Tahir Mahmood
Sep 17, 2009
Jinnah is once again changing the course of Indian politics. Ever since 1947, he has been seen in India as the sole architect of Partition, communal in his outlook through and through. Now political heavyweights from unexpected quarters have ventured to discover his hidden secular credentials, and project him as just one of the co-players of the melodrama that brought about the catastrophe of Partition. The idea that Jinnah alone was not responsible for Partition is neither absolutely baseless nor has it been put forth for the first time. But it is rather incredible that its new supporters have set on this politically volatile voyage with a view to breaking the tradition that persists since 1947 of blaming Muslims exclusively for the six-decade-old calamity. And yet: if anyone thinks that piling encomiums on Jinnah will in any way please the Muslims of India it would be nothing short of an atrocious abomination.
Agreeing to Partition was undoubtedly as much a blunder as demanding it, but this does not in any way reduce the guilt of those who originally propounded the idea — whether as a political strategy, as is now being said, or otherwise. Vociferously advocating the pernicious two-nation theory for years together, Jinnah demanded bifurcation of the country; but no sooner was the country partitioned than he abandoned it through his oft-cited declaration in the new nation’s Constituent Assembly that all citizens of the country would be just citizens and not Hindu or Muslim. This was nothing short of an admission that his advocacy of the two-nation theory was based on political ambition. Who is, then, to be held responsible for the devastating consequences of Partition?
Were not the Muslims of India indeed the worst sufferers? Hindus and Sikhs across the artificially created borders migrated to India en masse, but Muslims had to face a cruel division — parents separated from children, sisters from brothers, and the elderly from the young. And it is the Muslims who have been the biggest victims of ever-changing Indo-Pak relations since, facing on one hand the pangs of separation from family at times of sorrow and joy, and on the other mistrust of their fellow-countrymen even for wishing to do that. The 450 million Muslims of the subcontinent are today torn apart between three different not-too-friendly countries. If they were citizens of a single peaceful country, would they not have been a much greater force to reckon with at home and abroad?
Another gift from Jinnah to India’s Muslims came in 1937. Various judicial regulations from 1872 onwards directed courts to prioritise local customs over religious tenets in deciding family-law cases. These customs were at great variance with Muslim law (in not recognising any female property/ inheritance rights, in putting no limitations on a man’s power to totally disinherit lawful heirs). A bill demanded by community leaders providing that Muslims everywhere be governed by Muslim law was eventually moved in the Central Legislative Assembly. Jinnah, then a member, proposed that individual Muslims be allowed to choose between religious law and local custom. He was trying to protect the interests of zamindars who did not want to give up their absolute freedom to dispose of property. Muslim leaders in the Congress opposed the proposal, so a via media was then thought of: making Muslim law selectively applicable to some subjects only and giving an option to individuals to continue following medieval Indian customs in respect of other family matters. Jinnah’s political stature ensured dissent was stifled and the bill in this mutilated form became law in 1937. Popularly known as the Shariat Act, it remains intact in India till this day — while in Jinnah’s own land it was replaced soon after his demise with a new, un-mutilated act.
As regards Jinnah’s legacy of Partition, everybody in India and many across the border realise that it was indeed a historical blunder. I strongly feel that it is high time efforts were made to reunite the subcontinent. Germany and Yemen have managed a happy reunion. Can the people of the subcontinent — which not too long ago was a single nation united by common bonds of history, geography, religion, language and culture — not tread the same path of sanity? As to Jinnah’s other legacy, unfortunately Muslim religious leaders of the day, always shouting from the rooftop that personal law in its entirety is an inalienable part of their faith, would not let the badly distorted Shariat Act of 1937 be amended so as to remove its anomalies and discriminatory provisions.
So, Jinnah’s dual legacies — the division of the subcontinent’s Muslim families between two (now three) sovereign nations not always on friendly terms and a mutilated Shariat Act which keeps countless Muslims, especially women, divested of their rights under Islam — remain fully intact. Who can expect any Indian Muslim to have a soft spot for the man?
