خلافت راشدہ
کا
اقتصادی جائزہ
از
خورشید احمد فارق
پروفیسر عربی دہلی یونیورسٹی
بسم اللہ الرحمٰن الریم
مقدمہ
بیس سال تک مجھے ایک ایسی کتاب کی جستجو رہی جس میں اسلام کے بنیادی اقتصادی اصول اور اسلامی معاشرہ کی اقتصادی شیرازہ بندی کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہو لیکن افسوس ہے کہ عربی ، انگریزی ، اردو اور فارسی زبانوں میں اس نوعیت کی کوئی کتاب مجھے دستیاب نہیں ہوئی ، اس کمی کو دیکھ کر میرےدل میں خود ایسی کتاب لکھنے کا داعیہ پیدا ہوا اور موجودہ تصنیف اسی داعیہ کی مرہو ں ہے ، اس کی تیاری میں ہاتھ آنے والے اُن سارے قدیم ترین عربی مراجع سے مدد لی گئی ہے جن میں عہد نبوی اور خلافت راشدہ کے اقتصادی معاملات سے متعلق اطلاعات یا اشارے ملتے ہیں ، میں نےان سب کو تقابلی مطالعہ کر کے اور تحقیق کی کسوٹی پرکس کر ترتیب و تنسیق کے ساتھ پیش کیا ہے ۔
یہ جائزہ کئی سال ہوئے ماہنامہ برہان دہلی میں چھپا تھا، اسے پڑھ کر کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلعم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کے ناموں کے ساتھ بہت جگہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رضی اللہ عنہ کے الفاظ نہ دیکھ کر میرے سوء ادب کی شکایت کی تھی، حق یہ ہے کہ میرے دل میں بے ادبی کا شائبہ تک نہیں تھا اور نہ ہے ، میں نے کاغذ کتابت اور طباعت کے بڑھتے ہوئے مصارف میں کفایت کی خاطر رسول اللہ کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھنے پر اکتفاء کیا تھا ، یہ دونوں علامتیں لکھنے سے کاتب کاقلم اکثر جگہ چوک گیا ، کچھ تو اس خیال سے کہ اظہار احترام کے لئے میں نے دونوں کے لئے واحد غائب کی جگہ جمع غائب کا صیغہ استعمال کیا ہے او رکچھ عربی کتابوں کی نظیر سامنے رکھ کر جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کے ناموں کے ساتھ دونوں علامتیں لکھنے کا نہ تو التزام کیا جاتا ہے نہ انہیں کسی دوسرے تعظیمی لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، موجودہ جائز ے میں دونوں علامتیں لکھنے کی کاتب کو بار بار تاکید کی جاتی رہی ہے ۔ امید ہے کہ اب قارئین کو سابقہ شکایت پیدا نہیں ہوگی ۔
خورشید احمد فارق
10 اکتوبر ،1974ء
عہد صدیقی کا اقتصادی جائزہ
ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتخاب
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اتفاق رائے سے خلیفہ منتخب نہیں ہوئے تھے، بنو ہاشم نے جن کی نمائندگی علی حیدر رضی اللہ عنہ کررہے تھے اور انصار نے جن کی قیادت سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ خزرجی اور بعض دوسرے انصاری زعیموں کے ہاتھ میں تھی، ابو بکر صدیق کا انتخاب بے قاعدہ اور ناجائز قرار دے کر مسترد کردیا تھا ۔ بنو ہاشم کا دعویٰ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خونی رشتہ کے باعث خلافت کے حقدار ہم ہیں، انصار کامطالبہ تھا کہ چونکہ ہم نے اسلام کے لئے غیر معمولی جانی و مالی قربانیاں دے کر اسے استحکام عطا کیا ہے اس لئے خلافت ہمارا حق ہے ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے دوسرے غیر ہاشمی قریشی ہم خیال جن میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ پیش پیش تھے نہ تو ہاشمیوں کامطالبہ ماننے کو تیار تھے نہ انصار کو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے التفات خاص اور فیاضانہ داد و دہش سے ہاشمی خاندان خوب مالدار ہوگیا تھا اور اس میں تمکنت پیدا ہوگئی تھی ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، ان کے دستِ راست عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجر اہل نظر محسوس کررہے تھے کہ موجودہ تمول ، تمکنت اور غیر معمولی وجاہت کے ساتھ اگر خلافت کی باگ ڈور بھی ہاشمیوں کے ہاتھ آگئی تو معاشرہ میں دولت اور عزت کا سخت عدم توازن پیدا ہو جائے گا اور غیر ہاشمی قریش بنو ہاشم کے تابع ،دست نگر اور محتاج ہوکر رہ جائیں گے۔
