New Age Islam
Sun Jul 26 2026, 04:05 PM

Current Affairs ( 20 Oct 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

New Delhi: Hindutva group raises storm over ‘love Jihad’

Akhil Bharatiya Vidyarthi Parishad raises storm in JNU with posters of ‘love’ in the name of Jihad

By Deepu Sebastian Edmond

Oct 19, 2009

 

New Delhi: The Jawaharlal Nehru University is abuzz with a term imported from the Kerala High Court: ‘Love Jihad’, states a pamphlet released by the BJP’s student wing Akhil Bharatiya Vidyarthi Parishad (ABVP) in the campus last Wednesday.

 

It has spurred three protest marches since, besides many responses through pamphlets, posters and blog posts, and has forced the university administration to step in.

“The allegation that Muslim men entice Hindu and Christian women into marriage for reasons other than love, as part of an Islamist conspiracy, has recently been investigated by the Kerala Police and has brought out some ugly details,” the pamphlet said.

 

The Indian Express had on October 1 reported that Justice K T Sankaran of the Kerala High Court had directed the state police and the Union Home Ministry to probe the alleged movement called ‘Love Jihad’, under which young Muslim men allegedly target college girls for conversion by feigning love.

“The pamphlet was prepared with inputs from our state unit,” ABVP national executive member Amit Singh said. “This problem is not particular to Kerala. There are such people in every lane and bylanes — even in this campus, there have been such instances, though none talks of it in the open.”

 

Singh is a research scholar with the School of International Studies at JNU.

He said, “We are planning to create awareness on the issue because we know girls in Delhi and Maharashtra have been targeted. But we do not think any organisation is involved — most people work individually.”

 

The pamphlet claims 4,000 girls have been converted by now.

The pamphlet has also attracted attention of the authorities. In a circular dated October 16, Associate Dean of Students Sachidanand Sinha warned that such pamphlets are likely to affect life in the campus. “This is to appeal everyone that individuals, organisations or groups must refrain from issuing pamphlets and such material that may be construed as insensitive and disrespectful to the religious or social values of various segments living on the campus,” the circular read.

The responses came in just as fast, in true JNU fashion. “In depicting the Muslims of this country as bloodthirsty, vicious demons with an systematic agenda of luring Hindu women, ABVP is merely following the footsteps of their fascist founding fathers,” said a poster signed by over 40 students.

 

Another poster, signed by 10 “concerned students” said, “This offensive pamphlet has a multi-dimensional attack, targeting both men and women across religions.”

Source: http://www.indianexpress.com/news/abvp-raises-storm-in-jnu-with-posters-of-love-in-the-name-of-jihad/530384/

URL of this page: https://newageislam.com/current-affairs/new-delhi-hindutva-group-raises/d/1947

 

'Love Bomb': A new RSS weapon against Muslims

Editorial in Jan-Satta Hindi Daily, New Delhi

URL of this page:  https://newageislam.com/current-affairs/new-delhi-hindutva-group-raises/d/1947

 

’لو بم‘: مسلمانوں کے خلاف نیا ہتھیار

تعلیمی شہر حیدر آباد میں مسلم لڑکیوں کے ہندو لڑکوں کے ساتھ شادی کی خبر سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہو پائی تھی کہ آر ایس ایس کے نظریہ ساز وں او رپروپیگنڈہ بازوں نے کیرالا کے مسلم نوجوانوں کے خلاف افترا پردازی او راشتعال انگیز ی کی مہم شروع کردی ہے۔ کیرالہ کا نوجوان مسلم طبقہ پسند ہے او روہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کی اس کوشش کے خاطر خواہ فائدہ بھی ہورہا ہے مگر شرپسنددماغ کو اچھی چیز بھی بری لگتی ہے تازہ شمارہ میں کیرالہ کی اس مسلم طلبہ تنظیم کے خلاف خوب زہر افشانی کی ہے۔ اس سلسلے میں ہندی اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کا ترجمہ ذیل میں ملاحظہ ہو جس سے اندازہ ہوگا کہ فرقہ پرست ذہنیت کس انداز میں سوچتی ہے۔(مدیر)

کیرالہ پرنیا خطرہ منڈلارہاہے۔ جنوبی ہند کی اس ریاست کو ’لو بم‘ جیسے نئے ہتھیار سے خطرہ ہے۔کیرالہ ہائی کورٹ نے گذشتہ روز مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ تین ہفتے کے اندر ’لوبم‘ تنظیم کی ریاست میں ہندو لڑکیوں کو مبینہ طور پر مسلمان بنائے جانے کے بارے میں رپورٹ دے۔کیرالا ہائی کورٹ نے اس بارے میں مرکز کے اہلکار سے اس بارے میں رپورٹ داخل کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے اس منصوبے کے لئے مہیا کرائی گئی دولت کی جانچ کرنے کے بھی احکامات دئے ہیں۔