The writer is chairman of Amity University’s Institute of Advanced Legal Studies and a former chairman of the National Commission for Minorities
express@expressindia.com
Source: http://www.indianexpress.com/news/jinnahs-double-whammy/518120
URL of this page: https://newageislam.com/current-affairs/jinnah’s-double-whammy-dividing-muslims/d/1896
عنایات جناح: تقسیم ملت،
تحدید شریعت
پروفیسر طاہر محمود
بانی پاکستان آنجہانی
محمد علی جناح آج کل بر صغیر کے اخبارات کی سرخیوں میں ہیں۔ بڑی عجیب با ت ہے کہ
ان کی متنازع شخصیت پر پڑی ہوئی گرد صاف کرنے کا بیڑا ایک مسلم مخالف سیاسی جماعت
کے کچھ ارکان نے اٹھایا۔ کسی نے انہیں سیکولر بتایا تو کسی نے ان کے سر سے ملک کی
تقسیم کا الزام دھونے او راس المیہ کی ذمہ داری آزادی کے کچھ او رمسلمہ سورماؤں پر
ڈالی۔ تقسیم ملک کے بارے میں ان حضرات نے جو کچھ کہا وہ نہ تو سراسر بے بنیاد ہے
او رنہ ہی پہلی بار کہا گیا ہے، لیکن ان لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ انہوں
نے تاریخ کے جالوں کو صاف کرنے کی کوشش تقسیم کیا ذمہ داری سوفیصد مسلمانوں کے سر
منڈھنے اور دوسروں کو دودھ کا دھلا بتانے کی روایت کو توڑ نے کے لئے کی ہوگی۔ ظاہر
ہے کہ یہ سب حبّ علی میں نہیں بغض معاویہ میں کیا گیا ہوگا اور اس کا مقصد اپنے
سیاسی حریف کے ماضی کو پراگندہ کر کے اس پر برتری حاصل کرنا ہی ہوسکتا تھا۔ اب یہ
تو قدرت کا کرشمہ ہے کہ وار الٹا پڑا اور ان حضرات کی جماعت بری طرح انتشار کا
شکار ہوگئی۔ بہر حال تقسیم کا مطالبہ مان لینا بے شک اتناہی غلط تھا جتنا یہ
مطالبہ کرنا، لیکن اس سے یہ مذموم مطالبہ کرنے والے کاجرم ہلکا نہیں ہوجاتا۔ جناح
صاحب نے برسوں دو قومی نظریہ کی وکالت کی، اس کی بنیاد پر تقسیم کا پر زور مطالبہ
کیا اور دوسروں کی جلد بازی کی بدولت اسے منوانے میں کامیاب ہوئے،مگرپاکستان بنتے
ہی انہوں نے دستور ساز اسمبلی میں اعلان کردیا کہ نئے ملک میں نہ کوئی مسلمان ہوگا
نہ ہندو، بلکہ ہر شہری بس شہری ہوگا اور اسی اصول پر ملک کا دستور بنے گا۔ سیاسی
مقصد حاصل ہوتے ہی دوقو می نظریہ ترک کرکے انہوں نے تو اس کے خالصتاً سیاسی ہونے
کی سچائی اجاگر کرکے جلد ہی سفر آخرت اختیا رکیا، مگر ان کے سیاسی وارثوں نے نئے
ملک ایک مذہبی مملکت ہونے کا اعلان کردیا۔ سوال یہ ہے کہ تقسیم سے جو بھاری تباہی
آئی تھی اور اس کے جب منفی تنائج آج تک بھگتے جارہے ہیں، وہ کس کے کھاتے میں جائیں
گے؟ کشت و خون کی ندیاں بہیں، لاکھوں لوگ گھر سے بے گھر ہوئے، کشمیر کی خوبصورت
وادی آج تک تباہ حال ہے اور دوسروں کے برعکس مسلمانوں کے تو خاندان تقسیم ہوگئے،
خون کے رشتے مصنوعی سرحدوں میں بٹ گئے اور پھر گزشتہ چھ دہائیوں سے دونوں (بلکہ اب
