمیان حائل ہوجاتاہے، اس حالت میں سورج اور زمین دونوں اسے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ کشش کہلاتی ہے،اگر اس کشش میں توازن باقی نہ رہے او رکوئی ایک جانب غالب آجائے تو خلا میں موجود تمام اجرام فلکیہ ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں یہ خدا ہی ہے جس نے اس کشش میں توازن رکھ کر ایک دوسرے پر غالب آنے سے روک رکھاہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ (فاطر:41)“ بلاشبہ اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹل نہ جائیں او راگر وہ اپنی جگہ سے ٹل گئے تو اللہ کے سوا کوئی ان کو تھام نہیں سکتا“۔ ایسی حالت میں جب کہ تباہی سر پر کھڑی ہو اللہ کے بندوں کے پا س کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ خالق کائنات کی طرف متوجہ ہوں جس نے ان اجرام فلکیہ کو متعین نظام کا پابند رہنے پر مجبور کررکھا ہے، لیکن اس متعین نظام سے انحراف کی اجازت دینے پر بھی قدرت رکھتاہے او ریہ انحراف ہی مخلوق کے لیے عذاب کی شکل اختیار کرسکتاہے، سابقہ اقوام میں عذاب الہٰی کی جس قدر بھی شکلیں پیش آئیں، وہ طبعی اسباب کے متعین نظام اور مقرر حدود سے تجاوز کرنے کے نتیجے میں پیش آئیں،چنانچہ قوم نوح پر بے پناہ بارش برسائی گئی یہاں تک کہ وہ عدیم الخطیر سیلاب کی شکل اختیار کرگئی، (القمر:11) قوم عاد پر شدید آندھی کا عذاب نازل کیا گیا (القمر:19) یہی وجہ ہے کہ جب بھی معمول سے زیادہ تیز ہوائیں چلتیں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہر ہ مبارک اس خوف سے متغیر ہوجاتا کہ کہیں یہ تیز ہوائیں عذاب کی شکل اختیار نہ کرلیں (بخاری1/141) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مواقع پر دعاء و استغفار میں مشغول ہوجاتے۔

کسوف و خسوف کو طبعی اسباب سے ہٹ کر دیکھا جائے تو یہ ان واقعات کا ایک نمونہ بھی ہیں جو قیامت کے روز پیش آنے والے ہیں جب تمام اجرام فلکیہ چاند سورج وغیرہ بے نور ہوجائیں گے، آخرت کو یاد کرنے کا اس سے بہتر کیا طریقہ متوجہ ہو، اس کے سامنے حفاظت و مغفرت کے لئے دست دعا دراز کرے،بزگان دین کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ جب بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لیے چاند سورج کو بے نور کردیتاہے تاکہ بندے یہ جان لیں کہ ان کے گناہوں کا اثر ان کی ذات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ چاند سورج تک ان سے متاثر ہیں او رجب وہ ان کے گناہوں کی وجہ سے بے نور ہوسکتے ہیں تو ان کے قلوب کی ظلمت اور تاریکی کا کیا حال ہوگا؟ گویا خسوف وکسوف گناہوں کے اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں، او ر ان اثرات کے ازالے کی اس سے بہتر تدبیر کوئی دوسری نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوکر اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے۔

سورج گہن کے وقت نماز مشروع ہے، اور فقہاء نے اسے سنت مؤکدہ یا وجوب کادرجہ دیا ہے، نماز کسوف کا طریقہ وہی ہے جو تمام نمازوں کا ہے، چنانچہ اس موقع پر دورکعتیں اسی طریقے پر ادا کی جائیں گی جس طرح دوسری تمام نمازیں پڑھی جاتی ہیں، یعنی اسی طرح کے رکوع و سجود اور قرأت وغیرہ، البتہ اس نماز میں اتنی لمبی قرأت کرنا کہ گہن ختم ہوجائے مسنون ہے، اگر نماز باجماعت کااہتمام نہ ہوسکے تو لوگ تنہا تنہا بھی نماز پڑھ سکتے ہیں، اس صورت میں دو کے بجائے چار رکعتیں بھی پڑھی جاسکتی ہیں،صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ”عہد رسالت میں سورج گہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر مبارک کھینچتے ہوئے (عجلت میں) مسجد میں تشریف لائے او رلوگ بھی ادھر دوڑے آپ نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی“(بخاری:1/ص 145) نسائی شریف میں حضرت سمرہ ابن جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھائی اوراتنی دیر قیام فرمایا کہ اس سے پہلے بھی نماز پڑھاتے ہوئے اتنا طویل قیام نہیں فرمایا اس سے پہلے ہمارے ساتھ بھی اتنا لمبا رکوع نہیں فرمایا تھا، اس میں بھی ہم نے آپ کی کوئی آواز نہیں سنی،پھر آپ نے نہایت طویل سجدے فرمائے اس سے پہلے آپ نے ہمارے ساتھ کسی نماز میں اتنے لمبے سجدے نہیں فرمائے تھے،سجدوں کی حالت میں بھی ہم نے آپ کی کوئی آواز نہیں سنی، اسی طرح آپ نے دوسری رکعت میں بھی کیا۔“(نسائی:1/ص 223)