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم نوا انصار کامطالبہ ماننے کو بھی تیار نہیں تھے، ان کے خیال میں قریش کے علاوہ کوئی دوسرا عرب قبیلہ حکومت و خلافت کے اعزاز کااہل نہیں تھا، اس لئے انہوں نے انصار کی ترمیمی تجویز بھی مسترد کردی کہ ایک با ر خلیفہ قریشی ہو اور ایک بارانصاری۔
ابوبکر صدیق کی خلافت سے بنو ہاشم اور انصار دونوں ناراض ہوگئے ۔ بنو ہاشم کے امیدوار خلافت 32،33 سالہ علی حیدر رضی اللہ عنہ اور دوسرے ہاشمی اکابر نے ابوبکر صدیق کی بیعت نہیں کی اور انصار کے لیڈر سعد بن عُبادہ خزرجی نیزان کے اہل خاندان اور متبعین نے بھی نئے خلیفہ کی وفاداری کاحلف لینے سے انکار کر دیا ۔ مدینہ کے افق پر تین سیاسی پارٹیاں نمودار ہوگئیں ۔ پہلی اور سب سے بڑی اور طاقتور حکمرانوں یا غیر ہاشمی قریش اور اُن اَوسی و خزرجی انصار کی تھی جو سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ سے پر خاش رکھتے تھے او رانہیں خلافت کے اعلیٰ عہدے پر دیکھنا گوارہ نہیں کرتے تھے اور جس کے سر گرم قائد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے معتمد عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے ۔دوسری پارٹی ہاشمیوں اور اُن ہمدرد انصاری گھرانوں کی تھی جس کے سربراہ علی حیدر رضی اللہ عنہ تھے اور تیسری ان انصاریوں کی تھی جن کے سرگردہ سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ ملک میں ہر طرف بغاوتوں کے برپا ہونے او رمدینہ پر مسلح نجدی قبائل کی چڑھائی کے الٹی میٹم سے جو عام ہر اس اور مشترکہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا اس کے زیر اثر نہ تو ہاشمی پارٹی کوئی جارحانہ کارروائی کرسکی نہ انصاری ، ان کی ناراضگی نے ترک موالات او رلعن طعن کی شکل اختیار کرلی ۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پہلے دلیل و برُہان پھر سختی ، ترشی اور اقتصادی دباؤ ڈال کر دونوں پارٹیوں کے اکابر کو رام کرنے کی کوشش کی لیکن وہ پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ کی بیوی فاطمہ رضی اللہ عنہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سخت ناراض تھیں اور علی حیدر کی بیعت کی راہ میں سنگ گراں ۔ ان کی ناراضگی کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس عظیم منصب پر فائز ہوگئے تھے جو ان کی رائے میں ان کے شوہر کا حق تھا او ردوسری وجہ یہ تھی کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خالصہ املاک دینے سے انکار کردیا تھا جو مدینہ سے نکالے ہوئے یہودیوں ، خیبر اور قدک کے زراعتی فارموں اور نخلستانوں پر مشتمل تھے اور جن کا بی بی فاطمہ خود کو قدرتی وارث تصور کرتی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے چند ماہ بعد جب ان کا انتقال ہوگیا اور بدلتے ہوئے حالات میں علی حیدر کے انصاری حمایتیوں کا وہ جوش ٹھنڈا پڑ گیا جس سے شروع میں انہوں نے علی حیدر کی خلافت کے لئے جد و جہد کرنے کا وعدہ کیا تھا اور دوسری طرف ابو بکر صدیق کی ڈگمگاتی خلافت کے پیر مضبوط ہوگئے تو علی حیدر نے برے دل سے ان کی بیعت کرلی لیکن انصاری لیڈر سعد بن عُبادہ جیتے جی نئے خلیفہ کی وفاداری سے تائب رہے، وہ اتنے آزردہ تھے کہ قریش سے تعلقات توڑ کر خانہ نشین ہوگئے اور کچھ دن بعد مدینے کی سکونت تک چھوڑ کر شام چلے گئے ۔
علی حیدر رضی اللہ عنہ نے حالات سے مجبور ہو کر بیعت تو کر لی لیکن ان کا دل صاف نہیں ہوا، وہ اور ان کے ہاشمی اقارب حسب سابق اسی خیال پر جمے رہے کہ خلافت ان کا حق ہے جس پر اغیار زبردستی قابض ہوکر اس کی برکتوں سے متمتع ہورہے ہیں ۔ بنو ہاشم کے تیور بدل گئے ، چوٹ کھا کر ان کی رعونت او رزیادہ بے باک ہوگئی ، حکومت کی عیب جوئی اور اس سے عدم تعاون کا شعار بن گیا ۔
URL: https://newageislam.com/books-documents/islamic-economy-during-khilafat-e/d/35556