تو تینوں) ملکوں کے بنتے بگڑتے تعلقات کے اثرات خون کے رشتوں کی سطح پرتو صرف
مسلمان ہی بھگت رہے ہیں نا۔ آج ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 15کروڑ اور پاکستان
او ربنگلہ دیش میں بالترتیب 13 اور 12کرو ڑ ہے۔ یہ 40کروڑ مسلمان اگر ایک متحدہ
ملک کے باشندے ہوتے تو کیا آج برصغیر کا نقشہ بالکل مختلف نہ ہوتا؟ بہر حال اب
جناح صاحب کے متعلق ہر طرح کی باتیں کھلے عام کہی ہی جارہی ہیں تو آئیے ہم بھی آپ
کو بتاتے چلیں کہ آج اسلامی قانون کے نفاذ کی قسمیں کھانے والے ملک پاکستان کے
قائد اعظم تقسیم ملک سے دس سال پہلے اسلامی قانون کے سلسلہ میں اپنے ہم مذہب
ہندوستانیوں کو کیا تحفہ پیش کر گئے تھے۔
انگریزوں نے انیسوی صدی کے
اواخر میں ملک کے مختلف حصوں میں عدالتی کام کاج سے متعلق قوانین نافذ کئے جن کے
تحت انہیں ہندوؤں او رمسلمانوں کے عائلی مقدمات کا فیصلہ مقامی رسم و رواج کے
مطابق کرنے کا پابند کیا گیا اور اس طور پر ملکی عدالتوں میں مسلمانوں کے عائلی
مقدمات کے فیصلے مقامی رسم ورواج کے مطابق ہونے لگے۔ یہ رسم ورواج اسلامی قانون سے
متصادم تھے کیونکہ ان کے تحت وراثت میں عورتوں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا او
رمردوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ کوئی غیر بچہ گود لے کر اپنی ساری جائیداد کا وارث
اسے قرار دے دیں یا بذریعہ وصیت جسے بھی چاہیں اس کا حقدار بنادیں۔ پھر ملک کے
مختلف حصوں میں ملّی رہنماؤں کو آہستہ آہستہ اس صورتحال کا اندازہ ہوا او رانہوں
نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔1935 میں صوبہ سرحد کے رہنماؤں نے وہاں مسلمانوں پر
شریعت کے لازمی اطلاق کا قانون وضع کروالیا تو پورے ملک کے مسلمانوں کے لئے ایک
ایسا ہی قانون پاس کروانے کی کوشش شروع ہوئی اور اس مقصد سے بالآخر ”شریعت بل“ کے
نام سے ایک مسود ہ قانون مرکزی قانون سازیہ میں پیش ہوا۔ جناح صاحب نے جو اس وقت
مرکزی قانون سازیہ کے رکن تھے بل میں یہ ترمیم پیش کی کہ شرعی قانون کے اطلاق کو
لازمی قرار دینے کے بجائے اختیار ی رکھا جائے تاکہ ہر شخص انفرادی طور پر اسے
اختیار کرے یا نہ کرے۔ مجوزہ ترمیم کی سخت مخالفت ہوئی مگر جناح صاحب اسے واپس
لینے پر آمادہ نہیں ہوئے کیونکہ انہیں زمینداروں اور نوابوں کا مفاد عزیز تھا جو
اپنی اصلبی اولاد کو ورثہ سے محروم کرنے کیلئے بچہ گود لینے یا اپنی مرضی سے اپنی
پوری جائداد کسی کو بھی وصیتاً دینے کا حق اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ بالآخر
ایک ”بیچ کا راستہ“ نکا لا گیا کہ وراثت پر تو شریعت کالازمی اطلاق ہوگا، مگر وصیت
اور تبنیت پر اس کا اطلاق اسی شخص پر ہوگا جو اس مقصد کے لئے ایک حلف نامہ داخل