اس سلسلے میں دونوں نوجوانوں کی پیشگی ضمانت عرضی پر غور کرتے ہوئے جسٹس کے ٹی شنکرن نے یہ حکم دیا۔ ان دونوں نوجوانوں پر کالج طالبات کو مذہب اسلام اختیار کر نے کے لئے مجبور کرنے کا الزام ہے۔ ان نوجوانوں پر پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے نام کی جنوب پسند تنظیم سے وابستہ رہنے کا الزام ہے۔ اس معاملے میں کیس ڈائری کو دیکھنے کے بعدجسٹس نے کہا، ایسا لگتاہے کہ ریاست میں ایسے کئی معاملے ہوئے ہیں۔ ’لو جہاد‘ یا رومیوں جہاد نامی تحریک کیرالا کے مسلمانوں کے ایک طبقہ کے دماغ کی تخلیق ہے۔ اس تحریک کا ارادہ دوسرے مذاہب کی لڑکیوں کو تبدیلی مذہب کر کے مسلمان بنانالگتا ہے۔

گذشتہ ماہ کے شروع میں دو لڑکیوں کے سر پرستوں نے اپنی بیٹیوں کی گمشدگی کے بعد ہائی کورٹ میں داخل کی تھی۔ لڑکیوں کے برآمد گی کے بعد بتایا کہ ان کا اغوا کرنے کے بعدانہیں اسلام مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ لڑکیوں نے اپنے سرپستوں کے ساتھ جانے کی اجازت دینے کے بعد عدالت نے پولیس کو اس بات کی جانچ کے احکامات دیئے کہ کس طرح لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا نے کے بعد تبدیلی مذہب پر مجبور کیا جارہا ہے۔

یہ لڑکیاں اصلاً کوچی اور تری ونت پورم کی رہنے والی ہیں۔ دونوں پٹھان متھنّان کالج کی طالبات ہیں۔ان میں سے ایک طالبہ نے کہا کہ اسے اپنے سینئر طالب علم سے محبت ہوگئی او روہ اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس طالب علم نے دوسری لڑکی کو اپنے دوست کے سپرد کردیا۔ لڑکیوں نے کہا کہ انہیں ملاپورم لے جاکر مذہبی کتب دی گئیں او رمذہبی اشتیاق والے مناظر دکھلائے گئے۔

پولیس افسران نے بھی تسلیم کیا کہ علاقے میں پیار کے جال میں پھنسا کر لڑکیوں کی زبردستی مذہبی تبدیلی کی کئیوراداتیں ہوچکی ہیں ان میں سے کئی لڑکیاں اپنے خاندان کے پاس لوٹ بھی چکی ہیں۔لیکن ان کے خاندان والوں نے سماجی بدنامی سے بچنے کے لئے ان وارداتوں کی رپورٹ درج نہیں کروائی۔ ذرائع نے کہا کہ یہ تنظیم عام طور پر ہندو خاندان کی لڑکیوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔

دوسری طرف پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے قائد نصیر الدین ریلارم اس قسم کے کسی بھی الزام کو مسترد کرتے ہیں۔نصیر الدین کے مطابق ان کی تنظیم مسلمانوں کو مضبوط بنانے کے لئے کام کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تبدیلی مذہب جرم نہیں ہے۔ ہندو اور عیسائی فرقوں میں بھی تبدیلی مذہب کا عمل جاری ہے۔ کوئی بھی تبدیلی مذہب کے نام پر محبت کے تعلقات کو مذہبی دہشت گردی سے نہیں جوڑ سکتا ہے۔

دوسری طرف نئی دہلی میں ہندی خبر رساں اور ادارہ پی ٹی آئی کے مطابق آر ایس ایس نے الزام لگایا ہے کہ کیرالا میں جہادی ’لوبم‘ جیسے نئے ہتھیاروں کے ذریعہ ہندو لڑکیوں کو اپنے دامن محبت میں پھنسا کر بعد میں انہیں انسانی بم بنانے کے ارادے سے مسلمان بنارہے ہیں۔ آر ایس ایس کے خاص ترجمان آرگنائزر کے تازہ شمارے میں یہ الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیرالا میں این ڈی ایف کا کیمپس فرنٹ، کالج میں مزید تعلیم ہندو طالبات کو پہلے محبت کے جال میں پھنسا تاہے۔بعد میں انہیں مسلمان بنا کر جہادی دہشت گرد نٹ ورک کا حصہ بنا لیتاہے۔

آر ایس ایس کے مضمون میں پولیس کی رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ دو سال میں کیرالا کی تقریباً 500لڑکیاں لاپتہ ہوچکی ہیں۔ ہر مہینے ریاست کے مختلف تھانوں میں 30لڑکیوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج ہوتی ہے۔مضمون میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’لوبم‘ کے ذریعہ مسلمان بنا ئی گئیں ان لڑکیوں کو بعد میں دہشت گرد انہ سرگرمیوں کے لئے کشمیر بھیج دیا جاتاہے۔ آر ایس ایس کاالزام ہے کہ کئی تنظیموں کے ذریعہ اس سلسلے میں شکایات کیے جانے کے باوجود ’لو بم‘ بنانے کی اس مہم پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔

URL: https://newageislam.com/current-affairs/new-delhi-hindutva-group-raises/d/1947



Loading..

Loading..