اس روایت سے واضح ہے کہ یہ نماز مکمل طور پر سِرّی تھی، آپ نے دونوں رکعتوں میں طویل ترین قرأت فرمائی اور اس طرح آہستہ آہستہ تلاوت فرمائی کہ پیچھے کھڑے ہوئے صحابہ کرامؓ آواز سن نہ سکے او رلمبے لمبے رکوع و سجود کئے، طویل قرأت سے متعلق حضرات صحابہ سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہئ بقرہ جیسی سورت کی تلاوت فرمائی۔ (بخاری:1/ص 143)

عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں کسوف صرف ایک ہی مرتبہ ہوا ہے، چنانچہ ماہرین فلکیات نے اس کی تصریح کی ہے کہ عہد رسالت میں کسوف شمس کا واقعہ 29/ شوال10ہجری میں پیش آیا، اتفاق سے اسی روز سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم ؓ کا انتقال ہوا، اس حادثہئ فاجعہ کی وجہ سے لوگوں میں یہ شہرت پھیل گئی کہ سورج گہن حضرت ابراہیم کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے آپ نے نماز کسوف کے بعد خطبہ دیا اور فرمایا کہ ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں او ران دونوں میں کسی کے مرنے یا جینے سے گہن نہیں لگتا، اگر گہن دیکھو تو جیسی فرض نماز تم نے ابھی پڑھی ویسی پڑھ لو“(نسائی:1/219) بخاری میں حضرت عائشہؓ کی روایت سے پتہ چلتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف چاشت کے وقت ادا فرمائی۔(ج1ص143) اس اعتبار سے قریب ترین نماز فجر کی نماز تھی،اسی جیسی نماز پڑھنے کی تاکید کی گئی۔

کسوف کی نماز کے بعد یا پہلے کوئی خطبہ وغیرہ نہیں ہے، بعض روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطبہ منقول ہے، محدثین کی وضاحت کے مطابق یہ نماز جمعہ سے پہلے یا عید کی نماز کے بعد جیسا باقاعدہ خطبہ نہیں تھا بلکہ اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فراغت کے بعد مختصراً کچھ ارشاد فرمایا جو حضرت ابراہیمؓ کی وفات کی وجہ سے پھیلی ہوئی تھی، یہ ہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلط فہمی کے ازالے پراکتفا فرمایا، باقاعدہ خطبہ ہوتا تو مزید کچھ ارشاد فرماتے، یوں بھی نماز کسوف کے سلسلے میں جس قدر روایات مذکور ہیں ان میں سے کسی میں بھی خطبے کا حکم نہیں دیا گیا، اس کے بجائے یہ الفاظ ملتے ہیں کہ ”جب تم گہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، تکبیر کہو او رنماز پڑھو اور صدقہ خیرات کرو“(بخاری شریف:1/142) اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ نمازوں اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ صدقہ و خیرات کا بھی اہتمام کرنا چاہئے، کیونکہ گہن اللہ تعالیٰ کے غضب کی علامت ہے اور صدقہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دور ہوتی ہے اس لیے بندگان خدا کو چاہئے کہ وہ ایسے مواقع پر غریبوں اورضرورت مندوں کو صدقہ و خیرات دیں تاکہ جلد از جلد سورج اپنی حالت پرواپس آجائے۔

اس سلسلے میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نماز کسوف کے لیے شہرسے باہر جنگلوں او رمیدانوں کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ مساجد میں بھی یہ نماز ادا کی جاسکتی ہے، عیدین او رجمعہ کی طرح اس نماز میں بھی عورتوں کی شرکت پسندیدہ نہیں ہے، البتہ وہ گھروں کے اندر رہ کر یہ نماز پڑھ سکتی ہیں، نماز کسوف کے لیے اذان واقامت نہیں کسوف کے لیے اذان واقامت نہیں ہے، البتہ لوگوں کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے کوئی اعلان وغیرہ کیا جاسکتا  ہے۔

Source: Jadeed Khabar, New Delhi, 22 July 2009

URL: https://www.newageislam.com/islam-science/indian-maulanas-using-solar-eclipse-spreading-superstition/d/1564


Loading..

Loading..