کرے گا۔مذکورہ بل بالآخر اسی بیچ کے راستہ کو اختیار کرتے ہوئے اور زرعی جائداد وں
کو اس سے یکسر مستثنیٰ کرتے ہوئے 1937 میں ”شریعت ایکٹ“کے گمراہ کن عنوان سے پاس
ہوگیا۔ ایکٹ میں تو کہا گیا کہ مطلوبہ حلف نامہ ایک مخصوص فارم میں داخل کیا جائے
گا جس کے تعین اور جس سرکاری دفتر میں داخل ہوگا اس کی نشاندہی کے لئے صوبائی
حکومتیں قواعد و ضوابط مرتب کریں گی، لیکن شرعی قانون اختیار کرنے کی یہ گنجائش
بھی بے اثر رہی کیونکہ جب سے آج تک کسی بھی صوبائی حکومت نے اس ایکٹ کے تحت کوئی
قواعد وضوابط مرتب ہی نہیں کئے۔ اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ ایک تو اس کٹے پٹے
ایکٹ کو بھی حکومت نے ملک کے کئی حصوں میں نافذ ہی نہیں کیا گیا اور پھر عدالتوں
نے جناح صاحب کے اپنے فرقہ سمیت مسلمانوں کے کئی فرقوں کو اس کے اطلاق سے مستثنیٰ
رکھا۔ جناح صاحب کی وفات کے بعد خود ان کے ملک میں تو اس ایکٹ کو منسوخ کرکے جملہ
عائلی معاملات میں سب مسلمانوں پر شرعی قانون کا اطلاق قانوناً لازمی قرار دے
دیاگیا لیکن سرحد کے اس پار ان کا بخشا ہوا یہ تحفہ آج تک من وعن نافذ ہے۔
جہاں تک جناح صاحب کے
تقسیم ملّت کے تحفہ کی بات ہے تو اس کے تاریخئ کی ایک بھیانک غلطی ہونے کی بات سب
تسلیم کرتے ہیں، سرحد کے ادھر بھی او رادھر بھی، مگر اس کے سدباب کی کسی کو فکر
نہیں۔ ہماری ذاتی رائے تو یہی کہ جرمنی او ریمن سے سبق لے کر اب برصغیر کو بھی پھر
سے متحد کرنے کی کوشش شروع ہونی کرنی چاہئے، مگر کون سنتا ہے۔رہا جناح صاحب کا تحدید
شریعت کا دوسرا تحفہ تو آج 72 برس بعد بھی ملّت اسلامیہ ہندیہ اس سے بھی دستبردار
ہونے کو تیار نہیں۔ سال گزشتہ ہم نے شریعت ایکٹ مجریہ 1937 میں ترمیم کرکے پورے
ہندوستان میں تمام مسلمان فرقو ں پر جملہ عائلی معاملات میں اسلامی قانون کے اطلاق
کو لازمی کئے جانے کا مسودہ تیار کیا تھا، لیکن گمراہ کن اخباری خبروں کی بنیاد پر
بلا تحقیق و تصدیق اسے ”یکساں سول کوڈ کے لئے راہ ہموار کرنے کی مذموم سازش“ قرار
دیتے ہوئے وزارت قانون سے اسے پیش کئے جانے میں ہر گز منظور نہ کرنے کی پیشگی
اپیلیں کی گئیں۔ ہم نے بار بار وضاحتیں کیں، مسودہ کی نقول بشرف ملاحظہ پیش کیں،
اس کی صحیح نوعیت اور اہمیت کا احساس کروانے کی کوششیں کیں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے
تین پات رہا۔ چنانچہ مایوس ہوکر ہم نے اپنی رپورٹ کا مسودہ حکومت کو پیش کرنا تو
درکنار کمیشن سے منظور بھی نہیں کروایا کیونکہ:
ہاتھ پھیلاؤ ں میں عیسیٰ
نفسوں کے آگے
درد پہلو میں مرے ہے مگر
رات اتنا بھی نہیں
syedtahirmahmood@hotmail.com
URL: https://newageislam.com/current-affairs/jinnah’s-double-whammy-dividing-muslims/d/1896